Connect with us
Wednesday,06-May-2026

مہاراشٹر

مالیگاؤں کے آئمہ مساجد اور علماء اکرام اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں _ شکیل انصاری

Published

on

shakeel-ansari

بھیونڈی: (نامہ نگار ) شہر مالیگاؤں کے تمام مسلک کے علماء اکرام اور آئمہ مساجد کا متفقہ فیصلہ یقیناً جرأت مندانہ ہوسکتا ہے لیکن اسے دانشمندانہ اقدام قطعی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ جب جب دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی بھی آسمانی یا سلطانی وباء پھیلی ہے تب تب اس دور کے لوگوں نے حالات حاضرہ سے باخبر ہو کر سمجھوتہ کرکے ایک مثال قائم کی ہے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے قطع تعلق اور آمد و رفت پر پابندی عائد کردی تھی۔ اسلئے مالیگاؤں کے علماء اکرام آئمہ مساجد اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور فرقہ پرست عناصر کو زہر اگلنے کا بالکل موقع نہ دیں جس کی وجہ سے مسلمان کو غدار وطن اور دیش دروہی کاسامنا کرنا پڑے۔ ہندوستانی پولس کاروائی کے نام پر انکی لاٹھیاں اور گولیاں مسلمانوں کو پہچاننے میں قطعی دیر نہیں لگاتی اس طرح کا بیان ایم جی اے ایجوکیشن اینڈ میڈیکیر سینٹرکےجنرل سیکریٹری شکیل احمد انصاری نے دیا ہے۔ رئیس ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج کے چیئرمین ، معروف ماہر قانون ایڈوکیٹ یاسین مومن نےکہا کہ جو بھی حکومت کا موقف ہے وہی ہمارا موقف ہونا چاہئے لہذا ہم اختلاف انتشار کاباعث نہ بنیں ہمیں اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں ایڈوکیٹ سلیم یوسف شیخ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو جلد بازی میں کیا گیا غیرذمہ دارانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ مختلف تنظیموں سے وابستہ فعال اور متحرک سماجی خدمات انجام دینے والے شہیر زیڈ عابد مومن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالیگاؤں نے ہمیشہ دوراندیشی اور منصفانہ فیصلوں کے ساتھ ایک شناخت قائم کی اور اپیل کی ہے کہ آپ اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کریں۔ اس ضمن میں کامریڈ عبد الجلیل انصاری نے کہا کہ حالات حاضرہ سے سمجھوتہ کریں اور سرکار کی دی ہوئی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کریں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : تربوز کھانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کی علاج میں تاخیر سے موت، تربوز میں زہر خورانی سے متعلق ایف ڈی اے کی رپورٹ

Published

on

ممبئی: ممبئی پائیدھونی میں تربوز تناول فرمانے کے سبب ایک ہی میاں بیوی اور دو بیٹیوں کی پر اسرار موت کے بعد ایک سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے طبیعت بگڑنے کے بعد جے جے اسپتال میں ان کے علاج میں تاخیر و تامل برتا گیا جس کے سبب ان کی حالت مزید خراب ہوگئے بروقت معالجہ نہ میسر ہونے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کی موت واقع ہوگئی۔ تربوز تناول فرمانے کے سبب موت کے بعد اب ممبئی میں تربوز کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی کئی دعوت میں تو تربوز پوری طرح سے غائب ہوگیا ہے۔ جے جے اسپتال میں اس معاملہ میں ڈیٹ ایڈٹ بھی شروع کی تھی چاروں کو پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ان چاروں کو الٹی اور دست کی شکایت تھی بتایا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد تاخیر سے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے فارنسک تفتیش میں زہر خورانی سے متعلق بھی شبہ ہے اس معاملہ میں پولیس نے باقاعدہ طورپر حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ہے 25 اپریل کو کنبہ نے بریانی تناول فرمایا اس کے بعد تربوز کھانے کے سبب ان کی موت واقع ہوئی لیکن ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے ایف ڈی اے کی تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ تربوز میں کوئی بھی زہریلی شئے کی آمیزش نہیں تھی اس کے علاوہ اب ایف ڈی اے اور دیگر ایجنسی غذائی سمیت کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

شائنا این سی نے کہا – ممتا بنرجی کو مینڈیٹ کو قبول کرنا چاہئے اور استعفیٰ دینا چاہئے۔

Published

on

ممبئی: شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے بدھ کو کہا کہ ممتا بنرجی کو مینڈیٹ کو قبول کرنا چاہئے اور استعفیٰ دینا چاہئے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں منصفانہ انتخابات اور ووٹر لسٹوں کے مسائل پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا بھی دفاع کیا۔ ممتا بنرجی کے استعفیٰ دینے سے انکار پر شیو سینا کی رہنما شائنا این سی نے میڈیا کو بتایا، “15 سال تک مغربی بنگال کے لوگوں نے ممتا بنرجی کو ایک موقع دیا، جب انہوں نے (عوام) نے فیصلہ کیا کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ خواتین کے تحفظ، امن و امان، دراندازی اور بدعنوانی کے حوالے سے بڑے مسائل تھے، ممتا بنرجی کو بنگال میں 9 فیصد آبادی کے ووٹ کی تبدیلی کو قبول کرنا چاہیے تھا۔” بنرجی اس کو سمجھنے میں ناکام رہی لیکن یہ ایک آئینی ضابطہ ہے۔” الیکشن کمیشن کے خلاف ممتا بنرجی کے الزامات کے بارے میں، شائنا این سی نے کہا، “الیکشن کمیشن نے تمام بے بنیاد دعووں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ وی وی پی اے ٹی میچ کر دیے گئے تھے، اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ 25,000 جگہوں پر کوئی بے ضابطگیاں نہیں ہوئیں”۔ انہوں نے مزید کہا، “لوگ ایس آئی آر کے بارے میں جھوٹی کہانیاں پھیلاتے رہے، ایس آئی آر صرف ان لوگوں کے ناموں کو ہٹانے کا عمل تھا جو فوت ہو چکے ہیں یا اپنی رہائش گاہ منتقل کر چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو صاف کرنے کی ایک مشق تھی۔ سچ یہ ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے تھے، اور اب وہ (ممتا بنرجی) اس کے لیے الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔” مغربی بنگال میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں شیو سینا کے رہنما نے کہا، “9 مئی کو بنگال میں ایک نیا وزیر اعلیٰ ہوگا جو امن و امان کو بہتر کرے گا اور خواتین کی حفاظت کرے گا۔ وہ بدعنوانی کے خلاف بھی کارروائی کرے گا”۔

Continue Reading

جرم

سائبر مجرموں نے ایک ریٹائرڈ مینیجر کو دہلی دھماکہ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر 40.90 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔

Published

on

ممبئی کے بھنڈوپ علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں ایک ریٹائرڈ بینک مینیجر کو پھنسانے کی دھمکی دیتے ہوئے، دھوکہ بازوں نے اسے 54 دنوں تک “ڈیجیٹل گرفتاری” کے تحت رکھا اور 40.90 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ شکایت کے بعد، ممبئی سائبر سیل نے تحقیقات شروع کی. 10 مارچ کو، متاثرہ، راجیندر (مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے ریٹائرڈ مینیجر) کو سگنل ایپ پر ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو کال موصول ہوئی جس کا لیبل “اے ٹی ایس ڈیپارٹمنٹ” تھا۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت “پی ایس آئی سنگھ” کے طور پر کروائی، جو دہلی اے ٹی ایس کے ایک افسر تھے، اور دعویٰ کیا کہ اس کا نام جنوری کے دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں سامنے آیا تھا۔ دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو مطلع کیا کہ اس کے آدھار اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، جس میں کل 2.65 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی دی۔ خوف کا ماحول بنا کر دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو گھر کے الگ کمرے میں رہنے، کسی سے بات کرنے سے گریز کرنے اور مسلسل ویڈیو کال کرنے پر مجبور کیا۔ ذہنی دباؤ کے تحت متاثرہ نے ابتدائی طور پر 2.90 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے اسے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی ₹29 لاکھ کی سرمایہ کاری کو بیچنے پر مجبور کیا، جس سے ₹28 لاکھ مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ مزید برآں، انہوں نے “بیل سیکیورٹی” کے نام پر ₹ 10 لاکھ بھتہ وصول کیا، جو متاثرہ کی بیوی نے قرض کے ذریعے فراہم کیا تھا۔ جعلسازوں نے انہیں یقین دلایا کہ دو دن میں پوری رقم واپس کر دی جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن انہوں نے رقم ملتے ہی رابطہ منقطع کر دیا۔ کئی دنوں تک انتظار کرنے اور کوئی جواب نہ ملنے کے بعد متاثرہ کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس نے 3 مئی کو سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کروائی اور 4 مئی کو سائبر سیل میں باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ ممبئی پولیس کے مطابق، یہ کیس سائبر کرائم کے ایک خطرناک نئے رجحان کو اجاگر کرتا ہے جسے “ڈیجیٹل گرفتاری” کہا جاتا ہے، جہاں جعلساز سرکاری اداروں کے خوف کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی طور پر دباؤ ڈالتے ہیں اور بڑی رقم بٹورتے ہیں۔ سائبر سیل اس وقت متعلقہ بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہا ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان