Connect with us
Friday,30-October-2026

Uncategorized

تہواروں کی آمد آمد، بجلی کمپنی کی من مانی و تانا شاہی عروج پر ایم ایل اے سمیت عوامی نمائندے نید سے کب بیدار ہونگے؟

Published

on

bijli-new

مالیگاؤں : (نامہ نگار )
مالیگاؤں شہر میں گزشتہ ایک سال سے کلکتہ پاور سپلائی کمپنی نے بجلی کا ٹھیکہ جاری کرتے ہوئے اپنا کام کاج شروع کیا ۔تب سے لیکر آج تک کمپنی نے صرف بڑے بڑے دعوے کئے کہ عوام کو بجلی کمپنی اچھی سہولیات فراہم کرے گی ۔لیکن ایسا نہیں ہوسکا اسکے برعکس بجلی کمپنی نے بارہا عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنا بجلی بل جلد از جلد ادا کریں، اسی طرح کمپنی نے عوام سے یہ بھی اپیل کی کہ میٹر بائے پاس نہ کریں، بجلی چوری نہ کریں اور جن افراد کے پاس میٹر نہیں ہے وہ میٹر لگا لیں ۔غرض کہ شہریان نے کمپنی کا ہر ممکن تعاون دیا لیکن آج ایک سال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے لیکن جبلی کمپنی کی سروس ناکارہ ہوتے جارہی ہے ۔پاور سپلائی نظام درہم برہم ہوگیا ہے ۔درستی کے نام پر دن بھر اور کبھی کبھی رات بھر بجلی گل کردی جارہی ہے ۔الیکٹرک تار کی درستی، کبھی ٹرانسفر میں کام تو کبھی سب اسٹیشن میں کام کا بہانہ بنا کر بجلی کمپنی گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کررہی ہے ۔صارفین کو میسج دیا جاتا ہے کہ آپ بجلی بل ادا کریں وہیں بجلی گل ہونے کا بھی میسج کبھی کبھی دیا جاتا ہے لیکن اکثر بغیر اطلاع کے کمپنی گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کررہی ہے جس کے سبب شہر کے بزرگ کیا، نوجوان اور بچے و خواتین بھی پریشان ہیں ۔تہواروں کی آمد آمد ہے بجلی کمپنی کی لوڈ شیڈنگ سے پاورلوم سے جڑے تمام کاروبار متاثر ہورہے ہیں ۔جاری ہفتہ شہر کے سٹی فیڈر، مدنی نگر، جعفر نگر، ہزار کھولی ،نیا پورہ اور اسلام پورہ سمیت بیشتر علاقوں میں گھنٹوں بجلی گل رہی ۔عوامی استفسار کرنے پر بھی کمپنی نے تانا شاہی جیسا کردار ادا کیا اور دیئے گئے وقت سے زائد وقت تک بجلی فراہم مسدود کر رکھی ۔اس وجہ سے شہر بھر میں جہاں کمپنی کے خلاف عوامی غصہ ابل رہا ہے وہیں عوامی نمائندوں پر بھی شہریان ناراض ہیں ۔آج شہر کے ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل ،سابق ایم ایل اے آصف شیخ ،شیخ رشید و میئر طاہرہ شیخ جنتا دل کے مستقیم احمد و شان ہند نہال احمد کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔آج شہر بے سہارا پن محسوس کررہا ہے ۔بجلی کمپنی کی من مانی اور گھنٹوں لوڈ شیڈنگ سے عوام پریشان ہیں ۔روزگار اور پاور لوم سمیت دیگر روزگار پر بھی زبردست مار پڑ رہی ہے ۔کل ایسا نہ ہوکہ بجلی کمپنی کے خلاف عوامی غصہ ابل پڑے اور بجلی کمپنی کو سبق سیکھائے ۔ شہر کی ہر طرح سے نمائندگی کا دم بھرنے والے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل آج نمائندگی سے کوسوں دور نظر آریے ہیں ۔گزشتہ ایک سال سے شہر میں بجلی کمپنی کی آنکھ مچولی، من مانی، تانا شاہی عروج پر ہیں ۔ عوام پریشان ہیں اور شہر کا ایم ایل اے خواب خرگوش میں مست ہیں ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Uncategorized

قتل، گولی باری کے واقعات پر تشویش : پنجاب بی جے پی

Published

on

چنڈی گڑھ: : بھارتیہ جنتا پارٹی پنجاب کے صدر کیول سنگھ ڈھلون نے پیر کو ریاست میں قتل و غارت گری کے مبینہ بار بار ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں دن دیہاڑے قتل اور فائرنگ کے واقعات نے عام آدمی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موگا میں فائرنگ کے واقعہ نے امن و امان کے بارے میں ریاستی حکومت کے دعووں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ چندی گڑھ میں پارٹی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ڈھلن نے کہا کہ پنجاب کے 23 پولیس اسٹیشنوں پر دستی بم حملے ہوئے ہیں، جب کہ راکٹ لانچر کا استعمال کرتے ہوئے پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ سمیت سنگین واقعات بھی ہوئے ہیں۔

صورتحال اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ پولیس افسران کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کو تحریری ہدایات جاری کریں اور انہیں وردی میں باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیں۔ یہ پیش رفت ریاست کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ “جب کہ پنجاب جرائم اور لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے، وزیر اعلی بھگونت مان بدستور غیر ملکی دوروں میں مصروف ہیں۔ پنجاب کے لوگوں کی حفاظت اور حفاظت کو ترجیح دینے کے بجائے، “جب کہ پنجاب جرائم اور لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے، وزیر اعلی بھگونت مان بدستور غیر ملکی۔” بیرون ملک سے واپسی پر ان کے سامان پر مبینہ طور پر کسٹم ڈیوٹی عائد کیے جانے کا معاملہ بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔ ڈھلن نے مطالبہ کیا کہ اے اے پی حکومت مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے، پولیس فورس کو مضبوط کرے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کے بجائے عوام کا اعتماد بحال کرنے اور ریاست بھر میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

Continue Reading

Uncategorized

امریکہ-ایران امن معاہدے کی امیدوں نے مارکیٹ کو ایک ریلی کی طرف لوٹا دیا، اس ہفتے سینسیکس اور نفٹی نے زبردست اضافہ درج کیا۔

Published

on

ممبئی: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے اس ہفتے ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ کے اہم بینچ مارکس کو مضبوط فائدہ پہنچایا۔ مارکیٹ دو ہفتوں کی مسلسل گراوٹ کے بعد بحال ہوئی۔

اس ہفتے نفٹی میں 1.10 فیصد اضافہ ہوا اور جمعہ کو 1.99 فیصد کی مضبوطی کے ساتھ بند ہوا، جو 23,623 تک پہنچ گیا۔ اس دوران سینسیکس 1,695 پوائنٹس یا 2.30 فیصد اضافے کے ساتھ 75,528 پر بند ہوا، ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 1.73 فیصد اضافہ ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی چیلنجوں اور امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی پالیسی کے گرد موجود غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ مضبوط رہی۔ اس عرصے کے دوران لارج کیپ اسٹاکس نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ مڈ کیپ اور سمال کیپ اسٹاکس نے حالیہ تیز ریلی کے بعد منافع بکنگ دیکھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہفتے امریکی بانڈ کی پیداوار میں کچھ نرمی آئی، لیکن مہنگائی کے مسلسل دباؤ اور روزگار کے مضبوط اعداد و شمار نے فی الحال شرح میں کمی کی توقعات کو کم کر دیا ہے۔

ایک تجزیہ کار نے کہا، “ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ نے ہفتے بھر میں ایک تنگ رینج میں تجارت کی اور، ہلکے منفی رجحان کے باوجود، ہفتے کے آخر میں اچھی بحالی دیکھی گئی۔”

دریں اثنا، ہندوستانی بانڈ کی پیداوار میں بھی کمی آئی، جس کی وجہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی پالیسیوں اور قرض کی منڈی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوا۔

شعبہ جاتی کارکردگی کے حوالے سے مالیاتی شعبہ بہترین کارکردگی کا حامل شعبہ رہا۔ نجی بینکوں میں مثبت ریگولیٹری پیش رفت اور سرمایہ کاروں کے دفاعی موقف نے ان اسٹاکس میں زبردست خریدار کی۔ قیمتوں کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کی وجہ سے ایف ایم سی جی اسٹاک میں بھی اضافہ ہوا۔

دوسری جانب آئی ٹی سیکٹر میں مسلسل تنزلی جاری ہے۔ دریں اثنا، چین میں کمزور مانگ اور اشیاء کی قیمتوں میں نرمی کے خدشات کی وجہ سے دھاتی اسٹاک دباؤ کا شکار رہے۔

مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئیز) کی جانب سے فروخت کی رفتار مزید سست ہو جاتی ہے یا امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں میں واضح اضافہ ہوتا ہے تو مقامی اسٹاک مارکیٹ کو مزید سپورٹ مل سکتی ہے۔

پورے ہفتے کے دوران، ایف آئی آئیز نے تقریباً ₹15,300 کروڑ کے حصص فروخت کیے، جو مارکیٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم، ہفتے کے آخری دنوں میں فروخت کی رفتار کچھ کم ہوئی۔

اس کے برعکس، گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئیز) نے ہفتے کے دوران تقریباً ₹24,000 کروڑ کی خالص سرمایہ کاری کرتے ہوئے مضبوط خریداری جاری رکھی۔

وسیع تر مارکیٹ انڈیکس نے بھی اہم انڈیکس کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نفٹی مڈ کیپ-100 انڈیکس میں 0.98 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نفٹی سمال کیپ-100 انڈیکس میں 0.48 فیصد اضافہ ہوا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق، 23,800 کی سطح نفٹی کے لیے ایک اہم مزاحمت ہوگی۔ 23,550 سے 23,500 زون فوری مدد کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

بینک نفٹی کے لیے، 56,900 سے 57,000 کی سطح کو قریب ترین مزاحمت سمجھا جاتا ہے، جب کہ 56,500 سے 56,400 کی حد فوری سپورٹ زون بنی ہوئی ہے۔

سرمایہ کار اب گھریلو ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) افراط زر کے اعداد و شمار، چین کی صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار اور امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ سود کی شرح کے فیصلے پر نظر رکھیں گے، جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

Uncategorized

ممبئی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا گوونڈی شیواجی نگر اور کرلا سمیت تین مقامات پر کریک ڈاؤن، تین نوجوانوں کے گھر کی تلاشی اور باز پرس، آن لائن پروپیگنڈہ سے پرہیز

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس ) نے ممنوعہ تنظیم سے رابطے رکھنے کے الزام میں تین نوجوانوں سے باز پرس کی ہے اور ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں تین مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے آن لائن پروپیگنڈہ چینل سے رابطہ میں رہنے والے تینوں نوجوانوں کے گھر پر اے ٹی ایس نے تلاشی لی ہے۔ جس کے بعد ان نوجوانوں کے گھر سے موبائل فون سمیت الیکٹرانک گزٹ بھی ضبط کئے ہیں۔ ممبئی کے کرلا، شیواجی نگر گوونڈی میں گزشتہ روز اے ٹی ایس نے اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی ہے۔ اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ بالا تینوں نوجوان ہندوستان میں ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے رابطے میں تھے۔ ان نوجوانوں سے متعلق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نوجوان داعش آئی ایس آئی ایس کے آن لائن چینل کے رابطے میں تھے اور سوشل میڈیا پر ممنوعہ تنظیم کے ویڈیو و دیگر چیزیں سوشل میڈیا پر دیکھا کرتے تھے۔ اے ٹی ایس کی کارروائی کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں میں دہشت کا ماحول ہے۔ اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج نے چھاپہ مار کارروائی کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ نوجوان سوشل میڈیا پر دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں سے دور رہیں, کیونکہ یہ ان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے۔ اس سے قبل بھی اے ٹی ایس نے ایسے کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے, جو دہشت گردانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ اس میں پی آئی او کے لیے جاسوسی کے معاملے میں بھی اے ٹی ایس نے کئی نوجوانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار بھی کیا ہے۔ اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم کے آن لائن پروپیگنڈوں کے دام میں نہ آئے۔ اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جن نوجوانوں سے بازپرس کی گئی ہے وہ ممنوعہ تنظیم کے انسٹاگرام اور ٹیلی گرام کے رابطے میں تھے۔ ان مشتبہ نوجوانوں کو اے ٹی ایس نے پوچھ گچھ کے لیے زیر حراست لیا تھا۔ اے ٹی ایس یہ بھی معلوم کرُرہی ہے کہ آیا یہ نوجوان کن تنظیموں کے رابطے میں تھے۔ ان تنظیموں کے وہ کیا ویڈیو شئیر کیا کرتے تھے یا پھر وہ انہیں کیا اطلاع سوشل میڈیا پر فراہم کرتے تھے۔ اے ٹی ایس نے موبائل فون سمیت دیگر اسباب کو ضبط کرنے کے بعد اسے فارنسک جانچ کے لئے بھیج دیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان