Connect with us
Monday,20-April-2026

(جنرل (عام

سکم میں برفانی تودے کھسکنے سے 7 لوگوں کی موت

Published

on

death

سکم کے تسونگ مو میں ناتھولا درہ کے پاس برفانی تودے کھسکنے کے باعث پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ نکالنے کے لیے جنگی سطح پر راحت رسانی کے کام کیے جارہے ہیں۔ حالانکہ منگل کی رات کو ریسکیو آپریشن روک دیا گیا تھا۔ وہیں آج صبح پھر سے راحت رسانی مہم کی شروعات کی گئی ہے۔ برفانی تودے کھسکنے کی وجہ سے اب تک 7 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ابھی بھی کئی لوگ برف میں دبے ہوسکتے ہیں۔ سیاحوں کی افسوسناک موت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے ایس جئے شنکر نے اسے بے چین کرنے والا افسوسناک واقعہ بتایا۔ انہوں نے دیگر زخمی لوگوں کے فوری صحتیاب ہونے کی تمنا کی۔

مرکزی وزیر ایس جے شنکر نے ٹویٹ کیا، ’سکم میں ہولناک برفانی تودے کی وجہ سے موت اور زخمی ہونے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ سوگوار خاندانوں سے تعزیت۔ ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتے ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے تین کی شناخت نیپال کے شہریوں کے طور پر ہوئی ہے اور ان میں سے دو کا تعلق اتر پردیش اور مغربی بنگال سے تھا۔ ریسکیو آپریشن میں مصروف فوج کے لیے موسم بدستور چیلنج بنا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن روک دیا گیا۔

فوج نے کہا کہ سکم میں گنگٹوک ناتھو لا روڈ پر منگل کی دوپہر ہوئے برفانی تودے کھسکنے کے واقعہ کی وجہ سے کم از کم سات سیاحوں کی موت ہوگئی ہے اور ابھی بھی کئی لوگوں کے برف میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہندوستانی فوج نے اب تک قریب 14 لوگوں کو موقع سے بچالیا ہے اور باقی 30-20 سیاحوں کے ابھی بھی پانچ چھ گاڑیوں کے ساتھ برف میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ بچائے گئے لوگوں کو فوری نزدیکی فوجی طبی سہولیاتی مراکز میں لے جایا گیا ہے۔ جہاں سات لوگوں نے دم توڑ دیا اور باقی سات کو علاج کے بعد چھٹی دے دی گئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لینسکارٹ اسٹور میں بی جے پی لیڈر نازیہ الہی کی شرانگیزی, اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کی اپیل

Published

on

ممبئی : ممبئی کے اندھیری علاقہ میں لیسنکارٹ اسٹور میں داخل ہوکر بی جے پی لیڈر نازیہ الہی نے نہ صرف یہ کہ نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک مسلم نوجوان سے بحث کر تے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح سے یہاں شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے لینسکارٹ میں ہندو لباس و طریقہ رسم و رواج پر پابندی کے بعد نازیہ الہی نےسوشل میڈیا پر لینسکارٹ میں داخل ہوکر یہاں ہندو ملازمین کو تلک لگایا جس کے بعد یہ معاملہ اب مذہبی تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے لینسکارٹ کے مالک پیوش بنسل سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر اسلامی رسم و رواج کے لیے اتنی “محبت” ہے تو ہندو اکثریت والے ہندوستان میں ہندو عقائد کے لیے اتنی “نفرت” کیوں ہے؟ لینسکارٹ کے دوہرے معیار کے خلاف ملک بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لوگ مختلف طریقوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سناتن روایات کی حامی اور بی جے پی لیڈر نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا اور ملازمین کو تلک لگایا۔نازیہ الٰہی خان نے لینسکارٹ اسٹور کا دورہ کیا۔نازیہ نے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات اور شناخت سے پوری طرح آگاہ رہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لینسکارٹ اسٹور کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے، اس نے لکھا، “تلک آپ کےلئے باعث افتخار ہے۔ کلاوا آپ کا سنسکار (مقدس دھاگہ) آپ کا سنسکار (ثقافت) ہے۔ سناتن آپ کی پہچان ہے ہر ہر مہادیوکا نعرہ لگانا آپ کا اعزاز ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہندو جہاں بھی کام کرتے ہیں، انہیں اپنی شناخت اور روایات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نازیہ نے لکھا۔چاہے آپ لینسکارٹ میں کام کریں یا ایئر انڈیا میں، آپ جہاں بھی ہوں، اپنی شناخت سے کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔” نازیہ نے اپنی پوسٹ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دفتر، وی ایچ پی، بجرنگ دل، مہاراشٹر بی جے پی اور ایئر انڈیا کو ٹیگ کیا
لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگانے کی مہم پوسٹ کی گئی تصاویر میں نازیہ الٰہی خان لینسکارٹ کے ملازمین کو تلک لگاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس پوسٹ پر سابق مسلم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔بہت سے صارفین نے انتہائی جارحانہ اور بیہودہ تبصرے کیے ہیں جن کا یہاں ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔لینسکارٹ دوہرے معیار کے الزامات کے درمیان تنازعہ کاشکار ہوگیا ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ لینسکارٹ کے اپنے ملازمین کے لیے لباس اور تصویر کے حوالے سے داخلی ہدایات گزشتہ کچھ دنوں سے گرما گرم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایک ہندو اکثریتی ملک میں ایک ہندو ملکی کمپنی جس میں ہندو ملازمین اور ہندو خریداروں کی اکثریت ہے، ہندو مذہبی عقائد اور ہندو شناخت کو دبانے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔ پیوش بنسل نے دو الگ الگ پوسٹس میں ان الزامات کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لینسکارٹ گرومنگ گائیڈ لائنز پرانی ہیں۔
لینسکارٹ کے ڈریسنگ رولز پر تنقید
پیوش بنسل نے تسلیم کیا کہ سندھور، بندی اور کلاوا پر پابندی عائد تھی۔لوگ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس طرح کے گہرے امتیازی رہنما خطوط کسی میں موجود ہے۔ لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ “نئے رہنما خطوط کہاں ہیں جو سندور، بندی اور کلاوا پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟” دریں اثنا، لینسکارٹ کے کئی سابق اور موجودہ ملازمین رپورٹ کر رہے ہیں کہ کس طرح کمپنی ہندو ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ کچھ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ وہ ہندو مذہبی عقائد کی پاسداری کرتے تھے یا ان کی حمایت میں بات کرتے تھے۔لینسکارٹ کے حصص فروخت ہوئے۔مذہبی امتیاز کے الزامات اور اس کے ارد گرد بڑھتے ہوئے تنازعہ کے بعد، لینسکارٹ کے حصص فروخت ہو رہے ہیں۔ پیر کو، لینسکارٹ کے حصص دونوں بڑے انڈیکس، بی ایس ای اور این ایس ای پر تقریباً دو فیصد گر گئے۔ دوپہر 2:40 بجے اس خبر کو شائع کرنے کے وقت، بی ایس ای پر لینسکارٹ کے حصص 1.83%، یا ₹9.80، ₹524.75 تک نیچے تھے۔ دریں اثنا، این ایس ای پر، لینسکارٹ کے حصص 1.82%، یا ₹9.75، گر کر ₹524.80 پر آ گئے۔اس معاملہ میں پولیس نے اب تک کوئی بھی کیس درج نہیں کیا ہے جبکہ یہ معاملہ مذہبی بھید بھائو اور فرقہ پرستی سے بھی وابستہ ہے اور کھلے عام مذہبی عناد پیدا کرتے ہوئے نازیہ الہی نے کسی ایک مذہب کا ہدف بھی بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : عیدالاضحی سے قبل جانوروں کی بے جا پکڑ دھکڑ پر روک کا مطالبہ، ابوعاصم اعظمی کی ڈی جی پی سدانندداتے سے کارروائی کا بھی مطالبہ

Published

on

ممبئی : ممبئی عید الاضحی سے قبل شرپسندوں کے جانوروں کے بیوپاریوں اور تاجروں کی ہراسائی قربانی کے جانوروں کی پکڑ دھکڑ ہفتہ وصولی تشدد کے خلاف مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس ڈی جی پی سے ملاقات کر کے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی جانوروں کے تاجروں کو ہرساں کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنانے والوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں عید الاضحی پر نظم و نسق خراب کرنے والوں پر بھی ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی جی سے میٹنگ میں جانوروں کی نقل و حمل کے دوران تاجروں کو درپیش مسائل جن میں ہراساں کرنا، ہفتہ وصولی ، تشدد اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جانا شامل ہیں، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ کئی مقامات پر سماج دشمن عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں جس سے خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اس میٹنگ میں قریشی برادری کو درپیش مسائل سے متعلق بھی ڈی جی پی کو آگاہ کیا گیا اور قربانی کے دوران گوشت کی نقل و حمل بآسانی ہو اس کےلئے اسکواڈ سمیت دیگر سیکورٹی کا بھی انتظام ہو اعظمی نے مطالبہ کیا کہ تاجروں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن نمبر جاری کیا جائے، واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ پولیس کے علاوہ کوئی بھی گاڑیوں کو نہ روکے، ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور اجازت نامے کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ اس طرح کے کئی مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔
اس سلسلے میں، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدانند دتے نے مثبت یقین دہانی کرائی، رہنمایانہ اصول ایس او پیز کو سختی سے تیار کرنے، ہیلپ لائن نمبر 112 کو فعال رکھنے اور ضروری اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے دیگر مطالبات کو بھی حل کرنے کا وعدہ کیا۔
اس ملاقات میں ایڈوکیٹ یوسف ابرہانی، آصف قریشی اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان