سیاست
جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 50.08 فیصد ووٹنگ
جموں و کشمیر میں پیر کو ڈسٹرکٹ ڈیولوپمنٹ کونسل انتخابات کے چوتھے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح 50.08 فیصد درج ہوئی ہے۔ صوبہ کشمیر میں 31.95 فیصد جبکہ صوبہ جموں میں 69.31 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر کے الیکشن کمشنر کے کے شرما نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر میں پیرکو ڈی ڈی سی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں مجموعی طور پر 50.08 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
انہوں نے ضلع وار تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ’صوبہ کشمیر میں ضلع پلوامہ میں 6.70 فیصد، ضلع بارہمولہ میں 47.43 فیصد، ضلع کولگام میں 8.73 فیصد، ضلع شوپیاں میں 1.96 فیصد، ضلع اننت ناگ میں 27.04 فیصد، ضلع بانڈی پورہ میں 45.22 فیصد، ضلع گاندربل میں 56.28 فیصد، ضلع کپوارہ میں 44.35 فیصد اور ضلع بڈگام میں 38.04 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
موصوف نے صوبہ جموں کی ضلع وار تفصیلات یوں بیان کیں: صوبہ جموں کے ضلع کشتواڑ میں 70.32 فیصد، ضلع اودھم پور میں 59.90 فیصد، ضلع جموں میں 71.80 فیصد، ضلع کٹھوعہ میں 61.23 فیصد، ضلع رام بن میں 67.39 فیصد، ضلع ڈوڈہ میں 75.03 فیصد، ضلع سانبہ میں 71.97 فیصدِ ضلع پونچھ میں 75.42 فیصد، ضلع راجوری میں 71.22 فیصد اور ضلع ریاسی میں 62.67 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر میں پیر کو ڈی ڈی سی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے سلسلے میں 34 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوئی جن میں سے 17 کشمیر جبکہ 17 جموں صوبے کے ہیں۔
علاوہ ازیں پیر کے روز 50 سر پنچوں اور 216 پنچوں کی خالی نشستوں کے بھی ضمنی انتخابات ہوئے۔
جموں و کشمیر میں چوتھے مرحلے کی پولنگ کے لئے کل 1916 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے جن میں سے 1129 کشمیر میں جبکہ 787 پولنگ بوتھ صوبہ جموں میں قائم کئے گئے تھے۔
ڈی ڈی سی انتخابات کے اس چوتھے مرحلے کی پولنگ کے لئے کل 249 امیدواروں نے قمست آزمائی کی جن میں سے 138 کا تعلق کشمیر جبکہ 111 کا تعلق صوبہ جموں سے ہے۔
پیر کے روز ہونے والے ان انتخابات کے چوتھے مرحلے میں کل 364527 رائے دہندگان نے اپنی رائے کا استعمال کیا جن میں سے مرد ووٹران کی تعداد 195206 جبکہ خواتین رائے دہندگان کی تعداد 169321 تھی۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلی بار منعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات سال گذشتہ کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کے بعد جہاں یہاں یہ پہلی بڑی سیاسی سرگرمی ہے وہیں مغربی پاکستان کے مہاجروں کو بھی پہلی بار ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا ہے۔
ان انتخابات سے جہاں جموں و کشمیر میں تھری ٹائر پنچایتی راج سسٹم رائج ہوگا وہیں یونین ٹریٹری کے 20 اضلاع میں 280 نمائندے منتخب ہوں گے۔ ضلع ترقیاتی کونسلوں کو پانچ برس کی مدت کے لئے منتخب کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں گذشتہ پنچایتی انتخابات نومبر – دسمبر سال 2018 میں منعقد ہوئے تھے جن میں 3 ہزار 4 سو 59 سرپنچ جبکہ 22 ہزار 2 سو 14 پنچ منتخب ہوئے تھے۔
ہر ضلع ترقیاتی کونسل میں 14 منتخب نمائندے ہوں گے اور پانچ سٹینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو ضلع کی کلہم تعمیر ترقی پر کام کریں گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کوڈ پر مہاراشٹر اسمبلی میں ہنگامہ، قرآن و شریعت کے نفاذ کا ثنا ملک کا مطالبہ

ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کوڈ مساوی قانون یو سی سی پر بحث شروع تھی اس دوران این سی پی اجیت پوار گروپ کی لیڈر اور رکن اسمبلی ثنا ملک نے جارحانہ انداز میں کہا کہ تعداد ازدواج صرف مسلمانوں میں ہی عام نہیں ہے دیگر مذاہب میں بھی یہ عام ہے صرف مسلمان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس پر بی جے پی ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک آئین دستور سے چلے گا قرآن یا شریعت سے نہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن، ‘تین طلاق’، تعدد ازدواج اور ‘یکساں سول کوڈ’ (یو سی سی) جیسے انتہائی حساس مسائل پر حکمراں اور حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے درمیان نوک جھونک ہوئی ۔بی جے پی ایم ایل اے دیویانی فراندے نےیکساں سول کوڈ پر سوال اٹھایا اس دوران این سی پی (اجیت پوار گروپ) کی ایم ایل اے ثنا ملک نے جارحانہ ر یہ اختیار کیا دیونانی نے یہاں یو سی سی کے نفاذ کا مطالبہ کیا توجہ طلب نوٹس کے،عرفت۔
بی جے پی ایم ایل اے دیویانی نے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ پیش کیا”تین طلاق اور تعدد ازدواج کی وجہ سے مسلم خواتین کے ساتھ بڑی ناانصافی ہو رہی ہے۔ صرف پاکستان ہی تعدد ازدواج کا پابند ہے، لیکن ہندوستان میں ایسا نہیں ہے۔ ریاستی حکومت یکساں سول کوڈ کو کب نافذ کرے گی؟” یہ سوال کیا جس پر وزیر مملکت داخلہ یوگیش کدم نے یو سی سی کے لیے کمیٹی تشکیل سے متعلق تفصیل بتائی اور کہا کہ سرکار کا موقف اس میں واضح ہے، ریاستی حکومت یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ سے متعلق مثبت طریقے پر کام کر رہی ہے وزیر اعلیٰ نے قانونی مسودہ بھی تیار کر لیا ہے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی رپورٹ آنے کے بعد، یو سی سی کے نفاذ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ایک بار جب یو سی سی نافذ ہو جائے گا، تو یہ ملک کے ہر شہری پر یکساں طور پر قانون نافذ ہو گا۔ اس لیے کثرت ازدواج اور تعداد ازدواج پر پابندی ہو گی ، مسلمان قرآن و سنت پر عمل کرتا ہے وہ شریعت کا پابند ہے۔
ایم ایل اے ثنا ملک، نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قرآن سنت اور شریعت پر عمل پیرا ہےاور بی جے پی کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور اراکین کہتے ہیں کہ پاکستان میں فلاں قانون نافذ ہے تو پاکستان کوئی منفرد کام نہیں کرتا وہ قرآن و حدیث پر کاربند ہےقرآنی تعلیمات کو ہی وہ نافذ کرتا ہے اس لئے میں مطالبہ کرتی ہوں کہ یہاں بھی قرآنی تعلیمات پر عمل کیا جائے کیا صرف مسلمان مرد ہی ایک سے زیادہ شادی کرتے ہیں؟ تعددادازدواج دوسرے مذاہب میں موجود ہے۔ فرق یہ ہے کہ صرف مسلم مذہب میں ہی تعدد ازدواج کے لیے یکساں اصول و ضوابط ہیں۔ثناء ملک نے کہا، “طلاق حسن اور ‘طلاق احسن’ وہ اقسام ہیں جن کی ہم پیروی کرتے ہیں۔ لیکن ‘طلاق بدعت’ بذات خود ایک الگ ثقافتی عمل ہے، اس کا قرآن میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ اسی لیے ہندوستان میں اس کا وجود نہیں تھا، اس لیے حکومت نے اسے منسوخ کر دیا۔جس پر مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ طلاق بدعت کو مسلمان نہیں مانتے ۔ بی جے پی اراکین قرآن کے نفاذ کے ثنا ملک کے بیان پر آگ بگولہ ہو گئے اور کئی اراکین نے اس پر اعتراض بھی کیاکئی اراکین نے ثنا ملک سے کہا کہ “ہمیں قرآن پر لیکچر مت دو۔ یہ ملک قرآن پر نہیں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر چلے گا۔ اس دوران، جب ثنا ملک کی ایوان میں مخالفت کی گئی اور ان کی لب کشائی پر بی جے پی نے ہنگامہ برپا کیا تو نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار گروپ) کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے ثنا کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ ایوان کی روایت ہے کہ اگر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے اظہار رائے کی آزادی دی جائے ثنا ملک کا مشورہ پسند آئے یا نہ آئے ان کی زبان بندی قطعی درست نہیں ہےمیں ثنا ملک کے موقف کا حامی ہوں
مانسون اجلاس میں ‘یکساں سول کوڈ’ (یو سی سی) اور ‘تین طلاق’ کے مسئلہ پر حکمراں عظیم اتحاد کے درمیان نظریاتی تنازعہ اور اختلاف سامنے آیا ہے ایک طرف بی جے پی اور شندے گروپ ہندو اور آئین کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف مسلم رکن اسمبلی ثنا ملک شریعت اور اسلام سے متعلق ایوان میں بے باکی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انہوں پوری شدت کے ساتھ مسلم مسائل پر بی جے پی کو جواب دیاہےاس پر تنازع مزید شدید ہونے کا امکان اب روشن ہو گیا ہے ۔ دوسری طرف یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نتیش رانے بھی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے دستور پر چلے گا انہوں نے کہا کہ ایوان میں جب اس مسئلہ پر بحث ہو رہی تھی تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہم کراچی یا پاکستان کے ایوان میں بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ہندوتوا کی سرکار ہے یہ دریافت کرنے پر کہ آیا مہایوتی کی رکن اسمبلی ثنا ملک نے ایوان میں یکساں سول کوڈ اور مسلم خواتین سے متعلق سوال پر اعتراض کیا اور کہا کہ مہاراشٹر میں کیا صرف مسلم خواتین پر ہی ظلم ہوتا ہے تو اس پر نتیش رانے نے کہا کہ جو بھی ہندوتوا کامسئلہ اٹھائیں گا ہم اس کی حمایت کریں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر اسمبلی میں ڈرگس کے خلاف مختلف سوالات پر وزیر اعلیٰ کا دعوی، اپوزیشن کا ایوان سے واک آؤٹ

ممبئی مہاراشٹر اسمبلی کے دوسرے روز اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آوٹ کر کے کام کاج میں عدم موجودگی درج کروائی دوسری جانب عوامی مسائل پر سوال اور جواب کے دوران وزیر اعلی نے ڈرگس سے پاک ممبئی اور مہاراشٹر کےاپنے عزم مصمم کو دہرایا ۔ آج وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے ڈرگ مافیا کے خلاف پوچھے گئے مختلف سوالات پر تفصیلات پیش کیں ۔ فڈنویس نے واضح کیا کہ حکومت ممبئی اور مہاراشٹر کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے آج ایوان میں اعدادوشمار کے ساتھ یہ معلومات پیش کیں۔ اپوزیشن نے اعتراض کیا۔ پولیس پر سنگین الزامات لگائے گئے۔وزیراعلی فڑنویس نے اس کا تفصیلی جواب دیا۔ ریاست میں چار مہینوں میں 254 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ حکومت نے اسمبلی کو بتایا کہ ریاست میں چار مہینوں میں 254 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ جنوری سے اپریل 2026 تک ریاست میں منشیات رکھنے کے 1,142 کیس درج کیے گئے۔ حکومت نے اسمبلی کو بتایا کہ اس آپریشن میں 1,626 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور 254.53 کروڑ روپے کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ منشیات کے استعمال کے خلاف 3,199 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کے تمام سات یونٹ ممبئی سمیت ریاست بھر میں انسداد منشیات کی کارروائیوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سال 2025 میں، اے این ٹی ایف اور پولیس نے مل کر 523.17 کروڑ روپے کی منشیات کو تباہ کیا۔ فڑنویس نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کے سلسلے میں حکومت کی ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی ہے اور قصوروار پائے جانے والے پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ ‘منشیات سے پاک ممبئی’ مہم، پولیس بڑے پیمانے پر ہفتہ وصولی میں ملوث پائی گئی ہے۔ ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف براہ راست کارروائی کی جائے۔ شرد پوار این سی پی لیڈر جینت پاٹل نے الزام لگایا کہ ہمیں آن لائن منشیات فراہم کی جارہی ہے ۔ اس دوران لیڈر جتیندر اوہاد نے الزام لگایا کہ منشیات کا ریکیٹ پولیس کی ملی بھگت سے چل رہا ہے۔ ہم ہمیشہ ایوان میں منشیات پر بحث کرتے ہیں۔ منشیات فروخت ہونے والی جگہوں کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینے پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ سنیل پربھو نے الزام لگایا کہ آج گلیوں میں منشیات فروخت ہو رہی ہیں۔ ریاست میں یہ ایک سنگین جرم ہے۔ محکمہ نارکوٹکد کیا کر رہا ہے؟ جینت پاٹل نے مطالبہ کیا کہ ہماری پولیس کو ان جگہوں پر بھیجا جائے جہاں ریاست سے باہر کی بندرگاہوں پر منشیات پائی جاتی ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ مہم اور منشیات سے پاک آگاہی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایسے معاملات میں قصوروار پائے جانے والے تمام پولیس والوں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ہم نے نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ کو توسیع دی ہے۔ ہم ہر تھانے میں ایک محکمہ قائم کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اچھے افسران کو اینٹی نارکوٹکس فورس میں تفویض کیا جائے۔ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے بتایا کہ میں اب ہر روز نارکوٹکس پرتفصیل طلب کی جائے گی ۔منشیات کے سرغنہ سلیم ڈولا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ستارہ میں بھی ایک فیکٹری ملی ہے اور وہ ان کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ممبئی پولیس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی پولیس نے مختلف ریاستوں میں جا کر منشیات کو تباہ کیا ہے۔ ہم نے ممبئی کے 3000 اسکولوں اور کالجوں میں پروگرام شروع کیے ہیں۔ ہم منشیات سے پاک زندگی گزارنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ منشیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو ہم انعامات دیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس شخص کی شناخت ظاہر نہ ہو۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
منشیات، مساجد و مدارس کے تحفظ اور مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آل انڈیا سنی جمعیت العلماء کی ہنگامی میٹنگ

ممبئی آل انڈیا سنی جمعیت العلماء کے زیر اہتمام دو ٹانکی واقع جامعہ قادریہ اشرفیہ سنی مسجد بلال میں منشیات کے بڑھتے رجحان، مساجد و مدارس کے تحفظ اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک پر ہونے والے مظالم کے۔ اجلاس کی صدارت پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا الشاہ سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی، صدر آل انڈیا سنی جمعیت العلماء نے فرمائی جبکہ سرپرستی بانی رضا اکیڈمی و نائب صدر آل انڈیا سنی جمعیت العلماء، اسیرِ مفتی اعظم محافظِ ناموسِ رسالت الحاج محمد سعید نوری نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں حضرت علامہ سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی نے نوجوانوں میں منشیات کی بڑھتی لعنت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج اچھے اور معزز خاندانوں کے نوجوان بھی اس بری لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرد کی نشہ کی عادت پورے خاندان کو متاثر کرتی ہے، اس لیے معاشرے کو اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مساجد و مدارس کے ذمہ داران کو ہدایت دی کہ اپنے تمام قانونی دستاویزات اور کاغذات مکمل اور درست رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قانونی سطح پر مؤثر جدوجہد کی جا سکے۔
الحاج محمد سعید نوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے موجودہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ مساجد، مدارس اور دینی اداروں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور ناموسِ رسالت ﷺ پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور جلد ہی مساجد و مدارس کے تحفظ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ ہالینڈ سے تشریف لائے ہوئے ممتاز عالم دین مفتی شفیق الرحمن نے میدانِ کربلا کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے انسانیت کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، برائیوں کے خاتمے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا امام حسینؓ کی تعلیمات کو اپنالے تو عالمی امن و اخوت کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔
ہانڈی والی مسجد کے خطیب و امام علامہ اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ پر حملے ایک منظم سازش کا حصہ ہیں جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں ایک مرتدہ کی جانب سے گستاخانہ حرکت پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی گئی اور آئندہ بھی ایسے عناصر کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اجلاس میں قاری مشتاق احمد تیغی، قاری قطب الدین، مولانا عرفان علیمی، مولانا شاہ نواز، مولانا عبدالرحیم، قاری محفوظ احمد، مولانا ثناء اللہ، قاری نقیب، قاری احمد رضا، قاری الیاس، قاری اشفاق اور دیگر علماء و ائمہ مساجد نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر منشیات کے خاتمے، مساجد و مدارس کے تحفظ اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
