Connect with us
Wednesday,24-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

مہاراشٹر کی 288 نشستوں پر 3239 امیدوار

Published

on

election

ممبئی : مہاراشٹر اسمبلیوں کی 288 نشستوں کے لیے 5543 امیدواروں نے پرچے نامزدگی داخل کیے تھے، گزشتہ روز نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی اور 1504 امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیاہے اورنام واپس لینے کے بعد اب ریاست میں مجموعی طور پر 3239 امیدواروں کے درمیان مقابلے کا منظر نامہ صاف ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ 246 امیدوار پونے ضلع میں اور سب سے کم امیدوار سندھودرگ میں انتخابات لڑ رہے ہیں۔ ممبئی میں ایڈیشنل چیف الیکشن آفیسر دلیپ شندے نے ایک پریس کانفرنس میں اس کی اطلاع دی۔ اس دوران مختلف پارٹیوں کے باغی امیدوار بھی میدان میں ہیں جن میں بی جے پی اور شیوسینا کے باغی امیدوار بھی شامل ہیں۔
جنہیں ٹکٹ نہیں ملا۔البتہ چند امیدواروں نے اپنے پارٹی لیڈران کی ہدایت پر عمل کرکے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ پرچہ نامزدگی کی جانچ کے بعد ریاست سے چار ہزار سات سو ترتالیس امیدواروں کا پرچہ قبول کیا گیا ہے۔ ممبئی شہر ضلع کے دس اسمبلی حلقوں میں مجموعی طور پر 89 امیدوار انتخابی مقابلے میں ہیں، اور نام واپس لینے کے آخری دن پانچ امیدواروں نے اپنا نام واپس لیا ہے۔ ان میں جن امیدواروں نے اپنا نام واپس لیا ہے، ان میں ورلی حلقہ سے تین جبکہ دھاراوی اور ممبادیوی سے ایک ایک امیدوار شامل ہیں۔ ممبئی مضافات ضلع کلکٹر ملندبوریکر کے مطابق ضلع کے 26 اسمبلی حلقوں میں 32 امیدواروں نے اپنا نام واپس لیا ہے، جس کے بعد اب مجموعی طور پر 244 امیدوار مقابلے میں ہیں۔ اس لئے کل 334 امیدواروں نے پرچہ داخل کیا تھا۔ جن میں سے 59 کا پرچہ مسترد کیا گیا۔ تھانہ ضلع میں واقع اٹھارہ انتخابی حلقوں میں پیر کو 38 امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیا اب 213 امیدوار انتخابات میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔ یہ اطلاع تھانے ضلع کلکٹر اور ضلع الیکشن آفیسر راجیش بوریکرنے دی ہے۔
تھانے ضلع میں تھانے حلقے میں سب سے کم پانچ امیدوار انتخابی میدان میں اترے ہیں، جبکہ کلیان اسمبلی حلقے میں سب سے زیادہ ہیں۔نام واپس لینے کے آخری دن بڑی تعداد میں امیدواروں نے نامزدگی واپس لی ہیں۔ ناندیڑ میں اسمبلی حلقہ میں جملہ 62 امیدواروں نے پرچے داخل کیے تھے جن میں سے 24 امیدواروں نے نام واپس لے لئے ہیں۔ جس کے بعد انتخابی میدان میں اب اڑتیس امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ اسی حلقے سے سب سے زیادہ 91 پرچہ داخل کیے گیے تھے، جن میں سے 84 امیدواروں نے نام واپس لے لیے ہیں۔ جس کے بعد سات امیدوار انتخابی میدان میں ہیں اور ان میں سابق وزیراعلی اشوک چوان بھی شامل ہیں۔ بھیونڈی میں نامزدگی واپس لینے کے آخری دن 5 مشرق سے پانچ مغرب سے ایک اور دیہی سے دو امیدواروں نے اپنی نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ جس کے بعد اب تینوں حلقوں میں مجموعی طور پر 28 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا مشرق میں 14 بھیونڈی مغرب میں سات اور بھیونڈی دیہی حلقے میں سات امیدوار میدان میں ہیں۔

بین الاقوامی خبریں

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے سے لے کر روسی تیل پر تناؤ، کواڈ کے مستقبل کے بارے میں سوالات باقی ہیں۔

Published

on

G7

واشنگٹن : کچھ معاملات پر اختلافات کے باوجود، ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک، اقتصادی، تکنیکی اور سیکورٹی تعاون پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ امریکہ میں ہندوستان کے ڈپٹی چیف آف مشن، نمگیا سی کھمپا نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات 21ویں صدی کی سب سے اہم اور واضح شراکت داری بن گئے ہیں۔ کیپٹل ہل پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھمپا نے کہا کہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیاد مشترکہ مفادات، مضبوط اقتصادی تعاون، تکنیکی شراکت داری، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی پر ہے۔ کھمپا نے کہا، “ہندوستان-امریکہ کی شراکت داری کو 21ویں صدی کی سب سے اہم شراکت داری کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، اور یہ بالکل سچ ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ ہم ہر معاملے پر 100 فیصد متفق ہیں۔ فطری طور پر، کچھ مسائل پر اختلافات ہیں، لیکن اس تعلقات کے پیچھے اسٹریٹجک نقطہ نظر ہر سال مضبوط ہو رہا ہے۔” کھمپا کے تبصرے ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب ہندوستان اور امریکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں تجارت کو بڑھانے، تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانے اور سیکورٹی کوآرڈینیشن کو گہرا کرنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے سی کھمپا نے کہا کہ دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ وہ ایک پرجوش تعلقات اور اعتماد کے مضبوط بندھن میں شریک ہیں۔ بھارتی سفارت کار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ دورہ بھارت کا بھی ذکر کیا، جس کے دوران انہوں نے دو طرفہ ملاقاتوں کے علاوہ کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بھی شرکت کی۔ سی کھمپا نے کہا کہ تجارت دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ دونوں اطراف کے مذاکرات کار دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد صرف ٹیرف کو کم کرنا نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط، گہرا، مہتواکانکشی اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری قائم کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور امریکہ کے توانائی کے وسیع وسائل دونوں ممالک کو قدرتی شراکت دار بناتے ہیں۔ خام تیل، ایل این جی اور سول نیوکلیئر توانائی میں تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کو مستقبل کی شراکت داری کا سب سے اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کھمپا نے کہا کہ اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، ایڈوانس کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشنز اور دیگر اہم ٹیکنالوجیز میں تعاون دونوں ممالک کی ترجیح ہے۔ سپلائی چینز کو متنوع بنانے اور چند منتخب ٹیکنالوجی مراکز پر انحصار کم کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ یہ اب صرف فوجی مشقوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں میری ٹائم سیکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اہم ٹیکنالوجیز اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال، ہندوستان اور امریکہ نے 10 سالہ دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو مستقبل میں تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرتا ہے۔ کھمپا نے کواڈ (ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا) کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہند-بحرالکاہل خطے میں استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اپنے خطاب میں، انہوں نے نوٹ کیا کہ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی نژاد 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دونوں ممالک کے درمیان حکومتی تعلقات کو ایک جامع سماجی شراکت داری میں بدل دیا ہے۔ کھمپا نے کاروبار، طب، ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ، تعلیم اور عوامی خدمت کے شعبوں میں ہندوستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے اہم کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یہ کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کے طور پر کام کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی جھوپڑ پٹی علاقوں کے اسکولوں پر درج ایف آئی آر حکومت فوراً واپس لے، شرائط میں نرمی دے کر انہیں مستقل کرے : ابو عاصم اعظمی

Published

on

ABUASIM

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور مانخورد شیواجی نگر سے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران ایوان میں کچی بستیوں (جھوپڑ پٹی علاقوں) میں چلنے والے پرائیویٹ اسکولوں کا مسئلہ پیش کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اسکولوں کے پرنسپل، سکریٹریوں اور چیئرمین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ان اسکولوں کو بند ہونے سے بچایا جائے۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “میرا انتخابی حلقہ مانخورد شیواجی نگر ایک انتہائی غریب و پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں پرائیویٹ اسکولوں میں تقریباً ۳۰ سے ۳۵ ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس علاقے کے بی ایم سی اسکولوں کی گنجائش پوری طرح ختم ہو چکی ہے اور وہاں نئے داخلوں کے لیے بچوں کی طویل ویٹنگ لسٹ ہے۔ ایسے میں یہ پرائیویٹ اسکول ہی غریب بچوں کی تعلیم کا واحد سہارا ہیں۔

اہم مطالبات اور نکات : شرائط میں نرمی اور ریگولرائزیشن
اسکولوں کو منظوری دینے کے لیے حکومت کی جو شرائط ہیں جیسے کھلی جگہ، کھیل کا میدان (پلے گراؤنڈ) وغیرہ وہ جھوپڑ پٹی علاقوں میں پوری ہونا عملی طور پر ناممکن ہے۔ اس لیے حکومت کو ان علاقوں کے لیے خصوصی قوانین بنا کر انہیں ریگولرائز کرنا چاہیے۔شیواجی نگر اور دیونار پولیس اسٹیشنوں میں ان اسکولوں کی مینجمنٹ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو فوراً واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکولوں کا رزلٹ ۹۰ فیصد سے زیادہ رہتا ہے اور ان کا تعلیمی معیار بی ایم سی اسکولوں سے بہتر ہے۔ یہاں اساتذہ محض ۶,۰۰۰ سے ۷,۰۰۰ روپے کی قلیل تنخواہ میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی تشکیل میں تاخیرہوئی ہےگزشتہ اجلاس میں بھی یہ مسئلہ پر سرکار نے انکوائری کمیٹی بنانے کا یقین دلایا تھا، لیکن اب تک کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی۔

ابو عاصم اعظمی نے وارننگ دی کہ اگر انتظامی کارروائی کی وجہ سے یہ اسکول بند ہو گئے تو ۳۰ سے ۳۵ ہزار غریب بچوں کا مستقبل مکمل طور پرتاریک ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

فرضی بی ایم سی ڈپٹی کمشنر الطاف شیخ گرفتار

Published

on

Arrest,

ممبئی کرائم برانچ نے ایک ایسے نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا جو خود کو بی ایم سی کا ڈپٹی کمشنر ظاہر کر کے لوگو ں کو دھوکہ دیا کرتا تھا۔ الطاف شیخ نامی ۴۵ سالہ شخص سے متعلق کرائم برانچ نے تفتیش کی اور شکایت کو درست پایا جس کے بعد کرائم برانچ نے جال بچھا کر اسے گرفتار کر لیا, یہ بتی والی کار کا بھی استعمال کیا کرتا تھا ۔اس کے علاوہ اس کے قبضے سے شناختی کارڈ بھی برآمد کیا گورنمنٹ آف انڈیا کا فرضی اسٹیکر اور فرضی کارڈ بھی برآمد کئے ہیں۔ ملزم سرکاری ویزیٹنگ کارڈ کا استعمال کرتا تھا اور خود کو بی ایم سی ڈپٹی کمشنر قرار دیا کرتا تھا, اسے ملاڈ سے بتی والی کار سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی کرائم برانچ کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان