Connect with us
Tuesday,17-March-2026
تازہ خبریں

سیاست

خدا کو حاضر ناظر رکھ کر کہتا ہوں دفعہ 370 کبھی واپس نہیں آئے گی: سید شاہنواز حسین

Published

on

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دفعہ 370 کو بحال نہیں کر سکتی انہوں نے کہا کہ ‘گپکار گینگ’ والے اس حقیقت سے خود بخوبی واقف ہیں لیکن لوگوں کو اس سلسلے میں ورغلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آسمان میں لکھی ہوئی عبارت دکھ رہی ہے جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے موصوف نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ وہ ڈی ڈی سی انتخابات کے سلسلے میں وادی کے چار روزہ دورے پر ہیں۔
انہوں نے دفعہ 370 کے عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا: ‘کس نے کہہ دیا آپ کو کہ دفعہ زیر سماعت ہے، میں حاجی بھی ہوں اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کے خاندان سے نسبت بھی رکھتا ہوں۔ میں ذمہ داری سے خدا کو حاضر و ناظر رکھ کر کہتا ہوں کہ دفعہ 370 کبھی بھی واپس نہیں آئے گی، یہ بات “گپکار گینگ” والے بھی جانتے ہیں لیکن وہ لوگوں کو ورغلانے کے لئے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دفعہ 370 کو واپس نہیں لا سکتی اور آسمان میں لکھی ہوئی عبارت دکھ رہی ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔
مسٹر شہنواز حسین نے کہا کہ فاروق عبداللہ دلی میں آکر ‘بھارت ماتا کی جے’ اور ‘بھجن کرتن’ بھی مست ہوکر گاتے ہیں اور یہاں دوسری بولی بولتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے فکر مند ہے اور ان کی ہمہ گیر ترقی یقینی بنانا چاہتی ہے۔
شاہنواز حسین نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ محبت کرتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہاں بھی ایسی ہی ترقی ہو جس طرح باقی ملک میں ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کے دل میں بستا ہے اور دماغ پر چھایا ہوا ہے اور جموں و کشمیر میں ترقی ہو اور نوجوانوں کو روزگار ملے یہ ان کی ضد ہے۔
پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے موصوف ترجمان نے کہا: ‘یہ جو “گپکار گینگ” ہے انہوں نے ہمیشہ اپنا اور اپنے رشتہ داروں کی بھلائی کے لئے کام کیا ہے اگر کشمیر کے لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کیا ہوتا تو آج یہ لوگ بھی کشمیر میں کھل کر گھومتے اور ان کی مقبولیت ختم نہیں ہوئی ہوتی’۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جتنی بھی پارٹیاں آئیں انہوں نے اپنے لئے کام کیا لیکن ہم لوگوں کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسٹر حسین نے کہا: ‘ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جو خواب لوگوں کو دکھا رہے ہیں وہ پورے نہیں ہونے والے ہیں، یہ لوگ پہلے دفعہ 370 کو بچانے کے لئے لوگوں کو ورغلا رہے تھے اور اب اس کو واپس لانے کے لئے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح مردہ قبر سے واپس نہیں لوٹ سکتا اسی طرح دفعہ 370 بھی واپس نہیں لوٹ سکتا۔
موصوف نے کہا کہ جموں وکشمیر میں شعبہ سیاحت دنیا کے لئے سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے لیکن یہاں ٹورزم کی بجائے ٹررزم (جنگجویت) کو تھوپا گیا۔
انہوں نے کہا کہ لیکن اب جنگجویت کا دور ختم ہوچکا ہے اور ٹورزم کا دور شروع ہوچکا ہے۔
مسٹر حسین نے کہا کہ کورونا وبا کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کو شروع کرنے میں حائل ہوا لیکن ہم جموں وکشمیر کی ترقی کے لئے پرعزم ہیں اور ترقی کسی بھید بھاؤ کے بغیر ہوگی امیر کی بھی ہوگی اور غریب کی بھی ہوگی۔
ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘میں یہاں کنول کا پھول کھلانے آیا ہوں اور وادی میں بہت سے کنول کے پھول کھل گئے ہیں’۔
کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے موصوف ترجمان نے کہا: ‘کانگریس ملک کی سیاست میں ہار کی گارنٹی ہے اور مودی جی جیت کی گارنٹی ہے۔ ملک کی سیاست میں راہل گاندھی کی ہار کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہم سے ڈرتی ہے اور مودی جی اور امیت شاہ جی کا نام سن کر ہی کانپتی ہے۔
گجر بکروال طبقے کے لوگوں کے رہائشی ڈھانچوں کے انہدام کے بارے میں پوچھے جانے پر موصوف نے کہا: ‘جموں وکشمیر کے لوگوں کی اراضی کوئی نہیں چھینے گا یہ محض ایک پروپیگنڈا ہے اور گجر بکروال طبقے کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا’۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں گیس کا بحران! لیکن عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، ایوان میں چھگن بھجبل کا دعویٰ… مٹی کے تیل کی فراہمی بھی ممکن

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں بھی ایندھن اور گیس سلنڈروں کی کالا بازار ی اور قلت کی گونج اب عام ہو گئی ہے ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے سبب ایندھن کی بحرانی کیفیات سے عوام پریشان ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں وزیر رسد وخوراک شہری چھگن بھجبل نے یہ واضح ہے کہ گیس کے بحران و فقدان سے متعلق فکر مندہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا ہے کہ گیس اور ایندھن کا ذخیرہ اس کے پاس دستیاب ہے اس لیے کسی کو بھی قطار لگانے یا بلیک مارکیٹنگ سے ایندھن کیا گیس خریدنے کی ضرورت نہیں ہے گیس کی کالا بازاری پر سرکار سخت ہے اور کاروائی بھی جاری ہے۔ ریاست اس وقت ایندھن کی قلت کا شکار ہے، سلنڈر کی کمی ہے۔ اس پس منظر میں بات کرتے ہوئے خوراک اور شہری رسد وزیر چھگن بھجبل نے مقننہ میں اہم معلومات دی ہیں۔ گیس کی فراہمی ایک مرکزی موضوع ہے، اور مرکز نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایل پی جی اور پی این جی کا کافی ذخیرہ ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لیے متفکر ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کہیں بھی قطاریں نہ لگائیں اور گیس کی بلیک مارکیٹنگ نہ ہو۔ ہر ضلع کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران کی کمیٹیاں مقرر کی ہیں۔ اس کے ذریعے اب تک 2129 چیک کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے اب تک ایک ہزار دو سو آٹھ گیس سلنڈر قبضے میں کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 33 لاکھ 66 ہزار 411 روپے کا سامان ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں کل 23 مقدمات درج کیے ہیں اور 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔بھجبل نے کہا کہ پچھلے مہینے گیس سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے تھی۔ اب یہ بڑھ کر 912.50 روپے ہو گیا ہے۔ کمرشل سلنڈر 1720.50 روپے سے بڑھ کر 1835 روپے ہو گئے ہیں۔ آج صبح میں نے بڑی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ڈی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل، آئی او سی ایل کے نمائندوں سے بات کی، جن میں سے کچھ بڑی کمپنیاں ہیں۔ انہوں بتایا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار 9 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ تو ان کو دور کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ کمپنیوں کو مرکزی حکومت کے احکامات ہیں، اور بعض اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے ترجیح دی گئی ہے، جس میں اسپتالوں کو سو فیصد ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں ،عوامی خدمات کوبھی صد فیصدی ترجیحات دی گئی ہے۔ بھجبل نے کہا ہے کہ ریلوے، ہوا بازی اور دفاعی شعبوں سے متعلق گفٹ شاپس کو 70 فیصد ترجیح دی گئی ہے، اور اگر اس میں سے گیس باقی رہ جاتی ہے تو 50 فیصد گیس فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو اور 50 فیصد سیڈ پروسیسنگ کو فراہم کی جائے گی۔
دریں اثنا، ریاست اس وقت گیس کی قلت کا سامنا کر رہی ہے اس کے ازالہ کا بھی راستہ اب سرکار نے طے کر لیا ہے ۔ گیس سلنڈر اور ایندھن کے نعم البدل کے طور پر بھجبل نے کہا کہ ایک راستہ مٹی کا تیل ہے۔ ہمارے پاس مٹی کے تیل کا ذخیرہ دستیاب ہے ۔ کچھ سال پہلے ناگپور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس اجولا گیس اسکیم ہے تو آپ کو مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس لیے مٹی کا تیل ہونے کے باوجود ہم اسے فراہم نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اب ہم نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال مشکل ہے، اس لیے عوام کواستعمال کے لیے مٹی کا تیل فراہم کرنا ضروری ہے یہ مٹی کا تیل اب مٹی کے تیل کے ڈیلرز کو تقسیم کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ ہمآئی او سی ایل، بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل کمپنیوں کے پمپوں پر مٹی کا تیل بھی فراہم کریں گے۔

Continue Reading

بزنس

فریکٹل تجزیات اور اے فنانس سمیت 4 اسٹاکس 7.4% تک گر گئے کیونکہ ان کے آئی پی او لاک ان کی میعاد ختم ہوگئی۔

Published

on

ممبئی: حال ہی میں درج چار کمپنیوں کے حصص پیر کو کم ٹریڈ ہوئے کیونکہ ان کے آئی پی او لاک ان مدت کی میعاد ختم ہونے سے حصص کی ایک قابل ذکر تعداد تجارت کے لیے اہل ہو گئی۔ فریکٹل اینالیٹکس میں سب سے بڑی کمی دیکھی گئی، جس میں تقریباً 4.35 فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ تقریباً 0.69 کروڑ حصص، جو کمپنی کی کل ایکویٹی کے تقریباً 4 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں، ٹریڈنگ کے لیے کھولی گئی۔ تقریباً 1:50 بجے، کمپنی کے حصص 3.98 فیصد گر کر ₹764.35 پر ٹریڈ کر رہے تھے، جو اب بھی ₹900 کی آئی پی او قیمت سے تقریباً 12 فیصد نیچے ٹریڈ کر رہے ہیں۔ اے آئی فنانس نے بھی بھاری فروخت دیکھی، جس میں 7.42 فیصد کمی واقع ہوئی کیونکہ اس کی ایک ماہ کی لاک ان مدت ختم ہو گئی۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران کمپنی کے حصص میں 14.64 فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو ایک ماہ میں تقریباً 24.29 فیصد منفی منافع ملا ہے۔ لاک ان مدت کے ختم ہونے کے بعد، تقریباً 17.6 ملین شیئرز، جو کمپنی کی تقریباً 7% ایکویٹی کی نمائندگی کرتے ہیں، ٹریڈنگ کے لیے دستیاب ہو گئے۔ اسی طرح پارک میڈی ورلڈ کے حصص میں بھی کمی ہوئی۔ پیر کو حصص تقریباً 3.2 فیصد گر گئے کیونکہ تقریباً 08.5 ملین شیئرز، جو کمپنی کی ایکویٹی کے تقریباً 2% کی نمائندگی کرتے ہیں، لاک ان پیریڈ سے باہر آئے۔ نیفرو کیئر ہیلتھ سروسز کے حصص میں بھی کمی واقع ہوئی، تقریباً 2.8 فیصد گر گئی کیونکہ تقریباً 02.8 ملین شیئرز، جو کمپنی کی ایکویٹی کے تقریباً 3 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں، 16 مارچ کو ٹریڈنگ کے لیے دستیاب ہو گئے تھے۔ دریں اثنا، نواما ویلتھ مینجمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں شروع کی گئی سرمایہ کاری کے لیے لاک ان پیریڈ آئی ای ایکس پی او کمپنیوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ 8 کی فہرست سازی کے لیے ہے۔ 11 مارچ اور 29 جون 2026۔ اس کی وجہ سے، آنے والے مہینوں میں تقریباً 72 بلین ڈالر (تقریباً 6.6 لاکھ کروڑ روپے) مالیت کے شیئرز مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں، جو مارکیٹ کے جذبات اور اسٹاک کی نقل و حرکت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

بزنس

ویرار میں مہاڈا کے گھروں کی مانگ میں اضافہ! کونک بورڈ نے پہلے آئیے پہلے پائیے کی اسکیم کے تحت 152 دنوں میں 3,750 مکانات فروخت کیے۔

Published

on

Mahada

ممبئی : ویرار میں مہاڈا کے کونکن بورڈ کے گھروں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ گاہک خالی گھروں کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ کونکن بورڈ روزانہ اوسطاً 25 گھر فروخت کر رہا ہے۔ گزشتہ 152 دنوں میں ویرار میں 3,750 مکمل شدہ مکانات فروخت کیے گئے ہیں۔ 2014 میں، مہاڈا نے ویرار بولنج میں رہائشیوں کو سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے 9,409 مکانات تعمیر کیے تھے۔ تاہم پانی کی قلت اور دیگر وجوہات کی وجہ سے گھر فروخت کرنے سے قاصر تھے۔ پچھلے سال، سوریا ندی کے پانی کی فراہمی کے پروجیکٹ نے ویرار میں پانی لایا، جس سے علاقے میں پانی کی قلت کو دور کیا گیا۔ ویرار میں 9,409 گھروں میں سے 7,783 فروخت ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 3,750 پچھلے 152 دنوں میں فروخت ہوئے۔ مہاڈا کے نائب صدر سنجیو جیسوال نے فروخت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے گھر کی رعایتی قیمتیں اور “پہلے آئیں، پہلے پائیے” اسکیم نے ادائیگی کر دی۔

ویرار کے ساتھ ساتھ کونکن ہاؤسنگ بورڈ کے ذریعہ تیار کردہ دیگر علاقوں میں گھروں کی فروخت میں تیزی آئی ہے۔ بورڈ نے 2019-20 میں بھنڈالی میں 1,769 مکانات تعمیر کیے ہیں۔ ان میں سے اب تک 1,761 گھر فروخت ہو چکے ہیں۔ فروخت کیے گئے 1,761 گھروں میں سے 811 پچھلے پانچ مہینوں میں فروخت ہوئے۔ گھوٹیگھر میں 2019-20 میں 1,659 گھر تعمیر کیے گئے۔ یہاں صرف 67 گھر فروخت ہونے باقی ہیں۔

حکومت ممبئی اور ویرار کے درمیان کئی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیار کر رہی ہے، جن میں سمندری رابطے سے لے کر ساحلی سڑک تک شامل ہیں۔ یہ تمام منصوبے باہم مربوط ہوں گے۔ ان میں باندرا-ورسوا سی لنک، ورسووا-داہیسر اور دہیسر-بھیدر کوسٹل روڈز، اور اتر-ویرار سی لنک پروجیکٹ شامل ہیں۔ بلٹ ٹرین بھی ویرار سے گزرنے والی ہے۔ ویرار-علی باغ کوریڈور رائے گڑھ تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ لوگوں کو گھنٹوں کے بجائے منٹوں میں ایم ایم آر کے ہر حصے تک پہنچنے کی اجازت دیتا ہے۔ مہاڈا کی کوششیں اور ایم ایم آر میں جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبے لوگوں کو آگے لا رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان