Connect with us
Thursday,06-August-2026

سیاست

خواتین کے حقوق، حکومت کا طرزِ عمل اور معاشرے کی ذمہ داریاں

Published

on

مردوں کی طرح عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے آوازیں تو بہت اٹھائی جاتی رہی ہیں اور ساتھ ہی اہل اقتدار کی جانب سے یہ دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں کہ موجودہ اقتدار وحالات میں خواتین بہتر اور اطمینان بخش زندگی گزار رہی ہیں اور متعدد موقعوں پر تعلیمِ نسواں کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں ، تحریکیں چلائی جاتی ہیں دعوے اور وعدے بھی کیے جاتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیاواقعی ہمارے معاشرے ہمارے ملک نے خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے وہ ہدف حاصل کرلیا ہے جس کے خواب ہمارے اکابرین اور آزادی کے مجاہدین نے دیکھے تھے ؟ ، کیا ہم واقعی ایسی تعلیمی فضا قائم کر پائے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکیں کہ اب تعلیمی اعتبار سے ہمارے ملک کی خواتین بھی کسی دوسرے ملک و معاشرے سے پیچھے نہیں ؟

یہ سوالات اہم ہیں اور اس کے اطمینان بخش جواب بہت کم لوگوں کے پاس ہیں اس حوالے سے بیشتر دعوے اور اعداد و شمار ہمیں کمزور اور کھوکھلے نظر آتے ہیں تاہم مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں اگر ہم بات اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کریں تو منظر نامہ خاصہ مختلف اور افسوس ناک نظر آتا ہے مگر مختلف محاذوں اور تعلیمی میدانوں میں کام کرنے والے سماجی کارکن، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل ہورہاہے اگر اس باب میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو حالات صرف اطمینان بخش ہی نہیں بلکہ بہت مستحکم ہوسکتے ہیں۔
ماہرین تعلیم نے بھی اس پس منظر میں اپنے خیالات و نظریات کا اظہار اکثر بیش اظہار کیا ہے انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ جب بات تعلیمِ نسواں کی آتی ہے تو ہمیں زیادہ سنجیدگی سے خور و خوص کرنے کی ضرور ہوتی ہے ،لڑکیوں کی نشو و نما اور پرورش بھی اتنی ہی سنجیدگی اور دیانت و متانت سے کی جانی چاہئے جتنی توجہ ہمارے معاشرے کے لوگ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ اور خصوصی توجہ دینے کی اس لئے بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک خاتون پر پورے گھر اور پوری نسل کو تربیت دینے کی ذمہداری ہوتی ہے ایک ماں اپنے بچوں کو اگر بہتر تربیت دیتی ہے تو بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذالڑکیوں کی تعلیم کو فوقیت دی جانی چاہیے اور ان کو تمام تر تعلیمی حقوق فراہم کئے جانے چاہئیں، یہاں یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ پروفیسر سید وسیم اختر نے صرف زبانی طور پر لڑکیوں کی تعلیمی بہبود کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ عملی طور پر بھی ابتدائی درجات سے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی تک ایک ایسا نظم قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کے قول عمل میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل اسکول سے انٹیگرل یونیورسٹی کے قیام تک ہر شعبے اور ہر ادارے میں خواتین کو بہتر اور مساوی موقعے فراہم کئے گئے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والی خواتین بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ یونیورسٹی کے بانی وچانسلر نے اپنی زندگی کو ہی تعلیم۔ کے لئے وقف کردیا ہے پروفیسر صنوبر میر اور پروفیسر الوینا فاروقی کہتی ہیں کہ اگر اقلیتی طبقے کے ذمہدار ، صاحب ثروت اور با شعور لوگ تعلیمی باب میں ایسی ہی کوششیں کریں جیسی ہمارے عہد کے سرسید یعنی انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر نے کی ہیں تو ہر لڑکی تعلیمی زیور سے آراستہ ہوجائے گی ، اس کا مستقبل روشن ہوجائے گا اور وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے گی۔
ڈاکٹر سمیتا چترویدئ کہتی ہیں کہ چانسلر، اور پروچانسلر کی ایجوکیشنل اپروچ موجودہ عہد کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ہے ، یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی حصول تعلیم کے میدان میں مکمل آزادی ہے اور اہم بات یہ ئے کہ یہ آزادی سنسکاروں اور آدرشوں کے ساتھ دی جاتی ہے۔ اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا تعلیم عورتوں ک ضروری تو ہے مگر خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں۔ یہ شعر قدیم زمانے میں بہت با معنی اوراہم بھی تھا اور ساتھ ہی قابل تقلید بھی لیکن جدید دور میں اس کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں۔
آج دنیا کے ہر میدان ہر شعبے میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں سپنے آپ کو ثابت کرکے اپنی جگہ متعین کررہی ہیں سلجھے ہوئے ذہنوں کا یہی ماننا ہے کہ اپنی تہذیبی اقدار، سنسکار اور روشن روایتوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک بہترین عمل ہے ، ایسا زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کررہی ہیں یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سرکاری سطح پر خواتین کی فلاح و بہبود اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے چلائے جانے والی اسکیموں سے بھی لوگوں کو فیض اٹھانا چائیے اقلیتی طبقے کی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ علم کا نہ ہونا اور اس وجہ سے ان تک سرکاری اسکیموں ک فائدہ نہ پہنچنا بھی ہے اگر تشہیری مہموں کے ذریعے لوگوں بالخصوص سماج کے پسماندہ اور غریب لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے بیدار کردیا جائے تو تعلیمی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور مجموعی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے ۔

بین الاقوامی خبریں

ہرمز نہ کھولا گیا تو ایران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا : صدر ٹرمپ

Published

on

D.-Trump

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد نہ کھولا گیا تو ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم تہران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “وہ جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے، چاہے کیسے بھی ہو۔ یہ کوئی زیادہ پیچیدہ معاملہ نہیں ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں۔”

لیکن ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عراق کے دورے پر ہیں۔ باقی تمام مذاکرات کار ایران میں ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جوابی حملہ کیا۔ انھوں نے لکھا، “ایرانی قیادت انتہائی دوغلی ہے، پہلے وہ ملاقات کی بھیک مانگتے ہیں اور پھر کھل کر کہتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔”

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے پار واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، یہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسقط تہران مذاکرات میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران حملے کی اطلاعات سے گھبرا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا اور شدید ترین حملہ ہوگا۔ “ہم آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

حوثی گروپ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے تیز کرے گا، آئل ٹینکر پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

Published

on

Red-Sea

صنعاء : شمالی بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ نے کہا کہ وہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف اپنی مہم تیز کرے گا۔ حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساریہ نے کہا کہ “وفا” نامی آئل ٹینکر کو سعودی بحیرہ احمر کے ایک بڑے بندرگاہی شہر ینبو کے ساحل پر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ساریا نے کہا کہ حملہ درست تھا، لیکن اس نے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جسے انہوں نے “ایک ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی” قرار دیا۔ ساریہ کے مطابق، حوثی فورسز نے مہم کے آغاز سے اب تک آٹھ سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ 29 دیگر کو اپنے راستوں کا رخ موڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جولائی میں، حوثی گروپ نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر بحری پابندی کا اعلان کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی سعودی ناکہ بندی کے جواب میں ہے۔ ان نئی کشیدگیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

دریں اثنا، یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے بدھ کو بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حملے کی شدید مذمت کی۔ وزارت نے اسے “دہشت گردانہ حملہ” اور “بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت نے ہندوستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس نے جہاز کے عملے کو تمام ضروری مدد اور مدد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے کہا، “جمہوریہ یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار بحری جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حوثی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتی کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جب کہ یہ کشتی بحیرہ احمر میں حملہ کر رہی تھی۔ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں سمندری ٹریفک، محفوظ نیویگیشن اور تجارت کی آزادی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔” یہ بیان منگل کی شام ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) کی طرف سے جاری کردہ ایک ردعمل کے بعد آیا ہے۔ ہندوستان نے ‘ایم ایس وی فیض نور اولیا’ پر حملے کی مذمت کی تھی اور تصدیق کی تھی کہ جہاز میں سوار تمام 13 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان