Connect with us
Tuesday,21-April-2026

سیاست

خواتین کے حقوق، حکومت کا طرزِ عمل اور معاشرے کی ذمہ داریاں

Published

on

مردوں کی طرح عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے آوازیں تو بہت اٹھائی جاتی رہی ہیں اور ساتھ ہی اہل اقتدار کی جانب سے یہ دعوے بھی کئے جاتے رہے ہیں کہ موجودہ اقتدار وحالات میں خواتین بہتر اور اطمینان بخش زندگی گزار رہی ہیں اور متعدد موقعوں پر تعلیمِ نسواں کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں ، تحریکیں چلائی جاتی ہیں دعوے اور وعدے بھی کیے جاتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیاواقعی ہمارے معاشرے ہمارے ملک نے خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے وہ ہدف حاصل کرلیا ہے جس کے خواب ہمارے اکابرین اور آزادی کے مجاہدین نے دیکھے تھے ؟ ، کیا ہم واقعی ایسی تعلیمی فضا قائم کر پائے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکیں کہ اب تعلیمی اعتبار سے ہمارے ملک کی خواتین بھی کسی دوسرے ملک و معاشرے سے پیچھے نہیں ؟

یہ سوالات اہم ہیں اور اس کے اطمینان بخش جواب بہت کم لوگوں کے پاس ہیں اس حوالے سے بیشتر دعوے اور اعداد و شمار ہمیں کمزور اور کھوکھلے نظر آتے ہیں تاہم مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں اگر ہم بات اقلیتی طبقے کی لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کریں تو منظر نامہ خاصہ مختلف اور افسوس ناک نظر آتا ہے مگر مختلف محاذوں اور تعلیمی میدانوں میں کام کرنے والے سماجی کارکن، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل ہورہاہے اگر اس باب میں سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو حالات صرف اطمینان بخش ہی نہیں بلکہ بہت مستحکم ہوسکتے ہیں۔
ماہرین تعلیم نے بھی اس پس منظر میں اپنے خیالات و نظریات کا اظہار اکثر بیش اظہار کیا ہے انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ جب بات تعلیمِ نسواں کی آتی ہے تو ہمیں زیادہ سنجیدگی سے خور و خوص کرنے کی ضرور ہوتی ہے ،لڑکیوں کی نشو و نما اور پرورش بھی اتنی ہی سنجیدگی اور دیانت و متانت سے کی جانی چاہئے جتنی توجہ ہمارے معاشرے کے لوگ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ اور خصوصی توجہ دینے کی اس لئے بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک خاتون پر پورے گھر اور پوری نسل کو تربیت دینے کی ذمہداری ہوتی ہے ایک ماں اپنے بچوں کو اگر بہتر تربیت دیتی ہے تو بہتر معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذالڑکیوں کی تعلیم کو فوقیت دی جانی چاہیے اور ان کو تمام تر تعلیمی حقوق فراہم کئے جانے چاہئیں، یہاں یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ پروفیسر سید وسیم اختر نے صرف زبانی طور پر لڑکیوں کی تعلیمی بہبود کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ عملی طور پر بھی ابتدائی درجات سے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی تک ایک ایسا نظم قائم کیا ہے جس کی بنیاد پر ان کے قول عمل میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
انٹرنیشنل اسکول سے انٹیگرل یونیورسٹی کے قیام تک ہر شعبے اور ہر ادارے میں خواتین کو بہتر اور مساوی موقعے فراہم کئے گئے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والی خواتین بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ یونیورسٹی کے بانی وچانسلر نے اپنی زندگی کو ہی تعلیم۔ کے لئے وقف کردیا ہے پروفیسر صنوبر میر اور پروفیسر الوینا فاروقی کہتی ہیں کہ اگر اقلیتی طبقے کے ذمہدار ، صاحب ثروت اور با شعور لوگ تعلیمی باب میں ایسی ہی کوششیں کریں جیسی ہمارے عہد کے سرسید یعنی انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر نے کی ہیں تو ہر لڑکی تعلیمی زیور سے آراستہ ہوجائے گی ، اس کا مستقبل روشن ہوجائے گا اور وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے گی۔
ڈاکٹر سمیتا چترویدئ کہتی ہیں کہ چانسلر، اور پروچانسلر کی ایجوکیشنل اپروچ موجودہ عہد کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ہے ، یہاں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی حصول تعلیم کے میدان میں مکمل آزادی ہے اور اہم بات یہ ئے کہ یہ آزادی سنسکاروں اور آدرشوں کے ساتھ دی جاتی ہے۔ اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا تعلیم عورتوں ک ضروری تو ہے مگر خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں۔ یہ شعر قدیم زمانے میں بہت با معنی اوراہم بھی تھا اور ساتھ ہی قابل تقلید بھی لیکن جدید دور میں اس کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں۔
آج دنیا کے ہر میدان ہر شعبے میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں سپنے آپ کو ثابت کرکے اپنی جگہ متعین کررہی ہیں سلجھے ہوئے ذہنوں کا یہی ماننا ہے کہ اپنی تہذیبی اقدار، سنسکار اور روشن روایتوں کے ساتھ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا کوئی گناہ نہیں بلکہ ایک بہترین عمل ہے ، ایسا زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں لڑکیاں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کررہی ہیں یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سرکاری سطح پر خواتین کی فلاح و بہبود اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے چلائے جانے والی اسکیموں سے بھی لوگوں کو فیض اٹھانا چائیے اقلیتی طبقے کی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ علم کا نہ ہونا اور اس وجہ سے ان تک سرکاری اسکیموں ک فائدہ نہ پہنچنا بھی ہے اگر تشہیری مہموں کے ذریعے لوگوں بالخصوص سماج کے پسماندہ اور غریب لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے بیدار کردیا جائے تو تعلیمی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور مجموعی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا اب تھانہ کنکشن, میونسپل افسر پر عصمت دری کا کیس درج

Published

on

ممبئی : ناسک کے ڈھونگی بابا اشوک کھرات کا اب تھانہ کنکشن سامنے آیا ہے۔ تھانہ میونسپل کارپوریشن میں اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر مہیش بھاؤ راؤ اہیرکی خلاف پولیس نے عصمت دری کا کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ میونسپل کارپوریشن پانچ پکھڑی دفتر میں متاثرہ 2020 سے 2023ء کے دوران ملازمت پر تھی۔ اسی دوران اسسٹنٹ ڈیٹا آپریٹر کے ساتھ ملزم نے دوستی کی اور اس کے ساتھ تھانہ میں واقع ایک بلڈنگ میں کرایہ کے مکان میں جنسی تعلقات قائم کئے اور اس کے مرضی کے برخلاف متعدد مرتبہ جنسی استحصال کیا اور شکایت کرنے پر اس کیل ہریاں تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی۔ پہلی مرتبہ متاثرہ کو ہیرا نندانی بلڈنگ میں لے جاکر اس کو نشہ آور مشروب پلایا اور اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیا۔ اس کے بعد متعدد مرتبہ اس نے عیاشی کی شکایت کنندہ کی شکایت پر کاسر واڑی پولیس تھانہ میں پولیس نے عصمت دری سمیت دیگر دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ کو اہیر نے یہ کہا تھا کہ اس کے مستقبل اور تقدیر کا حال جاننے کیلئے اشوک کھڑات کے پاس بھی لے گیا تھا اور وہاں دفتر میں اسے لیمو شربت دیا تھا اور اس کے بعد اس پر غشی طاری ہوئی, اس معاملہ میں پولیس نے کیس درج کر کے اس کی تفتیش شروع کردی ہے, جبکہ اشوک کھرات کے معاملہ میں ایس آئی ٹی جانچ کر رہی ہے۔ تھانہ عصمت دری کنکشن کا اشوک کھرات تعلق سامنے آنے کے بعد اس نہج پر بھی پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ تھانہ پولیس نے اس معاملے میں مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس معاملے میں پولس کی تفتیش میں مزید پیش رفت ہونے کا امکان روشن ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر یوسف پٹھان کے سسر سمیت تین افراد گرفتار۔

Published

on

ممبئی: سابق کرکٹر اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ یوسف پٹھان کے سسر کو ان کے بیٹے اور ایک اور رشتہ دار کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان افراد نے دو دن قبل ممبئی کے بائیکلہ علاقے میں ایک گجراتی خاندان پر حملہ کیا تھا۔ ممبئی پولیس نے منگل کو یہ اعلان کیا۔ بائیکلہ پولیس نے یوسف پٹھان کے سسر اور دیگر تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ ایک ملزم مفرور ہے۔ بائیکلہ پولیس کے مطابق مقامی باشندہ یوسف خان (30) رات تقریباً 9 بجے گھر لوٹ رہا تھا۔ ہفتے کی رات جب ان کی کار سے پانی کے چھینٹے نکلے اور شعیب خان (35) کو ٹکر ماری۔ یوسف خان نے پولیس کو بتایا کہ اس نے گاڑی روکی اور فوراً معافی مانگی لیکن شعیب نے اسے گالی دینا شروع کر دی اور بانس کی چھڑی سے کار کی ونڈ شیلڈ توڑ دی۔ اس کے بعد شعیب نے یوسف خان پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ گھر واپس آنے کے بعد یوسف خان کے اہل خانہ نے انہیں پولیس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ تھانے جاتے ہوئے ان کا سامنا خالد خان عرف مکالک (یوسف پٹھان کے سسر) سے ہوا، جس نے اپنے بیٹے عمرشاد پٹھان (35)، شعیب پٹھان اور ایک اور ملزم شہباز پٹھان کے ساتھ جھگڑا شروع کیا۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد خالد، عمرشاد، شعیب اور شہباز نے یوسف خان اور اس کے رشتہ داروں پر بانس کی لاٹھیوں اور بیس بال کے بلوں سے حملہ کیا۔ حملے میں یوسف خان کے بھائی سلمان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ ان کے چچا ذکی احمد شدید زخمی ہوئے۔ شہباز تاحال مفرور ہیں، جبکہ دیگر تین ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور برآمد شدہ بانس کی لاٹھیوں اور بیس بال کے بلے کی بنیاد پر کارروائی کی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہوں سے واضح طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس 650 پوائنٹس سے زیادہ کی چھلانگ لگایا۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ دوپہر 1 بجے، سینسیکس 660 پوائنٹس، یا 0.84 فیصد، 79،180 پر تھا، اور نفٹی 173 پوائنٹس، یا 0.71 فیصد، 24،538 پر تھا۔ مارکیٹ ایک وسیع البنیاد ریلی کا مشاہدہ کر رہی ہے، جس کی قیادت بینکنگ سیکٹر کر رہی ہے۔ نفٹی بینک 691 پوائنٹس یا 1.22 فیصد اضافے کے ساتھ 57,273 پر تھا۔ نفٹی ریئلٹی، نفٹی انڈیا ڈیفنس، نفٹی سروسز، اور نفٹی آٹو جیسے انڈیکس سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی زبردست فائدہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 411 پوائنٹس یا 0.69 فیصد بڑھ کر 60,202 پر اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 204 پوائنٹس یا 1.17 فیصد بڑھ کر 17,691 پر آگیا۔ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ خام تیل میں کمزوری بتائی جا رہی ہے۔ امریکہ ایران امن مذاکرات کی وجہ سے خام تیل 95 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ امریکہ ایران امن مذاکرات منگل کو ہونے والے ہیں۔ عالمی امیدیں بہت زیادہ ہیں کہ دونوں ممالک امن کی نئی راہ تلاش کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان اور کوریا سمیت عالمی مارکیٹس سبز رنگ میں ٹریڈ کر رہی تھیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور عروج پر ہے۔ تاہم بدھ کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے دونوں ممالک امن مذاکرات کے لیے اکٹھے ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امن مذاکرات کے لیے منگل کو پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ ایرانی وفد بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور ایکسس بینک جیسے بڑے بینکوں کی قیادت میں مارکیٹ کے وسیع فائدہ کے پیچھے بینکنگ سیکٹر میں ایک ریلی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ مزید برآں، انڈیا VIX میں کمی، اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا انڈیکس، بھی ایک عنصر ہے۔ عام طور پر، جب انڈیا VIX میں کمی آتی ہے، تو مارکیٹ بڑھ جاتی ہے۔ فی الحال، انڈیا VIX 5.69 فیصد گر کر 17.72 پر ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان