Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ملک کو تباہ کردے گا، مذہبی شدت پسندی کا یہ جنون مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک : مولانا ارشد مدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

نئی دہلی, 25 فروری 2022 : جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند 1 بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی میں مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا، واضح رہے کہ حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ نے دستور اساسی کی دفعہ 44؎ کے تحت نئے ٹرم کی عہدہ صدارت کا چارج لے لیا۔ اسی کے ساتھ موجودہ مجلس عاملہ تحلیل کر دی گئی۔ اب دستور کے مطابق صدر محترم نئی مجلس عاملہ نامزد کر کے بمشورہ عاملہ ناظم عمومی نامزد کریں گے۔ عنقریب جمعیۃ علماء ہند کے مجلس منتظمہ کے ہونے والے اجلاس میں نائبین صدور و خازن کا انتخاب ہو گا، اس میٹنگ میں ملک کے موجودہ حالات اور قانون وانتظام کی تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی و سماجی ایشوز اور عصری تعلیم، لڑکے اور لڑکیوں کے لئے اسکول اور کالج کا قیام خاص کر لڑکیوں کے لئے دینی ماحول میں تعلیمی ادارے کا قیام اور اصلاح معاشرہ کے طریقہ کار نیز دفتری وجماعتی امور پر تفصیل سے غور و خوض ہوا۔ مجلس عاملہ کے ممبران نے زیر بحث آئے موضوعات پر کھل کر اپنی رائے و احساسات کا اظہار کیا، اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اپنی تاسیس سے ملک میں فرقہ وارانہ یکجہتی اور رواداری کے لیے سرگرم عمل اور کوشاں رہی ہے، اور ملک میں آباد تمام مذہبی لسانی اور تہذیبی اکائیوں کے درمیان پیار ومحبت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے ہر سطح پر کوشش کرتی آئی ہے، اور کر رہی ہے۔ وہ آج بھی اسی بنیادی پالیسی اور مقصد کے لئے ملک کے دانشوروں، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ئحیات سے تعلق رکھنے والے افراد سے پر زور اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے اثرات کا استعمال کر کے ملک کے بگڑتے ہوئے ماحول کو بچانے کی کوشش کریں، جس نے ملک کی یکجہتی، وحدت اور سلامتی کے لئے شدید خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔

صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد قابل قبول نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ مذہب انسانیت، رواداری، محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے اس لئے جو لوگ اس کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کے لئے کرتے ہیں، وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہوسکتے ہیں، اور ہمیں ہر سطح پر ایسے لوگوں کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور فرقہ پرستی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر سیاستدانوں میں نفرت کی تخم ریزی کر کے اقتدار حاصل کرنے کی ہوس شدید تر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے فرقہ پرستی اور مذہبی شدت پسندی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض سیاست دان اکثریت کو اقلیت کے خلاف صف آراء کرنے کے لیے مذہبی شدت پسندی کا سہارا لینے لگے ہیں، تاکہ آسانی سے اقتدار حاصل کر سکیں اور حکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے ہی چلا کرتی ہے۔ آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ ملک کسی خاص مذہب کے نظریے سے چلے گیا یا سیکولرزم کے اصولوں پر۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہت دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں ہمیں متحد ہو کر میدان عمل میں آنا ہوگا۔ مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہمارا اختلاف اور ہماری لڑائی کسی سیاسی پارٹی سے نہیں، صرف ان طاقتوں سے ہے جنہوں نے ملک کے سیکولر قدروں کو پامال کر کے ظلم و جارحیت کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں طرح طرح کے غیر ضروری ایشوز اٹھا کر مذہبی جنون پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، مگر امید افزاء بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے۔ ملک کے حالات بلاشبہ مایوس کن ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد انصاف پسند لوگوں کی موجود ہے، جو فرقہ پرستی، مذہبی شدت پسندی اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف نہ صرف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں، بلکہ نڈر ہو کر حق کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ان فرقہ پرستوں کے خلاف عدالت کا بھی رخ کر رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا آ رہا ہے، یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، نئے نئے تنازعہ کھڑا کر کے مسلمانوں کو نہ صرف اکسانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، بلکہ انہیں کنارے لگا دینے کی منصوبہ بند شازشیں ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود مسلمانوں نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ مثال ہے۔ اس کے لیے ملک کا ایک بڑا انصاف پسند طبقہ انہیں تحسین پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں آگے بھی اسی طرح کا صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ فرقہ پرست طاقتیں آئندہ بھی مختلف بہانوں سے اکسانے اور مشتعل کرنے کی کوششیں کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدو جہد آزادی میں قربانی دینے والے ہمارے بزرگوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایسی نفرت اور ظلم وستم کا ہندوستان ہرگز نہیں تھا۔ ہمارے بزرگوں نے ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، جس میں بسنے والے تمام لوگ نسل برادری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ تعلیم کے فروغ پر جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے۔ مدارس و مکاتب کے قیام کے ساتھ ساتھ عصری اور ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کو جمعیۃ علماء ہند اور مولانا حسین احمد مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ دیوبند 2012 سے مسلسل میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے کو اسکالرشپ فراہم کر رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران 656 طلباء کو تقریبا ایک کروڑ روپے کی اسکالر شپ دی گئی، جس میں ہندو طلبہ بھی شامل تھے۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پر کوئی کام نہیں کرتی۔ اسی اسکیم کے تحت اس سال بھی اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ مولاںا مدنی نے کہا کہ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے جن میں دینی ماحول میں ہمارے بچے اعلی دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں، انہوں نے قوم کے بااثر افراد سے اپیل بھی کی، جن کو اللہ نے دولت دی ہے، زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ ایسے اسکول و کالج بنائیں جہاں بچے دینی ماحول میں آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں جس طرح مفتی علماء حفاظ کی ضرورت ہے، اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر انجینئر وغیرہ کی بھی ضرورت ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے، اس جانب مسلمان خاص کر شمالی ہندوستان کے مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کو دوسرے چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے۔ یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا، ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم ہی سے کیا جا سکتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند ملک کے ہر باشندے سے بھی یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے دام میں نہ آئیں، اور ملک کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ نیز اپنے آباء و اجداد کی قدیم روایتوں کو نہ چھوڑیں جمعیۃ علماء ہند اس موقع پر ان تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور اداروں سے بھی پر زور اپیل کرتی ہے، جو ملک میں سیکولرزم اور قانون کی بالادستی میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ پختہ یقین ہے کہ ملک کی ترقی خوشحالی اور سلامتی کی کلید باہمی اخوت، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی میں مضمر ہے، اس کے بغیر ہمارا ملک ہندوستان ترقی کے راستے طے نہیں کرسکتا۔ مجلس عاملہ کی کارروائی صدر محترم کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی، اجلاس میں صدر جمعیۃ کے علاوہ جن اراکین نے شرکت کی ان کے نام یہ ہیں۔ مفتی سید معصوم ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا عبدالعلیم فاروقی نائب صدر جمعیۃ علماء ہند لکھنو، مولانا اسجد مدنی دیوبند، مولانا عبداللہ ناصر بنارس، مولانا اشہد رشیدی مرادآباد، مفتی غیاث الدین حیدرآباد، فضل الرحمن قاسمی ممبئی، اس کے علاوہ بطور مدعوئین خصوصی مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی، مولانا محمد خالد قاسمی ہریانہ، مولانا عبدالقیوم قاسمی مالیگاؤں، مولانا حبیب الرحمن قاسمی جودھپور، مولانا محمد راشد راجستھان، مولانا بدر احمد مجیبی پٹنہ، شامل ہوئے۔

فضل الرحمن قاسمی
پریس سکریٹری جمعیۃ علماء ہند

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان