Connect with us
Tuesday,14-April-2026

سیاست

بی جے پی کچھ کہے یا کرے تو عوام پوچھتی ہے میرے آنگنا میں تمہارا کیا کام ہے:سنجے راؤت

Published

on

ممبئی(محمد یوسف رانا)
ریاست میں کرونا کی وبا نے تباہی مچا دی ہے۔ کرونا سے لڑنے میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کے روز ‘مہاراشٹر بچاؤ آندولن کا مطالبہ کیا۔ پارٹی میں شامل بی جے پی کارکنوں نے گھروں کے باہر پلے کارڈز اور کالے جھنڈے آویزاں کرکے حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار کی مذمت کی تھی ۔دوسری طرف ، شیوسینا کے رہنما اور ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بی جے پی کے مہاراشٹر بچاؤ آندولن پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
بی جے پی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے ناکام ہو رہی ہے۔ بی جے پی کا یہ احتجاج مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ یہ بی جے پی قائدین کی تحریک ہے۔ عوام اس میں شامل نہیں ہوئے۔ آج آسمان میں کالے کوے بھی دکھائی نہیں دیئے ۔ اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے سنجئے راوت نے بی جے پی کا مذاق اڑایا ہے ۔ سنجے راوت نے کہا کہ صرف یہی نہیں اگر بی جے پی احتجاج کرنا چاہتی تھی ، تو انہیں ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی گجرات نگر منتقل کرنے کے معاملے میں کالی چڈی پہن کر احتجاج کرنا چاہئے تھا۔ سنجے راوت نے کہا کہ بی جے پی قائدین مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں کیوں کہ ان کا احتجاج ناکام ہوچکا ہے۔
دریں اثنا ، اپوزیشن لیڈر دیویندر فڑنویس نے ٹھاکرے حکومت پر کرونا جنگ لڑنے میں ناکامی پر تنقید کی۔ دیویندر فڑنویس گذشتہ کچھ دنوں سے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے مل رہے ہیں۔ کانگریس اور این سی پی کے بعد ، شیوسینا نے اب بی جے پی کی تنقید پر سخت ردعمل دیا ہے۔کرونا کے موقع پر مہاراشٹر میں نئے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔ حکومت کو ان سوالات کا سامنا ہے۔ سنجے راوت نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر ریاست کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں اس مسئلے کو حل کرنے میں حکومت سے تعاون کرنا چاہئے۔
اپوزیشن کو گورنر کے راج بھون میں گھومنے کے بجائے وزیر اعلی کے گھر آکر ریاستی امور پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی سے پوچھا ہے کہ کیا اپوزیشن وزیر اعلیٰ کے ساتھ ریاستی امور پر تبادلہ خیال کرنے میں شرمند گی محسوس کرتی ہے۔کیا بی جے پی نے اپنی خود اعتمادی کھو دی ہے کیا ؟۔ عوام نے انہیں اقتدار سے بے دخل کردیا ہے اور اگر بی جے پی کچھ کرتی ہے یا کچھ کہتی ہے تو ، لوگ مسکرا کر اس سے پوچھ رہے ہیں ، “میرے ، آنگنے میں تمھارا کیا کام ہے؟”

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی برآمدات متاثر، رئیس شیخ کا ریاست سے پیکج کا مطالبہ

Published

on

ممبئی ؛ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے بھارت کی ٹیکسٹائل کی برآمدات متاثرہے اور سوتی اور دھاگے جیسے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اس صنعت میں ہفتے میں تین دن لاک ڈاؤن ہے۔ اس لیے اس صنعت کو بچانے کے لیے بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریاست کی عظیم اتحاد حکومت سے خصوصی مالی پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور ٹیکسٹائل کے وزیر سنجے ساوکرے کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے فوری خصوصی مالیاتی پیکج کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ اسٹیٹ ٹیکسٹائل کارپوریشن کی جانب سے کرائے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مارچ 2026 کے مہینے میں 4000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریاست میں 9 لاکھ 48 ہزار پاور لومز اور 4 ہزار ہینڈلوم ہیں۔ ملک میں 39 فیصد پاور لومز اکیلے مہاراشٹر میں ہیں۔ اگر حکومت نے اس صنعت کی مدد نہ کی تو کورونا کے دور کی طرح مزدوروں کی ریورس مائیگریشن شروع ہو جائے گی ٹیکسٹائل انڈسٹری واحد صنعت ہے جو زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتی ہے۔ بھیونڈی، مالیگاؤں اور اچل کرنجی ٹیکسٹائل کی صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے اس صنعت کا خام مال اور برآمدی سلسلہ تباہ ہو گیا ہے اور ہفتے میں دو دن پیداوار معطل ہے۔ اس پس منظر میں ایم ایل اے رئیس شیخ کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس صنعت کو فوری مالی پیکیج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
بنیادی طور پر یہ صنعت مہنگی بجلی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ اقتصادی لحاظ سے اہم اس صنعت کی برآمدات رک جانے سے تباہی کا خدشہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست میں لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مند ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ایم ایل اے رئیس شیخ نے خط میں پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت فوری طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مالیاتی پیکج کا اعلان کرے۔

Continue Reading

سیاست

‘ناری شکتی’ کو پی ایم مودی کا خط خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

Published

on

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر کی خواتین کو ایک خط لکھا ہے، جس میں قانون ساز اداروں میں خواتین کو ریزرویشن فراہم کرنے کے ان کے اقدام کے لیے ملنے والی حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے “خواتین کی طاقت” کو یقین دلایا کہ حکومت کئی دہائیوں سے زیر التوا اس اہم اقدام کو نافذ کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ خط میں وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ اپریل کا مہینہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ بی آر کی یوم پیدائش ہے۔ امبیڈکر۔ باباصاحب بی آر کو یاد کرتے ہوئے امبیڈکر، انہوں نے کہا کہ آئین کے مسودے میں ان کی شراکت ملک کی رہنمائی کرتی رہتی ہے۔ وزیر اعظم نے لکھا کہ آج ہندوستانی خواتین ہر میدان میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں، اور یہ ہمارے دور کی سب سے دلکش نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اسٹارٹ اپس، سائنس، تعلیم، کھیل، فنون اور ثقافت جیسے شعبوں کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ خواتین کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر کھیلوں کی دنیا میں، چھوٹے شہروں کی ہندوستانی خواتین نئے معیارات قائم کر رہی ہیں، جو آنے والی نسلوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر بہت سے سیلف ہیلپ گروپس اور لکھپتی دیدی خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں اور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اجتماعی کوششوں سے اہم تبدیلی ممکن ہے۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ برسوں پہلے سردار پٹیل نے احمد آباد میونسپلٹی میں خواتین کے لیے سیٹیں ریزرو کرنے کی شروعات کی تھی۔ آزادی کے بعد ہندوستان نے مردوں اور عورتوں کو یکساں ووٹنگ کا حق دیا جب کہ دنیا کے کئی ممالک کو اس کے لیے طویل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے کوششیں کی گئی ہیں، لیکن وہ پوری طرح سے کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ اس لیے قانون ساز اداروں میں خواتین کی مناسب نمائندگی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان 2047 میں آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، اور اس وقت تک “ترقی یافتہ ہندوستان” کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خواتین کی شرکت بہت ضروری ہے۔ جب خواتین پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی تو ملک کی ترقی تیز ہوگی۔ وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ اسی وژن کے ساتھ “ناری شکتی وندن ایکٹ” متعارف کرایا گیا، جو خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ آئینی ترمیم جلد پارلیمنٹ میں منظور ہو جائے گی۔ خط میں وزیر اعظم نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے ممبران پارلیمنٹ کو خط لکھیں اور اس بل کی حمایت کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ قدم آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے آنے والے تہواروں کے لیے تمام خواتین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کے لیے اچھی صحت، خوشی اور خوشحالی کی خواہش کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ڈونگری میں مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں پر حملہ، 4 ملزمین گرفتار، کشیدگی امن قائم

Published

on

ممبئی : ممبئی ڈونگری میں مولانا سید خالد اشرف المعروف خالد میاں پر حملہ کے بعد ممبئی نے اقدام قتل کا کیس درج کر چار ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے خالد اشرف اوران کے فرزند پر حملہ سے ممبئی میں کشیدگی پھیل گئی ان کے مریدین جوق درجوق پولس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس کے بعد آج علما اہلسنت والجماعت نے خالد اشرف پر حملہ کے تناظر خاطیوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ آج علما اہلسنت اور آل انڈیا جماعت العلما نے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے پولس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملزمین پر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں کی سربراہی میں ایک وفد نے دیوین بھارتی سے ملاقات کی تھی۔ مولانا خالد اشرف نے کہا کہ مجھے ڈرگس فروشوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جس وقت ان حملہ آور منشیات فروشوں مجھ پر اور میرے فرزند پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ وہی مولانا ہے جو ڈرگس کے خلاف موومنٹ چلاتا ہے۔ اس لیے پولس کمشنر سے مولانا خالد اشرف نے یہ درخواست کی ہے کہ علما پر حملہ کرنا سراسر غلط ہے ایسے میں ان غنڈوں پر سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ پولس کی کارروائی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ساتھ ہی علما کرام اور عمائدین شہر کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس مصبیت کی گھڑی میں میں تنہا ہوں, اس لئے سبھی کا شکریہ اس کے ساتھ مولانا خالد اشرف نے مریدین اور متعلقین سے یہ درخواست کی کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے, اتنا ہی نہیں اشتعال انگیزی سے بھی اجتناب کرے جو بھی ہمارے مداح اور چاہنے والے ہیں وہ قطعی غلط حرکت نہیں کریں گے۔
علما منشیات فروشوں کے نشانے پر :
حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے آج خالد اشرف پر حملہ کے معاملہ میں پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب علما کرام اور سفید پوش منشیات فروشوں کے نشانے پر ہے۔ اس کا مقصد عام عوام میں دہشت پیدا کرنا ہے اس لئے پولس سے مولانا معین میاں نے درخواست کی ہے کہ ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی ہو جو علما کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی میں مولانا خالد اشرف نے منشیات کے خلاف تحریک شروع کی تھی, اس کا اثر ممبئی میں بھی منشیات فروشوں پر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منشیات فروشوں کا ایک ریکیٹ کام کرتا ہے جو منشیات فروشی کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف مہم چلا کر اسے سوشل میڈیا میں بدنام بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے منشیات فروش گینگ کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے معین میاں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف پولس نے جو کارروائی کی ہے وہ اطمینان بخش ضرور ہے۔ لیکن ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ اس وفد میں رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری اور مولانا انیس اشرفی بھی شامل تھے۔ مولانا خالد اشرف پر حملہ کے الزام میں ڈونگری پولس نے مجید لالہ پٹھان، راحیل پٹھان، ساحل پٹھان اور پیرو کو گرفتار کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ان حملہ آوروں نے مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں کو ڈنڈوں لاٹھی سے حملہ کر کے زدوکوب کیا جس کے سبب وہ اب بھی زخمی ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان