Connect with us
Friday,05-June-2026
تازہ خبریں

جرم

کیا ہے کورونا وائرس کی حقیقت، تنزانیہ کے صدر جان میگو فولی نے کیا معاملے کو بے نقاب

Published

on

(وفا ناہید)
اس وقت پوری دنیا کو covid – 19 نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. دنیا کے سپر پاور ملک اس وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں. ایسے میں ہمارا دیش ہندوستان اس وائرس کے سامنے سینہ سپر ہے. کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن 4 چل رہا ہے. اگر تمام ہی حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہی سوال ذہن کے گوشے سے دوباہ سر اٹھاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس کیا ہے؟ اس سوال کی گہرائی میں اگر جاتے ہیں تو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے. دراصل کورونا وائرس کی اتنی دہشت پھیلادی گئی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کو نارمل فلو یا سردی بخار ہے یا Throat Infection بھی ہے تو وہ بندہ کورونا کی دہشت سے ہی ملک عدم کو سدھار جائے گا اور کورونا کے مریضوں کے ساتھ یہی ہورہا ہے. 6. مہینے قبل تک ان تکلیفوں پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا تھا. ہمیں آج بھی یاد ہے بچپن میں جب ٹھنڈا پینے سے گلا درد کرتا تو دادی ایک ساسر میں پانی لے کر چھری کی مدد سے اس پانی پر کٹ مار کر اسے پینے کے لئے دیتے تھے اور گلے کی وہ تکلیف فورا دور بھی ہوجاتی تھی. یہ گھریلو ٹونکے جب تک ہماری زندگی میں شامل تھے. زندگی آسان اور سہل تھی. اب تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ڈاکٹر بھی ڈاکو بن گئے ہیں. جس کی باقاعدہ اعلی تعلیم حاصل کرکے مریضوں کو لوٹنے کا کام کررہے ہیں. پہلے تو حکماء اور اطباء نبض دیکھ بیماری کی تشخیص کرتے تھے. 5 منٹ کا physical examin ہی ان کا ایکسرے, بلڈ ٹیسٹ, سی اسکین اور ایم آر آئی ہوتا تھا. جب سے سائنس نے ترقی کی اور investigation کے مختلف ذرائع ایجاد ہوئے. ڈاکٹروں نے اپنے دماغ کا استعمال کرنا بند کردیا. اب وہ پوری طرح سے ان مشینوں کے غلام ہوگئے ہے. کیونکہ یہ مشینیں جہاں بیماری کی تشخیص کرتی ہیں. وہیں یہ ڈاکٹر کی جیب بھی گرم کرتی ہے. چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بلڈ ٹیسٹ, ایکسرے اور ایم آر آئی کرانا تو جیسے اب فیشن بن گیا ہے. ہم آپ کو کتنے ہی اعلی کوالیفائیڈ ڈاکٹرس کے بارے میں بتاسکتے ہیں کہ ان مشینوں پر انحصار کرکے اپنے دماغ کو زنگ لگا چکے ہیں. خیر یہاں ہمارا موضوع تھا کورونا. جس کے لئے ہمیں پہلے آپ کی ذہن سازی کرنی تھی. آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کورونا وائرس یا covid -19 ہے کیا؟ covid -19 چھونے سے پھیلنے والا ایک ایسا موذی وائرس ہے جو انسان کو قبر میں پہنچا کر ہی دم لیتا ہے. یہ وائرس چین کے ووہان سے نکل کر پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے. اس کی آمد ہندوستان میں بھی ہوچکی ہے. کورونا کی ہندوستان میں آمد کے ساتھ ہی بی جے پی قیادت والی مودی حکومت نے پورے ملک میں پہلے جنتا کرفیو, دفعہ 144 اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کردیا. مودی حکومت کی جانے کیا پالیسی ہے کہ وہ ہر فیصلہ نہایت عجلت میں اور رات کے وقت لے کر عوام کو دشواریوں میں ڈالتی ہیں. ہمارا اشارہ آپ بخوبی سمجھ گئے. جی ہاں دوستو! اس سے قبل نوٹ بندی کا فیصلہ بھی اسی طرح آنا فانا بغیر کسی منصوبہ بندی کے لیا گیا تھا- جس کے اثرات آج تک عوام کے ذہنوں میں تروتازہ ہے. بالکل ٹھیک اسی طرح لاک ڈاؤن کا فیصلہ بھی بغیر کسی منصوبہ بندی کے لیا گیا. اب اس سے جو صورتحال پیدا ہونی تھی, وہ ہوچکی. ملک کی 135 کروڑ کی آبادی کو گھروں میں قید کردیا گیا. اس پر عوام کو گھروں میں محصور رکھنے کے لئے پولس کو ڈنڈے کے ساتھ عوام کا استقبال کرنے کے لئے چوک چورواہوں اور نکڑ پر بیٹھا دیا گیا. اب یہ تو پولس ہے. جس کے تن پر قانون کی وردی اور ہاتھ میں ڈنڈا ہے. گھروں میں قید, ایک گمنام منزل کی طرف قدم بڑھاتے 2 مہینے کا عرصہ بیت جائے گا. ایسے میں رئیل فیس میڈیا کے ×ڈاکِٹر محمد عارف صدیقی× نے covid -19 کے تعلق جو چونکادینے والے حقائق بیان کئے ہیں. اس کے مطابق لیباٹریز کی ایک بڑی تعداد ہر حال میں کورونا کے مریض دکھا رہی ہیں. اس کے ساتھ ہی حکومتوں کی کوشش ہے کہ ہر مرنے والے شخص کو کورونا متاثر قرار دیا جائے. ایسا ہی کچھ تنزانیہ میں ہورہا تھا. تنزانیہ میں کورونا متاثرین 22 سے اچانک 480 ہوگئے. تنزانیہ کے صدر جان میگوفولی ایک ماہر کیمیاء داں ہے. انہیں کہیں گڑبڑ لگی. تب انہوں نے ایک عجیب و غریب تجربہ کیا. انہوں نے ایک بھیڑ, ایک بکری, پپیتہ, بٹیر اور انجن آئیل سے نمونے لئے اور ٹیسٹ کے لئے لیباٹری میں بھیج دیا. لیباٹری میں بھیجے گئے ان نمونوں کو باقاعدہ انسانی نام دیا گیا اور ان کی عمر بھی تحریر کی گئی. تاکہ کسی کو کوئی شک نہ ہوسکے. اب چونکنے کی باری ہے لیب بھیڑ, بکری اور پپتیے کے نمونوں میں کورونا کے وائرس ہونے کی تصدیق کردی. اب بادل چھٹ چکے تھے. کورونا کا بھوت اپنی لنگوٹی سنبھال کر بھاگنے میں ناکام تھا. اس کے ساتھ ہی تنزانیہ کے صدر جان میگو فولی نے تمام کورونا ٹیسٹنگ کٹس فوج کے حوالے کرکے انکوائری کا حکم دے دیا اور لیباٹری انچارج کو فارغ کردیا. بقول صدر جان میگو فولی کے کورونا معاملے اور تھوک کے حساب سے پوزیٹیو رپورٹ دینے کے پیچھے کچھ سازش کارفرما ہے. اس معاملے کے طشت از بام ہونے کے بعد بین الاقوامی ادارے اور اپوزیشن کی جانب سے تنزانیہ کے صدر کی اس جانچ کی کافی مذمت کی گئی. جب کہ صدر جان میگو فولی کے اس فعل کی پذیرائی ہونی چاہیئے تھی اور کورونا کٹس اور جانچ پر سوالات اٹھانے چاہئے تھے. قارئین تنزانیہ کے اس پورے معاملے کو تحریر کرنے کا مقصد تھا کہ آپ کو کورونا کے بارے کچھ حقائق سے روشناش کرایا جائے. دراصل cold سے ہونے والی الرجی کو کورونا کا نام دے کر عوام میں خوف کا ماحول پیدا کیا گیا. یہ الرجی خطرناک حد تک جان لیوا ہوتی ہے. کچھ بچوں اور بوڑھوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے. جس کی وجہ سے وہ کسی موسم کے تغیر کو برداشت نہیں کرپاتے. جس کی وجہ سے انہیں سردی کھانسی ہوتی ہے. گلے میں خراش جسے میڈیکل سائنس میں throat infection کہا جاتا ہے. اس کے بعد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے. ہیومیوپیتھی میں اس کے لئے کارگر دوائیں ہیں جو مکمل طور پر اس الرجی کا یا کورونا وائرس کا خاتمہ کرسکتی ہے. ناسک کے موتی والا ہیومیوپیتھی میڈیکل کالج کے ڈاکٹر فاروق موتی والا مالیگاؤں میں ان ہی دواؤں کو مفت تقسیم کررہے ہیں. Arsenic Alb، Bryonia اور Belladona ہے. یہ وہ دوائیں ہیں جو کورونا مریضوں کو دی جاسکتی ہے. مالیگاؤں کے میونسپل کمشنر کی کورونا رپورٹ پوزیٹیو آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے سویپ نمونوں کی 2 بار جانچ کی گئی اور دونوں ہی بار کورونا رپورٹ نگیٹیو آئی. جب ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ میں لگاتار کمشنر کے ساتھ تھا مگر میری رپورٹ نگیٹیو آئی کیونکہ میں ہیومیوپیتھی کی دوا Arsenic Alb کا استعمال کرتا ہوں. ڈپٹی کمشنر نے کورونا سے بچاؤ کے لئے اس دوا کے استعمال پر زور دیا ہے.

جرم

ای ڈی نے محمد سلیم ڈولا کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے حصے کے طور پر مہاراشٹر اور گجرات میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔

Published

on

ممبئی : ایک بڑی کارروائی میں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کو مہاراشٹر اور گجرات میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ ای ڈی کے حکام نے بتایا کہ یہ چھاپے منشیات کے اسمگلر محمد سلیم ڈولا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر مارے گئے تھے، جسے حال ہی میں ترکی سے ہندوستان ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ای ڈی حکام نے بتایا کہ مرکزی ایجنسی کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد ممبئی اور سورت اور گجرات کے انکلیشور (ضلع بھروچ) میں تقریباً 20 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ڈولا عرف سلیم اسماعیل ڈولا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر مطلوب دہشت گرد داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی ہے اور انسداد منشیات ایجنسیوں نے اس کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ کا بین الاقوامی ریکیٹ چلانے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

ڈولا (59) کو اپریل میں ترکی سے ہندوستان واپس لایا گیا تھا اور دہلی ہوائی اڈے پر اترتے ہی اسے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی کے عہدیداروں نے بتایا کہ چھاپے کیمیکل سپلائی کرنے والوں، کیمیکل کے کاروبار میں ملوث درمیانی افراد، مصنوعی منشیات میفیڈرون (ایم ڈی) کی تیاری اور تقسیم میں ملوث اسمگلروں، ہوالا آپریٹرز اور منظم منشیات کے سنڈیکیٹس سے حاصل کی گئی رقم سے حاصل کی گئی بے نامی جائیدادوں کے مالکان پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا کیس ڈولا اور دیگر کے خلاف ممبئی میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ اور سائیکو ٹراپک مادوں سے متعلق جرائم کے لیے درج کئی ایف آئی آرز سے منسلک ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان