Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مہاراشٹر کی مخلوط حکومت میں کیا چل رہا ہے؟ شیوسینا ایم ایل اے کے ادھو کو لکھے گئے خط پر سیاسی ہلچل

Published

on

uddhav

مہاراشٹر میں، شیوسینا، کانگریس اور این سی پی کی مہاوکاس اگھاڑی کی مخلوط حکومت ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے اس اتحاد میں لفظی جنگ جاری ہے۔ ادھر شیوسینا کے ایم ایل اے اور ترجمان پرتاپ سرنائیک نے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو ایک خط لکھ کر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے سے بہت سارے سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں۔

شیوسینا کے ایک سینئر لیڈر نے ، نام نہ بتانے کی شرط پر ، بتایا ، “شیوسینا اراکین اور عہدیدار ایسے خط نہیں لکھتے ہیں۔ یہ ہماری پارٹی کا کردار نہیں ہے۔ وزیر اعلی اور پارٹی کی قیادت اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ مرکزی ایجنسیوں کی تفتیش میں وہ یقیناً. پریشانی کا شکار ہو کر اس طرح کی بات کہی ہے ۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ ٹھاکرے نے شیوسینا کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کی اور بی ایم سی انتخابات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اسی کے ساتھ ہی ، سیاسی تجزیہ کاروں کی نگاہیں بھی اس پر مرکوز ہیں۔ جس کے مطابق اگر کسی عہدیدار کو کوئی پریشانی ہو تو وہ براہ راست پارٹی کی قیادت میں جاتا ہے۔ وزیر اعلی کو خط لکھ کر اسے وائرل کرنا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ شیوسینا قائدین اور پارٹی قیادت کے مابین فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ مواصلات کی کمی کے علاوہ ، ایم ایل اے کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ اکیلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ ان کی پارٹی برسر اقتدار ہے۔

سرنائیک نے این سی پی اور کانگریس پر مخلوط حکومت کو کمزور کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے ۔ شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت اور این سی پی کے وزیر حسن مشرف نے سرنائیک کی بات کو مسترد کردیا۔ راؤت نے یہ بھی واضح کیا کہ شیوسینا میں کوئی گروہ بندی نہیں ہے۔ ایک ہی وقت میں ، مہاوکاس اگھاڑی اتحاد کے شراکت داروں کے مابین باہمی روابط بھی مضبوط ہیں۔

تھانہ شیوسینا کے ایم ایل اے پرتاپ سرنائیک اور ان کے بیٹے کے نام منی لانڈرنگ میں آنے کے بعد ای ڈی نے ان کے گھر اور فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا تھا۔ تب سے بی جے پی حملہ آور ہے۔ سرنائیک کا کہنا ہے کہ وہ ریاست اور مرکز کی جدوجہد کے مابین پس رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ٹھاکرے کو لکھے گئے خط میں ، انہوں نے کہا- ‘کانگریس تنہا الیکشن لڑنا چاہتی ہے اور این سی پی شیوسینا سے قائدین کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ این سی پی کو مرکز کی بالواسطہ حمایت حاصل ہے کیونکہ ان کے قائدین کے پیچھے کوئی مرکزی ایجنسی نہیں لگی ہے۔

پرتاپ سرنائیک نے خط میں مزید کہا – ‘ہمیں آپ اور آپ کی قیادت پر یقین ہے۔ لیکن کانگریس اور این سی پی ہماری پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مرکزی ایجنسیاں بغیر کسی قصور کے ہمیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ اگر آپ وزیر اعظم مودی کے قریب آجائیں گے تو رویندر وائیکر ، انیل پرب ، پرتاپ سرنائیک اور ان کے اہل خانہ کی تکلیف ختم ہوجائے گی۔ یہ کارکنوں کا جذبہ ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com