Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مغربی بنگال میں 2 مئی کو اب اصل تبدیلی آئے گی : وزیرا عظم مودی

Published

on

modi

وزیر اعظم نریندری مودی نے آج مغربی بنگال کے کانتی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی ’’حکومت آپ کے دروازے‘‘ کی بات کرتی ہیں، لیکن انہیں معلوم نہیں ہے، کہ بنگال کے عوام 2 مئی کو باہر کا راستہ دکھائیں گے۔ مودی نے کہا کہ بنگال میں اصلی تبدیلی کی ضرورت ہے، اور 2 مئی کو یہ تبدیلی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے بچے بھی دیدی کا کھیل سمجھ چکے ہیں۔ اس لئے 2 مئی کو بنگال کے عوام اور نوجوان دیدی کو باہر کا راستہ دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت 25 سال کی عمر نوجوانوں کے لئے بہت ہی اہم ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنگال کے مستقبل کیلئے ووٹ دیں، اور بنگال میں حقیقی تبدیلی لائیں۔ مودی نے کہا کہ بی جے پی کے بنگال کے منشور میں بنگال کے لوگوں کی ترقی اور امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کی حکومت نے صرف بنگال میں ہی اندھیرے پھیلایا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت عوام کو ’’سونار بنگلہ‘‘ دے گی۔ مودی نے ریاستی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کا ساحلی ماحولیاتی نظام سنڈیکیٹ اور بدعنوانی کے ذریعہ برباد ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہلدیہ کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے، کہ ہمارے ساحلی عوام کو منی کلچر اور بدعنوانی سے پاک کیا جائے، اور یہ آپ کے ووٹوں کی طاقت پر منحصر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت پیٹوا گھاٹ فشینگ ہاربر کو جدید بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ سمندر کے ساحل میں سیاحت سے وابستہ بے پناہ معاشی سرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔

مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت سیاحت کو فروغ کے لئے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ مدنی پور کی ترقی کے لئے ڈبل انجن کی سرکار کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی بنگال کی ترقی کے لئے پر عزم ہے۔ ہم بنگال کے مستقبل کے لئے بہت محنت کریں گے۔

امفان ریلیف پر ممتا بنرجی اور ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی امداد “بھتیجے کی کھڑکی میں پھنس گئی ہے۔ آج پورا مغربی بنگال پوچھ رہا ہے کہ امفان کے امدادی سامان کو کس نے لوٹا؟ غریبوں کے لئے بھیجا جانے والا غلہ کس نے لوٹا؟ مودی نے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئے گی۔ بنگال میں سرکاری اسکیموں کو گھوٹالوں سے آزاد کرے گی۔ امفان سے متاثرہ افراد اب بھی کھلے آسمان رہنے پر کیوں مجبور ہیں؟ وزیر اعظم نے پوچھا کہ ضرورت کے وقت دیدی کہیں نظر نہیں آتی ہیں، لیکن جب انتخابات قریب آتے ہی ’’سرکار آپ کے دروازے پر‘‘ کا نعرہ لگاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسکیموں اور گھوٹالوں سے متعلق کمیشنوں میں مکمل روک تھام کرے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں سبھی ترنمول کانگری کے کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب ترنمول سپریموں صرف اسی وقت نظر آتی ہیں، جب انتخابات دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہماری مائیں اور بہنیں اس انتخاب میں ترنمول کانگریس کو سزا دینے کے لئے بڑی تعداد میں آگے آئی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دیدی بنگال کے کسانوں کو مرکزی اسکیم سے محروم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے کسان 2 مئی کو ریاست کی ترقی کی تمام دیواریں توڑ دیں گے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ نندیگرام کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں، اور عوام اس توہین کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میں بنگال میں جہاں بھی جاتا ہوں، لوگوں کا ایک سمندر دیکھتا ہوں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com