Connect with us
Friday,18-September-2026

(جنرل (عام

ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے، جس میں دینی ماحول کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں۔ تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی کی اپیل

Published

on

maulana-arshad-m.

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے تعلیمی سال 2021-22 کے لئے باضابطہ طور پر تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے، جس میں دینی ماحول کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کر سکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ اسکالرشپ کی رقم بھی گزشتہ سال سے بڑھا کر ایک کڑوڑ کر دی گئی ہے۔ اور اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

رواں سال 2021-22 کے لئے اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی تاریخ 20 جنوری سے 14 فروری 2022 ہے۔ فارم ویب سائٹ www.jamiatulamaihind.org ڈاؤن لوڈ کئے جاسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران مختلف کورسز میں منتخب ہونے والے 656 طلباء کو اسکالرشپ دی گئی تھی، جن میں ہندو طلباء بھی شامل تھے۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پر کوئی کام نہیں کرتی۔ اہم بات یہ ہے کہ طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اب اسکالرشپ کی رقم بھی گزشتہ سال سے بڑھا کر ایک کڑوڑ کر دی گئی ہے۔ اور آنے والے سالوں میں اس رقم میں مزید اضافہ کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ اسکالر شپ کے ساتھ ہی مولانا مدنی کی ایماء پر مولانا حسین احمد مدنی چیئرٹیبل ٹرسٹ دیوبند اور ہندگرواکیڈمی دہلی کے باہمی تعاون سے ”مدنی 100“ کے نام سے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ جس میں ذہین، محنتی مگر مالی طور پر کمزور طلبہء کو مسابقاتی امتحانات کی تیاری کے لئے مفت رہائش کے ساتھ مفت کوچنگ فراہم کی جا رہی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ان وظائف کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں انتہائی مسرت کا احساس ہو رہا ہے کہ ہماری اس ادنی ٰسی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے۔ جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی جنگ اب شروع ہوئی ہے، اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یا ٹکنالوجی سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس جنگ میں سرخروئی حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنادیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کرلیں، جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام حکومتوں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کر دیا، سچر کمیٹی کی رپورٹ اس کی شہادت دیتی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے، کہ مسلمان تعلیم کے شعبہ میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوموں کو اپنی کامیابی کی تاریخ خود لکھنی پڑتی ہے، اور مسلمانوں کو بھی اپنی کامیابی عبارت خود لکھنی ہوگی۔

مولانا مدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ خودبخود ہوگیا یا مسلمانوں نے جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، بلکہ اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے ہمیں تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا۔ انہوں نے شاید یہ بات محسوس کر لی تھی، کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے زوردیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں دینی ماحول میں ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیازکے بغیر حاصل کرسکیں۔انہوں نے قوم کے بااثرافرادسے یہ اپیل بھی کی کہ جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے ایسے اسکول و کالج بنائیں، جہاں بچے دینی ماحول میں آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کر سکیں اور جو پیسہ وہ اپنا سیاست، نکاح اور شادیوں میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں وہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے بچے اور بچیوں کے لئے تعلیمی ادارے قائم کریں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں جس طرح مفتی، علماء و حفاظ کی ضرورت ہے۔ اسی طریقے پر پروفیسر، ڈاکٹر و انجینئر وغیرہ کی بھی ضرورت ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے اس جانب مسلمان خاص کر شمالی ہندوستان کے مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کو دوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انھیں حالات کے پیش نظر ہم نے دیوبند میں اعلیٰ عصری تعلیم گاہیں، جیسے کہ بی ایڈکالج، ڈگری کالج، لڑکے اور لڑکیوں کے لئے اسکولس اور مختلف صوبوں میں آئی ٹی آئی قائم کئے ہیں۔ جن کا ابتدائی فائدہ بھی اب سامنے آنے لگا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہندکا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور وہ ہر محاذ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں یہ مکاتب ومدارس قائم کر رہی ہے وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے، جو روزگار فراہم کرتا ہے، روزگار فراہم کرنے والی تعلیم سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم سے ہے تاکہ جو بچے اس طرح کی تعلیم حاصل کر کے باہر نکلیں انہیں فورا روزگار اور ملازمت مل سکے، اور وہ خود کو احساس کمتری سے بھی محفوظ رکھ سکیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے بچوں میں ذہانت اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے، حال ہی آنے والے کچھ سروے رپورٹوں میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلم بچوں میں نہ صرف تعلیمی تناسب میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ ان میں پہلے کے مقابلے میں تعلیمی رجحان میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس لئے ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر ہم انہیں متحرک کریں حوصلہ دیں تو راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کر کے کامیابی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ میں انہیں قوموں کا تذکرہ ملتا ہے جو تعلیم و ہنر میں طاق تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مدنی 100 کے نام سے کوچنگ سینٹر کے قیام کے پیچھے در حقیقت یہی جذبہ کار فرما ہے۔ جس کے تحت مالی طور پر کمزور ذہین طلباء کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لئے مفت کوچنگ کا عمل باقاعدہ شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اخیر میں کہا کہ اتنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ ہمیں ملک کے کونے کونے میں اس طرح کے اپنے اسکول کالج کے ساتھ کوچنگ اداروں کی ضرورت ہے، ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ گھر بیٹھے کوئی انقلاب نہیں آتا، بلکہ اس کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند اور ایم ایچ اے مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ دیوبند 2012 سے میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے غریب طلباء کو اسکالر شپ فراہم کر رہی ہے۔ اسی اسکیم کے تحت ہر سال انجینئرنگ، میڈیکل،ایجوکیشنل، جرنلزم سے متعلق یا کسی بھی ٹیکنیکل، پروفیشنل کورس میں زیر تعلیم مالی طور پر کمزور ایسے طلبہء کو اسکالرشب دی جاتی ہے۔ جنہوں ںے گزشتہ سال کے امتحان میں کم از کم 70% فیصد نمبر حاصل کئے ہوں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر سیل کی بڑی کارروائی! منظم گروہ کے ۶ اراکین گرفتار, ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں : ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے

Published

on

ممبئی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو سائبر دھوکہ بازی کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری یعنی ڈیجیٹل اریسٹ سے خوفزدہ کر کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر متاثرین سے رقومات وصول کیا کرتے تھے۔ جعلی سم کارڈ 238 کروڑ کے منی لانڈرنگ معاملے میں مقدمہ درج ہونے کا خوف بتا کر سپریم کورٹ کا جعلی نوٹس بھیج کر شکایت کنندہ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ میں رکھ کر 1.12 کروڑ کی مالی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس معاملے میں انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ سمیت آئی ٹی شعبہ کے ویب ڈویلپر سمیت کل 6 ملزمان کو پکڑنے کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔ نارتھ سائبر پولیس بی این ایس دفعہ 204, 308(7), 61(2), 318(4), 319(2), 336(2), 336(3), 338, 340(2), 238 آئی ٹی ایکٹ دفعہ 66, 66 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں متاثرہ دہیسر کے رہائشی 68 سالہ بزرگ شہری شکایت کنندہ کو تاریخ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ سے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶ کے درمیان واٹس ایپ ویڈیو کال کرکے خود کی شناخت بھارتیہ دور سنچار ویبھاگ سے بتائی اور شکایت کنندہ کے سم کارڈ کا استعمال کرکے اس پر کل 238 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا گھوٹالہ کرنے کے بارے میں شکایت کنندہ کے خلاف دہلی میں منی لانڈرنگ کا کیس درج ہوا ہے اس بارے میں شکایت کنندہ کو سپریم کورٹ نوٹس بھیج کر اس جرم میں شکایت کنندہ کو گرفتاری کی دھمکی دے کر اسے ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر شکایت کنندہ کی کل 1,12,26,000/- روپے کی مالی دھوکہ دہی کی انتہائی حساس جرم میں ملزمان نے خود کی شناخت پوری طرح سے چھپا کر منظم طریقے سے پولیس افسر ہونے کا بہانہ بنا کر، پولیس وردی پہن کر سرکاری اتھارٹی، قومی جانچ ایجنسیوں کے نام، مہر، لیٹر ہیڈ استعمال کرکے شکایت کنندہ کو بار بار گرفتاری کا ڈر دکھا کر ویڈیو کال کرکے بینک کھاتے میں رقم طلب کر کے دھوکہ دہی کی ہے۔ دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے سائبر ملزمان نے الگ الگ افراد/کمپنی کے نام پر موجود الگ الگ بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس کی دستیابی کرکے ان کا استعمال کیا ہے اور نارتھ سائبر پولیس تھانہ، ممبئی کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ سائبرجرم کی مہارت سے کوشش میں تسلسل رکھ کر مثبت تفتیش کرکے ملزمان کے جرم کا طریقہ کار سمجھ کر جرم میں استعمال کیے گئے پہلی سطح کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر مزید معلومات لے کر ڈیجیٹل اریسٹ میں دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے کرنٹ بینک اکاؤنٹ خرید و فروخت کرنے والے اور دھوکہ دہی کی رقم کو لیئر کرنے والے ملزمان کی تلاش کرکے انہیں گرفتار کیا ہے اور گرفتار شدگان کے قبضے سے 02 لیپ ٹاپ، 20 موبائل فون، 25 مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈس، پاس بک، آدھار کارڈس، ایسا برآمد کیا ہے گرفتار شدگان ملزمین میں 1) راجیش کمار موہن لال جین، عمر 54 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 301/ دادا صاحب پھالکے روڈ، دادر مشرق، ممبئی بینک اکاؤنٹ ہولڈر 2) محمد طارق انور مومن، عمر 49 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 01/ ساجن بلڈنگ، نایاگاؤں کراس روڈ، شترو نجے ٹاور کے پاس، دادر مشرق، ممبئی مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک اکاؤنٹ آگے سپلائی کرنے والا 3) شیکھر مکیش تیاگی، عمر 28 سال، تعلیم ب کوم, بی ایم اے، رہنے والا پرتیکشا نگر، سائن، ممبئی انڈس انڈ بینک آپریشنل منیجر 4) گورو مہیش گوئل، عمر 40 سال، بی ای, آئی آئی ٹی دہلی، رہائشی رہیجہ ہائٹس، گوریگاؤں مشرق، ممبئی ویب ڈیولپر باندرہ پولیس تھانہ پربھادیوی دفعہ 420, 409, 120(بی), 34 کے تحت مقدمہ درج ہے 5) اجے کمار کالی پرساد شرما عمر 35 سال تعلیم بی اے، رہائشی بھیونڈی روڈ کالہیر ضلع تھانے موبائل کے ذریعہ آگے ایکسیس دینے والا 6) چنتن کمار سوریش بھائی دیسائی عمر 46 سال تعلیم- بی اے، رہنے والا ایس بی آئی بینک کے عقب مورا بگل رانادیل روڈ سورت گجرات موبائل یہاں ساتھیوں کے ذریعہ شکایت کنندہ کی رقم کی لیئرنگ کرنے والا)

جرم کی انجام دہی کا ملزمان کا طریقہ کار ابھے دیو گولڈ پرالی اس کمپنی کا گرفتار ملزم نمبر 01 ڈائریکٹر ہے۔ مذکورہ کمپنی کا انڈس انڈ بینک اکاؤنٹ رجسٹرڈ ہے۔ مذکورہ کھاتے سے گرفتار ملزم نمبر 01 کا موبائل لنک ہے تو دوسرے ڈائریکٹر کا موبائل لنک ہے۔ گرفتار ملزم نمبر 02 نے دادر مشرق یہاں کی موبائل شاپ سے دو نئے موبائل خریدے, ان میں سے ایک موبائل میں ابھے دیو گولڈ پرالی کمپنی کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, تو دوسرے موبائل میں گرفتار ملزم نمبر 01 مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, دونوں موبائل گرفتار ملزم نمبر 02 نے انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ گرفتار ملزم نمبر 03 کے قبضے میں دیئے۔ گرفتار ملزم نمبر 03 نے مذکورہ دو موبائل فون میں سے مذکورہ کھاتے کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے بینک سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون خود کے پاس رکھ کر وہ گرفتار ملزم نمبر 05 کے قبضے میں دیدیا۔ تو گرفتار ملزم نمبر 01 کے مذکورہ بینک کھاتے سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون میں ڈال کر مذکورہ موبائل فون گرفتار ملزم نمبر 04 (ویب ڈیولپر) کے قبضے میں دیا اس نے وہ گرفتار ملزم نمبر 06 کے قبضے میں دیا۔ گرفتار ملزم نمبر 06 نے ممبئی سے ہوائی جہاز سے دہلی جا کر وہاں سے بجنور اترپردیش یہاں اس کے ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ کھاتے پر شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ کی رقم ٹرانسفر کرکے لے کر شکایت کنندہ کو ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر فراڈ معاملے میں کل 1,12,26,000/- روپے کی سائبر دھوکہ دہی کی ہے۔

شہریوں سے اپیل ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے ہدایات پر عمل کریں۔ پولیس/سی بی آئی/ای ڈی/آر بی آئی یا کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتا، قانون میں ڈیجیٹل گرفتاری ایسی کوئی بھی دفعہ نہیں ہے۔ انجان افراد کی ویڈیو کال قبول نہ کریں یا کبھی بھی پیسے نہ بھیجیں خاندان کے کسی بھی فرد کے برتاؤ یا موڈ میں تبدیلی نظر آئے تو اس پر دھیان دیں۔ اگر آپ ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار ہوئے ہیں، تو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو یا پولیس کو فوری معلومات دیں۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کے بارے میں کوئی بھی کال آئے، تو فوری قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں یا مدد کے لیے 100/1930 اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں یا http://www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بائیکلہ ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن و چڑیا گھر میں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا معائنہ کے لئے میونسپل کمشنر کا دورہ

Published

on

ممبئی ؛میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے آج (17 ستمبر 2026) بائیکلہ (مشرقی) میں واقع ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کا دورہ کیا تاکہ وہاں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ دورے کے دوران،اشونی بھڈے نے باغ میں ہبسکس (گڑہل) کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے حصے کے طور پر اور وزیر اعظم شری نریندر مودی کی سالگرہ کی یاد میں احاطے کے اندر ’سینچری پام‘ کا پودا بھی لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے گارڈن اور چڑیا گھر کے احاطے میں تعمیر کیے جا رہے ’ٹنل ایکویریم‘ (سرنگ نما ایکویریم) کی تعمیراتی پیش رفت کا معائنہ کیا اور جنوری 2027 تک تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ڈپٹی کمشنر (باغات) اجیت کمار امبی، ڈائریکٹر (چڑیا گھر) ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی، گارڈن سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی کے ساتھ دیگر متعلقہ عہدیداران اور عملہ موجود تھا۔ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں ہبسکس کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں مختلف رنگوں کے ہبسکس پھولوں کی تقریباً 50 اقسام پیش کی گئی ہیں۔ یہ نمائش عوام کے لیے کھلی ہے۔ اس موقع پر، محترمہ اشونی بھیڈے نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش کا دورہ کریں اور مختلف رنگوں میں ہبسکس پھولوں کی اقسام کا مشاہدہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سنجے گاندھی نیشنل پارک میں شیرنی بجلی (ٹی2) کی موت

Published

on

ممبئی سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے اموت کا اعلان کرتی ہے، جس کی عمر تقریباً 18 سال 4 ماہ تھی اور جو 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے بڑھاپے سے متعلق صحت کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ وہ 2016 سے سنجے گاندھی کنبہ کی ایک محبوب رکن رہی ہے۔ ان سالوں میں، اس نے لاکھوں زائرین کے دلوں کو گرویدہ کیا۔پچھلے مہینے سے، اس کی خوراک میں بتدریج کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی صحت کی قریب سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مغربی مہاراشٹر کی ٹیکنیکل ویٹرنری ایڈوائزری ٹیم کی رہنمائی اور تکنیکی مشورے کے تحت ویٹرنری آفیسر کے ذریعہ مناسب ویٹرنری اور معاون انتظام فراہم کیا جا رہا تھا۔ ان کی انتھک طبی کوششوں اور مسلسل نگرانی کے باوجود، بجلی نے 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے پرامن طور پر آخری سانس لی۔بجلی کو 11 جولائی 2016 کو پینچ ٹائیگر ریزرو سے سنجے گاندھی نیشنل پارک لایا گیا تھا اور وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ایس جی این پی کی دیکھ بھال اور حفاظت میں رہی۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے ساتھ اس کا طویل تعلق پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ، کنزرویشن ایجوکیشن اور قید جانوروں کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھااگرچہ بجلی (ٹی2) کا انتقال بڑھاپے کی وجہ سے ہوا، موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے معیاری پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ایس جی این پی انتظامیہ تمام وائلڈ لائف سے اور عشاق جانور سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بجلی (ٹی2) کی یادیں اور تصاویر شیئر کریں تاکہ ہم اس کی میراث اور وائلڈ لائف کنزرویشن میں اس کے تعاون کا احترام کر سکیں ایک بار پھر پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ یہاں اطلاع سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ، بوریولی، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان