Connect with us
Monday,22-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ووٹ چوری پہلے ڈبل ووٹرس کی خاطر تواضع کرے، ایم این ایس کی عوام سے سبق سکھانے کی اپیل، ٹھاکرے کنبہ کی بھی نام حذف کرنے کی سازش رچی گئی تھی

Published

on

ممبئی مہاراشٹر میں ووٹ چوری کے موضوع پر آج اپوزیشن نے حکمراں محاذ بر سراقتدار جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الیکشن کمیشن پر کئی سنگین الزامات عائد کئے ہیں یہ مورچہ مرین لائنس سے پیدل مارچ کی شکل میں نکالا گیا جس میں اپوزیشن کے اعلیٰ قائدین شردپوار ، ادھوٹھاکرے ، راج ٹھاکرے ، بالا صاحب تھورات سمیت دیگر سربراہان نے حصہ لیا ۔ سچ کا مورچہ میں آزاد میدان پر جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے سرکار کو ہدف تنقید بنایا ۔ ٹھاکرے نے اپنی تقریر میں الزام لگایا کہ بوگس ووٹرس عام ہے اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں میں بڑی گڑبڑ ہے۔ بہت سے لوگوں کے نام دو جگہ ہیں۔ ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ کچھ ووٹروں کے پتے درست نہیں ہیں، جب کہ کچھ ووٹروں کے نام درست نہیں ہیں۔ یہ کہتے ہوئے ٹھاکرے نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ ادھو ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ سے میرا اور ٹھاکرے خاندان کا نام ہٹانے کی سازش رچی گئی۔ دو دن پہلے الیکشن کمیشن کے اہلکار ماتوشری آئے تھے۔ میں نے انہیں بلایا اور بتایا کہ وہ کیا معلومات چاہتے ہیں۔ میں نے کہا تم بتاؤ کیا چاہتے ہو؟ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی فون نمبر جعلی ہے۔ میں نے انیل پرب ، انیل دیسائی سے پوچھا۔ ہم میں سے کسی نے الیکشن کمیشن کو درخواست نہیں دی۔ درخواست کل 23 تاریخ کو میرے نام سے کی گئی تھی۔ یہ درخواست سکشم نامی ایپ کے ذریعے کی گئی تھی۔یہی ووٹرس لسٹوں میں فرضی واڑہ کی نظیر ہے ۔

ممبئی ایک طرف کانگریس صدر راہل گاندھی ووٹ چوری کے موضوع پر جارحانہ رخ اختیار کرچکے ہیں تو دوسری طرف مہاوکاس اگھاڑی شیوسینا ۔ ایم این ایس اور این سی پی کانگریس نے سچ مارچ یعنی ستیہ مارچ نکال کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ریاست میں بلدیاتی انتخابات کے پس منظر میں ووٹ دھاندلی و چوری کا معاملہ اب سامنے آیا ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی نے آج ‘ستیہ مارچ’ نکال کر الیکشن کمیشن کو چیلنج کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایم این ایس صدر راج ٹھاکرے نے مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ مل کر اس مارچ میں حصہ لے کر اپوزیشن کے محاذ کو مضبوط کیا ہے۔ راج ٹھاکرے نے اس مارچ میں حصہ لیتے ہوئے ووٹ دھاندلی کے معاملے پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے نے اس مارچ سے خطاب کرتےہوئے ایک زوردار تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ووٹ دھاندلی و چوری اور ڈبل ووٹرز کا معاملہ اٹھایا اور الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی۔ راج ٹھاکرے نے اس بار جولائی تک ممبئی کے لوک سبھا حلقہ کے دوہرے ووٹروں کی فہرست پڑھ کر سنائی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ اب وہ کہیں گے کہ ثبوت کہاں ہے۔ راج ٹھاکرے نے سنگین الزام لگایا کہ ممبئی میں چار ہزار تھانہ کے ووٹرس نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے ۔ راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ ایک ایم ایل اے کا بیٹا انہیں بتاتا ہے۔ میں باہر سے 20 ہزار ووٹ لے کر آیا ہوں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہے۔ کچھ بھی ہو رہا ہے۔ نوی ممبئی میں کمشنر کے بنگلے پر ووٹروں کا اندراج کیا گیا۔ کسی نے قابل رسائی بیت الخلا میں ووٹرز کا اندراج کیا۔ اگر میں کسی کو کہیں بھی بیٹھا ہوا دیکھوں تو کیا مجھے رجسٹر کرنا چاہیے؟یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے۔ یہ بات ووٹروں کو بھی سمجھ آتی ہے۔گزشتہ روز میں نے ووٹنگ مشین کی بات کی تھی۔ یہ ایک سادہ سا معاملہ ہے۔ 232 ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد مہاراشٹر میں سوگ ماتم کا سماں ہے لوگ خاموش ہے ووٹر پریشان ہے وہ تخیل میں غرق ہے کہ میں نے منتخب ہونے والوں کو کیسے منتخب کیا؟ الیکشن کمیشن کے ذریعے سازش شروع کر دی گئی۔ الیکشن کیسے لڑیں۔ راج ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ میچ پہلے سے ہی فکس ہے۔ راج ٹھاکرے نے اس موقع پر کہا کہ اگر کل الیکشن ہوں تو میں آپ کو بتاتا ہوں، جب الیکشن ہوں تو گھر گھر جائیں ووٹ لسٹ پر کام کریں۔ چہرے پہچانے جائیں۔ اس کے بعد اگر ڈبل ووٹرس اور فرضی ووٹر نظر آئے تو ان کی خاطر تواضع کرنے کے بعد انہیں پولس کے حوالے کرے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان