Connect with us
Monday,27-July-2026

سیاست

دہلی کے بیشتر پولس اسٹیشنوں اور دفاتر کے بورڈوں سے اردو غائب، دہلی پولس اردو کو نظر انداز کر رہی ہے : کلیم الحفیظ

Published

on

Kaleem-Hafeez

دہلی میں اردو زبان کو سیکنڈ لینگویج کا درجہ مل جانے کے بعد بھی سرکاری محکمے اردو کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اردو میں دی جانے والی اکثر درخواستیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جاتی ہیں۔ یہاں تک تھانوں میں لکھے بورڈ سے اردو کو ہٹایا جا رہا ہے۔ یہ بات آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے ایک پریس ریلیز میں کہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دفاتر کے بورڈ اور آفیسران کے ناموں کی تختیاں بھی اردو میں شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔ دہلی کے پولس اسٹیشنوں پر اردو میں بھی نام لکھے گئے تھے۔ مگر اب جو نئے بورڈ لگائے جا رہے ہیں تو اردو غائب کر دی گئی ہے۔ دوسرا ظلم یہ ہے کہ پولس اسٹیشن کے اندر اگر کچھ اردو میں لکھا بھی ہے تو اس میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ اردو کے ساتھ یہ ظالمانہ اور متعصبانہ رویہ سوچی سمجھی سازش ہے۔

انھوں نے کہاکہ ”دہلی اسٹیٹ آفیشیل لنگویج ایکٹ 2000ء“ کے تحت پنجابی اور اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اس ایکٹ میں صاف لکھا ہے کہ سرکار کے تمام دفاتر کے بورڈ اور آفیسران کے نام، شاہراہوں کے بورڈ اردو میں بھی ہوں گے، اردو میں درخواستیں وصول کی جائیں گی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس ایکٹ پر پوری طرح پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ بیچارہ مسلمان اپنی روزی روٹی کمائے، جان بچائے یا سرکار کے کاموں پر نظر رکھے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے ایکٹ پر عمل درآمد کرائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ پولس محکمہ جس کی ذمہ داری قانون کی حفاظت کرنا ہے، وہی قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

مسٹر کلیم الحفیظ نے بتایا کہ دہلی مجلس کی جانب سے پولس کمشنر، اسسٹنٹ پولس کمشنر اور ڈی سی پی کو ایک عرض داشت پیش کی گئی ہے۔ اگر ضرورت پڑی مجلس عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائے گی۔ اس ضمن میں دہلی پولس کمشنر ساؤتھ ایسٹ دہلی سے خصوصی ملاقات بھی کی گئی ہے۔ عرض داشت کی نقول دہلی اردو اکیڈمی اور دہلی اقلیتی کمیشن کو بھی بھیجی گئی ہیں۔ صدر مجلس نے اردو کے بہی خواہوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے سرکاری دفاتر اور پولس اسٹیشنوں کے بورڈوں کو جا کر دیکھیں، اگر وہاں سے اردو غائب ہے تو متعلقہ محکمہ کے ذمہ دار کو میمورنڈم دیں، اور جلد سے جلد اردو کو شامل کرائیں۔ اگر ضرورت پڑی مجلس عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائے گی۔

سیاست

تمل ناڈو : سی ایم وجے نے پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے دھماکے کے حادثے پر غم کا اظہار کیا، مالی امداد کا اعلان کیا۔

Published

on

Vijay

چنئی : تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے 26 جولائی کی صبح ویردھونگر ضلع کے سیوکاسی تعلقہ کے سینگامل پٹی میں ایک غیر قانونی طور پر چلنے والے پرائیویٹ پٹاخوں کے یونٹ میں پٹاخے کے کارخانے میں دھماکے میں چار لوگوں کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ مرنے والوں کی شناخت آر راما پرکاش (32)، آر رامچندرن (40)، سینگامل پٹی کے رہنے والے اناسموتھو (44) اور نارانا پورم کے رہنے والے پنڈتھورائی (35) کے طور پر کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس المناک واقعہ کا علم ہونے پر گہرے دکھ اور درد کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرنے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ چیف منسٹر پبلک ریلیف فنڈ سے ہر مرنے والے کے لواحقین کو 4 لاکھ روپے تقسیم کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع کلکٹر کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ مناسب اجازت کے بغیر یا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کرنے والے کسی بھی پٹاخے کے یونٹوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مکمل معائنہ کریں اور ایسے اداروں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کریں۔ تمل ناڈو کے ویردھونگر ضلع میں شیوکاسی کے نزدیک اتوار کو پٹاخوں کے ایک غیر قانونی گودام میں زور دار دھماکے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد زبردست آگ لگ گئی اور مسلسل دھماکوں سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ واقعہ شیوکاسی تعلقہ کے سینگامل پٹی گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک غیر قانونی گودام اور مینوفیکچرنگ یونٹ مبینہ طور پر پٹاخے تیار کر رہے تھے۔ زور دار دھماکے سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا، جب کہ پٹاخوں کے مسلسل دھماکوں سے سیاہ دھویں کے بادل آسمان پر پہنچ گئے، جس سے آس پاس کے لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملنے پر فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ اور مقامی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا اور ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش شروع کردی۔

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گودام ضروری اجازت کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ دھماکے کی وجہ کیا ہے اور کیا حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی، دھماکہ خیز مواد کی نا مناسب ذخیرہ اندوزی یا غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں حادثہ کا باعث بنیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش بے نقاب, مہاراشٹر سائبر کی کارروائی 500 سے زائد اکاؤنٹس گمراہی میں ملوث

Published

on

Cyber-...3

ممبئی : کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران تشدد اور ملک گیر سطح پر بدامنی پیدا کرنے کی سازش کو مہاراشٹر سائبر سیل نے بے نقاب کر کے ایسے 500 ہینڈل کی نشاندہی کی ہے جو ملک کے باہر سے فعال و سرگرم تھے اس میں پاکستانی سازش کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر غلط بانیہ, غلط معلومات مہمات بدنیتی پر مبنی مشمولات پھیلانے کے معاملہ میں سائبر سیل نے کارروائی کی ہے اس میں 500 ایسے اکاؤنٹس کو نشاندہی کے بعد بند بھی کر دیا گیا ہے, یہ اکاؤنٹس ملک میں قومی سلامتی اور سماجی آہنگی کو بری طرح سے متاثر کرنے میں فعال تھے۔ کاکروچ جنتا پارٹی سی جے پی سے متعلق ملک گیر احتجاج کے پیش نظر مہاراشٹر سائبر نے ایک کارروائی کے دوران ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے ان کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا اور ایسے ویڈیو جو اے آئی اور دیگر طریقہ کار سے تیار کی گئی تھی۔ ڈیپ فیک ویڈیو کی جانچ میں گمراہ کن ویڈیو پائے گئے اس سے عوام میں بدامنی پھیلانے کی کوشش قومی سلامتی کو متاثر کرنا شامل ہے۔ سماج دشمن عناصر اس قسم کے اکاؤنٹس سے گمراہ کن پروپیگنڈے کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا سے مونیٹرنگ کے دوران 429 اکاؤنٹس و قابل اعتراض موبد کو سوشل میڈیا سے ہٹایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایکس, انسٹاگرام, فیس بک, یو ٹیوب سمیت دیگر ذرائع شامل کئے گئے جن پر گمراہ کن مشمولات شامل کئے گئے تھے۔ تقریبا 100 ایسے اکاؤنٹس بھی پائے گئے جو اے آئی کی مدد سے گمراہ کن پوسٹ کر رہے تھے۔ 140 سے زائد پوسٹ اور پروفائلز بھی اس میں شامل ہے, جو مصنوعی اے آئی سے تیار کئے گئے تھے, اس کی تصدیق ایس پی اجئے کمار بنسل نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن پوسٹ اور ویڈیو اب بھی وائرل ہے ایسے میں پولیس مزید کارروائی کر رہی ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

مالدیپ کے صدر موئزو نے سارک کو دوبارہ شروع کرنے پر دیا زور، علاقائی امن اور تعاون پر زور دیا

Published

on

Muizzu

مالے : مالدیپ کے صدر محمد موئزو نے اتوار کو جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے کے مفاد میں اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ مالدیپ میں آزادی کے 61 سال مکمل ہونے پر یوم جمہوریہ کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر صدر موئیزو نے سارک کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ موئزو نے سارک گروپ کے اندر موجودہ تعطل کا حوالہ دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایک بیان کے مطابق انہوں نے سارک کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ خطے میں امن اور تعاون کے مفاد میں مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گروپ اس وقت گروپ کو درپیش تعطل کو حل کرنے کے لیے ثالث کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

43 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 113 سفارت کاروں سے اپنے کلیدی خطاب میں مالدیپ کے صدر نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تفصیل سے بتایا اور عالمی برادری سے پرامن مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی اپیل کی۔ دریں اثنا، جولائی کے اوائل میں، بنگلہ دیش نے بھی جنوبی ایشیا میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور صلاحیت اور کارکردگی کے درمیان فرق کو کم کرنے پر زور دیا۔

بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور، شمع عبید نے سارک کی بحالی کے لیے مخصوص اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا، “تنظیم کو مضبوط نفاذ کی صلاحیت، زیادہ مالی طاقت، زیادہ موثر خصوصی میکانزم، اور فالو اپ کے عملی کلچر کی ضرورت ہے۔” انہوں نے کہا کہ سارک کے رکن ممالک کے ساتھ بات چیت کے بعد، بنگلہ دیش اپنے شراکت دار ممالک کے درمیان زیادہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے سینئر حکام کا اجلاس بلانے اور وزرا کی کونسل کے خصوصی اجلاس کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

سارک گروپ ایک علاقائی سیاسی اور اقتصادی تنظیم ہے جس میں آٹھ رکن ممالک شامل ہیں: ہندوستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا۔ اگرچہ اس گروپ کا مشن پورے جنوبی ایشیا میں اقتصادی تعاون، علاقائی انضمام اور ترقی کو فروغ دینا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی پیشرفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، بنیادی طور پر پاکستان کی طرف سے مسلسل سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان