Connect with us
Thursday,11-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

یوپی : دوسرے مرحلے کی 55 سیٹوں پر ووٹنگ کا آغاز

Published

on

vote

اتر پردیش میں دوسرے مرحلے کے تحت 9 اضلاع کی 55 سیٹوں پر پیر کو سخت سیکورٹی کے انتظامات کے درمیان ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ رائے دہندگان صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔

چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے اتوار کو کہا کہ ان تمام سیٹوں پر مجموعی طور سے 2.02 کروڑ رائے دہندگان بشمول 1.05 کروڑ مرد اور 94 لاکھ خواتین 586 امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کریں گے، جن میں 69 خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا 12544 پولنگ سنٹرس کے 23404 پولنگ بوتھ پر رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ سال 2017 میں ان سیٹوں پر مجموعی ووٹنگ کا اوسط فیصد 65.53 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق) پرشانت کمار نے کہا آٹھ اسمبلی حلقوں بشموں نگینہ، دھام پور، بجنور، اسمولی، سنبھل، دیوبند، رامپور منہارن اور گنگوہ کو حساس حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں 436 بستیوں اور مقامات کو کافی حساس اور 4917 پولنگ بوتھ کو حساس بوتھوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

اے ڈی جی نے بتایا کہ خواتین کے لئے 127 پنک بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں پر 42 خاتون انسپکٹر یا سب۔انسپکٹر اور 488 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔ اس مرحلے میں سنٹرل فورسز کی 733.44 کمپنیوں کو 12544 پولنگ بوتھ پر تعینات کیا گیا ہے۔

یو پی پولیس نے 6860 انسپکٹر اورسب انسپکٹر، 54670 کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ 18.01 کمپنی پی اے سی، 930 پی آر ڈی جوان اور 7746 چوکیداروں کو اس مرحلے میں تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق جن اضلاع میں ووٹنگ ہونی ہے تمام شراب کی دوکانیں 5 بجے تک بند رہیں گی، اور سرحدین سیل کر دی گئی ہیں۔

جن اضلاع کی 55 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے، ان میں امروہہ، سہارنپور، بجنور، رامپور، سنبھل، مرادآباد، بریلی، بدایوں اور شاہجہاں پور شامل ہیں۔ اس مرحلے میں یوگی حکومت کے تین وزیر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سہارنپور سے سریش کھنہ، ضلع سنبھل کی چندوسی سے گلابو دیوی اور رامپور کی بلاسپور سیٹ سے بلدیو سنگھ اولکھ شامل ہیں۔

اپوزیشن کے معروف چہرے جو انتخابی میدان میں ہیں، ان میں سینئر سماج وادی پارٹی (ایس پی) لیڈر اعظم خان رامپور صدر سے، یوگی کابینہ کے سابق وزیر اور اب ایس پی امیدوار دھرم پال سنگھ سینی ضلع سہارنپور کی نکور سے اور امروہہ سے محبوب علی قابل ذکر ہیں۔

مسلم اکثریتی علاقے کو ذہن میں رکھتے ہوئے مختلف پارٹیوں نے 75 سے زیادہ مسلم امیدوار اتارے ہیں۔ ان میں بی ایس پی کے سب سے زیادہ 25، ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کے 18، کانگریس نے 23 مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ وہیں ایم آئی ایم کے 15 مسلم چہروں نے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔

تقریبا ایک مہینے تک چلی انتخابی مہم میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں ایس پی۔ بی ایس پی، آر ایل ڈی، اور کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والی 55 سیٹوں میں سے تقریبا 25 سیٹوں پر مسلم ووٹر اور 20 سے زیادہ سیٹوں پر دلت ووٹر ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس علاقے میں سال 2017 کے مودی لہر نے دلت۔ مسلم صف بندی کی وجہ سے ماضی میں بی جے پی کے کمزور ہونے کے طلسم کو توڑتے ہوئے 55 میں سے 38 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ جبکہ ایس پی کو 15 اور اس کی اتحادی پارٹی کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ اس وقت ایس پی کے 15 میں سے 10 اور کانگریس کے دو میں سے ایک مسلم ایم ایل اے جیتے تھے۔ ماہرین کی رائے میں دلت ووٹوں میں تقسیم کا سیدھا اثر یہ ہوا کہ سابقہ الیکشن میں بی ایس پی کا اس علاقے میں کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔

اس الیکشن میں کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کی مشکلیں بڑھا سکتی ہے۔ وہیں مخالف خیمے سے ایس پی نے اس علاقے میں احتجاج کو شباب پر پہنچا کر ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے سال 2012 میں جب ایس پی نے حکومت بنائی تھی اس وقت بھی ایس پی کو اس علاقے کی 55 سیٹوں میں سے 27 سیٹوں میں جیت ملی تھی، جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں 8 سیٹیں آئی تھیں۔

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والے 9 اضلاع میں سے سات اضلاع رامپور، سنبھل، مرادآباد، سہارنپور، امروہہ، بجنور اور نگینہ میں دلت مسلم ووٹر ہی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی نے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کیا تھا، اور ان سات اضلاع کی سبھی سات لوک سبھا سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ ان میں ایس پی کو رامپور مرادآباد اور سنبھل جبکہ بی ایس پی کو سہارنپور، نگینہ، بجنور اور امروہہ سیٹوں میں جیت ملی تھی۔

واضح رہے کہ اس الیکشن میں ذات پات کی صف بندی کی بنیاد پر بی جے پی کے لئے سابقہ الیکشن کی طرر پر مذہب کی بنیاد پر اور سیکورٹی کے مسئلے پر ووٹوں کی تقسیم کرانا سخت چیلجنگ ثابت ہوا ہے۔ سبھی پارٹیوں کے امیدواروں کہ فہرست سے صاف ہوگیا ہے، کہ اس علاقے میں الیکشن کا دارومدار دلت، جاٹ اور مسلم ووٹوں کے پولرائزیشن پر منحصر ہے۔

جہاں تک انتخابی مہم کا سوال ہے تو کورونا انفکشن کے خطرے کے درمیان ہو رہے۔ اس الیکشن میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں انتخابی مہم کا شور کافی کم رہا۔ الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائن کے تحت ریلی، جلوس اور روڈ شو وغیرہ پر پہلے ہی روک لگا دی تھی۔
ورچول انتخابی تشہیر کے معاملے میں بی جے پی نے اپوزیشن پارٹیوں کو ضرور پیچھے رکھنے کی کوشش کی، لیکن 06 فروری سے عوامی ریلیاں کرنے کی اجازات ملنے کے بعد ایس پی۔ بی ایس پی اور کانگریس محدود روڈ شو اور عوامی ریلیاں کر کے ووٹروں تک اپنے پیغام پہنچانے میں مشغول ہیں۔

بی ایس پی سپریمو مایاوتی ابتداء میں اگرچہ سے انتخابی مہم سے دور رہیں، لیکن دو فروری سے انہوں نے مغربی اترپردیش میں تین ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا۔

انتخابی ایجنڈوں کی اگر بات کی جائے تو کسان تحریک کا گڑھ رہے۔ مغربی اترپردیش میں کسانوں کی پریشانیاں سب سے بڑا ایجنڈا ہیں۔ ماہرین کی رائے میں مودی حکومت بھلے ہی تینوں زرعی قوانین واپس لے کر سب سے لمبے کسان تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہو، لیکن کسانوں کا غصہ اب بھی بی جے پی کے لئے اس الیکشن کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

کسانوں کے اشتعال کو کم کرنے کے لئے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے ترقیاتی کاموں کا اس علاقے میں جم کر انتخابی مہم چلائی ہے۔ بی جے پی نے شاہ کو مغربی اترپردیش میں پارٹی کا انتخابی انچارج بنایا ہے۔ یہ الیکشن شاہ کے انتخابی انتظامات کو بھی کسوٹی پر پرکھے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2012 میں جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی تھی، اس وقت ایس پی نے 55 میں سے 27 سیٹوں پر جیت درج کی تھی، جب کہ بی جے پی کے کھاتے میں محض 8 سیٹیں آئی تھیں۔

ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اکھلیش کے انتخابی نتائج کی لگاتار ناکامیوں پر اس الیکشن میں بریک لگتا ہے یا نہیں۔ وہ آر ایل ڈی کے جینت چودھری کے ساتھ پورے مغربی اترپردیش میں لگاتار انتخابی مہم کر کے کسانوں کے پریشانیوں کو اہم ایجنڈا بنا رہے ہیں۔ جس سے کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کا وجئے رتھ روک سکے۔ علاوہ ازین یہ الیکشن جینت چودھری کے لئے بھی سخت امتحان ہے۔ یہ انتخاب یہ طے کرے گا کہ وہ جاٹ لینڈ کے چودھری ہیں یا نہیں۔

بی ایس پی کی بھی کوشش ہے کہ مغربی اترپردیش میں ایس پی آر ایل ڈی اتحاد اور بی جے پی کی لڑائی کو سہ رخی بنا دیا جائے۔ اس علاقے کی دلت اکثریتی دو درجن سیٹوں پر اپنے امیدوار جتانے کی بی ایس پی کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ سابقہ امتحانات میں اس علاقے سے ایک بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ کر پانے والی بی ایس پی کے لئے یہ الیکشن اپنے وجود کو ثابت کرنے والا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی… ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔

Published

on

Trump-Muztaba

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران نے معاہدے پر بات چیت میں بہت زیادہ وقت صرف کیا اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر یہ تبصرہ کیا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ تہران کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی فوج، بحریہ اور فضائیہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تسلط ختم ہو چکا ہے۔ “ایران کی فوج مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کی بحریہ اور فضائیہ جیسی بہت سی چیزیں ختم ہو چکی ہیں – وہ مکمل طور پر شکست خوردہ ہیں،” ٹرمپ نے سچ سوشل پر لکھا۔ “ایران سب باتیں کر رہا ہے، کوئی کارروائی نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بالادستی ختم ہو گئی ہے!!! انہوں نے ایک معاہدے پر بات چیت کرنے میں بہت زیادہ وقت صرف کیا جو ان کے لیے بہت اچھا ہو سکتا تھا، اور اب انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی!”

ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے اردن میں امریکی فوجی اڈے سمیت خلیجی خطے میں 22 اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے ارد گرد امریکی فوجی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے سنگین فوجی تصادم میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی حملے اردن سے آگے کویت اور بحرین تک پھیل گئے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) نے اطلاع دی ہے کہ بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے الرٹ وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں، بحرین کی شاہی عدالت کے میڈیا ایڈوائزر نے کہا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران کا پڑوسی ترکی امریکہ اور ایران جنگ کو ہوا دینے کے لیے اسرائیلی اشتعال انگیزی کا الزام لگایا ہے۔

Published

on

Turky-Israel

انقرہ : ترک صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کو اسرائیل کو ترکی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شام اور لبنان پر اسرائیل کے حملے اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ خود ترکی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی “جارحیت” پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور اسے روکنا ضروری ہے۔ اسرائیلی صدر بنجمن نیتن یاہو نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اردگان کو ایک ایسا ڈکٹیٹر قرار دیا جو کردوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہے۔ نیٹو کا رکن ترکی ایران، غزہ اور لبنان پر اسرائیل کے حملوں کا سخت ناقد رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارت معطل کر دی ہے اور اس کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ترکی اور اسرائیل کے درمیان کوئی براہ راست تنازعہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سفارتی اور تجارتی تعلقات تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اردگان کی اسلامی امت کا رہنما بننے کی خواہش نے ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

اردگان نے پارلیمنٹ میں اپنی حکمران اے کے پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو بتایا، “نتن یاہو اور ان کے قاتل نیٹ ورک کے ذریعے لبنان اور شام پر حملوں نے مسئلہ کو اس سطح تک بڑھا دیا ہے جہاں اس سے ترکی کو بھی خطرہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ کی سلامتی ان دونوں ممالک کی سلامتی سے منسلک ہے۔ اردگان نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نسلی طور پر منقسم جزیرے قبرص پر “تنازعات کو ہوا دے کر” افریقی ممالک اور بحیرہ روم کے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی “خفیہ کوششیں” کر رہا ہے۔ اس نے وضاحت کیے بغیر کہا، “یہ چھوٹے ادارے، جن کے عزائم اپنے حجم سے کہیں زیادہ ہیں، صیہونی حکومت کے حامیوں کے طور پر کام کرتے ہوئے اور مشرقی بحیرہ روم میں ہوا میں قلعے تعمیر کرتے ہوئے، اسرائیل کی بدمعاش کشتی میں سوار ہو گئے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، “کسی کو بھی خطرناک اقدام نہیں کرنا چاہیے… میں چاہتا ہوں کہ ہر کوئی جان لے کہ اگر مشرقی بحیرہ روم میں ترکی اور ترک قبرصی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، تو ہمارا ردعمل بہت واضح اور سخت ہوگا۔”

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اردگان کو جواب دیتے ہوئے کہا، “یہود مخالف ڈکٹیٹر اردگان، جو کرد عوام کے خلاف نسل کشی کر رہا ہے، دہشت گرد تنظیم حماس کی حمایت کر رہا ہے، اپنے ہی لوگوں پر ظلم کر رہا ہے، اور اپنے سیاسی مخالفین کو قید کر رہا ہے، اسرائیل کو تبلیغ کرنے والا آخری شخص ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا، “آئی ڈی ایف، اسرائیل کی سب سے اخلاقی فوج، ایران اور اس کے پراکسیوں کے خلاف سختی سے کارروائی جاری رکھے گی، کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔”

Continue Reading

سیاست

وزیراعظم نریندر مودی کی کارگزاریوں کی ستائش، نائب وزیر اعلی شندے کی این ڈی اے میٹنگ میں وزیراعظم مودی کو مبارکباد

Published

on

Modi-Shinde

شیوسینا کے سربراہ اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے نئی دہلی میں منعقدہ این ڈی اے میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں ایک تہنیتی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 4398 دنوں تک ملک کی قیادت کرکے ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے اور ان کی قیادت میں ہندوستان تیزی سے سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی ملک کی خدمت کے 12 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ‘وکاسیت بھارت’ کی قرارداد کے ذریعے اگلے 21 سالوں کے لیے ملک کی ترقی کے لیے ایک واضح وژن پیش کیا ہے، جو ان کے وژن اور ملک کے لیے لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیر اعظم رہنے کا ریکارڈ بنایا ہے اور سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے نہ صرف ایک ریکارڈ بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گئی ہے اور ملک اقتصادی سپر پاور بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مودی نے دنیا کے مقبول ترین لیڈروں میں اپنی شناخت بنائی ہے اور کئی ممالک نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ شندے نے بھی وزیر اعظم مودی کی اچھی صحت، لمبی عمر اور ملک کی مسلسل خدمت کی خواہش کی۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مہاراشٹر اور ملک نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کوسٹل روڈ، وادھوان بندرگاہ اور نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسے اہم پروجیکٹوں کے لیے بھاری مالی امداد دی ہے۔ شندے نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں مہاراشٹر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری موصول ہوئی جس سے ریاست کی ترقی میں تیزی آئی۔ انہوں نے مراٹھی زبان کی کلاسیکی زبان کی حیثیت، جن دھن یوجنا، خواتین کو بااختیار بنانے اور غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو وزیر اعظم مودی کی اہم کامیابیاں قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، آرٹیکل 370 کو ہٹانے اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں نے وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت کو ثابت کر دیا ہے۔ ثقافتی ورثے کی ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شندے نے غریبوں کی فلاح و بہبود اور قوم کی تعمیر میں ان کے تعاون کے لیے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دی۔

وزیراعظم مودی سے گھریلو مراسم – ایکناتھ شنڈے
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ شیوسینا این ڈی اے میں بی جے پی کی سب سے پرانی اور قابل اعتماد اتحادی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف سیاسی لیڈر بلکہ خاندان کے سربراہ کے طور پر کام کیا ہے۔ شندے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ذاتی طور پر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے کئی بار اپنی صحت اور آواز پر تشویش کا اظہار کیا۔ شندے نے کہا کہ جب ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے ‘آپریشن سندھور’ کے سلسلے میں بیرون ملک ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی، تب بھی وزیر اعظم نے ان کے بارے میں گہری معلومات لی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو چھوٹےرودرانش سے خاص لگاؤ ​​ہے۔

شیو سینا نے خود کو خود غرض سیاست کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے این ڈی اے سے الگ کر لیا :
نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اقتدار اور خود غرضی کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا جسے ہندو دل کے شہنشاہ بالا صاحب ٹھاکرے نے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا نے کچھ وقت کے لیے خود کو این ڈی اے سے دور کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا نے بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات اور ہندوتوا کے نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے این ڈی اے میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ عوام کی مرضی کے مطابق مہاراشٹر میں مخلوط حکومت قائم ہوئی اور آج شیوسینا اور این ڈی اے کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط اور اٹوٹ ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان