Connect with us
Saturday,26-September-2026

سیاست

یوپی : دوسرے مرحلے کی 55 سیٹوں پر ووٹنگ کا آغاز

Published

on

vote

اتر پردیش میں دوسرے مرحلے کے تحت 9 اضلاع کی 55 سیٹوں پر پیر کو سخت سیکورٹی کے انتظامات کے درمیان ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ رائے دہندگان صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔

چیف الیکشن افسر اجئے کمار شکلا نے اتوار کو کہا کہ ان تمام سیٹوں پر مجموعی طور سے 2.02 کروڑ رائے دہندگان بشمول 1.05 کروڑ مرد اور 94 لاکھ خواتین 586 امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کریں گے، جن میں 69 خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا 12544 پولنگ سنٹرس کے 23404 پولنگ بوتھ پر رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ سال 2017 میں ان سیٹوں پر مجموعی ووٹنگ کا اوسط فیصد 65.53 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وہیں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (نظم ونسق) پرشانت کمار نے کہا آٹھ اسمبلی حلقوں بشموں نگینہ، دھام پور، بجنور، اسمولی، سنبھل، دیوبند، رامپور منہارن اور گنگوہ کو حساس حلقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں 436 بستیوں اور مقامات کو کافی حساس اور 4917 پولنگ بوتھ کو حساس بوتھوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

اے ڈی جی نے بتایا کہ خواتین کے لئے 127 پنک بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں پر 42 خاتون انسپکٹر یا سب۔انسپکٹر اور 488 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل تعینات کئے گئے ہیں۔ اس مرحلے میں سنٹرل فورسز کی 733.44 کمپنیوں کو 12544 پولنگ بوتھ پر تعینات کیا گیا ہے۔

یو پی پولیس نے 6860 انسپکٹر اورسب انسپکٹر، 54670 کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ 18.01 کمپنی پی اے سی، 930 پی آر ڈی جوان اور 7746 چوکیداروں کو اس مرحلے میں تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق جن اضلاع میں ووٹنگ ہونی ہے تمام شراب کی دوکانیں 5 بجے تک بند رہیں گی، اور سرحدین سیل کر دی گئی ہیں۔

جن اضلاع کی 55 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے، ان میں امروہہ، سہارنپور، بجنور، رامپور، سنبھل، مرادآباد، بریلی، بدایوں اور شاہجہاں پور شامل ہیں۔ اس مرحلے میں یوگی حکومت کے تین وزیر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سہارنپور سے سریش کھنہ، ضلع سنبھل کی چندوسی سے گلابو دیوی اور رامپور کی بلاسپور سیٹ سے بلدیو سنگھ اولکھ شامل ہیں۔

اپوزیشن کے معروف چہرے جو انتخابی میدان میں ہیں، ان میں سینئر سماج وادی پارٹی (ایس پی) لیڈر اعظم خان رامپور صدر سے، یوگی کابینہ کے سابق وزیر اور اب ایس پی امیدوار دھرم پال سنگھ سینی ضلع سہارنپور کی نکور سے اور امروہہ سے محبوب علی قابل ذکر ہیں۔

مسلم اکثریتی علاقے کو ذہن میں رکھتے ہوئے مختلف پارٹیوں نے 75 سے زیادہ مسلم امیدوار اتارے ہیں۔ ان میں بی ایس پی کے سب سے زیادہ 25، ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کے 18، کانگریس نے 23 مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ وہیں ایم آئی ایم کے 15 مسلم چہروں نے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔

تقریبا ایک مہینے تک چلی انتخابی مہم میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں ایس پی۔ بی ایس پی، آر ایل ڈی، اور کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والی 55 سیٹوں میں سے تقریبا 25 سیٹوں پر مسلم ووٹر اور 20 سے زیادہ سیٹوں پر دلت ووٹر ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس علاقے میں سال 2017 کے مودی لہر نے دلت۔ مسلم صف بندی کی وجہ سے ماضی میں بی جے پی کے کمزور ہونے کے طلسم کو توڑتے ہوئے 55 میں سے 38 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ جبکہ ایس پی کو 15 اور اس کی اتحادی پارٹی کانگریس کو دو سیٹیں ملی تھیں۔ اس وقت ایس پی کے 15 میں سے 10 اور کانگریس کے دو میں سے ایک مسلم ایم ایل اے جیتے تھے۔ ماہرین کی رائے میں دلت ووٹوں میں تقسیم کا سیدھا اثر یہ ہوا کہ سابقہ الیکشن میں بی ایس پی کا اس علاقے میں کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔

اس الیکشن میں کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کی مشکلیں بڑھا سکتی ہے۔ وہیں مخالف خیمے سے ایس پی نے اس علاقے میں احتجاج کو شباب پر پہنچا کر ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے سال 2012 میں جب ایس پی نے حکومت بنائی تھی اس وقت بھی ایس پی کو اس علاقے کی 55 سیٹوں میں سے 27 سیٹوں میں جیت ملی تھی، جبکہ بی جے پی کے کھاتے میں 8 سیٹیں آئی تھیں۔

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ والے 9 اضلاع میں سے سات اضلاع رامپور، سنبھل، مرادآباد، سہارنپور، امروہہ، بجنور اور نگینہ میں دلت مسلم ووٹر ہی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ایس پی۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی نے سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کیا تھا، اور ان سات اضلاع کی سبھی سات لوک سبھا سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ ان میں ایس پی کو رامپور مرادآباد اور سنبھل جبکہ بی ایس پی کو سہارنپور، نگینہ، بجنور اور امروہہ سیٹوں میں جیت ملی تھی۔

واضح رہے کہ اس الیکشن میں ذات پات کی صف بندی کی بنیاد پر بی جے پی کے لئے سابقہ الیکشن کی طرر پر مذہب کی بنیاد پر اور سیکورٹی کے مسئلے پر ووٹوں کی تقسیم کرانا سخت چیلجنگ ثابت ہوا ہے۔ سبھی پارٹیوں کے امیدواروں کہ فہرست سے صاف ہوگیا ہے، کہ اس علاقے میں الیکشن کا دارومدار دلت، جاٹ اور مسلم ووٹوں کے پولرائزیشن پر منحصر ہے۔

جہاں تک انتخابی مہم کا سوال ہے تو کورونا انفکشن کے خطرے کے درمیان ہو رہے۔ اس الیکشن میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں انتخابی مہم کا شور کافی کم رہا۔ الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائن کے تحت ریلی، جلوس اور روڈ شو وغیرہ پر پہلے ہی روک لگا دی تھی۔
ورچول انتخابی تشہیر کے معاملے میں بی جے پی نے اپوزیشن پارٹیوں کو ضرور پیچھے رکھنے کی کوشش کی، لیکن 06 فروری سے عوامی ریلیاں کرنے کی اجازات ملنے کے بعد ایس پی۔ بی ایس پی اور کانگریس محدود روڈ شو اور عوامی ریلیاں کر کے ووٹروں تک اپنے پیغام پہنچانے میں مشغول ہیں۔

بی ایس پی سپریمو مایاوتی ابتداء میں اگرچہ سے انتخابی مہم سے دور رہیں، لیکن دو فروری سے انہوں نے مغربی اترپردیش میں تین ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا۔

انتخابی ایجنڈوں کی اگر بات کی جائے تو کسان تحریک کا گڑھ رہے۔ مغربی اترپردیش میں کسانوں کی پریشانیاں سب سے بڑا ایجنڈا ہیں۔ ماہرین کی رائے میں مودی حکومت بھلے ہی تینوں زرعی قوانین واپس لے کر سب سے لمبے کسان تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہو، لیکن کسانوں کا غصہ اب بھی بی جے پی کے لئے اس الیکشن کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

کسانوں کے اشتعال کو کم کرنے کے لئے وزیر اعظم مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے ترقیاتی کاموں کا اس علاقے میں جم کر انتخابی مہم چلائی ہے۔ بی جے پی نے شاہ کو مغربی اترپردیش میں پارٹی کا انتخابی انچارج بنایا ہے۔ یہ الیکشن شاہ کے انتخابی انتظامات کو بھی کسوٹی پر پرکھے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2012 میں جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں آئی تھی، اس وقت ایس پی نے 55 میں سے 27 سیٹوں پر جیت درج کی تھی، جب کہ بی جے پی کے کھاتے میں محض 8 سیٹیں آئی تھیں۔

ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اکھلیش کے انتخابی نتائج کی لگاتار ناکامیوں پر اس الیکشن میں بریک لگتا ہے یا نہیں۔ وہ آر ایل ڈی کے جینت چودھری کے ساتھ پورے مغربی اترپردیش میں لگاتار انتخابی مہم کر کے کسانوں کے پریشانیوں کو اہم ایجنڈا بنا رہے ہیں۔ جس سے کسانوں کی ناراضگی بی جے پی کا وجئے رتھ روک سکے۔ علاوہ ازین یہ الیکشن جینت چودھری کے لئے بھی سخت امتحان ہے۔ یہ انتخاب یہ طے کرے گا کہ وہ جاٹ لینڈ کے چودھری ہیں یا نہیں۔

بی ایس پی کی بھی کوشش ہے کہ مغربی اترپردیش میں ایس پی آر ایل ڈی اتحاد اور بی جے پی کی لڑائی کو سہ رخی بنا دیا جائے۔ اس علاقے کی دلت اکثریتی دو درجن سیٹوں پر اپنے امیدوار جتانے کی بی ایس پی کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ سابقہ امتحانات میں اس علاقے سے ایک بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ کر پانے والی بی ایس پی کے لئے یہ الیکشن اپنے وجود کو ثابت کرنے والا ہو گیا ہے۔

سیاست

بی جے پی نے ریونت ریڈی کے ’گاندھی پریوار‘ والے بیان پر کانگریس کو نشانہ بنایا۔

Published

on

نئی دہلی : بی جے پی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے ہفتہ کو کانگریس پر سخت حملہ کیا جب تلنگانہ کے وزیر اعلی ریونت ریڈی نے کیرالہ کے نیلمبور میں ایک پروگرام کے دوران ملک میں سیاسی مقابلے کو “سنگھ پریوار” اور “گاندھی پریوار” کے درمیان لڑائی قرار دیا۔ پریوار ریڈی نے گاندھی پریوار کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے بھی اپنی تیاری کا اظہار کیا۔ تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، بھنڈاری نے الزام لگایا کہ کانگریس کا بنیادی سیاسی مقصد گاندھی خاندان کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں، بی جے پی کے قومی ترجمان نے لکھا: “کانگریس نے اب کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ، ان کے لیے لڑائی ‘گاندھی خاندان’ کو اقتدار میں لانے کے لیے ہے۔ یہ کھلے عام انتخابات میں کچھ بھی نہیں ہے”۔ کمیشن، آئین یا جمہوریت، کانگریس پارٹی کا اصل مقصد صرف پریوار واد، اور پریوار واد کو واپس لانا ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی، 1984 کے سکھ مخالف فسادات اور 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملوں پر ہندوستان کے ردعمل کا حوالہ دیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے ہندوستان کے مواقع، ملک کی اقتصادی پوزیشن اور غربت کی سطح سے متعلق مسائل بھی اٹھائے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان نے دونوں پارٹیوں کی بیان کردہ ترجیحات میں تضاد کرتے ہوئے اپنی پوسٹ کا اختتام کیا، لکھا: “بی جے پی کے لیے: نیشن فرسٹ، کانگریس کے لیے: فیملی سب سے پہلے!” بھنڈاری کے ریمارکس میں وزیر اعلیٰ نیلانگ کے تبصرہ کے جواب میں آیا، جہاں ریڈی برور کے وزیر نے تبصرہ کیا۔ سیاسی تصادم کو سنگھ پریوار اور گاندھی پریوار کے درمیان مقابلہ کے طور پر۔ بی جے پی کے ترجمان نے ریڈی کے ریمارکس کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس پر خاندانی سیاست کو الیکشن کمیشن، آئین اور جمہوریت جیسے مسائل سے آگے رکھنے کا الزام لگایا۔ تبادلے نے گاندھی خاندان کے کردار پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی اختلاف کو اجاگر کیا اور وسیع تر ہندوستانی سیاست میں “پیاریوار” سوال۔ جبکہ ریڈی نے دو “پریواروں” کے درمیان سیاسی لڑائی کے بارے میں بات کی، بھنڈاری نے تبصرے کو اس بات کے ثبوت کے طور پر بیان کیا جسے انہوں نے گاندھی-واڈرا خاندان کو اقتدار میں واپس لانے پر کانگریس کی توجہ کے طور پر بیان کیا۔

Continue Reading

سیاست

سنیٹرا پوار نے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو براہِ راست مدد دینے کی یقین دہانی کرائی؛ کہا کہ کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔

Published

on

ناندیڑ : ناندیڑ ضلع کے سونکھیڈ گاؤں میں ایک سائٹ کے دورے کے دوران خشک سالی سے متاثرہ کسانوں سے براہ راست بات چیت کرتے ہوئے، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی صدر، سنیترا پوار نے ہفتہ کو متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت فصلوں کے نقصان کا سخت نوٹس لے رہی ہے اور کسی کو بھی پھنسے نہیں چھوڑے گی۔ بارش، ڈی وائی سی ایم پوار نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سرکاری اہلکار صرف سرکاری اعداد و شمار یا اعدادوشمار پر انحصار کرنے کے بجائے صورتحال کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے سرگرمی سے زمینی معائنہ کر رہے ہیں۔ حکومتی ریلیف کو تیز کرنے کے لیے رپورٹوں کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔ زرعی قرضوں پر خدشات کو دور کرتے ہوئے، ڈی سی ایم پوار نے تصدیق کی کہ قرض معافی کے عمل جاری ہیں، انفرادی قرض کے زمروں کی بنیاد پر براہ راست بینکنگ چینلز کے ذریعے فنڈز پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، “کسانوں کے قرض کی مخصوص قسم/زمرہ کی بنیاد پر فنڈز براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کیے جائیں گے،” انہوں نے کہا، “ریاستی مداخلت فصلوں کو پہنچنے والے نقصان سے آگے بڑھے گی۔ مویشیوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے- جس میں چارہ اور پانی کی فراہمی شامل ہے- ساتھ ہی مالی دباؤ کی وجہ سے کسانوں کے بچوں کو درپیش تعلیم سے متعلق مشکلات کا انتظام کرنا،” انہوں نے ڈی سی ایم کے ساتھ اپنی بیٹی کے تعلق کی یقین دہانی کرائی۔ پوار نے کہا کہ وہ زرعی حالت زار کو گہرائی سے سمجھتی ہیں اور کسانوں کو یقین دلایا کہ انتظامیہ ان کی مشکلات کا انتہائی سنجیدگی سے علاج کر رہی ہے۔”میں مراٹھواڑہ کی بیٹی ہوں۔ میں اپنی کاشتکار برادری کے درد اور مشکلات کو بخوبی سمجھتی ہوں،” انہوں نے کاشتکاروں کو یقین دلایا۔ “ہم کسی ایک کسان کو بھی غیر یقینی صورتحال میں نہیں چھوڑیں گے۔ آپ کے بچوں کو معیاری تعلیم اور خاندانی زندگیوں کے حصول کے لیے یقینی بنائیں۔ روزی روٹی اس انتظامیہ کے لیے اولین درجے کی ترجیحات بنی ہوئی ہے،” انہوں نے کہا۔

مقامی کسانوں نے مقامی پانی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے فوری مطالبات بھی سامنے لائے، اور درخواست کی کہ شدید خشک سالی سے نمٹنے کے لیے قریبی جھیلوں اور پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو بھرا جائے۔ پوار نے ہجوم کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور جیسے ہی فیلڈ رپورٹس جمع کرائی جائیں گی جامع ریلیف کے اعلانات پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں سے پریشان نہ ہونے کی اپیل کی، انہیں یقین دلایا کہ حکومت کسی کو بھی نہیں چھوڑے گی۔ ڈی سی ایم پوار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے پہلے ہاتھ کے معائنہ کے بعد، ضروری امدادی پیکجوں اور ساختی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے ریاستی کابینہ کی سطح پر جامع فالو اپ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامی عہدیداروں کو فوری طور پر مکمل حالات کا آڈٹ کرنے اور فوری انتظامی کارروائی کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ بارش کے غیر مستحکم نمونوں، فصل کی پیداوار میں شدید کمی، اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے درمیان ریاستی حکومت کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے، انہوں نے دیہی برادریوں کو یقین دلایا کہ انتظامیہ مہاراشٹر کے سابقہ ​​یونین سیکٹر کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر زراعت اور این سی پی ایس پی کے صدر شرد پوار ضلع سولاپور میں ایک مارچ کی قیادت کریں گے تاکہ ریاستی حکومت کی توجہ خشک سالی کا اعلان کرنے اور زرعی بحران سے متاثر کسانوں کو فوری راحت فراہم کرنے پر مبذول کرائی جائے۔ مزید برآں، آدتیہ ٹھاکرے آج دھاراشیو، سولاپور اور ناندیڑ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ کسانوں سے بات چیت کریں گے۔

Continue Reading

جرم

پٹنہ کے کوچنگ سینٹر کے استاد پر طالب علم کے ساتھ بدسلوکی کا الزام، ہنگامہ مچ گیا۔

Published

on

پٹنہ : بہار کے پٹنہ ضلع کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں ایک ٹیچر پر ایک طالبہ کے ساتھ نامناسب سلوک کا الزام لگانے کے بعد ہنگامہ مچ گیا، پولیس نے ہفتہ کو بتایا۔ یہ واقعہ مسورہی کے دھنروا تھانہ علاقے میں پبھیڈی موڑ کے قریب پیش آیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کو پیش آیا۔ کوچنگ سنٹر کے ٹیچر اور آپریٹر، جس کی شناخت انیل کمار کے طور پر کی گئی ہے، نے مبینہ طور پر طالبہ سے موبائل فون پر اپنی تصاویر بھیجنے کو کہا اور اس کے بعد اس کے ساتھ نامناسب سلوک کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ان الزامات کے بعد طالبہ کے رشتہ دار اور جاننے والے مبینہ طور پر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پہنچے اور ٹیچر کا سامنا کیا۔ صورتحال تیزی سے بڑھ گئی، جس سے احاطے میں افراتفری پھیل گئی۔ تصادم کے دوران مبینہ طور پر کمار پر حملہ کیا گیا، رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے چپلوں سے مارا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر حملہ کو ظاہر کرنے والا ایک ویڈیو گردش کر رہا ہے۔ تاہم، پولیس نے آزادانہ طور پر فوٹیج کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی صداقت کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس سیاق و سباق کی جس میں اسے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

دھنروا پولیس اسٹیشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ واقعہ کے سلسلے میں ابھی تک کسی بھی طرف سے کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزید کسی بھی کارروائی کا انحصار باقاعدہ شکایت درج کرنے پر ہوگا، جس کے بعد دستیاب شواہد کی بنیاد پر واقعہ کے ارد گرد کے الزامات اور حالات کی چھان بین کی جائے گی۔ پولیس نے زور دے کر کہا کہ استاد کے خلاف الزامات اس مرحلے پر غیر تصدیق شدہ ہیں اور شکایت کی عدم موجودگی میں کوئی باقاعدہ تحقیقات شروع نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریری شکایت درج ہونے کے بعد ہی پولیس کارروائی کرے گی۔ یہ واقعہ بہار میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے، حالیہ دنوں میں مختلف اضلاع سے اس طرح کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل کی عوامی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان