Connect with us
Sunday,19-April-2026

سیاست

یوپی اسمبلی انتخابات : ایس پی کی چھوٹی پارٹیوں و باغی لیڈروں پرنظر

Published

on

maya

حکمران جماعت کے خلاف بڑھتی اینٹی انکمبینسی، بی ایس پی یسے اراکین اسمبلی کا اخراج، اور اپنے لئے آسان راہ ڈھونڈھتے باغیوں کے درمیان سیاسی پارٹیوں نے یوپی اسمبلی انتخابات : 2022 کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

کورونا پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں یومیہ شدت آتی دکھائی دے رہی ہے۔
ریاستی اسمبلی میں مین اپوزیشن و مسلسل تین شکستوں (لوک سبھا انتخابات۔2014، اسمبلی انتخابات۔2017، لوک سبھا انتخابات۔2019) کا سامنا کرنے والی سماج وادی پارٹی پوری دل جمعی اور سخت محنت کے ساتھ اپنے آپ کو نئے انداز میں پیش کرنے کو کوشاں ہے۔

سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) و راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے ساتھ اتحاد کے تلخ تجربات کے بعد پارٹی اب اس ضمن میں کافی حساس وہوش باش نظر آنے لگی ہے۔

پارٹی نے بڑی پارٹیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی اتحاد کو سرے سے خارج کرتے ہوئے اس بار اسمبلی انتخابات میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا ایک مجموعہ تیار کر کے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس پی نے جاٹ سماج کے اندر اثر و رسوخ رکھنے والی راشٹریہ لوک دل سے پہلے ہی اتحاد کر لیا ہے۔

آر ایل ڈی کے نومنتخب صدر جیت چودھری نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے انتخابی میدان میں اترے گی۔ نتیجے میں مغربی یوپی میں جاٹ سماج کے لوگوں نے پنچایت انتخابات میں ایس پی امیدواروں کی کھل کر حمایت کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سماج وادی پارٹی نے مہان دل کے ساتھ بھی اتحاد کر لیا ہے۔ مغربی اترپردیش کے اضلاع میں مہان دل کا موریہ، کشواہا اور سینی سماج کے اندر کافی رسوخ مانا جاتا ہے۔ مہان دل نے بھی اسمبلی انتخابات میں ایس پی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

وہیں دوسری جانب پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی اعلی قیادت گذشتہ تین انتخابات میں غیر یادو او بی سی اور غیر جاٹ ایس سی ووٹ کے پارٹی کو ووٹ نہ دینے کے سلسلے کافی فکر مند ہے۔ اور یہ ووٹ نہ ملنے کو ہی پارٹی کے گذشتہ تین انتخابات میں شکست کی ایک وجہ مانا جاتا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے جمعرات کو بتایا کہ ’پارٹی نے یادو مسلم ووٹوں کو اپنی جانب مائل کر کے بقیہ ہندو ووٹس کو بی جے پی کے لئے چھوڑ کرنا چاہتے ہوئے، ان جانے میں اس غلطی کو بار بار دوہرایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار پارٹی اس کھائی کو پاٹنے کے لئے ذات پر مبنی چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں سے اتحار کررہی ہے۔ تاکہ ’اتی پچھڑا‘ کافی پسماندہ طبقات کو بی جے پی کے خیمے میں جانے سے روکا جا سکے۔

ایک دوسرے ایس پی لیڈر نے کہا کہ بی جے پی سال 2014 سے ہی ’برہمن ۔ بنیا‘ پارٹی کا ٹیگ اپنے سے ختم کرنے کے لئے لگاتار کوشش کر رہی ہے، اور اس معاملے میں اس نے او بی سی و ایس سی سماج کے غریب اور کافی پسماندہ طبقات کا اتحاد بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔

انہوں نے کہا کہ سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 119 ٹکٹ کافی پسماندہ طبقات جیسے راج بھر، کشواہا اور موریہ سماج کے امیدواروں کو اور 69 ٹکٹ غیر جاٹ دلت سماج کے امیدواروں کودئیے تھے۔ اور اس کا انہوں نے خاطر خواہ سیاسی فائدہ حاصل کیا۔ اب سماج وادی پارٹی ذات پر مبنی چھوٹی سیاسی پارٹیوں سے اتحاد کر کے بی جے پی کو 2022 میں شکست فاش دے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

سیاست

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل کے مسترد ہونے پر ردعمل ظاہر کیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے خواتین کے ریزرویشن بل کو “خواتین کے لیے اچھی خبر” قرار دیا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سیاسی پس منظر نہیں رکھتے، یہاں تک کہ مجوزہ قانون لوک سبھا میں پاس ہونے میں ناکام ہو گیا۔ ترقی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، تاوڑے نے بل کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی مزاحمت کرنے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی بات چیت میں، تاوڑے نے روشنی ڈالی کہ یہ بل ان خواتین کے لیے ایک موقع کی علامت ہے جنہوں نے بغیر سیاسی نسب کے اپنے راستے پر کام کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو آگے لانے کا سہرا دیا جسے انہوں نے “خواتین کے حقوق کی بحالی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “خواتین ریزرویشن بل ہم خواتین کے لیے بہت اچھی خبر تھی۔ ہم میں سے جو سیاسی پس منظر سے نہیں آتے ہیں، انھوں نے آگے آنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ یہ ہمارے حقوق کی بحالی تھی، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے لایا تھا۔”

بل کے ممکنہ اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے، تاوڑے نے کہا کہ اس کی منظوری سے میونسپل اداروں سے لے کر ریاستی مقننہ اور پارلیمنٹ تک حکمرانی کے تمام سطحوں پر خواتین کی وسیع نمائندگی اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا۔ “اس کی وجہ سے، خواتین کو ودھان سبھا، لوک سبھا، اور میونسپلٹی کی سطح سے لے کر ریاستی سطح تک نمائندگی اور عزت ملنے کی امید تھی،” انہوں نے مزید کہا۔ میئر نے اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا، یہ الزام لگایا کہ راہل گاندھی اور ان کی پارٹی سمیت لیڈران اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھے گئے جس سے ان کا خیال ہے کہ خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنایا جائے گا۔ یہ ترقی لوک سبھا کے 11 اپریل کو آئین (131 ویں ترمیم) بل کو مسترد کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ ووٹنگ میں کل 528 ارکان نے حصہ لیا جن کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ آئے۔ تاہم، بل آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت، 326 ووٹوں سے کم تھا۔ مجوزہ قانون سازی میں ایوان کی طاقت کو 543 سے بڑھا کر 850 نشستیں کرنے اور 2026 کی مردم شماری کے بعد کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی کو فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ووٹنگ کے عمل کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان