Connect with us
Monday,17-August-2026
تازہ خبریں

بین الاقوامی خبریں

اقوام متحدہ کا 15 مارچ کو عالمی یوم انسداد اسلاموفوبیا منانے کا اعلان

Published

on

UN..

اسلاموفوبیا کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو عالمی یوم انسداد اسلاموفوبیا قرار دینے کے مسلم ملکوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرار منظور کرلی۔ یہ قراردار اسلامی تعاون تنطیم (او آئی سی) کی جانب سے پاکستان نے پیش کیا تھا۔ جب کہ ہندوستان سمیت کئی ممالک نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے شکایت کی کہ قراردار میں ہندو مخالف فوبیا سمیت دیگر مذاہب کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی سطح پر تحمل اور امن کے کلچر کو فروغ دینے کے مقصد کے طور پر 15 مارچ کو متفقہ طور پر عالمی یوم انسداد اسلاموفوبیا قرار دینے کی منظوری دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق قراردار او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے ساتھ ساتھ چین اور روس سمیت دیگر 8 ممالک کی حمایت سے پیش کی گئی تھی۔ قراردار میں مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر لوگوں پر ہر قسم کے تشدد کے عمل اور عبادت گاہوں، مزاروں سمیت مذہبی مقامات پر اس طرح کے عمل کو سختی سے ناپسند کیا گیا۔ اور کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ڈان کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آج کی قرارداد میں تمام رکن ممالک، اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں، دیگر علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی، نجی شعبہ اور مذہبی تنظیموں کو مناسب انداز میں عالمی سطح پر یہ دن منانے کی دعوت دی گئی ہے۔ قراردار متفقہ طور پر منظور ہونے کے بعد کئی ممالک نے اس کو سراہا، لیکن ہندوستان فرانس اور یورپی یونین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اور کہا کہ دنیا بھر میں مذہبی عدم برداشت موجود ہے، لیکن صرف اسلام کو الگ کر کے پیش کیا گیا، اور دیگر کو خارج کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر منیر اکرم نے کہا کہ ‘اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے’ اور جنرل اسمبلی کے 193 اراکین نے نشاندہی کی کہ یہ فینومینا بڑھ رہا ہے، اور اس کا ازالہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ اسلاموفوبیا کے نتائج نفرت انگیز تقریر، امتیاز اور مسلمانوں کے خلاف جرائم ہیں۔ اور یہ دنیا کے کئی خطوں میں پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور کمیونیٹیز کے ساتھ تفریق، دشمنی اور تشدد جیسے اقدامات ان کے انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ اور ان کی مذہبی آزادی اور عقائد کے خلاف ہے، اور اس کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں شدید تکلیف محسوس کی جا رہی ہے۔

مسٹر منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے مذہبی آزادی کی نائن الیون دہشت گردی کے حملوں کے بعد مسلمانوں پر چھائے ہوئے خوف اور مسلمانوں کے ساتھ تشدد پر مبنی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تقسیم، خوف اور بد اعتمادی کے ماحول میں مسلمانوں کو اکثر توہین، منفی سوچ اور شرم کا احساس ہوتا ہے۔ اور ایک اقلیت کے اقدامات کو بطور مجموعی زبردستی کے طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا اس وقت پھیلاؤ کی رفتار اور بے قابو ہونے والی دونوں صورتوں میں خطرناک ہوگیا ہے۔ اور زینوفوبیا، منفی شناخت اور مسلمانوں کو روایتی سوچ کے ذریعے تقسیم کرنا بھی نسل پرستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف آف لائن اور آن لائن دونوں حالتوں میں نفرت انگیز جرم ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم، شہریت، امیگریشن، روزگار، ہاؤسنگ اور صحت سمیت تمام دستاویزی شعبوں میں امتیازی سلوک بڑھ رہا ہے۔

ہندوستانی سفیر ٹی ایس مورتی نے کہا ہے کہ ایک مخصوص مذہب کے بارے میں خوف اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ اس کے لیے عالمی دن منانے کی صورت حال آگئی ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ مذاہب کے حوالے سے مختلف طریقوں سے خوف پیدا کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ہندوؤں، بدھ مت اور سکھ مت کے خلاف۔ انہوں نے کہا، ‘1.2 بلین لوگ ہندو مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ 535 ملین لوگ ہیں جو بدھ مت کو مانتے ہیں اور 30 ملین سے زیادہ سکھ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ایک مذہب کے بجائے تمام مذاہب کی طرف پھیل جائیں۔’ خوف کی فضا کو سمجھیں۔’ انہوں نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ کو دنیا کو ایک خاندان کے طور پر دیکھنے اور ہمیں امن اور ہم آہنگی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے بجائے مذہبی معاملات سے بالاتر ہونا چاہیے جو ہمیں تقسیم کر سکتے ہیں۔’

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس قرارداد کی منظوری کے بعد تریمورتی نے کہا کہ ہندوستان یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے خلاف کی جانے والی کسی بھی سرگرمی کی مذمت کرتا ہے۔ لیکن خوف کا ماحول صرف ان مذاہب کے بارے میں نہیں پھیلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘درحقیقت اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ مذاہب کے اس قسم کے خوف سے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب بھی متاثر ہوئے ہیں۔ خوف کی فضا میں اضافہ ہوا ہے۔’ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 2019 میں 22 اگست سے پہلے ہی مذہب کے نام پر تشدد میں مارے جانے والوں کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔ یہ دن مکمل طور پر تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ ‘ہم تمام مذاہب کے یکساں تحفظ اور فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس قرارداد میں لفظ ‘تنوع’ کا ذکر تک نہیں ہے اور جو ممالک یہ قرارداد لائے ہیں، انہوں نے ہماری ترمیمی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ یہ لفظ جس سے صرف وہی لوگ سمجھ سکیں گے۔

تریمورتی نے کہا کہ ایک متنوع اور جمہوری ملک ہونے کی وجہ سے ہندوستان صدیوں سے بہت سے مذاہب کا گھر رہا ہے۔ ہندوستان نے دنیا بھر میں مذہب کے نام پر ظلم و ستم کا شکار لوگوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ایسے لوگوں کو ہندوستان میں محفوظ پناہ گاہیں مل گئی ہیں۔ وہ پارسی ہوں یا بدھ مت یا یہودی یا کسی اور مذہب کے لوگ۔ ‘انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے خلاف تشدد، عدم برداشت اور امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے نکولس ڈی ریوائر نے کہا کہ یہ قرارداد ہر قسم کے امتیاز کے خلاف ہماری مشترکہ لڑائی سے متعلق خدشات کا جواب نہیں دیتی۔انہوں نے کہا، ‘مذہب پر یقین کرنے یا نہ کرنے کی آزادی کا ذکر کیے بغیر، ایک مذہب کو دوسرے مذاہب پر ترجیح دے کر، یہ قرارداد مذہبی عدم رواداری کے خلاف جاری لڑائی کو تقسیم کرتی ہے۔ ‘نکولس ڈی ریوائر نے کہا کہ معاشرے میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ مختلف مذاہب کو مانتے ہیں یا وہ کسی کو نہیں مانتے۔

بین الاقوامی خبریں

عراقچی نے امریکی انٹیلی جنس معلومات کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب غلطی پہلے کی گئی۔

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

نئی دہلی : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی انٹیلی جنس پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکی انٹیلی جنس کی غلطیوں کو قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں اراغچی نے لکھا، “امریکہ طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے غلط اندازے لگا رہا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ ایک مثال ہے۔ اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس سے بھی بڑا غلط اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ جعلی انٹیلی جنس جعلی خبروں سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہوشیار رہو۔ اللہ عظیم ہے، اور ہم زمین پر کسی بھی طاقت سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔”

امکان ہے کہ عراقچی نے یہ بیان آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے کے حوالے سے دیا ہے۔ امریکہ مسلسل آبنائے ہرمز پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے جبکہ ایران اس دعوے کی مسلسل تردید کرتا ہے۔ بدھ کے روز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” کا دعویٰ کرتے ہوئے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کی واشنگٹن کی خواہش کا اشارہ دیا۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا، “امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے۔” امریکی صدر نے بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اسے چیلنج کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، “ہر کوئی ہماری بحری ناکہ بندی کو ‘اسٹیل کی دیوار’ کہہ رہا ہے، اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔”

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے، لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو کنٹرول کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، “امریکی بحریہ واحد فریق ہے جو اس وقت آبنائے ہرمز پر کنٹرول میں ہے۔ ہماری ناکہ بندی مکمل طور پر موثر رہی ہے۔ یہ ایک مضبوط فولادی دیوار کی طرح ہے۔ ہم صرف ان لوگوں کو اندر آنے دیتے ہیں جنہیں ہم اندر جانے دینا چاہتے ہیں، اور صرف وہی لوگ اندر آتے ہیں اور باہر جاتے ہیں۔” صدر نے کہا کہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن انہیں ایران جانے کی اجازت نہیں ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران کے تنازع کے دوران جنوبی کوریا کا انچیون ہوائی اڈہ دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ تھا۔

Published

on

I.-Airport

سیئول : انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جنوبی کوریا کے دارالحکومت کا گیٹ وے، 2026 کی پہلی ششماہی میں بین الاقوامی مسافروں کی آمدورفت کے لحاظ سے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ بن گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری ایران کی جنگ کی وجہ سے ہوائی ٹریفک کا دوبارہ راستہ تبدیل کرنا ہے۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، ہوائی اڈے نے جنوری اور جون 2026 کے درمیان 38.39 ملین بین الاقوامی مسافروں کو ہینڈل کیا۔ اس نے طویل عرصے سے قائدین لندن کے ہیتھرو اور سنگاپور کے چانگی ہوائی اڈے کو پیچھے چھوڑ دیا، جس نے 37.79 ملین مسافروں کو ہینڈل کیا، جبکہ ہیتھرو نے 34.53 ملین مسافروں کو ہینڈل کیا۔

انچیون کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے، جس کا آغاز 2001 میں ہوا، جب یہ بین الاقوامی ٹریفک کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہے۔ یہ 2002 میں 10ویں، 2018 میں پانچویں اور 2024 اور 2025 میں تیسرے نمبر پر تھا۔ انچیون کے عروج میں مشرق وسطیٰ کا بحران ایک اہم عنصر تھا۔ امریکہ-ایران تنازعہ نے دبئی جیسے مشرق وسطیٰ کے ہوائی مراکز کے کردار کو کمزور کر دیا ہے، اور ٹرانزٹ مسافروں کا ایک حصہ مشرقی ایشیا میں متبادل راستوں کا رخ کر گیا ہے۔ انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کارپوریشن نے بھی اس تبدیلی کو ٹریفک میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔

انچیون کے بین الاقوامی مسافروں کی آمدورفت میں سال بہ سال 6.3 فیصد اضافہ ہوا۔ چین اور جاپان سے آنے والے مسافروں میں اضافے نے بھی اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ پہلی ششماہی میں ہوائی اڈے کے کل مسافروں کا 39.3 فیصد غیر ملکی شہریوں کا تھا، جو 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ 44.4 فیصد تک پہنچ گیا۔ انچیون اس وقت 101 ایئر لائنز کے ذریعے 183 شہروں سے منسلک ہے، جس میں 158 بین الاقوامی مسافروں کی منزلیں ہیں۔ 2024 کے آخر میں مکمل ہونے والی چار فیز کی توسیع نے اس کی سالانہ گنجائش 106 ملین مسافروں تک بڑھا دی ہے۔

دریں اثنا، ہیتھرو نے 2026 کی پہلی ششماہی میں کل 40 ملین مسافروں کو ریکارڈ کیا، لیکن مشرق وسطیٰ کے لیے اس کی گنجائش میں 16.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایشیا پیسیفک خطے میں ٹریفک میں 7.9 فیصد اضافہ ہوا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستانی آئی ایس آئی ایجنٹ رانا رؤف عرف وہاب عالم گرفتار، نیپال کے راستے بھارت آیا تھا اور 14 سال سے مغربی بنگال میں مقیم تھا۔

Published

on

ISI-Agent-Aftab

نئی دہلی : مغربی بنگال پولیس کی خصوصی ٹاسک فورس نے حال ہی میں ایک مشتبہ پاکستانی آئی ایس آئی ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے۔ این ایس جی کے سابق کمانڈو لکی بشت کے مطابق اس کی شناخت رانا رؤف عرف وہاب عالم کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ پاکستان کے فیصل آباد کا رہائشی ہے اور بھارت سے بنگلہ دیش فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ را کے سابق ایجنٹ لکی بشت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پوسٹ کی اور اس گرفتاری کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم تقریباً 14 سال سے بھارت میں مقیم تھا۔ بشت کے مطابق وہ 2012 میں نیپال کے راستے ہندوستان آیا تھا اور مغربی بنگال میں رہ رہا تھا۔

ہندوستان-نیپال سرحد کی نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے لکی بشت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلی سرحد نقل و حرکت کو آسان بناتی ہے جس کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے عناصر بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہیں۔ تاہم سابق کمانڈو نے اس معاملے میں عوام کی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ بشت نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں اور انٹیلی جنس یونٹ ہر فرد کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ سکتے۔ لہذا، اگر کسی شخص کی سرگرمیاں مشکوک معلوم ہوتی ہیں یا اس کے رویے سے ملک دشمن سرگرمیوں کا پتہ چلتا ہے، تو لوگوں کو اس کی اطلاع مقامی پولیس یا متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو کرنی چاہیے۔ لکی بشت نے کہا کہ کسی مشکوک فرد کے بارے میں بروقت معلومات سیکورٹی ایجنسیوں کو ممکنہ خطرات سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع خود افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی اداروں کو دیں۔

را کے مبینہ سابق ایجنٹ نے ہلدوانی، اتراکھنڈ میں حالیہ گرفتاریوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں مسلسل مشکوک نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی صرف پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام شہری بھی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دے کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ سرگرمی کے بارے میں معلومات کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کسی بڑے خطرے کو ٹالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کی چوکسی اور موثر کارروائی کی مثال کے طور پر بنگال اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی کارروائی کا بھی حوالہ دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان