Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

ادھوٹھاکرے ریاست کی عوام کو ایک وزیراعلیٰ کے طور پر نہیں بلکہ خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں : ارملا ماتوندکر

Published

on

مہاراشٹرا کے وزریر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی قیادت پر اعتماد اور انکی سربراہی میں کام کرنے کو اپنی سعادت و خوشی قرار دیتے ہوئے فلم اداکارہ سے میدان سیاست میں قدم جمانے والی ارمیلا ماتونڈکر آج یکم دسمبر کو شیوسینا میں شامل ہونے کے بعد شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے کام کاج کو سرہاتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کو ریاست کے لوگوں نے وزیر اعلی کے طور پر نہیں، بلکہ خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اور انھوں نے مہاراشٹرا کو آگے لیجانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اس لیے میں انکے ساتھ کام کرنا پسند کروں گی۔
ارملا ماتوندکر نے شیوسینا میں شمولیت کے بعد متعدد امور پر اپنا مؤقف واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ سیکولر ہونے کا مطلب مذہب سے نفرت نہیں ہے۔ میں پیدائش اور عملی طور سے ہندو ہوں۔ ارمیلا ماٹونڈکر نے کہا ، میں نے ہندو دھرم کا مطالعہ کیا ہے اور نو سال کی عمر سے ہی یوگا کی مشق کررہی ہوں۔ مذہب دل کے یقین اعتقاد کا معاملہ ہوتا ہے۔ میں مراٹھی ہوں اور ایک قدم آگے بڑھنے کے بعد بھی پیچھے نہیں ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ “میں ٹرولوں کا خیرمقدم کرتی ہوں۔ ٹرول کو میں تمغہ سمجھتی ہوں۔ ٹرولر ہمیشہ مجھے دکھاتے ہیں کہ میں صحیح راستے پر ہوں۔”
کانگریس کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ، “میں نے کانگریس پارٹی کو چھوڑے ہوئے 14 ماہ ہوئے ہیں۔میں نے یہ نہیں کہا کہ میں سیاست چھوڑ دوں گی۔ کانگریس چھوڑنے کو 14 ماہ ہوگئے ہیں ، لہذا ، اب یہ معاملہ پرانا ہوگیا ہے”۔ ارمیلا نے کہا ، میں نے شیوسینا میں شمولیت اختیار کی کیونکہ میں نے شیوسینا میں کام کرنے کا موقع دیکھا۔
ارملا ماتوندکر نے مہاراشٹرا کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے کام کو بھی سراہا۔ ” حکومت کا کام گذشتہ ایک سال میں بہت اچھا رہا ہے۔”
شیوسینا کا خواتین کا محاذ بہت مضبوط ہے۔ میں ان کا حصہ بننے کے موقع دئے جانے پرکا شکرگزار ہوں۔ ارمیلا نے کہا ، میں ایک شیوسینک کی حیثیت سے آئی ہوں اور میں ایک شیوسینک کی حیثیت سے کام کروں گی۔
ارملا نے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ممبئی میں آج بالی ووڈ اداکاروں اور ہدایت کاروں سے ملاقات کے معاملے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ “اگر یوگی آدتیہ ناتھ ممبئی آرہے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔ آپ اسے جئے مہاراشٹر سے کہہ سکتے ہیں۔”
اس خبر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہ یوگی آدتیہ ناتھ بولی وڈ کو اترپردیش منتقل کرنے کا ارادہ کررہے ہیں ، ارمیلا نے کہا ، “بالی ووڈ ممبئی کے خون میں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ اتنی آسانی سے چلا جائے گا۔”
ارمیلا نے کہا ، مجھے ادھو ٹھاکرے کا یہ خیال پسند ہے کہ قانون ساز کونسل کی معاشرتی اور ثقافتی حیثیت سے مالا مال ہے ، ہمیں اس میراث کو بڑھانا چاہئے۔
آج ارملا ماتوندکر نے شیو سینا میں باضابطہ شمولیت اختیار کی اس موقع پر وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور دوسرے عہدیداران موجود تھے۔
وزیراعلی ٹھاکرے کی اہلیہ رشمی ٹھاکرے نے ارمیلا کی کلائ پر شیوسینا کا علامتی دھاگہ شیو بندھن بھی باندھا
واضح رہیکہ کہ ماتوندکر نے کانگریس کی ٹکٹ پر ممبئ کے مضافات سے پارلیمنٹ کے انتخابات میں قسمت آزمائ کی تھی لیکن انھیں شکست کا منھ دیکھنا پڑا تھا حال ہی میں ماتونڑکر کو شیوسینا نے گورنر کے کوٹے سے قانون ساز کونسل میں نامزد کیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com