Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

ملک کے لئے جینے کا عزم ہی شہیدوں کو سچا خراج عقیدت : مودی

Published

on

MODI

تحریک آزادی کو مہمیز دینے والے چوری چورا واقعہ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک کے لئے جانیں قربان کرنے کا عزم ہی شہداء کو سچا خراج عقیدت ہوسکتی ہے۔ مسٹر مودی نے جمعرات کو ’چوری چورا‘ کے صد سالہ تقریب کا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی لڑائی کے دوران ایسی بہت کم مواقع ہونگے، جب انگریزوں نے ایک ساتھ 19 لوگوں کو پھانسی دی ہو۔

ان شہیدوں کو تاریخ کے صفحات میں مناسب مقام نہیں دیا گیا، لیکن ان بہادر شہیدوں نے آزادی کی لڑائی کو نیا سمت فراہم کرنے میں اہم کردار اداکیا تھا۔

وزیراعظم نے چوری چورا مہوتسو کے موقع پر پانچ روپئے کے ایک ڈاک ٹکٹ کو بھی جاری کیا۔ اس موقع پر چوری چورا تھیم گانے کو بھی پیش کیا گیا، جبکہ محکمہ اطلاعات نے چورا چوری واقعہ پر مبنی ڈاکیو منٹری کی پیشکش کی، اور ثقافتی پروگرام منعقد کئے گئے۔

مدن موہن مالویہ اور بابا راگھو داس کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ چوری چورا کے واقعہ سے حواس باختہ انگریزی حکومت نے حالانکہ 172 لوگوں کو پھانسی دینے کا منصوبہ بنایا تھا، اور بابا راگھو داس کی کوششوں سے تقریبا 150 لوگوں کی پھانسی کی سزا ٹال دی گئی تھی۔

چورا چوری کی پاک سر زمین پر بہادر شہیدوں کو یاد کرنے کے لئے صد سالہ تقریب کا یہ انعقاد اور اہم ہوگیا ہے، جب ملک آزادی کی 77ویں سال میں داخل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا بحران میں ہندوستان میں بنی ویکسین کی دنیا کے کئی ممالک میں طلب بڑھی ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک کے مقابلے ہندوستان میں ٹیکہ کاری کی رفتار کہیں زیادہ ہے۔ دنیا میں ہندوستان کو اس مقام پر دیکھ کر مجاہدین آزادی کی روح کو فخر محسوس ہو رہا ہوگا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیش بجٹ کے بارے میں ماہرین معشیات کا قیاس تھا کہ کورونا بحران کی سخت چیلنج سے نپٹنے کے لئے حکومت سود کا بوجھ عام شہریوں پر ڈالے گی، لیکن ملکی باشندوں پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے، بلکہ چیلنجز کے حل کے لئے یہ بجٹ تیزی فراہم کرے گا۔

طبی خدمات کو مزید پختہ کرنے کا نظم بجٹ میں بھی کیا گیا ہے۔ تعمیرائی شعبے کو مضبوطی، روز گار کے مواقع اور کسانوں کو مستحکم بنانے میں بجٹ معاون ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک دہائیوں سے بجٹ کا مطلب صرف اعلانات رہ گیا تھا، جسے پورا نہیں کیا جاتا تھا۔ بجٹ کو حساب کتاب کا بہی کھاتہ بنا دیا گیا تھا، لیکن اب سوچ اور اپروچ کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اعتماد کی جو رفتار ہم نے شروع کی ہے وہ نئے ہندوستان کی تعمیر کے ساتھ پورا ہوگا۔

اس موقع پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ وزیر اعظم کی ترغیب سے ان کی حکومت نے یہ صد سالہ تقریب کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ چورا چوری کا واقعہ تحریک آزادی کو نئی سمت فراہم کیا تھا۔ 4 فروری 1922 کو جدوجہد آزادی میں یہاں پولیس اور مقامی افراد کے درمیان ہوئی جھڑپ میں پولیس کی گولی سے تین مجاہدین آزادی شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد 228 افراد پر برطانیہ حکومت نے مقدمہ چلایا تھا، جن میں 225 کو سزا دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 1857 میں آزادی کی پہلی لڑائی سے آزادی کے حصول تک اور اس کے بعد ملک کے تحفظ میں شہید ہوئے بہار شہیدوں کے اعزاز و احترام میں یہ پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔ ہر اسمارک پر پولیس بینڈ، دیپ اتسو و حب الوطنی کے گیتوں کو گنگنانے کا پروگرام ہوگا۔ کالجوں میں طرح طرح کے مسابقوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com