Connect with us
Sunday,19-April-2026

جرم

دھمکی اور افواہ سے حالات خطرناک رخ اختیار کرسکتے تھے : شاہین باغ خاتون مظاہرین

Published

on

shaheen

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے شاہین باغ سمیت دہلی کے مختلف علاقوں میں پھیلی افواہ پر فوری طورپر لگام نہ لگانے اور خاطیوں کو جلدی نہ پکڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ یہ افواہ کسی بھی بڑے دردناک واقعہ کا پیشہ خیمہ ہوسکتی ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دو معاملے درج کئے گئے ہیں۔
شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے کہا کہ اس افواہ کی وجہ سے پورے علاقے میں افراتفری کا ماحول رہا اور اس سے حالات خطرناک رخ اختیار کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شاہین باغ مظاہرین کو دھمکی دینے والوں کے خلاف بروقت کارروائی ہوتی تو دہلی کے متعدد اضلاع میں اس طرح کے حالات پیش نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اس وقت جب دہلی میں کے متعدد اضلاع میں بھیانک فسادات ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت میں ضروری تھا کہ افواہ پھیلانے اور دھمکی دینے والوں پر فوری کارروائی کی جاتی۔
خاتون مظاہرین میں شامل سیما نے کہاکہ کچھ خاص علاقے سے دھمکی دینے کے متعدد ویڈیو اور آڈیوں وائرل ہو رہے تھے، جس میں شاہین باغ جانے کی اپیل کی جارہی تھی لیکن دہلی پولیس ان ویڈیو کو بنانے اور دھمکی دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے کل کا دن افواہوں کا رہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ مقامی پولیس نے اعلان کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی۔
مظاہرین میں شامل نصرت آراء اور ثمینہ اور سماجی کارکن ملکہ خاں نے کہاکہ ان فواہوں کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا کہ شاہین باغ کی خاتون مظاہرین مظاہرہ اور احتجاج چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ ان فواہوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم مزید ہمت کے ساتھ مظاہرہ جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ قانون کا احترام کرتی ہیں اور ہر کام قانون کے دائرے میں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس والوں نے ہم سے کہا تھا کہ مظاہرہ میں آج مائک کا استعمال نہ کیا جائے، ہم نے مان لیا اور پورے دن اور رات میں مائک کا استعمال نہیں کیا گیا۔ مظاہرین نے خاموش رہ کر مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم پرامن مظاہرین ہیں ہم نہیں چاہتی ہیں کہ اس مظاہرہ میں کوئی خلفشار پیدا ہو۔
انہوں نے کہاکہ فسطائی طاقتوں کی منشا یہی ہے کہ ہم لوگوں کو ڈر اور خوف زدہ کر کے بھگا دیں لیکن ان افواہ اڑانے والوں اور دھمکی دینے والوں سے کہنا چاہتی ہیں کہ ہم لوگ کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں ہیں اور اس وقت تک بیٹھیں گی جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرستوں نے دہلی میں ماحول کر کے کئی جگہ سے دھرنا اٹھوا دیا ہے لیکن یہ شاہین باغ ہے پرواز اونچی رکھتا ہے اور کسی سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں کچھ دنوں تک ہوئے تشدد کے بعد اب اتوار کی شام دارالحکومت کے چار اضلاع اور ان کے آس پاس کے علاقوں میں تشدد کی افواہ پھیلنے سے لوگوں میں افراتفری مچ گئی تھی جس کے بعد دہلی پولیس کو واضح کرنا پڑا کہ حالات پرامن ہیں۔ اس دوران تشدد کی افواہوں کے پیش نظر سیکورٹی وجوہات سے ڈی ایم آر سی نے اپنے کچھ میٹرو اسٹیشنوں بند کر دیئے۔ اگرچہ کچھ دیر بعد سبھی اسٹیشنوں کو کھول دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے ٹویٹ کرکے کہا کہ تشدد کی خبر افواہ ہے۔ پولیس نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور کسی بھی افواہ پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ دہلی کے دوارکا، روہنی، مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تشدد کی افواہیں اڑائی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کے نزدیک دو گروپوں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے اتوار کو اس علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا اور بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ ہندو سینا نے یکم مارچ کو شاہین باغ سڑک خالی کرانے کی دھمکی دی تھی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔ دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں مظاہرین ریلیف کا سامان جمع کرکے فساد زدہ علاقوں میں بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔

بین الاقوامی خبریں

پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ، نظام کمزور گروہوں کی حفاظت میں ناکام : رپورٹ

Published

on

پاکستان : ایک رپورٹ کے مطابق، بچوں سے زیادتی کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف تشدد میں تشویشناک اضافے کی عکاسی کرتی ہے بلکہ کمزور گروہوں کے تحفظ کے لیے میکانزم کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے لیکن مختصر عرصے کے لیے سرخیاں بننے کے بعد ان واقعات کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بچوں سے زیادتی کے 3,630 واقعات رپورٹ ہوئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں، لیکن ان مسائل نے نہ تو بڑے پیمانے پر قومی بحث کو جنم دیا ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس پالیسی کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر سنگین واقعے کے بعد ایک مختصر سا غصہ نکالا جاتا ہے لیکن جلد ہی صورتحال ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ یورپی ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، “بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ ایک گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے جو مختلف خطوں اور طبقوں پر محیط ہے۔ اس میں جسمانی تشدد، جنسی زیادتی اور نظر اندازی سمیت کئی جرائم شامل ہیں۔ ہر کیس نہ صرف ایک ذاتی المیہ کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ سیکیورٹی نظام کی ناکامی بھی ہے۔” رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس طرح کے معاملات سوشل میڈیا پر مختصر وقت کے لیے بڑے پیمانے پر بحث پیدا کرتے ہیں، لیکن یہ بحث دیرپا تبدیلی یا جوابدہی میں ترجمہ نہیں کرتی۔ سائیکل ہر واقعے کے ساتھ دہرایا جاتا ہے – پہلے غصہ، پھر غم، اور آخر میں خاموشی۔ رپورٹ کے مطابق، بہت سے معاملات میں، مرتکب متاثرہ کے جاننے والے ہوتے ہیں، جیسے کہ پڑوسی، جاننے والے، یا خاندان کے افراد۔ یہ شناخت اور کارروائی کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، کیونکہ متاثرین کو شکایات درج کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات اصل اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ بہت سے واقعات سماجی بدنامی اور ثقافتی دباؤ کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “اہل خانہ سماجی بدنامی کے خوف کی وجہ سے اکثر ایسے واقعات کی رپورٹ نہیں کرتے اور متاثرین بعض اوقات خوف یا دباؤ کی وجہ سے خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ خاموشی مسئلہ کو مزید بڑھا دیتی ہے اور اس کے حل میں رکاوٹ بنتی ہے۔” رپورٹ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سماجی اور ادارہ جاتی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی کنسرٹ ڈرگ اوور ڈوز کیس : ملزم کو عدالت میں کیا گیا پیش اور اب پولیس کی تحویل میں

Published

on

منشیات کی زیادہ مقدار کے معاملے میں ایک اہم تازہ کاری سامنے آئی ہے جو ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی کے گوریگاؤں ایسٹ میں نیسکو کمپلیکس میں ایک لائیو کنسرٹ کے دوران سامنے آیا۔ اس سنسنی خیز معاملے میں گرفتار تمام چھ ملزمان کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل مانگی ہے۔ ونرائی پولیس نے مرکزی منتظم آکاش سمل عرف ویہان کے ساتھ ونود جین، پراتک پانڈے، آنند پٹیل، راونک کھنڈیلوال اور بال کرشنا کوروپ کو عدالت میں پیش کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک اوور ڈوز کے واقعے تک محدود نہیں ہے، بلکہ منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک پر شبہ ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اتنی بڑی مقدار میں منشیات کنسرٹ جیسے بڑے ایونٹ تک کیسے پہنچی اور اس میں کون کون ملوث تھے۔ تفتیشی ایجنسیاں اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہیں کہ آیا یہ کسی منظم گینگ کا کام ہے۔ پولیس حکام کے مطابق کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تفتیش تیز کردی گئی ہے، آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ اس وقت عدالتی سماعت جاری ہے، اور سب کی نظریں عدالت کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک دو طالب علم جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس واقعے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس کے مطابق 11 اپریل کو گوریگاؤں کے نیسکو گراؤنڈز میں منعقدہ ایک کنسرٹ میں کالج کے کئی طلباء نے شرکت کی۔ کنسرٹ کے دوران، کچھ طالب علموں نے منشیات کا استعمال کیا ہو سکتا ہے. تاہم یہ ممکنہ طور پر فرانزک رپورٹ کے بعد واضح ہو سکے گا۔ پیر کو تقریباً 12 بجے، طالب علموں کو سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے قریبی ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا۔ دو طالب علم دوران علاج دم توڑ گئے۔

Continue Reading

جرم

گوریگاؤں منشیات کیس : پولیس نے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا، اب تک سات گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی کے گوریگاؤں میں نیسکو سینٹر میں لائیو کنسرٹ کے دوران دو طالب علموں کی منشیات کی زیادتی سے موت کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پولیس مسلسل نئے انکشافات کر رہی ہے۔ ونرائی پولیس نے اس معاملے میں ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی اب تک کل سات افراد کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔ یہ ساتواں مشتبہ مبینہ طور پر منشیات کی سپلائی کرنے والے ایک سنڈیکیٹ سے وابستہ ہے اور وہ بڑی تقریبات اور لائیو کنسرٹس میں منشیات کی فراہمی کا ذمہ دار تھا۔ پولیس اب بھی مرکزی ملزم کی تلاش میں ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ گینگ انتہائی منصوبہ بند طریقے سے کام کرتا تھا۔ منشیات کو پہلے بیرونی علاقوں سے ممبئی لایا جاتا تھا اور پھر مختلف ذرائع سے کنسرٹس اور پارٹیوں جیسے بڑے پروگراموں میں پہنچایا جاتا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کلیان سے ممبئی تک قلیوں کے ذریعے منشیات لے جایا جاتا تھا اور پھر طلباء اور نوجوانوں کو فروخت کیا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق 10 اپریل کو نیسکو سینٹر میں ہونے والے کنسرٹ سے صرف ایک روز قبل ایم ڈی ایم اے کی ادویات سپلائی کی گئیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ دو طالب علموں کی موت اس دوا کی زیادہ مقدار لینے سے ہوئی ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے کنسرٹ میں موجود افراد سے بھی تفتیش شروع کردی ہے۔ کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی تقریب میں منشیات کیسے پہنچی اور سیکورٹی میں کوتاہی کہاں ہوئی۔ ونرائی پولیس نے بدھ کی رات دیر گئے اس نئے ملزم کو گرفتار کیا اور جمعرات کو اسے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پورا نیٹ ورک کافی بڑا ہے اور اس میں مزید لوگ ملوث ہو سکتے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان