Connect with us
Wednesday,16-September-2026

مہاراشٹر

مکیش امبانی اور ان کے کنبے کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے والا بہار سے گرفتار

Published

on

Mukesh Ambani and his family

مشہور صنعتکار مکیش امبانی اور ان کے کنبے کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ اس معاملے میں بہار کے دربھنگہ ضلع سے ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جس موبائل فون سے دھمکی دی گئی تھی اسے بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بدھ کو ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر میں ایک نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کال موصول ہوئی تھی، اور اننت امبانی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اس معاملے میں ممبئی میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی تھی۔

معلومات کے مطابق، جمعرات کو ممبئی پولیس نے دربھنگہ کے منگاچی تھانہ علاقے کے برہم پورہ گاؤں میں چھاپہ مارا۔ پولیس نے برہما پورہ گاؤں کے رہنے والے راکیش کمار مشرا کو مکیش امبانی اور ان کےکنبے کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ پورے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایس پی آکاش کمار نے کہا کہ ممبئی پولیس راکیش کمار مشرا کو اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ پولیس اس پورے واقعہ میں راکیش سے پوچھ گچھ کرے گی۔ برہم پورہ میں پولیس کی اچانک آمد سے گاؤں والے بھی حیران رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ بعد میں ساری بات معلوم ہوئی۔

اس سے قبل پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ جس موبائل فون نمبر سے آر آئی ایل کے چیئرمین اور ایم ڈی مکیش امبانی اور ان کے اہل خانہ کو دھمکی دی گئی ہے اس کی شناخت کر لی گئی ہے۔ پولیس نے بدھ کو ہی بتا دیا تھا کہ فون کال مہاراشٹر کے باہر سے کی گئی ہے۔ فون کال کو ٹریس کرنے کے بعد بہار کے دربھنگہ ضلع سے ایک گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ بدھ کو 12:57 پر سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن ہسپتال کے لینڈ لائن نمبر پر کال کرکے دھمکی دی گئی تھی۔ یہ اطلاع فوری طور پر ممبئی پولیس کو دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آگئی اور کال کی تفصیلات کی بنیاد پر کال کرنے والے کو ٹریس کر لیا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اقلیتی نوجوانوں کے لیے ‘انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کا قیام،بھیونڈی ایسٹ سے رئیس شیخ کا مطالبہ

Published

on

Rais-Shaikh

ممبئی بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ریاست کے چھ ریونیو ڈویژنوں میں ‘اقلیتی انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اقلیتی آبادی کے بڑے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتی نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد دی جا سکے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے اقلیتی ترقی، سنیتر پوار کو ایک خط لکھا ہے۔اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ اقلیتیں ریاست کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں، جن میں مسلم برادری کا حصہ 11.54 فیصد ہے۔ غربت کی وجہ سے دسویں اور بارہویں جماعت کی سطح پر مسلم طلبہ میں اسکول چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ) کی شرح 30 فیصد ہے۔ بمشکل 10 فیصد مسلم نوجوان ہی اعلیٰ تعلیم کے مرحلے تک پہنچ پاتے ہیں۔ تعلیمی دھارے سے باہر ہونے والے ان طلبہ کو ہنر مندی کی تربیت اور کاروبار کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جہاں ‘بارٹی’ (بارٹی)، ‘مہاجیوتی’ (مہاجوتی) اور ‘سارتھی’ (سارتھی) جیسے تحقیقی اور تربیتی ادارے دیگر برادریوں کے نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروبار سے متعلق تربیت اور مواقع فراہم کرتے ہیں، وہیں اقلیتی برادری کے لیے مختص ادارہ ‘مارٹی’ (مارٹی) مناسب فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ کی تربیت کے حوالے سے اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مولانا آزاد مائنارٹیز فنانشل ڈیولپمنٹ کارپوریشن’ ان مراکز کے ساتھ شراکت داری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کارپوریشن قرض کی اسکیموں کو مربوط کرنے، مالی امداد فراہم کرنے، اور پروجیکٹ رپورٹس کی تیاری اور جانچ پڑتال جیسے امور سنبھال سکتی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سنیتر پوار کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اگر ایسے مراکز قائم کیے جاتے ہیں تو ہر ریونیو ڈویژن میں سالانہ 1,000 سے زائد نوجوان مرد و خواتین اپنے مائیکرو اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی آزاد میدان مراٹھا ریزرویشن منوج جارنگے پاٹل سے احتجاج سے متعلق تفصیلات طلب، پولیس کی جانب سے ضروری تفصیلات بتانے کی ہدایت

Published

on

ممبئی: آزاد میدان پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی ہے اس سے قبل دو مرتبہ مراٹھا مورچہ کی عرضی کو پولیس نے یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ گنیش اتسو کے دوران بھیڑ بھاڑاور نظم ونسق کا مسئلہ کے سبب انہیں اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ایسے میں اب مراٹھا مورچہ نے ایک مرتبہ پھر اجازت طلب کی ہے جس کے جواب میں ممبئی پولیس آزاد میدان نے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی ہیں اتنا ہی نہیں اس میں یہ بھی وضاحت طلب کی گئی ہے کہ آیا ممبئی میں بھوک ہڑتال کے دوران منوج جارنگے پاٹل مہاراشٹر بھر میں مظاہرین کو ممبئی آمد پر مدعو یا اس قسم کی اپیل تو نہیں کریں گے کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ایسی اپیل میڈیا میں کی تھی اس کے ساتھ ہی مظاہرہ میں کتنے مظاہرین شامل رہیں اور کتنے رضا کار شرکت کر رہے ہیں اس کے علاوہ مظاہرہ کے دوران کتنی گاڑیاں ممبئی میں لائی جائے گی اس قسم کی تمام تفصیلات اب پولیس نے طلب کی ہیں تاکہ ممبئی میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران نظم و نسق کے قیام میں پولیس کو مدد ملے۔ ممبئی پولیس نے اس سے قبل منوج جارنگے پاٹل کی دو مرتبہ عرضیاں خارج کر دی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مراٹھا ریزروریشن منوج جارنگے پاٹل کو آزاد میدان میں احتجاج کی اجازت نہیں

Published

on

Manoj-Jarange

ممبئی: مراٹھا ریزرویشن کیلئے منوج جارنگے کی بھوک ہڑتال 18 ویں دن میں داخل ہوچکی ہے اور وہ ممبئی کیلئے اپنے قافلہ کے ساتھ کوچ کر رہے ہیں لیکن ممبئی پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور ان کی درخواست کو مسترد کر دی ہے۔ مراٹھا مورچہ نے بھوک ہڑتال کیلئے ممبئی کے آزاد میدان میں اجازت طلب کی تھی اور 19 ستمبر سے یہ غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع ہوگی اس لئے منوج جارنگے پاٹل اپنے قافلہ کے ساتھ ممبئی کیلئے کوچ کر چکے ہیں لیکن پولیس نے بھوک ہڑتال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اجازت نامہ سے انکار اور درخواست مسترد کر نے کی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے کہا کہ 2025 ء میں بھی مراٹھا سماج نے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد آزاد میدان میں کیا تھا اور اجازت نامہ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود بھی احتجاج کو جاری رکھا تھا اور احتجاج کے دوران کے ممبئی کے شہریوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اتنا ہی نہیں اس احتجاج کے سبب عام شہری زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی ٹریفک اور نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا احتجاج کے دوران آزاد میدان کے علاقے میں 13 ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی احتجاج کے دوران اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

منوج جارنگے پاٹل کی عرضی مسترد کر تے ہوئے پولیس نے کہا ہے کہ چونکہ یہاں ممبئی میں 14 ستمبر سے 26ستمبر تک گنیش اتسو جاری ہے ایسے میں یہاں بھکتوں کی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے اور مراٹھا ریزرویشن کے مورچہ میں بھی بھیڑ جمع ہوگی اس لئے شہری نظام متاثر ہونے کے اندیشہ ہے اس کے ساتھ ہی بھیڑ بھاڑ کے دوران نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہونے کے ساتھ شہریوں کو دشواری ہوگی اس لئے منوج جارنگے پاٹل کی عرضی کو پولیس نے ان بنیادوں پر خارج کر دی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کی جو مظاہرین کی تعدادہے وہ پانچ ہزار ہے اور میدان میں لاکھوں کروڑوں مظاہرین کو مدعو کیا گیا ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ ہونے کا خطرہ ہے اس کے ساتھ ٹریفک نظام بھی متاثر ہوگا۔ممبئی پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کو اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے اس کے باوجود منوج جارنگے پاٹل اپنے موقف پر اٹل ہے وہ اپنے قافلہ کے ساتھ جالنہ سے روانہ ہوچکے ہیں جبکہ پولیس نے ممبئی میں احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان