سیاست
مہا وکاس آگھاڑی کے ذمہ داران نے کانگریس کو راضی کر لیا
(محمد یوسف رانا)
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی قانون ساز کونسل کی رکنیت کے تمام راستے آسان ہوگئے ہیں۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے صرف ایک ہی امیدوار دیے جانے کے فیصلے سے مہا وکاس آگھاڑی میں خوشی کا ماحول دیکھا جا رہا ہے قانون ساز کونسل کی۹؍ نشستوں کے لئے بی جےپی کی جانب سے ۴؍ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اسکے بعد شیوسینا نے اپنے۲؍ امیدوار اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی کی جانب سے بھی دو امیدوار دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا چونکہ مہا وکاس آگھاڑی میں کانگریس پارٹی کے۴۴؍ اراکین اسمبلی ہیں اسی لے اسے امیدوار پر ہی اکتفا کرناپڑے گا اس تعلق سے شیوسینا کے ذمہ داران اور شردپوار کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے فوراً بعد کانگریس ہائی کمان سونیا گاندھی کے روبرو پیش کیا گیا جسے سونیا گاندھی نے قبول کیا۔ مگر اس اعلان کے فوراً بعد ہی مہاراشٹر کانگریس کے صدر بالا صاحب تھورات نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ پر دو امیدواروں کا اعلان کردیا جس میں راجیش راٹھور اور راج کشورمودی کے نام سامنے آیا ۔اس کے بعد انتخاب بلا مقابلہ ہونے پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ وہیں دوسری جانب آج ریاست کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کانگریس کی جانب سے دو امیدوار دیے جانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر کانگریس پارٹی دو امیدوار دیتی ہے تو میں الیکشن نہیں لڑوں گاکیونکہ مجھے ایم ایل اے بننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ وزیر اعلی کے اس بیان کے بعد مہا وکاس آگھاڑی میں ہلچل مچ گئی فوراً ہی ذمہ داروں نے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے ہوئے انتخاب کو بلا مقابلہ کرانے کی کوشش میں لگ گئے۔ آناً فاناً ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کانگریس پارٹی اپنا صرف ایک ہی امیدوار کھڑا کرے گی۔ کانگریس کو شیوسینا کے دباؤ کا سامنا کرنے کے تصدیق کے چند ہی گھنٹوں بعد پارٹی نے شیوسینا کے اس مطالبے پر کہ کانگریس کو آئندہ مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لئے صرف ایک امیدوار کھڑا کرنا ہے۔ عمل کرتے ہوئے کانگریس نے صرف ایک ہی امیدوار کھڑاکیا جس کے بعد سی ایم ادھو ٹھاکرے بلا مقابلہ کونسل میں منتخب ہونے کے تمام راستے کھل گئے اس کی تصدیق ریاستی کانگریس کے سربراہ بالاصاحب تھوراٹ نے کی ہے۔
واضح رہے کہ راشٹر وادی کانگریس پارٹی کی جانب سے ششی کانت شندے اور امول مٹکری کو امیدواری دی گئی ہے جبکہ شیوسینا کی جانب سے ادھوٹھاکرے اور نیلم گورے کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے پروین دتکے، گوپی چند پچلکر اور اجیت گوپ چھڑے، رنجیت سنگھ موہتے پاٹل کے نام شامل ہیں۔ کانگریس کی جانب سے یہ طے ہے کہ ایک امیدوار دیا جائے مگر راجیش راٹھوڑ اور راج کشور مودی میں کس کے نام کا قرعہ نکلتا ہے اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔
اس قانون ساز کونسل الیکشن میں امید کی جا رہی تھی کہ ۹؍امیدواروں میں سے کم از کم دو امیدوار مسلم دیے جائیں گے۔ جن میں کانگریس کی جانب سے سابق وزیر عارف نسیم خان اور مظفر حسین کے نام کافی دنوں سے زیر بحث تھے مگر عین وقت پر کانگریس نے مسلم نمائندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے جالنہ کے راجیش راٹھوڑ کا نام سونیا گاندھی کی جانب سے پیش کیا گیا۔ وہیں راشٹر وادی کانگریس کی جانب سے کئی ایسے مسلم چہرے تھے جنہیں امیدواری دی جاسکتی تھی ان میں سب سے اہم نام ابراہیم بھائی جان کا تھا جو گزشتہ کئی برسوں شرد پوار اورراشٹر وادی کانگریس پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : اشوک کھرت کیس نے ریاست بھر میں ہلچل مچا دی، پرتیبھا چاکنکر بھی دائرہ تفتیش میں، نت نئے انکشافات

ممبئی : ڈھونگی بابااشوک کھرت کیس ریاست بھر میں بہت مشہور ہےمتاثرہ خاتون نے ناسک کے ایک دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف تشدد کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ اس دوران ایک ایک کر کے اس کے کارنامے سامنے آنے لگے ہیں۔ اس سے بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اب تک اس کے خلاف خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ اس معاملے میں ایک ایس آئی ٹی کا تقرر کیا گیا ہے، اور ایس آئی ٹی اس سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاملے میں روپالی چاکنکر کی بہن پرتیبھا چاکنکر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کو نوٹس بھیجا ہے۔ شرڈی پولس نے دھوکہ باز اشوک کھرات کے معاملے میں پرتیبھا چاکنکر کو آج نوٹس جاری کیا ہے۔ دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف شرڈی میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ جب اس معاملے کی تفتیش جاری تھی، پولیس کو چونکا دینے والی معلومات ملی۔ سمتا پتسنتھا میں کئی اکاؤنٹس ہیں، جو مختلف لوگوں کے نام پر ہیں، لیکن نامزد خود اشوک کھرات ہیں۔ ان کھاتوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی لین دین کی گئی ہے۔ پرتیبھا چاکنکر اور ان کے بیٹے کے بھی سمتا پتسنتھا میں چار کھاتے ہیں۔ ان تمام کھاتہ داروں کے بیانات لینے کا کام جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک 33 کھاتہ داروں نے اپنے بیانات درج کرائے ہیں پرتیبھا چاکنکر کو اب اپنا بیان دینے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کے دو پتوں پر ڈاک کے ذریعے نوٹس بھیجے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے حاضر ہوں۔ اس لیے اب پرتیبھا چاکنکر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اس دوران اشوک کھرات کے ساتھ فوٹو سامنے آنے سے ریاست میں کچھ لیڈروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
بزنس
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

ممبئی: خام تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ہوا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے باوجود، سرمایہ کار سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں سپلائی میں رکاوٹ کے امکان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 1.13 فیصد اضافے کے ساتھ 97.01 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 1.39 فیصد اضافے کے ساتھ 99.24 ڈالر فی بیرل پر تجارت کر رہا ہے۔ گزشتہ بدھ کو تیل کی قیمت تقریباً 20 فیصد گر گئی، جو کہ 28 فروری سے اس سطح کے آس پاس رہنے کے بعد، $100 فی بیرل سے نیچے گر گئی۔ ہندوستان میں ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر 20 اپریل کی ڈیلیوری کے لیے خام تیل کا مستقبل صبح 11:07 بجے کے قریب 2.43 فیصد بڑھ کر 9,150 روپے فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ ایران جنگ بندی پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور اسرائیل لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے سے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے جنگ بندی کی شرائط پر مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر فوجی ردعمل سامنے آسکتا ہے، حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا جس کے لیے امریکی فوج تیار ہے۔ جمعرات کو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی سرگرمیاں معمول کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم پر چل رہی تھیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہوا۔ مستقبل کی صورت حال کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں قریبی مدت میں بلند رہ سکتی ہیں لیکن اگر جغرافیائی سیاسی تناؤ کم ہوا تو وہ بتدریج مستحکم ہو سکتی ہیں۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
