Connect with us
Thursday,17-September-2026

(جنرل (عام

اردو زبان کے مستقبل سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں : پروفیسر ابن کنول

Published

on

One-day-national-seminar

ہمیں اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بس ہمیں اپنے طور پر لوگوں کو اردو پڑھنے کی جانب راغب کرنا چاہیے اردو اخبار، اردو رسالے اور کتابیں خریدنے اور پڑھنے کی طرف نئی نسل کو راغب کرنا چاہیے، کیونکہ اگر پڑھنے والے نہیں رہے، تو ہمارا عظیم سرمایہ جو کتابی صورت میں موجود ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ پائے گی ان خیالات کا اظہار ہلی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر ابن کنول نے ’مغربی بنگال میں اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال-مسائل اور امکانات‘ کے موضوع پر یک روزہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مغربی بنگال کے ضلع مالدہ کے کالیا چک کالج میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا۔

کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نجیب الرحمن نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوششوں سے تین برس قبل ہی کالج میں شعبہئ اردو کا قیام عمل میں آیا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی یہاں جنرل کورس کے ساتھ ساتھ آنرس کورس بھی شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

سیمینار کے افتتاحی جلسے میں کالج کی ملحقہ یونیورسٹی گوروبنگا یونیورسٹی کے مدیر امتحانات نے وائس چانسلر کی نیابت میں شرکت کی، اور کئی اہم امور کی جانب توجہ دلائی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی تمام تر ضرورتوں کو مدنظر رکھیں گے، اور جلد ہی بی اے آنرس ان اردو کے لیے راہیں ہموار کی جائیں گی۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عمر غزالی نے کہا کہ مغربی بنگال میں اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال دوسری ریاستوں سے قدرے بہتر ضرورت ہے۔ تاہم ہم سب کو مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں اچھے ڈھنگ سے ادا کرنی چاہیے۔ ہم تمام تر ذمہ داریاں حکومتوں کے سر نہیں ڈال سکتے۔ اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دینا اور دلانا ہماری اپنی ذمہ داری ہے اور اپنی ضرورتوں سے متعلق حکومت کو آگاہ کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ پہلے تکنیکی اجلاس میں کل آٹھ مقالے پیش کیے جس میں مغربی بنگال کے اسکولوں کی صورت حال اور ان کی ضرورتوں اور مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

مقالہ نگاروں نے اردو اسکولوں، اردو نصاب، اردو ٹیچرس ٹریننگ کالجوں کے سلسلے میں تفصیل سے گفتگو کی۔ اس سیشن میں ڈاکٹر تسلیم عارف، ڈاکٹر رضی شہاب، ڈاکٹر عبدالواحد مخلص، خالد محمد زبیر (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ فارسی، مولانا آزاد کالج کولکاتہ) طارق عزیز، نورالہدی وغیرہ نے اپنے مقالے پیش کیے۔

ڈاکٹر عزیر احمد نے اس سیشن کی نظامت کی اور دوران گفتگو کئی اہم مسئلوں کی جانب توجہ دلائی۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے سیمینار کا ایک سیشن آن لائن بھی رکھا گیا تھا، جس میں کئی اہم مقالہ نگاروں نے شرکت کی۔

پروفیسر فاروق انصاری نے مقالہ پیش کرتے ہوئے اردو اسکولوں کی قومی سطح پر موجودہ صورت حال اور مسائل کی تفصیل پیش کی۔ انہوں نے آج کے حالات میں اردو اساتذہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے اس لیے ان کو اپنی ذمے داریوں کو پورے طور پر ادا کرنا چاہئے۔پروفیسرمحمد کاظم، شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی نے اپنے خطاب مغربی بنگال کے اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ میں نے خود مغربی بنگال کے اردو میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ یہاں پر اردو میڈیم اسکولوں کی حالت ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ اس اجلاس میں چند غیر ملکی مقالہ نگاروں نے بھی شرکت کی۔

محمد صابر گودڑ سابق صدر مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ موریشس نے موریشس کے اسکولوں میں اردو کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی برسوں سے موریشس میں اردو کے بجائے عربی کے انتخاب کارجحان بڑھا ہے جس وجہ سے اردو کی تعلیم پر فرق آیا ہے۔

عین شمس یونیورسٹی قاہرہ سے تعلق رکھنے والی ولا جمال العسیلی نے مصر میں اردو کی تعلیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے بعد اردو کا سب سے بڑا مرکز مصر بن گیا ہے۔ یہاں کی مادری زبان اردو نہ ہوتے ہوئے بھی لوگ اردو سیکھنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فرزانہ لطفی، اسسٹنٹ پروفیسر تہران یونیورسٹی ایران نے ایران میں اردو تعلیم کی صورت حال پر روشنی ڈالی۔ تمنا نسیم اور ڈاکٹر محمد شہنواز عالم نے بھی اس آن لائن نشست میں اپنے مقالے پیش کیے۔

اجلاس کی نظامت ڈاکٹر رضی شہاب نے کی جب کہ شکریے کی رسم پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر مجتبیٰ جمال نے ادا کی۔ اجلاس میں کووڈ سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر کو دھیان میں رکھ کر طلبہ، اساتذہ اور مہمانان نے شرکت کی۔ سیمینار کو آف لائن کے ساتھ ساتھ گوگل میٹ پرآن لائن موڈ میں نشر کیا گیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کر کے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گوا سے گرفتار، ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

Published

on

chori

ممبئی : ممبئی سائبر دھوکہ بازوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کے بعد اب مزید ۷ سائبر دھوکہ بازوں کو گوا سے گرفتار کرنے کا دعویٰ ممبئی کرائم برانچ نے کیا ہے۔ اس سے قبل تین ملزمین کو اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش میں پیش رفت پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ۱۱ ستمبر کو ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ 5 کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات سے سائبر دھوکہ دہی کرنے والے 03 افراد کے خلاف کارررائی کرتے ہوئے دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 66(ڈ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی, اس میں پیش رفت کے بعد یونٹ پانچ نے مزید کارروائی کی۔ مذکورہ ملزمین خود نیز اپنے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدی کرتے تھے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کے پاس سے مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، 143 چیک بک، 100 اے ٹی ایم کارڈ، 24 موبائل، 167 سم کارڈ، 2 لیپ ٹاپ ضبط کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمے کی مزید تفتیش میں تکنیکی تجزیہ اور اے آئی کی بنیاد پرریاست گوا سے ۱۳ ستمبر کو ریزورٹ میں ایک ویلا سے سائبر دھوکہ دہی آپریٹ کرنے والے 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے 1) مختلف کمپنیوں کے 59 موبائل فون، 2) مختلف کمپنیوں کے کل 19 سم کارڈ، 3) 09 لیپ ٹاپ، 4) 51 اے ٹی ایم، 5) 12 پاس بک اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان نے مالی دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے خود کی ایپلی کیشن بنا کر اس کا استعمال کیا ہے اس کا انکشاف ہوا ہے۔

مذکورہ ملزمان کی عدالت نے ۲۴ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر (جرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل کمشنر (جرائم) کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی، راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی کا یو سی سی پر حکومت سے سوال، شریعت کے خلاف کوئی قانون قابل قبول نہیں۔

Published

on

Arshad-Madni

نئی دہلی : مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس مبینہ بیان پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ 2029 سے پہلے این ڈی اے کی حکومت والی تمام 21 ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کیا جائے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک آئین کے تحت چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی ایجنڈے کے تحت؟ انہوں نے یو سی سی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق میں مداخلت قرار دیا۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ملک کے سیکولر آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے یونیفارم سیول کوڈ کے خلاف اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کیس میں اب تک چھ سماعتیں ہو چکی ہیں اور جمعیت کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل اور دیگر وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنظیم کو انصاف ملے گا۔

جمعیت کے صدر نے کہا کہ مسلمان شریعت کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی قانون کو قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک مسلمان ہر چیز پر سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنے مذہب اور ایمان پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول یہ سوال مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ مسلم عائلی قوانین قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آئینی دفعات کے تحت درج فہرست قبائل کو یو سی سی سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مسلمانوں کو دی گئی مذہبی آزادی کا احترام کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ان لوگوں کے لیے متبادل سول قوانین پہلے سے موجود ہیں جو کسی مذہبی پرسنل لاء کے تحت اپنے معاملات کو نہیں چلانا چاہتے۔ اس کے نتیجے میں، انہوں نے ایک لازمی یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔

جمعیت کے صدر نے حکومت کے ’ایک ملک، ایک قانون‘ اور ’ایک گھر میں دو قانون نہیں ہو سکتے‘ جیسے نعروں پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا قانونی فریم ورک بہت سے معاملات میں مختلف ریاستوں میں مختلف قوانین اور خصوصی دفعات کی اجازت دیتا ہے۔ ملک بھر میں گائے کے ذبیحہ سے متعلق قوانین میں بھی یکسانیت نہیں ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے اور پورے ملک میں اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یو سی سی کے نفاذ کا مقصد شہریوں کی مذہبی آزادی کو روکنا اور ان کے آئینی حقوق کو محدود کرنا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

گروگرام ہٹ اینڈ رن معاملہ : کار ڈرائیور، کزن دو دن کی پولیس حراست میں

Published

on

گروگرام کی ایک عدالت نے بدھ کو گولف کورس روڈ پر ایک خاتون بائیکر کو ٹکر مارنے کے ملزم ڈرائیور کلیان بینسلا اور اس کے کزن کو ہٹ اینڈ رن کیس کے سلسلے میں دو دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ بینسلا اور اس کے کزن لاونیش کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم آئی سی) کے روبرو پیش کیا گیا جو کہ ملزمین کو بیوالنی پولیس کی تحویل میں دے گا۔ 18 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ گروگرام پولیس نے واقعہ کے سلسلے میں راجستھان کے دوسہ سے بنسلا اور ہریانہ کے پلوال سے لاونیش کو گرفتار کرنے کے ایک دن بعد یہ پیشرفت ہوئی۔ واقعہ کے وقت لاونیش مبینہ طور پر بنسلا کے ساتھ کار میں موجود تھا۔ گروگرام پولیس نے قبل ازیں قتل کی کوشش سے متعلق بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109 کو ایف آئی آر میں شامل کیا تھا جس کے بعد متاثرہ، سیا اور اس کے اہل خانہ نے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی درخواست کی تھی۔ گولف کورس روڈ پر بائیکر۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی تحقیقات اور تجزیہ کے بعد، پولیس نے قتل کی کوشش کا الزام شامل کیا، جس میں 10 سال تک کی سزا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب سیا کے اہل خانہ نے گروگرام کے سیکٹر-56 پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر، انسپکٹر منوج کمار کو اپنا تحریری بیان پیش کیا۔ پولیس تفتیش کے حصے کے طور پر اس کا تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کر رہی ہے۔

گروگرام پولیس نے برقرار رکھا ہے کہ لاقانونیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی دوران سیا نے بدھ کے روز کار میں سوار چاروں افراد کو سخت سزا دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حفاظت کے حوالے سے معاشرے کو صحیح پیغام بھیجنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، سیا نے کہا کہ انہیں عدالت سے “بڑی توقعات” ہیں اور وہ اس کیس میں انصاف چاہتی ہیں۔ “میں نے کل عدالت میں کہا تھا کہ کار میں سوار چاروں افراد کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور ان سب کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ میری رائے میں، انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا چاہیے؛ ایسے نوجوانوں کو پیغام دینے کا یہی واحد طریقہ ہے- تاکہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں سوچے،” انہوں نے کہا۔

ملزم کے مبینہ دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ بیت الخلا استعمال کرنے میں جلدی میں تھا، سیا نے کہا کہ یہ وضاحت “قابل نفرت” ہے، یہ کہتے ہوئے کہ پورا واقعہ ویڈیو پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس کی موٹر سائیکل پر موجود ڈیش کیم نے اس واقعے کو ریکارڈ نہ کیا ہوتا تو وہ “شاید یہ بھی ثابت نہیں کر پاتی کہ کیا ہوا”۔ انہوں نے کہا، “بہت سی خواتین، جو شاید کام پر جا رہی ہوں، اس قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے پاس کیمرے نہیں ہوتے ہیں، اور اکثر اس طرح کے معاملات درج بھی نہیں ہوتے ہیں۔” انہوں نے کہا۔ سیا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کار میں سوار چاروں افراد کو کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے، یہ کہتے ہوئے: “چاروں کو سزا ملنی چاہیے؛ تب ہی ہم اپنے معاشرے کے لیے ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان