Connect with us
Friday,25-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

تاڑدیو-ممبئی سنٹرل اسٹیشن کو جوڑنے والے بیلاسیس فلائی اوور کا کام مکمل… اس منصوبے کو مقررہ تاریخ سے پہلے ممکن بنایا گیا، عوام کو راحت

Published

on

ممبئی : تاڑدیو – ممبئی سنٹرل اسٹیشن و ناگپاڑہ کو جوڑنے والے بیلاسیس فلائی اوور کا آخری کام ریکارڈ وقت یعنی صرف 15 ماہ اور 6 دن میں مکمل کیا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹینڈر کی شرائط و ضوابط کے مطابق اس فلائی اوور کے کام کے لیے ابھی 4 ماہ کا وقفہ باقی ہے۔ اس پل کی تعمیر کا ورک آرڈر ستمبر 2024 میں دیا گیا تھا۔ جبکہ اصل کام یکم اکتوبر 2024 کو شروع ہوا تھا۔ ریلوے ٹریکس پر کام محکمہ ریلوے نے مکمل کیا تھا، جبکہ گرڈر بریسنگ، ڈیک شیٹ، سلیب کاسٹنگ اور دونوں رسائی سڑکوں کا کام میونسپل کارپوریشن نے مکمل کیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن برج ڈپارٹمنٹ، محکمہ ریلوے، متعلقہ مقامی انتظامی محکمہ کے دفتر (وارڈ آفس) اور ٹریفک پولیس کے درمیان بہترین تال میل، منصوبہ بند کام اور چوبیس گھنٹے کی کوششوں نے اس فلائی اوور کے منصوبے کو مقررہ تاریخ سے پہلے کامیابی سے مکمل کرنا ممکن بنایا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر بھوشن گگرانی کی رہنمائی میں اہم انفراسٹرکچر اور مختلف پروجیکٹ میونسپل کارپوریشن کے برج ڈپارٹمنٹ کے ذریعے شروع کیے گئے ہیں۔ ممبئی کے شہریوں کے اپنے سفر کی طولت کو یہ پل کم کرے گا مختلف جگہوں پر فلائی اوور بنانے، ریلوے پٹریوں پر گرڈر لگا کر پلوں کی تعمیر اور سڑکوں کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے سیمنٹ کنکریٹ کی سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبے شامل ہیں۔ اس سلسلے میں 130 سال پرانے برطانوی دور کے بیلاسیس پل کو گرا کر دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ممبئی سنٹرل اسٹیشن کے قریب ریلوے لائن پر برطانوی دور کے بیلاسی فلائی اوور کو خطرناک قرار دیے جانے کے بعد میونسپل کارپوریشن نے اس کی تعمیر نو کا کام شروع کیا۔ میونسپل کارپوریشن برج ڈپارٹمنٹ اور محکمہ ریلوے کے انجینئر پہلے دن سے ہی پل کا کام ریکارڈ وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے لیے پورے کام کو تقسیم کیا گیا اور باریک بینی سے منصوبہ بندی کی گئی۔ کام کی ذیلی سرگرمی کی مدت مقرر تھی۔ نیز، انجینئرز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی بھی حالت میں وقت کی حد پر عمل کیا جائے گا۔ اس کوشش میں مقامی انتظامی محکمہ کے دفتر اور ٹریفک پولیس افسران کا قابل قدر تعاون حاصل ہوا۔


بیلاسیس پل کی کل لمبائی 333 میٹر ہے۔ ان میں سے 138.39 میٹر مشرق میں اور 157.39 میٹر مغرب میں ہیں۔ جبکہ ریلوے لائن 36.90 میٹر لمبی ہے۔ کیریج وے کی لمبائی 7 میٹر ہے اور پل کو دونوں طرف کافی چوڑائی کے فٹ پاتھ کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پل کی تکمیل چیلنجنگ تھی۔ کام پر عملدرآمد کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں ‘بہترین’ جہازوں کی منتقلی، پل کی تعمیر میں رکاوٹ بننے والی 13 تعمیرات کو ہٹانا اور متبادل مکانات مختص کرنا، پل کے قریب ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی باؤنڈری وال کو ہٹانا، ہائی کورٹ کے سامنے ایک کیس وغیرہ شامل ہیں، ان پر قابو پاتے ہوئے تمام انجینئرز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کام میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ تمام کام منصوبہ بندی کے ساتھ طے پائے تھے اس لیے مون سون کے 4 ماہ میں بھی یہ کام بلا تعطل جاری رہا۔ جس کی وجہ سے بیلاسیس پل کی تعمیر مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لی گئی ہے،جنوبی ممبئی میں جہانگیر بومن بہرام مارگ (سابقہ ​​بیلاسیس روڈ) پر واقع بیلاسیس پل ممبئی سینٹرل، ناگپاڈا اور تادیو کو ریلوے کے ذریعے مشرق۔مغرب سے جوڑنے والا ایک اہم لنک ہے۔ بیلاسیس پل کی تعمیر نو سے مشرقی مغربی ٹریفک کی وہ سہولت بحال ہو جائے گی جو دو سال سے درہم برہم ہے۔ بیلاسیس برج کے کام کرنے کے بعد، یہ جہانگیر بومن بہرام مارگ (سابقہ ​​بیلاسیس روڈ)، دادا صاحب بھڈکمکر مارگ (گرانٹ روڈ) پر ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد کرے گا، خاص طور پر پٹھے باپورا مارگ اور مہالکشمی استھانک برج پر۔


ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر نے کہا کہ اگر میونسپل کارپوریشن کے پروجیکٹ پر عمل آوری کا طریقہ کار سخت منصوبہ بندی اور یکساں نظم و ضبط کے ساتھ اس پراجیکٹ کو نافذ کرے تو مختلف چیلنجوں کے باوجود ڈیڈ لائن سے پہلے ہی ترقیاتی کام کامیابی سے مکمل کیے جاسکتے ہیں جیسا کہ بیلاسیس فلائی اوور پروجیکٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کام اس مثبت سوچ کے ساتھ کیا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شہریوں کو کم سے کم تکلیف نہ ہو، اگر ان کاموں کو جلد اور معیاری طریقے سے مکمل کیا جائے تو اس کے ثمرات زیادہ سے زیادہ شہریوں تک بروقت پہنچ سکتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے تمام محکمے اس طریقے سے بنیادی ڈھانچے کے کاموں کو مکمل کرنے میں مستعد رہیں گے۔ بیلاسیس پل کا حتمی کام 6 جنوری 2026 کو مکمل ہوا۔ لوڈ ٹیسٹ، سٹرکچرل سٹیبلٹی سرٹیفکیٹ، اور سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پل کو چلانے کے لیے محکمہ ریلوے سے کوئی اعتراض نہیں سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کے بعد، بیلاسیس پل کو ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا،

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان