Connect with us
Monday,05-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں دستاویزات فراہم نہ کرنے پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی سرزنش کی۔

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے پوچھا کہ کیا منی لانڈرنگ کیس میں ملزمان کو دستاویزات دینے سے انکار کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ عدالت نے مرکزی ایجنسی سے یہ بھی پوچھا کہ کیا ای ڈی صرف تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو دستاویزات دینے سے انکار کر سکتی ہے؟ یہ معاملہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، آپ لیڈر منیش سسودیا اور بی آر ایس لیڈر کے۔ اس کا تعلق منی لانڈرنگ کیس سے ہے جس میں کویتا سمیت کئی بڑے لیڈر شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے یہ سوال 2022 میں سرلا گپتا بمقابلہ ای ڈی کیس کی سماعت کے دوران اٹھایا تھا۔ یہ کیس اس بات سے متعلق ہے کہ کیا تفتیشی ایجنسی ملزم کو ان اہم دستاویزات سے محروم کر سکتی ہے جن پر وہ منی لانڈرنگ کیس کے پری ٹرائل مرحلے میں انحصار کر رہی ہے۔ جسٹس اے ایس اوکے، جسٹس اے۔ امان اللہ اور جسٹس اے جی۔ مسیح کی بنچ نے منی لانڈرنگ کیس میں دستاویزات کی فراہمی سے متعلق اپیل کی سماعت کی۔ بنچ نے ای ڈی سے پوچھا کہ کیا منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے دوران ضبط شدہ دستاویزات ملزم کو سونپنے سے ایجنسی کا انکار اس کے بنیادی حق زندگی اور ذاتی آزادی کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ وقت بدل رہا ہے۔ ہمارا مقصد انصاف کی فراہمی ہے۔ کیا ہم اتنے سخت ہو جائیں گے کہ جب کسی شخص پر مقدمہ چل رہا ہو تو ہم کہہ دیں کہ دستاویزات محفوظ ہیں؟ کیا یہ انصاف ہوگا؟ عدالت نے مزید کہا کہ ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں ضمانت ہو جاتی ہے لیکن آج کل مجسٹریٹ کیسز میں لوگوں کو ضمانت نہیں مل رہی۔ وقت بدل رہا ہے۔ کیا ہم اتنے سخت ہو سکتے ہیں؟

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سوال کیا کہ کیا صرف تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو دستاویزات دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس امان اللہ نے کہا کہ سب کچھ شفاف کیوں نہیں ہو سکتا؟ ای ڈی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل S.V. راجو نے جواب دیا کہ اگر ملزم کو معلوم ہو کہ دستاویزات موجود ہیں تو وہ پوچھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے علم نہ ہو اور صرف اندازہ ہو تو وہ اس پر تحقیق نہیں کر سکتا۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ دستاویزات پر کیسے اعتماد کیا جائے گا؟ کیا یہ آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟ جو زندگی اور آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ پی ایم ایل اے کیس میں، آپ کو ہزاروں دستاویزات مل سکتے ہیں، لیکن آپ ان میں سے صرف 50 پر انحصار کرتے ہیں۔ ملزم ہر دستاویز یاد نہیں رکھ سکتا۔ پھر وہ پوچھ سکتا ہے کہ میرے گھر سے جو بھی کاغذات برآمد ہوئے ہیں وہ مجھے دے دیں۔ اس پر حکومتی وکیل نے کہا کہ ملزم کے پاس دستاویزات کی فہرست ہے اور جب تک ضروری اور مناسب نہ ہو وہ انہیں نہیں مانگ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرض کریں وہ ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات کے لیے درخواست دیں تو کیا کریں؟ اس پر بنچ نے کہا کہ یہ منٹوں کی بات ہے، اسے آسانی سے سکین کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر کوئی ملزم ضمانت یا مقدمہ خارج کرنے کے لیے دستاویزات پر انحصار کر رہا ہے تو اسے مانگنے کا حق ہے۔ تاہم، سالیسٹر جنرل S.V. راجو نے اس کی مخالفت کی۔ اس نے کہا نہیں ایسا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ عدالت سے اس پر غور کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ فرض کریں کہ ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے اور یہ واضح طور پر سزا کا کیس ہے اور وہ صرف مقدمے کی سماعت میں تاخیر کرنا چاہتا ہے، تو یہ حق نہیں ہو سکتا۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ انسداد بدعنوانی قانون کے تحت مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ کئی اعلیٰ سطحی اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاری کے بعد پی ایم ایل اے بار بار جانچ کی زد میں آئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی جعلی اے پی کے فائلس کے ذریعے بزرگ اور دیگر شہریوں کو دھوکہ دینے والا گرفتار

Published

on

ممبئی : 72 سالہ بزرگ شہری سن رسیدہ کو نامعلوم موبائل ہولڈر نے فون کرکے بینک آف انڈیا کا سینئر منیجر دنیش کمار ہونے کا جھانسہ دے کر اور سینئر سٹیزن کارڈ بنا کر بنانے کا وعدہ کر اعتماد حاصل کر شکایت کنندہ کے واٹس ایپ پر سینئر سٹیزن کارڈ http://Verification.apk نام کی اے پی کے فائل بھیج کر اس میں شکایت کنندہ کی ذاتی اور بینک کے ڈیبٹ کارڈ کی معلومات بھرنے پر مجبور کرکے شکایت کنندہ کے کل 5,62,000/- روپے کی دھوکہ دہی کرکے غبن کرنے کے معاملے میں بھائیکلہ پولیس اسٹیشن 497/26 دفعہ 318(4)، 319(2) بی این ایس دفعہ 66(ک) (ڈ) انفارمیشن و ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت جرم درج کیا تھا۔ مذکورہ جرم کی متوازی تفتیش پراپرٹی سیل، کرائم برانچ، ممبئی کر رہی تھی سینئرز کے حکم کے مطابق مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کرائم برانچ کو منتقل ہو کر 927/2026 کے تحت دوبارہ درج کر جرم کی تفتیش کی گئی۔ مذکورہ جرم میں مذکورہ اے پی کے فائل کی گہری تکنیکی تفتیش کی گئی اور ملزم کا سراغ لگایا گیا اور جعلی اے پی کے فائل ڈیولپ کرنے والے ایک مرد ملزم عمر36 سال، سافٹ ویئر ڈیولپر، رہائشی ریاست مدھیہ پردیش سے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

جرم میں گرفتار ملزم کے مدھیہ پردیش کے دفتر میں چھاپہ کارروائی کے دوران ملزم سے 1 پین ڈرائیو، 1 سی-پی-یو، 3 ہارڈ ڈسک، ایک وائی-فائی راؤٹر، 3 موبائل فون برآمد کرکے ان کی ابتدائی تکنیکی تفتیش میں ملزم مختلف سرور سروس پرووائیڈر کمپنی سے مختلف کمپنیوں کے سرور استعمال کر رہا تھا ایسا نظر آیا۔ جرم میں گرفتار ملزم نے بنائی ہوئی کل 2805 نقصان دہ اے پی کے فائلیں دیگر سائبر مجرموں کے گروہ کو فروخت کی ہیں ایسا تفتیش میں ثابت ہوا ہے۔ مذکورہ 2805 اے پی کے فائلوں کے ذریعے بھارت میں کل 9673 لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ ان میں سے سائبر ہیلپ لائن نمبر 1930 پر بھارت میں 1074، مہاراشٹر میں 143، ممبئی میں 36 شکایات درج ہیں اور ان کے کل 15,75,00,000/- روپے کی دھوکہ دہی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں سے بھارت میں 88، مہاراشٹر میں 08، ممبئی میں 05 درج جرائم کا پردہ فاش ہو رہا ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی دیوین پولس کمشنر جوائنٹ پولس کمشنر انل کنبھارے، اور ایڈیشنل کرشنا کانت اپادھیائے، ڈی سی پی (جرائم)، راج تلک روشن، وکرائم برانچ نے اہم کارکردگی انجام دی ہے۔ ڈی سی پی راج تلک روشن نے بتایا کہ بزرگوں کو بزرگوں کے کارڈ سازی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے کے معاملہ میں یہ کارروائی کی گئی ہے اس لئے وقتا فوقتا پولس اس متعلق بزرگوں میں بیداری بھی پیدا کرتی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پولیس سرکار اور معاشرہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ممبئی پولیس کمشنر کے ہمراہ میٹنگ کے بعد وجیا راہٹکر کا دعوی

Published

on

ممبئی : خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سرکار پولیس اور معاشرہ کی ہے اس کیلئے قومی خواتین کمیشن بھی کوشاں ہے اس لئے آج ممبئی میں خواتین کمیشن نے دورہ کر کے ممبئی میں خواتین کے مسائل اور ان سے متعلق کیسوں اور اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے خواتین کمیشن کی قومی سربراہ وجیا راہٹکر نے کہا کہ ممبئی میں خواتین کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ویمنس اور چائلڈ ڈیسک کے ساتھ خواتین سے متعلق شکایات کے ازالہ کیلئے خواتین ہیلپ لائن کا بھی قائم عمل میں لایا گیا ہے۔ کمپیوں اور دیگر اداروں میں خواتین کی ہراسائی سے متعلق شکایت کیلئے پوس ایکٹ تیار کیا گیا ہے اس ایکٹ سے متعلق بھی بیداری کی ضرورت ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابلے ممبئی اور ریاست میں خواتین زیادہ محفوظ ہے یہ دعوی وجیا راہٹکر نے کیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی اور پولیس کے اعلی افسران بھی اس اہم میٹنگ میں موجود تھے۔ وجیا راہٹکر نے کہا کہ ریاستی خواتین کمیشن اور دیگر کمیشنوں سے بھی مشترکہ میٹنگوں کا دورہ قومی کمیشن کا جاری رہتا ہے, ایسے میں خواتین کے مسائل اور ان کو درپیش دقتوں سے متعلق بھی ممبئی پولیس سے تفصیلات طلب کی گئیں۔ گھریلو حالات اور گھریلو ایکٹ سے متعلق بھی پولیس کی شکایات کے تصفیہ کے طریقہ کار پر بھی غور و خوص کیا گیا کیونکہ گھریلو معاملات میں اگر پولیس نے صحیح رہنمائی کی تو گھر محفوظ ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی سائبر جرائم میں خواتین سے متعلق ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق بھی تشویش کا اظہار خواتین کمیشن نے کیا ہے۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی احتجاجی مظاہروں کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے شکایت پر وجیا راہٹکر نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملات ہیں ایسے میں خواتین کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنانے کی ذمہ داری سرکار اور پولیس کی ہے اور معاشرہ کو بھی اس متعلق بیدار ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات تشویشناک ہے یہ پوچھنے پر کہ پولیس پر بھی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں اس پر خواتین کمیشن نے اب تک کیا ایکشن یا کارروائی ہے جس پر وجیا راہٹکر نے کہا کہ دلی میں خواتین سے متعلق شکایت کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے, اس لئے اس پر خواتین کمیشن کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس کی کارگزاریوں سے وجیا راہٹکر نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ممبئی میں خواتین سے متعلق معاملات زیادہ نہیں ہے اور شکایات کا بھی ازالہ کرنے کا دعوی ممبئی پولیس کمشنر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی موبائل چورگینگ بے نقاب : کل 16 لاکھ روپے قیمت کے 42 موبائل فون برآمد، پولس تفتیش میں مصروف

Published

on

ممبئی گام دیوی پولیس تھانہ 693/26 دفعہ 303(2)، 3(5) بی این ایس اس جرم میں شکایت کنندہ یہ قلابہ ہل، بس اسٹاپ سے پیڈر روڈ، ممبئی اس دوران بس سے سفر کر رہا تھا اس دوران نامعلوم شخص نے بھیڑ میں دھکا دے کر شکایت کنندہ کا ون پلس کمپنی کا موبائل فون چوری کر لیا جس کے بعد اس معاملہ میں مقدمہ داخل کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم کی تفتیش کے دوران تکنیکی تفتیش اور خفیہ مخبروں کے ذریعے حاصل معلومات کی بنیاد پر مزید تفتیش کرکے اس طرح کے جرائم کرنے والی منظم گینگ کا سراغ لگا کر انہیں مانخورد، شیواجی نگر اور گینگ کے سرغنہ کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار ملزمین
1) آفتاب آباد انصاری عمر 26 سال
2) حسن عباس شیخ عمر 35 سال
3) چاند محمد محمد سلطان عمر 53 سال
4) امتیاز امام علی شیخ عمر 46 سال
5) اجمی اکرم قریشی عمر 32 سال
6) سوپنل شنکر سونونے عمر 29 سال
7) رجب علی محمد تقی شیخ (عرف چکنا) عمر 32 سال

مذکورہ جرم کے مال مقدمہ سمیت دیگر جرائم کے 42 مختلف کمپنیوں کے چوری کیے گئے موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں۔ مذکورہ بہترین کارکردگی یہ، دیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ پولس کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر شلیش بلکاوڈے، (جنوبی پری منڈل 02) راگسدھا آر، پرشانت موہتے، پولیس، راجیو پاٹل، نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان