Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے آسام حکومت کو پھٹکار لگائی… وہ 63 غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری شروع کرے اور دو ہفتوں کے اندر تعمیل کی رپورٹ درج کریں۔۔

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے منگل کو آسام حکومت پر سخت نکتہ چینی کی کہ انہوں نے غیر ملکی قرار دیے گئے افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اور انہیں غیر معینہ مدت کے لیے حراستی مراکز میں رکھا جا رہا ہے۔ کیس میں سخت ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس اے ایس اوکا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے کہا کہ کیا آپ کسی اچھے وقت کا انتظار کر رہے ہیں؟ جسٹس ابھے ایس۔ اوکا اور جسٹس اجول بھویان کی بنچ نے کہا کہ ایک بار جب کسی شخص کو غیر ملکی قرار دے دیا جاتا ہے تو اسے فوری طور پر ملک بدر کر دینا چاہیے۔ آسام حکومت نے واضح کیا کہ ان افراد کے غیر ملکی پتے معلوم نہیں تھے، اس لیے ملک بدری کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے حلف نامہ کو واضح طور پر ناقص قرار دیا اور اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

بنچ نے آسام کے چیف سکریٹری (جو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوئے) سے پوچھا: آپ نے اس بنیاد پر ملک بدری شروع کرنے سے انکار کردیا کہ پتہ نہیں معلوم؟ یہ ہماری فکر کیوں ہونی چاہیے؟ آپ کو انہیں ان کے ملک بھیجنا ہوگا۔ کیا آپ کسی مہورت کا انتظار کر رہے ہیں؟ اگر پتہ معلوم نہ ہو تب بھی آپ انہیں ملک بدر کر سکتے ہیں۔ آپ انہیں غیر معینہ مدت تک حراست میں نہیں رکھ سکتے۔ کیا ‘غیر ملکی پتہ معلوم نہیں’ ملک بدری کو متاثر نہ کرنے کی وجہ ہو سکتی ہے؟ ایک بار جب آپ کسی کو غیر ملکی قرار دے دیتے ہیں تو اگلا منطقی قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ آپ انہیں غیر معینہ مدت تک حراست میں نہیں رکھ سکتے۔ آئین کا آرٹیکل 21 بھی ہے۔ آسام میں کئی غیر ملکی حراستی مراکز ہیں۔ آپ نے اب تک کتنے لوگوں کو ملک بدر کیا ہے؟’

بنچ نے آسام حکومت کو ہدایت دی کہ وہ حراستی مراکز میں رکھے گئے 63 افراد کو دو ہفتوں کے اندر ملک بدر کرنے کا عمل شروع کرے اور حکم پر عمل درآمد سے متعلق حلف نامہ داخل کرے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں آسام میں غیر ملکی قرار دیے گئے افراد کی ملک بدری اور حراستی مراکز میں دستیاب سہولیات سے متعلق مسائل اٹھائے گئے ہیں۔

سماعت کے دوران اہم سوالات

جب آسام حکومت کے وکیل نے عدالت سے پوچھا کہ اگر ان کا پتہ نہیں ہے تو ہم انہیں کہاں ڈی پورٹ کریں؟

جسٹس اوکا نے کہا کہ آپ اسے اس ملک کے دارالحکومت بھیج سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ وہ شخص پاکستان سے ہے، کیا آپ پاکستان کے دارالحکومت کا نام جانتے ہیں؟ آپ انہیں یہ کہہ کر غیر معینہ مدت تک حراست میں نہیں لے سکتے کہ ان کا غیر ملکی پتہ معلوم نہیں ہے۔ آپ کو ان کا پتہ کبھی نہیں ملے گا۔

— شادان فراسات، جو کہ ایک زیر حراست افراد کی نمائندگی کرنے والے وکیل ہیں، نے دلیل دی کہ حکومت صرف یہ طے کر رہی ہے کہ وہ ہندوستانی نہیں ہیں۔ لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کر رہے کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ برقرار ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایک بار جب آپ کسی شخص کو غیر ملکی قرار دے دیتے ہیں تو آپ کو اگلا منطقی قدم اٹھانا ہوگا۔ آپ انہیں ہمیشہ کے لیے قید میں نہیں رکھ سکتے۔ آئین کا آرٹیکل 21 (زندگی اور آزادی کا حق) لاگو ہوتا ہے۔

–سینئر ایڈوکیٹ کولن گونسالویس (درخواست گزار کے لیے) نے عرض کیا کہ بنگلہ دیش حکومت ان افراد کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ ہندوستان کہتا ہے کہ وہ ہندوستانی نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش کہتا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی نہیں ہیں۔ یہ لوگ اب ‘بے وطن’ ہو چکے ہیں۔ وہ 12-13 سال سے حراست میں ہیں۔

—- جسٹس اوکا نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ریاستی حکومت ان لوگوں کو اتنے سالوں تک حراست میں رکھ کر عوامی اخراجات اٹھا رہی ہے۔ کیا یہ تشویش حکومت پر اثر انداز ہوتی نظر نہیں آ رہی؟

سپریم کورٹ کا حکم

آسام حکومت کو 63 افراد کی ملک بدری کا عمل فوری طور پر شروع کرنا چاہیے، آسام حکومت کو دو ہفتوں کے اندر تعمیل کی رپورٹ کے ساتھ ایک تازہ حلف نامہ داخل کرنا ہوگا۔ اگلی سماعت 25 فروری کو ہوگی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان