سیاست
عوام ہی ہماری حقیقی دولت، انکی حفاظت ہماری اولین ترجیح : ادھو ٹھاکرے

عوام کو ریاست کی حقیقی دولت سے تعبیر کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ عوام کی صحت اور زندگی کی حفاظت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔اگر عوام زندہ اور محفوظ رہیں تو کوویڈ-19 وباءکے سبب سے ہماری بگڑی ہوئی معاشیات کی گاڑی کو ہم کسی بھی طرح سے سیدھے راستے پر لے ہی آئیں گے۔اس لیے موجودہ سخت حالات میں بےروزگاری، تجارت و کاروبار اور صنعت و حرفت کے وقتی طور پر بند ہوجانے سے عوام کو پریشان ہونے کی ٖضرورت نہیں۔
یکم مئی کو یومِ مہاراشٹرا کے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عوام یومِ مہاراشٹرا اور عالمی یومِ مزدور کی مبارکباد دیتے ہوئے یہ اطمنان اور تیقن بھی دلایا کہ 3 مئی کے بعد ریڈ زون اور ہاٹ اسپاٹ بنے ہوئے مقامات کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی لائے جایئگی، لیکن اس کے لیے عوام کو صبر اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انھوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری زرا سی غفلت اور لاپرواہی، ہماری اب تک کی احتیاط اور قربانی پر پانی پھیر دے۔
فیس بک کے ذریعہ عوام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ 3 مئی سے ریاست کے اورنج اور گرین زون کے بہت سے اضلاع میں لاک ڈاون اصول میں نرمی لائی جائے گی۔ اس دوران انہوں نے لاک ڈاؤن کے بارے میں کہا کہ یہ صرف ایک اسپیڈ بریکر ہے اور جلد ہی حالات معمول پر آجائیں گے۔ اس لیے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 3 مئی کے بعد ، ہم ریاست میں کچھ شرائط کے ساتھ نرمی لا رہے ہیں ۔ لیکن اس کے لیے عوام کو ہوشیار رہنے اور اور تعاون کرنے کی ضرورت ہے ، بصورت دیگر ہم گذشتہ دنوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے اسے ضائع کردیں گے۔ لہذا ، ہم صبر اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ، میں نہیں چاہتا کہ لوگ کورونا سے خوفزدہ ہوں۔ اگر کسی کو بیماری کی کوئی علامات نظر آتی ہیں تو وہ فوری خصوصی طور پر قایم کردہ ‘ فیور کلینک’ پر رجوع کریں اور وقت پر علاج کرائیں۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وقت پر علاج کرنے سے ابتک چھوٹے بچوں سے 83 سال کی عمر تک کے افراد صحت یاب ہو کر گھر چلے گئے۔ وینٹیلیٹروں پر رہنے والے افراد بھی صحتیاب ہو رہے ہیں۔
اس موقع پر انھون نے کہا کہ ریاست کے 10 ہزار افراد جو اس وباء سے لڑنےکے لیے حکومت کا ساتھ دینے سامنے آئے ہیں، انھیں اس کام کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا ، اب ہم کچی آبادیوں، جھوپڑ پٹیوں میں گھر گھر جا رہے ہیں۔ 2 لاکھ سے زائد افراد کا ‘ پلس آکسمیٹرز’ جس سے اکسجن کی کمی وغیرہ کا پتہ چلتاہے کےذریعے معائنہ کیا گیا ہے۔ان میں سے 272 افراد میں مختلف علامات پائی گئی ہیں۔انکا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے ممبئی کی میئر کشوری پیڈنیکر اور کلیان کے میئر ونیتا رانے دونوں کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نرسوں والے ہسپتالوں میں واپس جانے کو تیار ہیں دونوں نرسنگ کی تربیت یافتہ ہیں۔
یوم مہاراشٹر کے موقع پر انھوں نے اپنے والد بالا صاحب ٹھاکرے اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ، شاہو، مہاتما پھلے اور دیگر افراد کو یاد کیا بطور وزیراعلیٰ انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا ، “ہم نے ان کی کوششوں کی بدولت ممبئی جیت لیا۔ میں ان تمام لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ممبئی اور مہاراشٹر کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا ، آج اس تحریک کی 60 ویں سالگرہ ہے۔ جب ہماری حکومت برسر اقتدار آئی ، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس دن کو بڑے پیمانے پر منائیں گے۔ بدقسمتی سے آج کی صورتحال میں یہ ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ، ہمیں مہاراشٹر ڈے کی اس سے قبل کی تقریبات یاد ہیں جب میرے والد مرحوم بالا صاحب تھے۔ اس گراؤنڈ میں جہاں لتا دیدی نے گانا گایا تھا ، آج ہم نے کورونا کے خلاف جنگ کے لئے ایک صحت نگہداشت کا ایک مرکز بنایا ہے۔ ان کہانیوں کو سنانے کے پیچھے محرک یہ ہے کہ اگر مہاراشٹر کے لوگ اپنا ذہن بنائیں تو کچھ بھی ممکن ہے۔ آج مہاراشٹرا کوویڈ ۔19 سے نجات کے لئے مل کر لڑ رہے ہیں۔ مہاراشٹر شاید 60 سال کا ہے لیکن اس کی بہادری کی داستانیں بہت پرانی ہیں۔
سیاست
شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔
انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔
سیاست
وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔
اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔
ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔
اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔
-
سیاست6 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا