Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

وزیر اعظم رہائشی منصوبہ (شہری) کے تحت منظور شدہ مکانات کی تعداد 1.14 کروڑ

Published

on

modi

وزیر اعظم رہائشی منصوبہ (شہری)کے تحت مختلف مراحل میں مکانات کی تعمیر جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشن کے تحت منظور شدہ مکانات کی کل تعداد اب 1.14 کروڑ ہے، جن میں سے 89 لاکھ سے زیادہ زیر تعمیر ہیں اور 52.5 لاکھ مکانات مکمل کر کے مستحقین میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
مشن کے تحت کل سرمایہ کاری 7.52 لاکھ کروڑ ہے اور اس میں سے 1.85 لاکھ کروڑ مرکزی امداد کی شکل میں ہے۔ اب تک 1.13 لاکھ کروڑ روپے پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں۔ مرکزی منظوری اور نگرانی کمیٹی نے 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 3.74 لاکھ مکانات کی تعمیر میں منتقل کیے جانے والے پروجیکٹوں میں ترمیم کے لیے بھی منظوری دی۔
منگل کو یہاں ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری درگا شنکر مشرا کی صدارت میں منعقدہ وزیر اعظم رہائشی منصوبہ (شہری) کی مرکزی منظوری اور نگرانی کمیٹی (سی ایس ایم سی) کی 56ویں میٹنگ میں یہ اطلاع دی گئی۔پی ایم اے وائی۔یوکے ساتھ شراکت میں سستی رہائش، فائدہ اٹھانے والے پر مبنی تعمیر کے ساتھ ساتھ کچی آبادیوں کی بحالی کے لیے کل 3.61 لاکھ مکانات کی منظوری دی گئی۔
ہاؤسنگ اور شہری امور کے سکریٹری نے مشن کے تحت مکانات کی تعمیر سے متعلق ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسائل اٹھائے۔ انہوں نے ریاستوں ومرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا کہ وہ ایسے مسائل کو بلا تاخیر حل کریں تاکہ مکانات کی تعمیر میں تیزی لائی جاسکے۔علاوہ ازیں ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری نے پی ایم اے وائی۔یوکے تحت ملک بھر میں مکانات کی تعمیر کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ 2022 تک ’سب کے لیے مکانات‘ کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
مرکزی منظوری اور نگرانی کمیٹی کی میٹنگ کے علاوہ ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری کے ذریعہ ایک ای۔ فنانس ماڈیول بھی شروع کیا گیا۔ یہ ای۔فنانس ماڈیول پردھان منتری شہری آواس یوجنا – شہری کے ایم آئی ایس سسٹم کے تمام ماڈیولز کے ساتھ مربوط ہے۔
اس ماڈیول کو جاری کرتے ہوئے، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری نے کہا کہ’ای فنانس ماڈیول کو کسی بھی غلط معلومات کو دور کرنے کے ایک خاص مقصد کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ اب شفافیت ہوگی اور تمام مالیاتی ڈیٹا ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا۔‘
انہوں نے ہدایت دی کہ ماڈیول پر تیزی سے عمل آوری کے لیے ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام علاقوں میں افسران اورایم آئی ایس اہلکاروں کے لیے علاقہ وار تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں۔
سکریٹری، ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے) نے شہری تارکین وطن اورغریبوں کے لیے تلنگانہ اور تمل ناڈو میں سستے کرایہ کے رہائشی کمپلیکس (افورڈیبل رینٹل ہاؤسنگ کامپلیکس(اے ایچ آر سی) نمونہ (ماڈل) 2 کے تحت تجاویز کو بھی منظوری دی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com