Connect with us
Saturday,25-July-2026

(جنرل (عام

دنیا میں ہلاکت خیز کورونا متاثرین کی تعداد 18.67 کروڑ سے متجاوز

Published

on

Corona-...

دنیا بھر میں خطرناک اور ہلاکت خیز کورونا وائرس کووڈ19- سے متاثرہ افراد کی تعداد18.67 کروڑ سے زیادہ اور اب تک 40.29 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دریں اثنا ، اب تک پوری دنیا بھر میں 343.58 کروڑ سے زیادہ افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنس اینڈ انجینئرنگ (سی ایس ایس ای) کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے 192 ممالک اور خطوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 18 کروڑ 67 لاکھ 53 ہزار 958 ہوگئی ہے جبکہ 40 لاکھ 29 ہزار 721 افراد اس سے متاثرہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی رفتار تھوڑی سست ہوگئی ہے، تاہم اس ملک میںکورونا متاثرین کی تعداد 3.38 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اوراب تک 6.07 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جان لیوا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں ہندوستان دنیا میں دوسرے اور ہلاک شدگان کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہاں کورونا وائرس کے38049 نئے کیسز کی رپورٹ کے ساتھ ہی ہندوستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد تین کروڑ آٹھ لاکھ 74 ہزار 376 ہوگئی ہے۔ اسی مدت کے دوران 39 ہزار 649 مریضوں کی شفایابی کے بعد جان لیوا وبا کو شکست دینے والے مریضوں کی مجموعی تعداد تین کروڑ 14 ہزار 713 ہوگئی ہے۔ ایکٹیو کیسز 3219 سے گھٹ کر چار لاکھ 50 ہزار 899 ہوگئے ہیں۔

(جنرل (عام

فرانس اور سپین کے جنگلات میں لگی آگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔

Published

on

Forest fires

پیرس : فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگی آگ نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ جنوب مغربی فرانس میں حالات خراب ہونے پر حکام نے ہفتے کے روز بورڈو شہر کے آس پاس کے علاقوں سے ہزاروں افراد کو نکال لیا۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے “قومی جنگل کی آگ ایمرجنسی” کا اعلان کیا۔ فرانس کے لا نوویل-اکیٹائن اور گیرونڈے علاقوں کی مقامی انتظامیہ کی سربراہ سوفی بروکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ لی ہیلان، ایگین اور میرگناک کے علاقوں کو خالی کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے کہا کہ اب تک 141,000 سے زائد افراد کو بورڈو کے قریب گروندے اور لوئر کے علاقوں سے نکالا جا چکا ہے جہاں اس ہفتے کے شروع میں جنگل میں آگ لگی تھی۔ وزیر اعظم لیکورنو نے ٹوئٹر پر لکھا، “آگ اب تک کی سنگین ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فرانسیسی فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے جنوب مغربی علاقے میں پھیلنے والی آگ سے نمٹنے کے لیے اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔ مزید برآں، 15 لاکھ ماسک گیرونڈے علاقے کے رہائشیوں اور امدادی کارکنوں کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ انہیں دھوئیں سے بچایا جا سکے۔” گیرونڈے انتظامیہ نے شہر کے ہوائی اڈے کے علاقے سمیت بورڈو کے مغربی مضافاتی علاقوں کے کچھ حصوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہر کے مغرب میں کئی دوسرے قصبوں اور دیہاتوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم لیکورنو کے مطابق فائر فائٹرز کی مدد کے لیے 500 سے زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ضرورت کے مطابق مزید بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماسک زمینی کارکنوں اور دھوئیں سے متاثر ہونے والوں کی حفاظت کے لیے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ادھر سپین میں میڈرڈ کے ارد گرد جنگلات میں لگی آگ کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بدستور “پیچیدہ” ہے۔ ایل پیس میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ درجہ حرارت میں کمی کے باوجود ہوا کے پیٹرن صورتحال کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سانچیز نے ایک بار پھر موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ صورت حال کی روشنی میں، انہوں نے قومی وائلڈ فائر ایمرجنسی کا اعلان کیا۔

سانچیز نے کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگل کی آگ زیادہ شدید اور تباہ کن ہوتی جا رہی ہے، بہت سے معاملات میں سائنسی اندازوں سے بھی زیادہ۔ ان کے مطابق، “جنوری سے، اسپین میں لگ بھگ 130,000 ہیکٹر (تقریباً 321,000 ایکڑ) رقبہ آگ کی لپیٹ میں آچکا ہے، جو گزشتہ دہائی کے دوران سالانہ اوسط 100,000 ہیکٹر سے زیادہ ہے۔” گزشتہ سال سانچیز نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے 10 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک قومی شہری تحفظ ایجنسی کی تشکیل، ملک بھر میں موسمیاتی پناہ گاہوں کے نیٹ ورک کی تشکیل، اور جنگلات کے انتظام اور زمین کے استعمال کی پالیسیوں میں تبدیلی جیسی تجاویز شامل تھیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک ترنگا مارچ : اعلی افسران کی پولیس کمشنر کے ہمراہ اہم میٹنگ، پولیس کا حفاظتی انتظامات سخت، ضروری ہدایات جاری

Published

on

police-chased-people

ممبئی : ممبئی کے شیواجی پارک میں ترنگا ریلی کو لے کر پولیس بھی مستعد ہے دلی جنتر منتر میں طلباء کے احتجاج سے اظہار ہمدردی کے لئے ٹھاکرے برادر نے ترنگا مارچ کا انعقاد کیا ہے۔ جس میں لاکھوں مظاہرین کے شریک ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں پولیس نے علاقہ میں سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقععہ پیش نہ آئے اس لئے پولیس محتاط ہے اور حالات پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ترنگا مارچ کیلئے روٹ پر نگرانی کے ساتھ آج ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ایڈیشنل پولیس کمشنر سمیت اعلی افسران کی میٹنگ بھی منعقد کی گئی تھی۔ جس میں نظم و نسق اور احتجاجی مظاہرہ سے متعلق حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ ممبئی شہر میں شیواجی پارک میں احتجاجات کا سلسلہ دراز ہے۔

ممبئی شہر و مضافات میں ترنگا مارچ کے دوران کہاں کہاں سے مظاہرین شیواجی پارک میں جمع ہوسکتے ہیں, اسکی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں احتجاجات شروع ہے۔ نیٹ امتحانی پرچہ لیک کے معاملہ میں طلباء نے وزیر تعلیم دھریندر پردھان کا استعفی طلب کیا ہے اور طلباء اپنے موقف پر قائم ہے۔ ممبئی شہر و مضافاتی علاقوں میں ترنگا مارچ کے سبب پولیس بھی الرٹ ہے۔ شیواجی پارک میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران ٹریفک روٹ پر بھی پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضروری احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ممبئی اور ریاست میں طلباء کے احتجاجات کے سبب پولیس نے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے اعلی افسران کو اس متعلق ضروری ہدایت بھی جاری کی گئی ہیں۔ ممبئی کے مضافاتی علاقے کرلا, چمبور, بائیکلہ, اندھیری, ملاڈ مالونی, جوگیشوری سمیت دیگر علاقوں سے بھی احتجاج میں طلباء کے شریک ہونے کا اندازہ ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران گڑ بڑی کی کوشش یا بدامنی قابل برداشت ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایم این ایس سر براہ راج ٹھاکرے نے دیا ہے اور کہا ہے کہ دلی کے طرز پر اگر ممبئی میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اسی قطعی برداشت نہیں کیا جائے۔ ممبئی میں احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں پولیس بھی مستعد ہے۔

Continue Reading

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان