Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

برہان پور کی سرزمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی : خلیل الرحمٰن

Published

on

Conference

شاہ بہاؤ الدین باجن کی ادبی اور شعری خدمات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ خلیل الرحمن نے کہا کہ آپ یقین کیجیے برہان پور کی سر زمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی۔ یہ بات انہوں نے دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی برہان پور کے زیر اہتمام آن لائن کانفرنس ’اردو شاعری کے ارتقائی سفر میں باجن کی حصہ داری‘ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

صوفی شاعر حضرت شاہ بہاؤالدین باجن کے 530 سالہ عرس کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں انہوں نے کہا: شاہ بہاؤ الدین باجن کی شعر وادب کی ثروت مندی میں جو حصہ ہے وہ بہت بڑا ہے، ایک جلسہ یا ایک مقالہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ موصوف نے مزید کہا کہ آپ یقین کیجیے برہان پور کی سرزمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی۔ افسوس نہ ان کا کوئی کام دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ان کا تعارف۔ انہوں نے مقالہ نگاران کے مقالات پر مختراً تبصرہ و تجزیہ بھی پیش کیا۔
کویت سیصدر بزم صدف انٹرنیشنل، کویت، جنرل سکریٹی آداب غزل اکیڈمی کویت اور صاحب دیوان شاعر مسعود حساس نے بڑی خوبصورت نظامت فرمائی۔ اپنے مرصع و مسجع جملوں سے نظامت میں چار چاند لگا دیئے اور انہوں نے شاہ باجن کی شاعری تصوف ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ضرورت اس بات کی ان پر کام کیا جائے اور ان کی خدمات کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ خاص طور پر ان کی شاعری کی موجودہ دور میں بہت اہمیت اور ضرورت ہے۔

سوسائٹی کے چیئرمین تنویر رضا برکاتی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا: آج کی یہ کانفرنس باجن کے کے تعارف کے سلسلے میں عالمی سطح پر نقش اول کی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم آئندہ باجن پر انٹرنیشنل سیمینار اور کانفرنس کے انعقاد کا عزم رکھتے ہیں۔

برہان پور کے معروف استاد شاعر و ادیب جمیل اصغر نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا: اردو زبان و ادب کے مؤرخین و محققین نے باجن کی تصنیف خزانۂ رحمت کو اردو کا نہایت قدیم ماخذ قرار دیا ہے، اور خود باجن کو اردو کے اولین شاعر کی حیثیت سے سے متعارف کروایا ہے۔

خلیل انصاری ایڈووکیٹ (سابق پروفیسر شعبۂ قانون سیوا سدن کالج، برہان پور) نے اپنے مقالے میں کہا: زبان و ادب کی خدمات کے سلسلے میں باجن کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اردو زبان کے آغاز و ارتقاء میں عوامی زبان کو رفتہ رفتہ علمی و ادبی حیثیت سے باجن نے اردو دکنی گوجری میں اپنی نظم و نثر کے ذریعہ پندو نصائح کے نمونے پیش کیے ہیں۔

معروف شاعر و ناظم طاہر نقاش (پرنسپل گورنمنٹ اردو ہائر سیکنڈری اسکول، لالباغ) نے اپنے مقالے میں کہا: اردو زبان جو آج پوری دنیا میں اپنی شیرینی کا لوہا منوا رہی ہے اس کے ابتدائی تدوین میں باجن کے ملفوظات اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کانفرنس کو سوسائٹی کے فیس بک پیج پر لائیو نشر کیا گیا جس میں تقریباً 22 ملکوں سے ایک ہزار شرکاء نے شرکت کی۔ تنویر رضا برکاتی نے تمام مہمانان اور لائیو دیکھنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان