Connect with us
Wednesday,26-August-2026

(جنرل (عام

کرناٹک میں سیلاب سے بے گھرلوگوں کو بھی جمعیۃ علماء ہند نے آشیانہ فراہم کیا، ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں سے نہیں مسلم تاجروں کے ذریعہ پہنچا۔ مولانا ارشدمدنی

Published

on

ہندوستان میں اسلام کی نشر واشاعت سے متعلق مفروضے کو مسترد کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ذریعہ نہیں، بلکہ عرب مسلم تاجروں کے ذریعہ پھیلا، جن کے کردار و عمل سے متاثر ہوکر لوگوں نے کسی ڈر اور لالچ کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے یہ بات کرناٹک میں میسور سے متصل ضلع گوڈاگو کے سداپور میں جمعیۃ علمائے ہند کے ذریعہ تعمیر شدہ مکانات کی چابیاں مستحقین میں تقسیم کرتے ہوئے کہی۔

مولانا مدنی کے ہاتھوں 2019 میں آئے تباہ کن سیلاب میں بے گھر ہوئے 30 لوگوں میں سے 16 لوگوں کو مکانات کی چابیاں دی گئیں، ان میں غیر مسلم بھی شامل ہیں۔

مولانا مدنی نے اس موقع پر مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سراسر بے بنیاد اور تاریخی طور پر غلط ہے، کہ ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ساتھ آیا، ہندوستان میں مسلمان سو دو سو سال سے نہیں، بلکہ تیرہ سو سال سے آباد ہیں، مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہندوستان اور عرب کے درمیان اسلام کی آمد سے پہلے سے تجارتی و کاروباری تعلقات رہے ہیں، البتہ اسلام کی آمد کے بعد کچھ مسلم تاجر عرب سے کشتیوں کے ذریعہ کیرالا پہنچے، اور یہیں آباد ہو گئے، ان کے پاس کوئی فوج اور طاقت نہیں تھی، بلکہ یہ ان کا کردار اور اخلاق ہی تھا، جس سے متاثر ہو کر یہاں کے مقامی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاریخ کی کتابوں میں کیرالا کے ہی کچھ راجاؤں کا بھی ذکر ملتا ہے، جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک راجہ کے تعلق سے یہ ذکر بھی ہے کہ اس نے جب شق القمر کا معجزہ دیکھا، تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اپنے دربار کے نجومیوں سے اس نے اس بابت دریافت کیا تو انہوں نے جو کچھ بتایا اسے سن کر اس کے دل میں عرب جا کر آقا ﷺ کی زیارت کرنے کی چاہت پیدا ہوئی، اور انہوں نے اپنی حکومت کو دوسروں کی نگرانی میں دیکر کشتی کے ذریعہ اپنے سفر کا آغاز کیا، لیکن راستہ میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی، کیرالا میں ہندوستان کی سب سے پہلی مسجد اب بھی موجود ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ محمد بن قاسم کا واقعہ تو اس کے بہت بعد کا ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ سندھ میں راجہ داہر کی شکست کے بعد جن لوگوں نے محمد بن قاسم سے پناہ طلب کی، انہیں پناہ دی گئیں۔ اس کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگوں نے مسلمانوں کے اس سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے لئے کسی طرح کی زور زبردستی نہیں کی گئی ہو، اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ زور زبردستی کے ذریعہ کسی کو مسلمان نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا مدنی نے آگے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس ملک کی خصوصیت ہے کہ پچھلے تیرہ سو برس سے یہاں ہندو و مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت واخوت کے ساتھ رہتے آئے ہیں، لیکن اب کچھ لوگ محبت واتحاد کے اس پختہ رشتے کو توڑ دینا چاہتے ہیں، وہ نفرت اور غلط فہمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں، ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کر کے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف محاذ آرائیاں کی جا رہی ہیں، اور اب حالات یہ ہیں کہ کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک لوگ ڈر اور خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ایسے لوگوں کو شاید یہ بات معلوم نہیں ہے کہ یہ ملک اتحاد اور محبت سے ہی آباد رہ سکتا ہے، اور اگر نفرت اور جنگ وجدال کی سیاست کی گئی، تو پھر یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند پچھلے سوبرس سے ہندستان میں محبتیں بانٹنے کا کام کر رہی ہے، وہ اپنا امدادی وفلاحی کام بھی مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر کرتی ہے، اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ آج جن بے سہارا لوگوں کو کرناٹک کے مسلمانوں کے تعاون سے مکانات کی چابیاں دی گئی ہیں، ان میں غیر مسلم بھی شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اقتدار کے لئے نفرت کی سیاست کر رہے ہیں، اس کے لئے ہمیں عام لوگوں کو بیدار کرنا ہوگا۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ اس ملک میں صدیوں سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو اتحاد قائم ہے، اسے ٹوٹنے نہ دیں۔

مسلمان ہندوؤں کی خوشی اور غمی میں شامل ہوں۔ ہندو بھائی مسلمانوں کی خوشی اور غمی میں شامل ہوں، اس سے ہی سماج اور معاشرے میں یکجہتی اور باہمی اتحاد کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہم مایوس نہیں ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ جب لوگ بیدار ہو جائیں گے، نفرت ہارے گی اور محبت جیتے گی۔

واضح رہے کہ سداپور کا علاقہ کیرالا کی سرحد پر واقع ہے، کیرالا میں جب سیلاب آیا تھا، تو کرناٹک کے ان علاقوں میں بھی تباہ کن سیلاب آیا تھا، کیرالا میں سیلاب متاثرین کی باز آبادکاری کا کام دو سال پہلے ہی مکمل ہوگیا تھا، لیکن سداپور میں زمین کے حصول میں کچھ پریشانی تھی۔ اس لئے باز آبادکاری کے کام میں تاخیر ہوئی۔ درمیان میں کورونا کی وباء آ گئی، اس سے تعمیر کا کام متاثر ہوا۔ تاہم جمعیۃ علماء کرناٹک کے ذمہ داران کی مسلسل کوششوں اور یہاں کے مسلمانوں کے تعاون کے نتیجہ میں یہ مشکل مرحلہ طے پا گیا۔ یہ مکانات چار سو اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے، اور ان کی تعمیر پر فی مکان تین لاکھ روپے (زمین کے علاوہ) لاگت آئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر کے سیلاب متاثرین کی باز آبادکاری مہم میں جمعیۃ علماء ہند نے 33 بے گھر ہوئے خاندانوں کی باز آبادکاری کے منصوبہ کو حتمی شکل دیدی ہے، ان میں 18 غیر مسلم خاندان ہیں، یہاں ایک مکان کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ تقریبا چار لاکھ روپے ہے، سیلاب متاثرین کی اس باز آبادکاری مہم میں کرناٹک کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسلم سوسائٹی سداپور نے خاص طور سے ہر طرح کی مدد فراہم کی۔ مولانا مدنی نے اپنے خطاب میں ذاتی طور پر ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

(جنرل (عام

نیپال میں سیلاب سے بھارت میں الرٹ، بہار نے احتیاطی اقدامات تیز کر دیے

Published

on

ہندوستان میں حکام نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز کر دیں جو نیچے کی طرف پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔ نیپال کے راسووا ضلع میں بدھ کو بھوٹے کوشی دریا میں اچانک سیلاب آنے سے کم از کم سات افراد ہلاک، جب کہ متعدد لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ سیلاب نے متاثرہ علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، ہندوستان کے ہمسایہ علاقوں میں حکام کو نگرانی اور احتیاطی تدابیر کو تیز کرنے پر مجبور کیا گیا۔ بہار کے وزیر اعلی سمرت چودھری نے کہا کہ ترقی پذیر صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، “ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی اس کی نگرانی کر رہے ہیں، اور میں بھی فوری طور پر ایک میٹنگ کر رہا ہوں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں خود وہاں جاؤں گا۔” نیپال میں ممکنہ گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) کے حوالے سے رپورٹس اور بہار کے مغربی ضلع چامپرانجو اور تاڑنجو سے بہنے والے دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے امکان کے پیش نظر۔ ایگزیکٹو انجینئرز کو نیپال کی سرحد کے ساتھ واقع دیہاتوں اور دریائے گنڈک کے کنارے واقع علاقوں میں تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ضلعی انتظامیہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی کی سطح میں کسی بھی ممکنہ اضافے یا سیلاب سے متعلق دیگر ترقیات کو مؤثر طریقے سے جواب دینے کے لیے تمام ضروری تیاریوں اور انتظامات کو یقینی بنائیں۔

رہائشیوں کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انتظامیہ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ خوف و ہراس پیدا کیے بغیر الرٹ رہیں اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔”عوام گھبرائیں نہیں بلکہ انتہائی احتیاط برتیں، دریائے گنڈک کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگ غیر ضروری طور پر دریا کے قریب نہ جائیں، کسی بھی افواہ کو نظر انداز کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پانی کی سطح میں اضافے کی صورت میں فوری طور پر کسی بھی سرکاری اطلاع پر عمل کریں یا پانی کی سطح میں اضافے پر فوری عمل کریں۔ انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات،” ایڈوائزری میں کہا گیا ہے۔ دریں اثنا، اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے نیپال میں اچانک سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کو لے کر، سی ایم دھامی نے کہا: “نیپال کے راسووا علاقے میں تبت سے نکلنے والے دریائے بھوٹے کوشی میں اچانک تباہ کن سیلاب نے جان و مال کا بے پناہ نقصان کیا ہے، جو کہ انتہائی دل دہلا دینے والا اور تشویشناک ہے۔” آفت سے متاثرہ افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے، انہوں نے کہا: “اس مشکل وقت میں میں نیپال کے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا گو ہوں۔ سب کی خیریت۔”

Continue Reading

(جنرل (عام

رکھشا بندھن کے موقع پر گجرات 6500 اضافی بسوں کے دورے کرے گا، نائب وزیر اعلیٰ نے 101 نئی بسوں کو ہری جھنڈی دکھائی

Published

on

رکھشا بندھن تہوار کے دوران مسافروں کی مانگ میں متوقع اضافہ کو پورا کرنے کے لیے گجرات اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن 26 سے 30 اگست تک ریاست بھر میں تقریباً 6,500 اضافی بس ٹرپس چلائے گی۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے بدھ کو گاندھی نگر سے 101 نئی ایس ٹی بسوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ نئی شامل کی گئی 101 بسوں میں 71 سپر ایکسپریس، 20 مڈی اور 10 سلیپر کوچ بسیں شامل ہیں۔ یہ بسیں رکھشا بندھن کے خصوصی انتظامات کے حصے کے طور پر بھی تعینات کی جائیں گی۔

احمد آباد، سورت، وڈودرا اور راجکوٹ سمیت بڑے شہروں کو جوڑنے والے راستوں کے ساتھ ساتھ امباجی، پاوا گڑھ اور سومناتھ جیسے اہم یاتری مقامات پر خصوصی خدمات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مسافروں کو اپنے سفر کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد کے لیے آن لائن اور ایس ٹی ڈپو پر ایڈوانس بکنگ کی سہولیات دستیاب کرائی گئی ہیں۔ کارپوریشن نے گزشتہ سال رکشا بندھن کی مدت کے دوران 6,402 اضافی دورے کیے، جس میں تقریباً 3.33 لاکھ مسافر سوار تھے۔ اس سال، متوقع تہوار کے رش کے پیش نظر اضافی ٹرپس کی تعداد بڑھا کر 6500 کر دی گئی ہے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ارجن موڈھواڈیا نے کہا کہ 101 بسوں کی شمولیت وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھاوی کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ شہریوں، ملازمین اور طلباء کے لیے آسان، محفوظ اور آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کی جا سکے۔ ایس ٹی کارپوریشن کے کنڈکٹرز نے رکھشا بندھن کے پیشگی جشن کے طور پر سنگھوی کو راکھی باندھی۔

عہدیداروں نے کہا کہ ایس ٹی ڈرائیور، کنڈکٹر اور آپریشنل عملہ تہواروں کے دوران چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرتے رہتے ہیں، مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ بہت سے ٹرانسپورٹ ملازمین ڈیوٹی پر رہتے ہیں۔ انہوں نے نئی شروع کی گئی بسوں میں سے ایک کا بھی معائنہ کیا۔ کارپوریشن نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانچ دن کی مدت کے دوران خصوصی خدمات اور پیشگی بکنگ کی سہولیات کا استعمال کریں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ہزاروں لوگ جموں و کشمیر کے حضرت بل کے مزار پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کے لیے جمع ہیں۔

Published

on

ہزاروں عقیدت مندوں نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے ضلع سری نگر میں حضرت بل کے مزار پر ‘عید میلاد’ منانے کے لیے نماز ادا کی۔ وادی کے مختلف حصوں سے عقیدت مندوں نے منگل کی شام سے ہی بڑی تعداد میں جمع ہوکر حضرت بل کے مزار پر رات عبادت اور تپسیا میں گزاری۔ وادی کے مختلف حصوں اور سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مرد، خواتین اور بچوں نے رات بھر امن، صحت، خوشحالی اور خوشی کے لیے دعائیں مانگیں۔

حضرت بل کا مزار جموں و کشمیر میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مزار ہے۔ مزار میں مقدس آثار (پیغمبر کی داڑھی کا ایک بال) موجود ہے۔ بدھ کو صبح کی نماز کے بعد مقدس اوشیش عقیدت مندوں کے سامنے آویزاں کی گئی؛ ہر نماز کے بعد جمعہ کی شام کے آخر تک، مقدس آثار عقیدت مندوں کو دکھائے جائیں گے؛ شرپسند عناصر کی طرف سے پیدا کیے جانے والے کنفیوژن کے برخلاف، حضرت بل کے مزار پر ہر ایک عقیدت مند اللہ تعالیٰ سے توبہ کی دعا مانگتا ہے (جس طرح وہ بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ لگاتے ہیں)۔

اسلام کے مطابق ایک متقی مسلمان صرف اللہ سے دعا کر سکتا ہے۔ اہلحدیث کہلانے والے اسلامی فکر کے سخت گیر مکتب فکر کی پیروی کرنے والے اکثر اسلام کے صوفی پرست پیروکاروں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اولیائے کرام اور صوفیاء کے مزارات پر جا کر ان سے الہی نعمتیں حاصل کرتے ہیں۔ یہ غلط تصور صرف روادار، صوفیانہ اسلام کی حوصلہ شکنی کے لیے پھیلایا گیا تھا، جس کی وجہ سے کشمیر کے مسلمانوں نے بنیادی طور پر نقل و حمل کا انتظام کیا ہے۔ حضرت بل کے مزار پر عقیدت مندوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال، پینے کا صاف پانی اور سیکیورٹی۔

پیغمبر اسلام کی تعظیم میں، عید میلاد ملک میں ایک قومی تعطیل ہے؛ پیغمبر اسلام کے آثار وادی میں چار دیگر مقامات پر بھی رکھے گئے ہیں، لیکن حضرت بل میں موجود اوشیش ان آثار میں سب سے مقدس ہے کیونکہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، یہ پیغمبر اسلام کے آسمان پر چڑھنے کے بعد اللہ سے ملانے اور زمین پر واپس آنے کے بعد کا ہے۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے مقدس ترین واقعات میں سے ایک ہے جسے ’’معراج عالم‘‘ کہا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان