Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

حکومت سی اے اے، این آر سی اور این پی آر سے دھرم پریورتن کی سازش کررہی ہے

Published

on

بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے سب سے پہلے پارلیمنٹ میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کیا صدرِ جمہوریہ کو میمورنڈم بھی دیا آج پورے ملک میں غیر دستوری فیصلہ سی اے اے کو مودی حکومت نے لیا ہے اس سے ملک کا تانا بانا بکھر جائے گا اس قانون کو نافذ کرکے مودی سرکار نے ملک کے بھائی چارہ پر حملہ کیا ہے- ہمارا دستوری حق ہے کہ ہم اپنا احتجاج درج کروائے لیکن ہٹلر کی ذہنیت رکھنے والی سرکار نے اس قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجی مظاہرہ پر لاٹھی چارج کیا ان ظلم کیا ہم مایاوتی اور مالیگاؤں بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے اپیل کرتے ہیں کہ احتجاج کرنے والے تمام گرفتار افراد اور طلبہ کو رہا کیا جائے ان پردرج گناہ ختم کیا جائے اسی طرح سرکار نے اڈانی، امبانی، رام دیو بابا کا تکونی بنایا ہے تاکہ انہیں مودی سرکار ان غریب ادیواسیوں کی زمین پر ناجائز قبضہ کا راستہ ہموار کررہی ہے جس کے لئے سی اے اے اور این آر سی قانون لایا گیا ہے جو کہ ملک کے لئے خطرناک ہے ۔اسی طرح ووٹ کا حق بھی ختم کرنے کی ایک سازش ہے اس طرح کا اظہار آج مالیگاؤں میں اردو کے میڈیا سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے بہوجن سماج پارٹی کے ضلع کارگزار صدر رمیش نکم نے خطاب کیا اور کہا کہ اقلیت، اوبی سی، لنگائیت، ایس ٹی این ٹی کے ساتھ جو ہندو نہیں ہے انہیں شہریت دینے کے نام پر ہندو بنایا جائے گا اس طرح کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے این پی آر اور این آر سی کے نام پر لوگوں کو مذہب سے دور کرتے ہوئے انہیں ہندو بنانے کی کوشش ہوگی اس کے خلاف ہم بڑے پیمانے پر جیل بھرو اندولن کررہے ہیں 14 فروری کو مالیگاوں بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے جیل بھرو اندولن ہوگی اس کے لیے کارنر میٹنگ ہوگی جس میں بتایا جائے گا کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ سب مذہب کے خلاف ہیں اس لئے مالیگاؤں کے مسلمان ہماری اندولن کو حمایت کریں اگر ہم گرفتار بھی ہو گئے تو ہماری جگہ کوئی دوسرا اس تحریک کو سپورٹ کرے تاکہ سرکار کو جھکنا پڑے اور ہم ہندوستانیوں کا حق ہمیں مل سکے ۔یہ جیک بھر تحریک مالیگاؤں ایڈیشنل ایس پی آفس کے کمپاؤنڈ میں کی جائے گی اس پریس کانفرنس میں آنند آڑاؤ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دستور کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس قانون کی مخالف کرنا ہے اور ہمارا ساتھ دینا ہے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے متعلق آنند آڑاؤ نے کہا کہ بڑے دکھ کے ساتھ ہم کہہ رہے ہیں کہ ایک صدر بھی بہوجن سماج کا ہے پھر بھی 12 گھنٹے میں یہ بل قانون بن جاتا ہے ۔اب ایسے حالات میں مایاوتی کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کالے قانون کو ختم کرنا ہوگا ۔ اس جیل بھرو تحریک کو سنوودھان سمان سمیتی نے حمایت دی ہے جسکا اظہار ظہور زمزم نے کیا ۔اس پریس کانفرنس میں رمیش نکم ،آنند آڑاؤ ،رفیق صدیق، سنتوش شندے، سنیل پوار وغیرہ شامل تھے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com