Connect with us
Friday,18-September-2026

(Lifestyle) طرز زندگی

دلیپ کمارکی پہلی برسی پر اداکار کو یاد کیا گیا

Published

on

Dilip Kumar

فلمی دنیا کے شہنشاہ جذبات مرحوم یوسف خان عرف دلیپ کمار کی پہلی برسی پر اداکار کو ملک بھر میں یاد کیا گیا۔ جبکہ آج بعد نماز عصر مرحوم کے پرستاروں نے شمال مغربی ممبئی کے جوہو قبرستان میں فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر معروف تاجر اور خاندانی دوست آصف فاروقی نے بھی شرکت کی، اور مطلع کیا کہ پالی ہل پر واقع مرحوم دلیپ کمار کی رہائش گاہ پر ان کی بیوہ اور اداکارہ سائرہ بانو نے نماز ظہر سے مغرب تک قرآن خوانی بھی رکھی، جس میں اہل خانہ، رشتہ داروں اور فلمی دنیا سے وابستہ فن کاروں نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے شہنشاہ جذبات جنہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کہا جاتا تھا، گزشتہ سال 7، جولائی کو داعی جل کو لبیک کہا تھا۔ اور ان کی برسی پر ان کے پرستار اور قریبی ان کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ اور خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

معروف اداکار اور خاندانی دوست دھرمیندر نے ہمیشہ سالگرہ پر نیک خواہشات پیش کی، بلکہ ان کے گھر پہنچ جاتے تھے۔ ان کا ہمیشہ کہنا رہا ہے کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ اور صرف الگ الگ ماں کی کھوکھ سے پیدا ہوئے، ورنہ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جبکہ لتا منگیشکر نے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

واضح رہے کہ دلیپ کمار کی آٹو بائیو گرافی میں ان کے بارے میں جتنے افراد نے الگ سے مضامین لکھے ہیں، ان کی اکثریت غیر مسلم شخصیات کی ہے، اور وہ دلیپ صاحب کو فلمی دنیا کا ایک اہم ستون سمجھتے ہیں۔

واضح دلیپ کمار نے آنجہانی لتا منگیشکر کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن بتایا تھا، اور وہ اکثر راکھی باندھنے پالی ہل پر دلیپ کمار سے ملاقات کے لیے جاتی تھیں، اور ان کی خیریت دریافت کرتی تھیں۔ دلیپ کمار کے ہمیشہ سے ہی سبھی سے تعلقات اچھے رہے، لیکن امیتابھ بچن، جیابچن، مہیش بھٹ، چندر شیکھر، یس چوپڑہ، دھرمیندر، ستارا دیوی، سبھاش گھئی، ڈاکٹر سرکانت گوکھلے، سنیل کپور، رشی کپور، منوج کمار، ہیمالنی، لتا منگیشکر، نندہ، بکل پٹیل، پیارے، ہیرالال، ہریش سالوے، رمیش سپی، وجنتی مالا وغیرہ سے خاندانی تعلقات رہے تھے۔ اس فہرست میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹ کے ممبر اور معروف تاجر آصف فاروقی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے تیس سالہ تعلقات کو پیش کرتے دلیپ صاحب کی بائیو گرافی میں تحریر کیا ہے کہ دلیپ صاحب نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ زندگی کے سفر میں بھی ان کی بھر پور رہنمائی کی تھی۔ انہوں نے ہی مشورہ دیا تھا کہ تعلیم اور سماجی بہبود کے کام سے ابتداء کرو، اسی سے سماج کی ترقی ہوتی ہے۔ صرف نام بلند کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ یہ سب سے بڑا سبق تھا، جو دلیپ کمار سے سیکھا تھا۔

انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب 1994 میں آنجہانی سنیل دت نے اخلاقی بنیاد پر اپنے پارلیمانی حلقہ انتخاب سے استعفیٰ دینا چاہا تھا، لیکن دلیپ کمار ان کے استعفیٰ کے خلاف تھے۔ ذہنی طور پر سنیل دت پریشان تھے، اور دلیپ کمار سنجے دت کی ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری سے پریشان سنیل دت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے نظر آئے، اور انہیں کسی بھی انتہائی قدم سے روکتے رہے تھے۔

آصف فاروقی نے کہاکہ د لیپ کمار کو افسانوی شخصیت اور سپر اسٹار جیسے خطابات اور القاب سے دنیا جانتی ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے سچے علمبردار تھے، انہیں ایک سچا انسان، عزت دار، جذباتی اور غیر مفاد پرست شخص کہہ سکتے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہم دونوں کی تین دہائیوں کی وابستگی تھی۔ اور اس پر فخر کرنا لازمی ہے۔

ان کے مطابق دلیپ کمار کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار اور یوسف خان کے درمیان فرق ہے، یوسف خان تو دلیپ کمار سے بہت زیادہ گھبراتا ہے۔ دراصل دلیپ کمار کی حقیقت خدا کو ہی پتہ ہے۔ یوسف خان وہ شخص ہے، جو دنیا کی راہوں سے بے نیاز رہا۔

ہندوستانی فلمی دنیا کے سب سے قدآور فن کار یوسف خان یعنی دلیپ کمار نے اپنی سوانح عمری میں اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ساتھ ساتھ لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، اٹل بہاری واجپئی، این سی پی رہنماء شرد پوار اور شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے اور ان کے اہل خانہ کے درمیان تعلقات کے ساتھ ہی اپنی سیاسی تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کو ‘نیا کردار نیک مقصد کی تئیں’ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔

دلیپ کمار، گنگا جمنا جیسی ان کی واحد فلم کے فلمساز بھی تھے، اور اہم رول بھی ادا کیا تھا، لیکن ڈکیتی کے موضوع پر بنائی جانے والی فلموں کو اس وقت سنسر بورڈ میں سخت سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن مرکزی وزیر برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر بی وی کیسکر نے اخلاقیات اور معاشرے میں پھیلتی بدامنی سے نوجوانوں کو روکنے کے مقصد کی بات کرتے تھے، اور وہ بضد رہے، لیکن اس درمیان دلیپ کمار نے وزیراعظم نہرو سے رابطہ کیا، اور ان کی ہدایت پر صرف گنگا جمنا ہی نہیں بلکہ دوسری فلموں کو بھی ایک دن قبل کلئیر کروا دیا گیا۔ جس پر سبھی نے چین کی سانس لی تھی۔

مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک کے قدآور لیڈر اور این سی پی رہنماء شرد پوار کیساتھ اپنے رشتوں کو دلیپ کمار نے 1967 سے بتایا تھا، جب وہ ممبئی سے تقریباً 250 کلومیٹر دور بارامتی ان کی انتخابی مہم میں حصہ لینے گئے تھے۔ دلیپ کمار رقم طراز ہیں کہ شردراو (پوار کو اسی انداز میں پکارتے ہیں) سے نصف صدی پرانے تعلقات ہیں، اور انہوں نے ہی 1980ء میں ممبئی کا شریف مقرر کیا تھا، (ممبئی میں یہ ایک اہم عہدہ ہے) واضح رہے کہ شرد پوار 1978 میں کانگریس سے بغاوت کے بعد مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ اور ریاست میں کافی مقبول و مضبوط ہوئے تھے اور آج بھی قدآور سیاست دان ہیں۔ اور آج بھی ان سے کافی اچھے رشتے ہیں۔

دلیپ کمارنے اپنی آپ بیتی میں اپنے پاکستان دورے کا بھی ذکر کیا ہے اور 1935 میں ممبئی ہجرت کے بعد زندگی میں دو مرتبہ پاکستان گئے، پہلی مرتبہ اپریل 1988 آبائی وطن پشاور کے قصہ خوانی بازار بھی گئے اور کراچی ولاہور بھی اور دوسری بار 1998 میں گئے تھے، دراصل انہیں امتیاز پاکستان دینے کا اعلان کیاگیااور اس درمیان انہوں نے عمران خان کے کنیسر اسپتال کابھی دورہ کیا تھا جو کہ ان کی والدہ کے نام سے منسوب ہے۔

آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے دلیپ کمار کے بارے میں کہاکہ “آپ ایک فن کار ہیں اور فن کار کے لیے کسی بھی طرح کی سیاسی یا جغرافیائی پابندی نہیں ہونا چاہیئے، آپ نے ہمیشہ انسانی حقوق اور انسانیت کی بقا کے لیے کام کیا ہے۔ آپ جیسے فن کاروں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی رشتہ استوار ہوں گے۔

دلیپ کمار نے راج کپور اینڈ فیملی، سنیل دت، دھرمیندر، منوج کمار، پران، اور دیگر اداکاروں کے ساتھ بہتر اور گھر جیسے تعلقات کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔

آنجہانی شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے کے بارے میں دلیپ صاحب کا کہنا ہے کہ “میرا خیال ہے کہ وہ ضرور ‘ٹائیگر’ کے طور پر مشہور تھے، لیکن شیوسینا سربراہ کومیں ایک ‘شیر ببر’ سمجھتا ہوں، جو کہ اپنی قیادت اور سیاسی قد کے سبب اپنے پرستاروں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو 1966 کے پہلے سے جانتے تھے، جب شیوسینا بھی نہیں بنی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے پیشے یعنی وہ میرے فن کی اور میں ان کے کارٹون کو پسند اور قدر کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دلیپ کمار کے انتقال پر سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور بیٹے ادیتیہ ٹھاکرے نے گھر پہنچ کے تعزیت پیش کی تھی۔”

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے، جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔

ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ 1998 میں فلم ‘قلعہ’ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ کئی سال علالت کے بعد امسال 7، جولائی مکو انتقال کر گئے۔ لیکن شہنشاہ جذبات یوسف خان کو فلمی صنعت اور گنگا جمنی تہذیب کے حامی کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔

گزشتہ سال 7 جولائی 2021ء کو بالی وڈ کے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کا انتقال 98، سال کی عمر میں ہوا تھا۔ دلیپ کمار کا اصلی نام محمد یوسف خان تھا۔ وہ ۱۱ دسمبر ۱۹۴۲ء کو پشاور (جو اب پاکستان کا حصہ ہے) میں پیدا ہوۓ تھے۔ ان کے والد کا نام لالہ غلام سرور اعوان جبکہ والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا۔ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ان کا آبائی مکان آج بھی محفوظ ہے، اور اسے حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ دلیپ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ۱۹۳۵ء میں ممبئی کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔ اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے۔ یہ کام وہ والد کے ساتھ کرتے رہے۔ انہوں نے پونے کی ایک فوجی کینٹین میں بھی کام کیا۔ تاہم، چند برسوں بعد ممبئی واپس آگئے۔ کچھ عرصے بعد اس وقت کی معروف اداکارہ دیویکارانی اور ان کے شوہر ہمانشو راۓ کی نظر یوسف خان پر پڑی۔ اس خوبرو نوجوان سے بات چیت کے بعد انہیں فلم میں اداکاری کی پیشکش کی گئی۔ دیویکا رانی نے ہی انہیں یوسف خان کے بجاۓ دلیپ کمار نام اپنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ دلیپ کمار کی بطور اداکار ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’جوار بھاٹا‘ (1944) تھی۔ یہ فلم کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ تاہم 3 سال بعد 1947ء میں انہوں نے نور جہاں کے ساتھ فلم ’جگنو‘ کی، جو باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اس کے بعد فلمی دنیا میں وہ تیزی سے مشہور ہوۓ۔

مشہور فلموں میں آن، دیوداس، آزاد، مغل اعظم، گنگا جمنا، انقلاب، بیراگ، سگینہ، داستان، شکتی، کرما، نیا دور، مسافر، مدھو متی، مزدور، شہید، دنیا، کرانتی، اور سوداگر وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے 1966ء میں اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی تھی۔

(Lifestyle) طرز زندگی

نک جونس کی سالگرہ پر پریانکا چوپڑا نے بیٹی مالتی کے والد کے ساتھ گانے گاتے ہوئے دلکش ویڈیو شیئر کی

Published

on

ممبئی : گلوکار اور اداکار نک جونس جمعرات کو 34 برس کے ہو گئے، اور ان کی اہلیہ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے سوشل میڈیا پر سالگرہ کی تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے خاص دن کو اور بھی یادگار بنا دیا۔ دیسی گرل نے انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز کا مجموعہ شیئر کیا، جس میں جوڑے کے کچھ خاص لمحات کی جھلک پیش کی گئی۔ پوسٹ کا آغاز پرینکا کی نک کے گال پر بوسہ دینے کی تصویر کے ساتھ ہوا۔ نک کو ایک کیپ پہنے ہوئے دیکھا گیا جس میں زندہ دل پیغام تھا، ‘معذرت کیجیے ہم گولف کھیل رہے ہیں۔’ اداکارہ نے اس کے بعد نک کے ساتھ واضح لمحات کا ایک سلسلہ شیئر کیا۔ تصویروں میں سے ایک میں انہیں ایک گاڑی کے اندر پوز دیتے ہوئے دکھایا گیا جسے ان کی سالگرہ کی تقریبات کے لیے سجایا گیا تھا۔ پوسٹ کے آخر میں سب سے پیارا لمحہ آیا، جب پریانکا نے اپنی بیٹی مالتی میری چوپڑا جوناس کے ساتھ کچھ میوزیکل وقت گزارنے کی ویڈیو شیئر کی۔ کلپ میں، مالتی کو گاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے جبکہ نک اس کے ساتھ پیانو بجا رہے ہیں۔

کیپشن کے لیے، ‘کوانٹیکو’ اداکارہ نے لکھا، “اس شخص کو سالگرہ مبارک ہو جو ہمارے تمام خوابوں کو پورا کرتا ہے.. روز۔ ہم آپ سے پیار کرتے ہیں گاگا۔ @ نک جونس کی سالگرہ پر، پریانکا چوپڑا نے بیٹی مالتی کے والد کے ساتھ گانے گاتے ہوئے دلکش ویڈیو شیئر کی @ مالٹی میری پر آواز دیں۔” پریانکا کی والدہ مدھو چوپڑا بھی نک کو اپنی نیک خواہشات بھیج کر سالگرہ کی تقریبات میں شامل ہوئیں۔ اس نے نک کے اپنے بھائیوں کیون اور جو جوناس کے ساتھ ساتھ مالتی کے ساتھ کئی تصاویر پوسٹ کیں۔ اس کے ساتھ، اس نے لکھا، “سالگرہ مبارک ہو، @ نک جونس کی سالگرہ پر، پریانکا چوپڑا نے بیٹی مالتی کے والد کے ساتھ گانے گاتے ہوئے دلکش ویڈیو شیئر کیآپ کو ہمارے خاندان کا حصہ بنانے کے لیے بہت مشکور ہوں۔ آپ صرف میرے داماد ہی نہیں ہیں بلکہ واقعی میرے لیے ایک بیٹے کی طرح ہیں۔” پریانکا چوپڑا اور نک جونس پہلی بار ایکس پر براہ راست پیغامات کے ذریعے جڑے تھے، جو بالآخر ایک رشتے میں بدل گئے۔ ایک مختصر صحبت کے بعد، جوڑے نے اگست 2018 میں منگنی کر لی۔ اس سال کے بعد، جوڑے نے راجستھان میں عیسائی اور ہندو دونوں تقریبات میں شادی کی منتیں منا کر روایتی رسوم و رواج کے ساتھ اپنے اتحاد کا جشن منایا۔ جنوری 2022 میں، جوڑے نے سروگیسی کے ذریعے اپنی بیٹی مالتی میری چوپڑا جوناس کا استقبال کیا۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

کنگنارناوت کا راکھی ساونت کو کرارا جواب، کہا وہ تو صفائی کارکن کی نوکری کے لیے بھی اہل نہیں ہوں گی

Published

on

ممبئی : اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت نے راکھی ساونت کی جانب سے ان پر کئے گئے شدید حملے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اداکارہ پیر کے روز اپنے انسٹاگرام کے اسٹوریز سیکشن میں گئیں، اور راکھی کے تبصروں کے ساتھ ایک رپورٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ کنگنا نے راکھی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک لمبا نوٹ لکھا، اور کہا کہ تمام تر ترغیبات کے باوجود، راکھی “جھاڑو دینے والے کی نوکری” کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے لکھا، “نہ صرف وہ بلکہ سب سے زیادہ کامیاب ہیں اور خواتین اپنے کردار کو تیز کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں حسد/حسد، ناکامیاں اور انا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس طرح کے متواتر، شدید حملوں اور عوامی کردار کے قتل کا شکار ہونا چھوڑ دیں، ہمیں ذلت اور تکلیف محسوس کرنا چھوڑ دینا چاہیے اور خود کو سمجھانا چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘

اس نے مزید کہا، “تو ہاں میرے پیارے! یہاں تک کہ آپ کامیابی کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں لیکن اندازہ لگائیں کہ کیا!! بدقسمتی سے کسی کو آپ سے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، یاد رکھیں آپ کے تمام احسانات کے ساتھ آپ کو کبھی جھاڑو دینے والے کی نوکری بھی نہیں ملی یہاں تک کہ اس کے لیے کسی کوالٹی اور ٹیلنٹ کی بھی ضرورت ہے، اس لیے یقین دہانی کرائیں کہ فیورٹ یا کوئی احسان نہیں ہے کہ آپ کہیں بھی جا کر بیٹھتے رہیں، تو آپ کو دیکھتا رہوں گا۔ کنگنا کا ردعمل راکھی ساونت کے بی جے پی لیڈروں کے خلاف جنسی بے راہ روی پر برہم ہونے کے بعد آیا ہے۔ راکھی نے یہ ریمارکس ایک پوڈ کاسٹ کے دوران کیے، اور تضحیک آمیز ریمارکس کیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کنگنا رناوت اور اسمرتی ایرانی دونوں کا سیاسی سیڑھی میں ابھرنے کے پیچھے ایک مضحکہ خیز ماضی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راکھی نے کنگنا رناوت کو ذاتی اور بدسلوکی کے ساتھ نشانہ بنایا ہو۔ سی جے پی کے احتجاج سے متعلق تنازعہ کے دوران، راکھی ساونت نے کنگنا رناوت کو جنرل زیڈ ایس کے بارے میں کنگنا کے تبصروں پر “چڈیل” اور “گٹر منہ” کہا۔ کنگنا اپنے ذہن کی بات کہنے اور ان لوگوں کو واپس دینے کے لیے جانی جاتی ہیں جو اس کے ساتھ لائنیں عبور کرتے ہیں۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

ٹورنٹو کنسرٹ کے بعد شریا گھوشال جذباتی ہو گئیں : ایک ایسی رات جسے میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی

Published

on

ممبئی : پلے بیک گلوکارہ شریا گھوشال نے اپنے حالیہ ٹورنٹو کنسرٹ کے بارے میں کھل کر کہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سامعین کے زبردست ردعمل نے انہیں جذباتی اور شکر گزار بنا دیا۔ انسٹاگرام پر جاتے ہوئے، شریا نے کنسرٹ کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ رات تھی جسے وہ طویل عرصے تک پسند کریں گی۔ انہوں نے سامعین کی بڑی تعداد میں آنے اور پرجوش انداز میں ان کے ساتھ گانا گانے پر بھی شکریہ ادا کیا۔” ٹورنٹو، تم کچھ اور تھے وہ رات جسے میں طویل عرصے تک اپنے ساتھ لے کر رہوں گی۔ تم نے مجھے اتنا جذباتی چھوڑ دیا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ میں اس بلندی کے بعد آج رات سو پاؤں گی۔”

گلوکارہ نے اپنے مداحوں کا ان کے زبردست ردعمل اور کنسرٹ میں لائی جانے والی توانائی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا، “اتنی بڑی تعداد میں حاضر ہونے اور ساتھ گانا گانے کے لیے آپ کا شکریہ! میں نے آپ سب کے لیے پرفارم کرتے ہوئے ایک مکمل دھماکا کیا تھا۔ خوش نصیب اور ہمیشہ کے لیے شکر گزار ہوں! آپ کی نہ رکنے والی توانائی گنپتی بپا موریا کے لیے آپ کا شکریہ،” انہوں نے مزید کہا۔ شریا نے کنسرٹ کی تصاویر بھی شیئر کیں، جہاں وہ اسٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے سامعین کے لیے گاتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ ہجوم کو گلوکار کے لیے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور حمایت میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسٹیڈیم ایک بڑے ہجوم سے بھرا ہوا ہے، جس میں مداح گلوکار کو خوش کرنے کے لیے بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔ شریا گھوشال نے حال ہی میں کینیڈا میں اپنے ‘دی انسٹاپ ایبل ٹور 2026’ کے حصے کے طور پر پرفارم کیا، جو شمالی امریکہ میں اس کا طویل ترین دورہ ہے۔ یورپ، آسٹریلیا اور ایشیا میں کامیاب پرفارمنس کے بعد، گلوکارہ نے اپنا موسیقی کا سفر شمالی امریکہ تک پہنچایا، جس میں ستمبر کے دوران امریکہ اور کینیڈا کے 12 شہروں کا احاطہ کیا گیا۔

کنسرٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، شریا گھوشال نے میڈیا کو بتایا، “یہ ٹور میرے دل میں بہت خاص مقام رکھتا ہے اور پورے ‘نا رکنے’ کے سفر میں ایک تاریخی باب کی نشاندہی کرتا ہے۔ دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں، یہ ایک ہی مہینے میں شمالی امریکہ کا میرا سب سے طویل دورہ ہوگا، اور میں واپس آ کر حقیقی طور پر پرجوش ہوں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان