(Lifestyle) طرز زندگی
دلیپ کمارکی پہلی برسی پر اداکار کو یاد کیا گیا
فلمی دنیا کے شہنشاہ جذبات مرحوم یوسف خان عرف دلیپ کمار کی پہلی برسی پر اداکار کو ملک بھر میں یاد کیا گیا۔ جبکہ آج بعد نماز عصر مرحوم کے پرستاروں نے شمال مغربی ممبئی کے جوہو قبرستان میں فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر معروف تاجر اور خاندانی دوست آصف فاروقی نے بھی شرکت کی، اور مطلع کیا کہ پالی ہل پر واقع مرحوم دلیپ کمار کی رہائش گاہ پر ان کی بیوہ اور اداکارہ سائرہ بانو نے نماز ظہر سے مغرب تک قرآن خوانی بھی رکھی، جس میں اہل خانہ، رشتہ داروں اور فلمی دنیا سے وابستہ فن کاروں نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے شہنشاہ جذبات جنہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کہا جاتا تھا، گزشتہ سال 7، جولائی کو داعی جل کو لبیک کہا تھا۔ اور ان کی برسی پر ان کے پرستار اور قریبی ان کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ اور خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
معروف اداکار اور خاندانی دوست دھرمیندر نے ہمیشہ سالگرہ پر نیک خواہشات پیش کی، بلکہ ان کے گھر پہنچ جاتے تھے۔ ان کا ہمیشہ کہنا رہا ہے کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ اور صرف الگ الگ ماں کی کھوکھ سے پیدا ہوئے، ورنہ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جبکہ لتا منگیشکر نے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
واضح رہے کہ دلیپ کمار کی آٹو بائیو گرافی میں ان کے بارے میں جتنے افراد نے الگ سے مضامین لکھے ہیں، ان کی اکثریت غیر مسلم شخصیات کی ہے، اور وہ دلیپ صاحب کو فلمی دنیا کا ایک اہم ستون سمجھتے ہیں۔
واضح دلیپ کمار نے آنجہانی لتا منگیشکر کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن بتایا تھا، اور وہ اکثر راکھی باندھنے پالی ہل پر دلیپ کمار سے ملاقات کے لیے جاتی تھیں، اور ان کی خیریت دریافت کرتی تھیں۔ دلیپ کمار کے ہمیشہ سے ہی سبھی سے تعلقات اچھے رہے، لیکن امیتابھ بچن، جیابچن، مہیش بھٹ، چندر شیکھر، یس چوپڑہ، دھرمیندر، ستارا دیوی، سبھاش گھئی، ڈاکٹر سرکانت گوکھلے، سنیل کپور، رشی کپور، منوج کمار، ہیمالنی، لتا منگیشکر، نندہ، بکل پٹیل، پیارے، ہیرالال، ہریش سالوے، رمیش سپی، وجنتی مالا وغیرہ سے خاندانی تعلقات رہے تھے۔ اس فہرست میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹ کے ممبر اور معروف تاجر آصف فاروقی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے تیس سالہ تعلقات کو پیش کرتے دلیپ صاحب کی بائیو گرافی میں تحریر کیا ہے کہ دلیپ صاحب نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ زندگی کے سفر میں بھی ان کی بھر پور رہنمائی کی تھی۔ انہوں نے ہی مشورہ دیا تھا کہ تعلیم اور سماجی بہبود کے کام سے ابتداء کرو، اسی سے سماج کی ترقی ہوتی ہے۔ صرف نام بلند کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ یہ سب سے بڑا سبق تھا، جو دلیپ کمار سے سیکھا تھا۔
انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب 1994 میں آنجہانی سنیل دت نے اخلاقی بنیاد پر اپنے پارلیمانی حلقہ انتخاب سے استعفیٰ دینا چاہا تھا، لیکن دلیپ کمار ان کے استعفیٰ کے خلاف تھے۔ ذہنی طور پر سنیل دت پریشان تھے، اور دلیپ کمار سنجے دت کی ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری سے پریشان سنیل دت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے نظر آئے، اور انہیں کسی بھی انتہائی قدم سے روکتے رہے تھے۔
آصف فاروقی نے کہاکہ د لیپ کمار کو افسانوی شخصیت اور سپر اسٹار جیسے خطابات اور القاب سے دنیا جانتی ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے سچے علمبردار تھے، انہیں ایک سچا انسان، عزت دار، جذباتی اور غیر مفاد پرست شخص کہہ سکتے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہم دونوں کی تین دہائیوں کی وابستگی تھی۔ اور اس پر فخر کرنا لازمی ہے۔
ان کے مطابق دلیپ کمار کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار اور یوسف خان کے درمیان فرق ہے، یوسف خان تو دلیپ کمار سے بہت زیادہ گھبراتا ہے۔ دراصل دلیپ کمار کی حقیقت خدا کو ہی پتہ ہے۔ یوسف خان وہ شخص ہے، جو دنیا کی راہوں سے بے نیاز رہا۔
ہندوستانی فلمی دنیا کے سب سے قدآور فن کار یوسف خان یعنی دلیپ کمار نے اپنی سوانح عمری میں اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ساتھ ساتھ لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، اٹل بہاری واجپئی، این سی پی رہنماء شرد پوار اور شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے اور ان کے اہل خانہ کے درمیان تعلقات کے ساتھ ہی اپنی سیاسی تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کو ‘نیا کردار نیک مقصد کی تئیں’ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔
دلیپ کمار، گنگا جمنا جیسی ان کی واحد فلم کے فلمساز بھی تھے، اور اہم رول بھی ادا کیا تھا، لیکن ڈکیتی کے موضوع پر بنائی جانے والی فلموں کو اس وقت سنسر بورڈ میں سخت سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن مرکزی وزیر برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر بی وی کیسکر نے اخلاقیات اور معاشرے میں پھیلتی بدامنی سے نوجوانوں کو روکنے کے مقصد کی بات کرتے تھے، اور وہ بضد رہے، لیکن اس درمیان دلیپ کمار نے وزیراعظم نہرو سے رابطہ کیا، اور ان کی ہدایت پر صرف گنگا جمنا ہی نہیں بلکہ دوسری فلموں کو بھی ایک دن قبل کلئیر کروا دیا گیا۔ جس پر سبھی نے چین کی سانس لی تھی۔
مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک کے قدآور لیڈر اور این سی پی رہنماء شرد پوار کیساتھ اپنے رشتوں کو دلیپ کمار نے 1967 سے بتایا تھا، جب وہ ممبئی سے تقریباً 250 کلومیٹر دور بارامتی ان کی انتخابی مہم میں حصہ لینے گئے تھے۔ دلیپ کمار رقم طراز ہیں کہ شردراو (پوار کو اسی انداز میں پکارتے ہیں) سے نصف صدی پرانے تعلقات ہیں، اور انہوں نے ہی 1980ء میں ممبئی کا شریف مقرر کیا تھا، (ممبئی میں یہ ایک اہم عہدہ ہے) واضح رہے کہ شرد پوار 1978 میں کانگریس سے بغاوت کے بعد مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ اور ریاست میں کافی مقبول و مضبوط ہوئے تھے اور آج بھی قدآور سیاست دان ہیں۔ اور آج بھی ان سے کافی اچھے رشتے ہیں۔
دلیپ کمارنے اپنی آپ بیتی میں اپنے پاکستان دورے کا بھی ذکر کیا ہے اور 1935 میں ممبئی ہجرت کے بعد زندگی میں دو مرتبہ پاکستان گئے، پہلی مرتبہ اپریل 1988 آبائی وطن پشاور کے قصہ خوانی بازار بھی گئے اور کراچی ولاہور بھی اور دوسری بار 1998 میں گئے تھے، دراصل انہیں امتیاز پاکستان دینے کا اعلان کیاگیااور اس درمیان انہوں نے عمران خان کے کنیسر اسپتال کابھی دورہ کیا تھا جو کہ ان کی والدہ کے نام سے منسوب ہے۔
آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے دلیپ کمار کے بارے میں کہاکہ “آپ ایک فن کار ہیں اور فن کار کے لیے کسی بھی طرح کی سیاسی یا جغرافیائی پابندی نہیں ہونا چاہیئے، آپ نے ہمیشہ انسانی حقوق اور انسانیت کی بقا کے لیے کام کیا ہے۔ آپ جیسے فن کاروں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی رشتہ استوار ہوں گے۔
دلیپ کمار نے راج کپور اینڈ فیملی، سنیل دت، دھرمیندر، منوج کمار، پران، اور دیگر اداکاروں کے ساتھ بہتر اور گھر جیسے تعلقات کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔
آنجہانی شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے کے بارے میں دلیپ صاحب کا کہنا ہے کہ “میرا خیال ہے کہ وہ ضرور ‘ٹائیگر’ کے طور پر مشہور تھے، لیکن شیوسینا سربراہ کومیں ایک ‘شیر ببر’ سمجھتا ہوں، جو کہ اپنی قیادت اور سیاسی قد کے سبب اپنے پرستاروں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو 1966 کے پہلے سے جانتے تھے، جب شیوسینا بھی نہیں بنی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے پیشے یعنی وہ میرے فن کی اور میں ان کے کارٹون کو پسند اور قدر کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دلیپ کمار کے انتقال پر سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور بیٹے ادیتیہ ٹھاکرے نے گھر پہنچ کے تعزیت پیش کی تھی۔”
دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے، جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔
ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ 1998 میں فلم ‘قلعہ’ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ کئی سال علالت کے بعد امسال 7، جولائی مکو انتقال کر گئے۔ لیکن شہنشاہ جذبات یوسف خان کو فلمی صنعت اور گنگا جمنی تہذیب کے حامی کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔
گزشتہ سال 7 جولائی 2021ء کو بالی وڈ کے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کا انتقال 98، سال کی عمر میں ہوا تھا۔ دلیپ کمار کا اصلی نام محمد یوسف خان تھا۔ وہ ۱۱ دسمبر ۱۹۴۲ء کو پشاور (جو اب پاکستان کا حصہ ہے) میں پیدا ہوۓ تھے۔ ان کے والد کا نام لالہ غلام سرور اعوان جبکہ والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا۔ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ان کا آبائی مکان آج بھی محفوظ ہے، اور اسے حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ دلیپ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ۱۹۳۵ء میں ممبئی کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔ اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے۔ یہ کام وہ والد کے ساتھ کرتے رہے۔ انہوں نے پونے کی ایک فوجی کینٹین میں بھی کام کیا۔ تاہم، چند برسوں بعد ممبئی واپس آگئے۔ کچھ عرصے بعد اس وقت کی معروف اداکارہ دیویکارانی اور ان کے شوہر ہمانشو راۓ کی نظر یوسف خان پر پڑی۔ اس خوبرو نوجوان سے بات چیت کے بعد انہیں فلم میں اداکاری کی پیشکش کی گئی۔ دیویکا رانی نے ہی انہیں یوسف خان کے بجاۓ دلیپ کمار نام اپنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ دلیپ کمار کی بطور اداکار ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’جوار بھاٹا‘ (1944) تھی۔ یہ فلم کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ تاہم 3 سال بعد 1947ء میں انہوں نے نور جہاں کے ساتھ فلم ’جگنو‘ کی، جو باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اس کے بعد فلمی دنیا میں وہ تیزی سے مشہور ہوۓ۔
مشہور فلموں میں آن، دیوداس، آزاد، مغل اعظم، گنگا جمنا، انقلاب، بیراگ، سگینہ، داستان، شکتی، کرما، نیا دور، مسافر، مدھو متی، مزدور، شہید، دنیا، کرانتی، اور سوداگر وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے 1966ء میں اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی تھی۔
(Lifestyle) طرز زندگی
فرح خان نے ‘لاک اپ’ کو اپنا ڈریم جاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اب تک کا بہترین ریئلٹی شو ہے۔

ممبئی : فلمساز اور کوریوگرافر فرح خان اس وقت ریئلٹی شو “لاک اپ: سچ یٰسزا” کی شریک میزبانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے شو میں اپنے سفر کو یادگار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شو کی میزبانی کرنا ان کے لیے ایک بہت ہی خاص تجربہ تھا اور اسے خوابیدہ کام قرار دیا۔ اس شو کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرح خان نے کہا، “ہر کوئی جانتا ہے کہ میں ریئلٹی ٹی وی کے بارے میں کتنی پرجوش ہوں، اس لیے جب میں کہتی ہوں کہ ‘لاک اپ’ میں نے کبھی دیکھا ہے تو سب سے بہترین رئیلٹی شو ہے، میں واقعی اس پر یقین رکھتی ہوں۔ یہ صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ میں اس کی میزبانی کرتی ہوں، بلکہ ایک ناظر کے طور پر بھی مجھے یہ پسند ہے۔”
اس نے مزید کہا، “شو کے بارے میں زبردست جوش و خروش ہے۔ میں جہاں بھی جاتی ہوں، لوگ مجھ سے ‘لاک اپ’ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ چاہے وہ انڈسٹری کے دوست ہوں، وہ لوگ جن سے میں ہوائی اڈے پر ملتا ہوں، وہ لوگ جن سے میں فلم بندی کے دوران ملتا ہوں، یا مداح، ہر کوئی شو سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔” یہ شو اب صرف ایک رئیلٹی شو نہیں رہا بلکہ یہ پاپ کلچر کا ایک بڑا رجحان بن گیا ہے۔ فرح نے وضاحت کی، “شو کے پروڈیوسر ایکتا کپور اور نیٹ فلکس نے مجھے اور اداکار رتیش دیش مکھ کو ایک تجربے کا حصہ بننے کا موقع دیا جہاں ہم نے مقابلہ کرنے والوں کی زندگی کے بہت سے ان دیکھے پہلوؤں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ شو صرف لڑائیوں اور بحثوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ لوگوں کی تبدیلی کو بھی دکھایا گیا ہے اور بعض اوقات یہ خود کو دوسروں کے ساتھ جوڑتا ہے اور خود کو دریافت کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں سے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔”
فرح نے نیٹ فلکس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “‘لاک اپ’ کی میزبانی میرے لیے ایک خوابیدہ تجربہ رہا ہے۔” شو کے دوسرے میزبان رتیش دیش مکھ نے بھی اس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “شو پر ناظرین کا ردعمل زبردست رہا ہے، اور تین ہفتوں میں 50 ملین ویوز کو عبور کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ شو کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔” اس سفر نے مجھے سکھایا کہ ہر شخص کے اندر ایک کہانی ہوتی ہے جسے پہلی نظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’شو کے دوران مقابلہ کرنے والوں کو ان کے خوف، کمزوریوں اور چھپے ہوئے جذبات کا سامنا کرتے ہوئے دیکھنا ایک گہرا متحرک تجربہ رہا ہے۔ ‘لاک اپ’ نے ان مسائل کے بارے میں بات چیت کو جنم دیا ہے جن کے بارے میں لوگ اکثر کھل کر بات نہیں کرتے ہیں۔ آپ جذبات کو اسکرپٹ نہیں کر سکتے ہیں، اور شاید اسی وجہ سے شو بہت سارے لوگوں کے ساتھ گونج رہا ہے۔”
(Lifestyle) طرز زندگی
سلمان خان صحت اور نظر پر بحث کے درمیان اپنے سویگ کو برقرار رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ‘آپ سب کیسے ہیں؟’

ممبئی : بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اپنی صحت اور ظاہری شکل کے حوالے سے ہونے والی بحث کا جواب اپنی خصوصیت اور ذہانت سے دیا ہے۔ تنقید کا براہ راست جواب دینے کے بجائے، سپر اسٹار نے اپنی تازہ ترین تصاویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیں اور لوگوں کے سوال کو پلٹ دیا۔ سلمان نے اپنی کچھ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر شیئر کیں، جس میں وہ گہرے کپڑوں اور کاؤ بوائے کیپ میں نظر آ رہے ہیں۔ پوسٹ کے ساتھ مخصوص کیپشن بھی تھا، “آپ سب کیسے ہیں؟” یہ پوسٹ اس کے فوراً بعد سامنے آئی جب اداکار کو سلم ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی (ایس آر اے) کے دفتر میں دیکھا گیا، جس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
اس تقریب کی ویڈیو کو آن لائن طرح طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے 60 سالہ اداکار کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، جب کہ دوسروں نے ان کی ظاہری شکل کا مذاق بھی اڑایا، اور یہ تجویز کیا کہ وہ عمر کے آثار دکھا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، “سلمان خان بوڑھے ہو رہے ہیں، وہ 60 سال کے ہو گئے ہیں۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، کوئی کتنا ہی بڑا اسٹار کیوں نہ ہو، وقت کے اثرات نظر آتے ہیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، “یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا، اس کی آنکھوں میں صاف نظر آرہا ہے کہ وہ کتنا تھکا ہوا اور غیر صحت مند دکھائی دے رہا ہے۔” ایک اور صارف نے پوچھا کہ دوستو، سلمان خان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ ذرا ان کا چہرہ دیکھو۔
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، “90 کی دہائی کے تمام اداکاروں میں، سلمان خان نے سب سے زیادہ عمر بڑھنے کے اثرات دکھائے ہیں۔ یہ شارٹ کٹس اور سٹیرائڈز لینے کا نتیجہ ہے۔ بچے، فٹ رہیں، صحت مند کھائیں، اور قدرتی جسم بنائیں۔ یہ آدمی اپنی آنے والی فلموں میں اپنے مداحوں کے ساتھ جو سب سے بڑا دھوکہ کرے گا وہ یہ ہے کہ وہ اپنے جسم کو چھپانے کے لیے بھاری وی ایف ایکس کا استعمال کرے گا”۔ حقیقی۔” سپر اسٹار کو اپنے مداحوں کی جانب سے بھی پذیرائی ملی، جن میں سے بہت سے لوگوں نے ان کی عمر کے بارے میں ہونے والے لطیفوں پر تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا، “سلمان خان کو کچھ نہیں ہوا، وہ بغیر میک اپ کے 60 سال سے زیادہ عمر کے عام آدمی ہیں۔” کام کے محاذ پر، سلمان اپوروا لاکھیا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “مترھومی” کی ریلیز کی تیاری کر رہے ہیں۔
(Lifestyle) طرز زندگی
فلم میں اپنے کرداروں کے لیے مشہور اداکار ستیش شاہ 25 اکتوبر کو 74 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے۔

‘سارہ بھائی بمقابلہ سارابھائی’ میں اپنے کردار کے لیے مشہور اداکار ستیش شاہ کا 25 اکتوبر کو انتقال ہوگیا۔ 74 سالہ اداکار گردے سے متعلق مسائل میں مبتلا تھے۔ ‘سارابھائی بمقابلہ سارا بھائی’، ‘جانے بھی دو یارو’ اور ‘میں ہوں نا’ میں اپنے کرداروں کے لیے مشہور اداکار طویل عرصے سے گردے سے متعلق مسائل سے لڑ رہے تھے اور حال ہی میں ان کا گردے کی پیوند کاری ہوئی تھی۔ ان کے منیجر رمیش نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لاش اسپتال میں ہے اور اتوار کو ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ رمیش نے کہا، “آج دوپہر تقریباً 2 سے 2.30 بجے ان کا انتقال ہو گیا۔ خاندان اب بھی آخری رسومات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔”
مانڈوی، گجرات میں 1950 یا 1951 میں پیدا ہوئے، ستیش روی لال شاہ نے زیویئر کالج سے گریجویشن کیا اور بعد میں فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا سے تعلیم حاصل کی۔ ستیش شاہ 250 سے زیادہ فلموں اور متعدد ٹیلی ویژن شوز میں نظر آئے۔ چار دہائیوں پر محیط کیرئیر میں، ستیش شاہ فلم اور ٹیلی ویژن دونوں میں اپنے یادگار کرداروں کے ذریعے ایک گھر کا نام بن گئے۔ انہوں نے 1983 کے طنزیہ تصنیف “جانے بھی دو یارو” میں اپنے کام کے لئے خاص پہچان حاصل کی جہاں انہوں نے متعدد کردار ادا کئے۔ ان کی فلموگرافی میں “ہم ساتھ ساتھ ہیں،” “میں ہوں نا،” “کل ہو نا ہو،” “کبھی ہان کبھی نا،” “دل والے دلہنیا لے جائیں گے،” اور “اوم شانتی اوم” جیسی کامیاب فلمیں بھی شامل ہیں۔
ٹیلی ویژن پر، “سارابھائی بمقابلہ سارابھائی” میں اندراودن سارا بھائی کی شاہ کی تصویر کشی ہندوستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ کے سب سے مشہور مزاحیہ کرداروں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے 1984 کے مشہور سیٹ کام “یہ جو ہے زندگی” میں بھی کام کیا، جس کا آج بھی چرچا ہے۔ 2014 میں ان کی فلم “ہمشکلز” کے فلاپ ہونے کے بعد، انہوں نے فلم کی آفرز لینا چھوڑ دیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
