Connect with us
Sunday,31-August-2025
تازہ خبریں

(Lifestyle) طرز زندگی

دلیپ کمارکی پہلی برسی پر اداکار کو یاد کیا گیا

Published

on

Dilip Kumar

فلمی دنیا کے شہنشاہ جذبات مرحوم یوسف خان عرف دلیپ کمار کی پہلی برسی پر اداکار کو ملک بھر میں یاد کیا گیا۔ جبکہ آج بعد نماز عصر مرحوم کے پرستاروں نے شمال مغربی ممبئی کے جوہو قبرستان میں فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر معروف تاجر اور خاندانی دوست آصف فاروقی نے بھی شرکت کی، اور مطلع کیا کہ پالی ہل پر واقع مرحوم دلیپ کمار کی رہائش گاہ پر ان کی بیوہ اور اداکارہ سائرہ بانو نے نماز ظہر سے مغرب تک قرآن خوانی بھی رکھی، جس میں اہل خانہ، رشتہ داروں اور فلمی دنیا سے وابستہ فن کاروں نے بھی شرکت کی۔

واضح رہے شہنشاہ جذبات جنہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کہا جاتا تھا، گزشتہ سال 7، جولائی کو داعی جل کو لبیک کہا تھا۔ اور ان کی برسی پر ان کے پرستار اور قریبی ان کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ اور خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

معروف اداکار اور خاندانی دوست دھرمیندر نے ہمیشہ سالگرہ پر نیک خواہشات پیش کی، بلکہ ان کے گھر پہنچ جاتے تھے۔ ان کا ہمیشہ کہنا رہا ہے کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ اور صرف الگ الگ ماں کی کھوکھ سے پیدا ہوئے، ورنہ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جبکہ لتا منگیشکر نے ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

واضح رہے کہ دلیپ کمار کی آٹو بائیو گرافی میں ان کے بارے میں جتنے افراد نے الگ سے مضامین لکھے ہیں، ان کی اکثریت غیر مسلم شخصیات کی ہے، اور وہ دلیپ صاحب کو فلمی دنیا کا ایک اہم ستون سمجھتے ہیں۔

واضح دلیپ کمار نے آنجہانی لتا منگیشکر کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن بتایا تھا، اور وہ اکثر راکھی باندھنے پالی ہل پر دلیپ کمار سے ملاقات کے لیے جاتی تھیں، اور ان کی خیریت دریافت کرتی تھیں۔ دلیپ کمار کے ہمیشہ سے ہی سبھی سے تعلقات اچھے رہے، لیکن امیتابھ بچن، جیابچن، مہیش بھٹ، چندر شیکھر، یس چوپڑہ، دھرمیندر، ستارا دیوی، سبھاش گھئی، ڈاکٹر سرکانت گوکھلے، سنیل کپور، رشی کپور، منوج کمار، ہیمالنی، لتا منگیشکر، نندہ، بکل پٹیل، پیارے، ہیرالال، ہریش سالوے، رمیش سپی، وجنتی مالا وغیرہ سے خاندانی تعلقات رہے تھے۔ اس فہرست میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹ کے ممبر اور معروف تاجر آصف فاروقی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے تیس سالہ تعلقات کو پیش کرتے دلیپ صاحب کی بائیو گرافی میں تحریر کیا ہے کہ دلیپ صاحب نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ زندگی کے سفر میں بھی ان کی بھر پور رہنمائی کی تھی۔ انہوں نے ہی مشورہ دیا تھا کہ تعلیم اور سماجی بہبود کے کام سے ابتداء کرو، اسی سے سماج کی ترقی ہوتی ہے۔ صرف نام بلند کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ یہ سب سے بڑا سبق تھا، جو دلیپ کمار سے سیکھا تھا۔

انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب 1994 میں آنجہانی سنیل دت نے اخلاقی بنیاد پر اپنے پارلیمانی حلقہ انتخاب سے استعفیٰ دینا چاہا تھا، لیکن دلیپ کمار ان کے استعفیٰ کے خلاف تھے۔ ذہنی طور پر سنیل دت پریشان تھے، اور دلیپ کمار سنجے دت کی ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری سے پریشان سنیل دت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے نظر آئے، اور انہیں کسی بھی انتہائی قدم سے روکتے رہے تھے۔

آصف فاروقی نے کہاکہ د لیپ کمار کو افسانوی شخصیت اور سپر اسٹار جیسے خطابات اور القاب سے دنیا جانتی ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے سچے علمبردار تھے، انہیں ایک سچا انسان، عزت دار، جذباتی اور غیر مفاد پرست شخص کہہ سکتے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہم دونوں کی تین دہائیوں کی وابستگی تھی۔ اور اس پر فخر کرنا لازمی ہے۔

ان کے مطابق دلیپ کمار کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار اور یوسف خان کے درمیان فرق ہے، یوسف خان تو دلیپ کمار سے بہت زیادہ گھبراتا ہے۔ دراصل دلیپ کمار کی حقیقت خدا کو ہی پتہ ہے۔ یوسف خان وہ شخص ہے، جو دنیا کی راہوں سے بے نیاز رہا۔

ہندوستانی فلمی دنیا کے سب سے قدآور فن کار یوسف خان یعنی دلیپ کمار نے اپنی سوانح عمری میں اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے ساتھ ساتھ لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، اٹل بہاری واجپئی، این سی پی رہنماء شرد پوار اور شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے اور ان کے اہل خانہ کے درمیان تعلقات کے ساتھ ہی اپنی سیاسی تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کو ‘نیا کردار نیک مقصد کی تئیں’ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔

دلیپ کمار، گنگا جمنا جیسی ان کی واحد فلم کے فلمساز بھی تھے، اور اہم رول بھی ادا کیا تھا، لیکن ڈکیتی کے موضوع پر بنائی جانے والی فلموں کو اس وقت سنسر بورڈ میں سخت سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن مرکزی وزیر برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر بی وی کیسکر نے اخلاقیات اور معاشرے میں پھیلتی بدامنی سے نوجوانوں کو روکنے کے مقصد کی بات کرتے تھے، اور وہ بضد رہے، لیکن اس درمیان دلیپ کمار نے وزیراعظم نہرو سے رابطہ کیا، اور ان کی ہدایت پر صرف گنگا جمنا ہی نہیں بلکہ دوسری فلموں کو بھی ایک دن قبل کلئیر کروا دیا گیا۔ جس پر سبھی نے چین کی سانس لی تھی۔

مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک کے قدآور لیڈر اور این سی پی رہنماء شرد پوار کیساتھ اپنے رشتوں کو دلیپ کمار نے 1967 سے بتایا تھا، جب وہ ممبئی سے تقریباً 250 کلومیٹر دور بارامتی ان کی انتخابی مہم میں حصہ لینے گئے تھے۔ دلیپ کمار رقم طراز ہیں کہ شردراو (پوار کو اسی انداز میں پکارتے ہیں) سے نصف صدی پرانے تعلقات ہیں، اور انہوں نے ہی 1980ء میں ممبئی کا شریف مقرر کیا تھا، (ممبئی میں یہ ایک اہم عہدہ ہے) واضح رہے کہ شرد پوار 1978 میں کانگریس سے بغاوت کے بعد مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ اور ریاست میں کافی مقبول و مضبوط ہوئے تھے اور آج بھی قدآور سیاست دان ہیں۔ اور آج بھی ان سے کافی اچھے رشتے ہیں۔

دلیپ کمارنے اپنی آپ بیتی میں اپنے پاکستان دورے کا بھی ذکر کیا ہے اور 1935 میں ممبئی ہجرت کے بعد زندگی میں دو مرتبہ پاکستان گئے، پہلی مرتبہ اپریل 1988 آبائی وطن پشاور کے قصہ خوانی بازار بھی گئے اور کراچی ولاہور بھی اور دوسری بار 1998 میں گئے تھے، دراصل انہیں امتیاز پاکستان دینے کا اعلان کیاگیااور اس درمیان انہوں نے عمران خان کے کنیسر اسپتال کابھی دورہ کیا تھا جو کہ ان کی والدہ کے نام سے منسوب ہے۔

آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے دلیپ کمار کے بارے میں کہاکہ “آپ ایک فن کار ہیں اور فن کار کے لیے کسی بھی طرح کی سیاسی یا جغرافیائی پابندی نہیں ہونا چاہیئے، آپ نے ہمیشہ انسانی حقوق اور انسانیت کی بقا کے لیے کام کیا ہے۔ آپ جیسے فن کاروں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے باہمی رشتہ استوار ہوں گے۔

دلیپ کمار نے راج کپور اینڈ فیملی، سنیل دت، دھرمیندر، منوج کمار، پران، اور دیگر اداکاروں کے ساتھ بہتر اور گھر جیسے تعلقات کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔

آنجہانی شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے کے بارے میں دلیپ صاحب کا کہنا ہے کہ “میرا خیال ہے کہ وہ ضرور ‘ٹائیگر’ کے طور پر مشہور تھے، لیکن شیوسینا سربراہ کومیں ایک ‘شیر ببر’ سمجھتا ہوں، جو کہ اپنی قیادت اور سیاسی قد کے سبب اپنے پرستاروں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو 1966 کے پہلے سے جانتے تھے، جب شیوسینا بھی نہیں بنی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے پیشے یعنی وہ میرے فن کی اور میں ان کے کارٹون کو پسند اور قدر کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دلیپ کمار کے انتقال پر سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور بیٹے ادیتیہ ٹھاکرے نے گھر پہنچ کے تعزیت پیش کی تھی۔”

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے، جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔

ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ 1998 میں فلم ‘قلعہ’ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ کئی سال علالت کے بعد امسال 7، جولائی مکو انتقال کر گئے۔ لیکن شہنشاہ جذبات یوسف خان کو فلمی صنعت اور گنگا جمنی تہذیب کے حامی کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔

گزشتہ سال 7 جولائی 2021ء کو بالی وڈ کے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کا انتقال 98، سال کی عمر میں ہوا تھا۔ دلیپ کمار کا اصلی نام محمد یوسف خان تھا۔ وہ ۱۱ دسمبر ۱۹۴۲ء کو پشاور (جو اب پاکستان کا حصہ ہے) میں پیدا ہوۓ تھے۔ ان کے والد کا نام لالہ غلام سرور اعوان جبکہ والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا۔ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ان کا آبائی مکان آج بھی محفوظ ہے، اور اسے حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ دلیپ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ۱۹۳۵ء میں ممبئی کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔ اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے۔ یہ کام وہ والد کے ساتھ کرتے رہے۔ انہوں نے پونے کی ایک فوجی کینٹین میں بھی کام کیا۔ تاہم، چند برسوں بعد ممبئی واپس آگئے۔ کچھ عرصے بعد اس وقت کی معروف اداکارہ دیویکارانی اور ان کے شوہر ہمانشو راۓ کی نظر یوسف خان پر پڑی۔ اس خوبرو نوجوان سے بات چیت کے بعد انہیں فلم میں اداکاری کی پیشکش کی گئی۔ دیویکا رانی نے ہی انہیں یوسف خان کے بجاۓ دلیپ کمار نام اپنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ دلیپ کمار کی بطور اداکار ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’جوار بھاٹا‘ (1944) تھی۔ یہ فلم کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ تاہم 3 سال بعد 1947ء میں انہوں نے نور جہاں کے ساتھ فلم ’جگنو‘ کی، جو باکس آفس پر کامیاب رہی۔ اس کے بعد فلمی دنیا میں وہ تیزی سے مشہور ہوۓ۔

مشہور فلموں میں آن، دیوداس، آزاد، مغل اعظم، گنگا جمنا، انقلاب، بیراگ، سگینہ، داستان، شکتی، کرما، نیا دور، مسافر، مدھو متی، مزدور، شہید، دنیا، کرانتی، اور سوداگر وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے 1966ء میں اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی تھی۔

(Lifestyle) طرز زندگی

منور فاروقی کی والدہ نے زہر کھا کر خودکشی کر لی تھی، والد انہیں پریشان کرتے تھے، کامیڈین بولے- وہ فالج کا شکار ہے، نفرت کیوں کروں؟

Published

on

Munawar Farooqui

‘بگ باس’ کے سابق کنٹیسٹنٹ منور فاروقی نے حال ہی میں اپنے بچپن کے مشکل دور کو یاد کیا۔ اس نے اپنی والدہ کی موت کے پیچھے کے حالات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اپنے والد سے نفرت بڑھتی گئی اور وہ انہیں ‘ولن’ سمجھنے لگے۔ منور فاروقی نے پرکھر گپتا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ‘انہیں (ماں) کو کبھی بھی خاندان کی طرف سے کسی قسم کی تعریف نہیں ملی۔ میرے والد کے ساتھ شادی کے ان 22 سالوں میں اس نے بہت کچھ برداشت کیا۔ اس کا صبر بہت تھا لیکن اس صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور وہ اتنے عرصے سے بہت کچھ دبا رہی تھی۔

منور کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں 13 سال کا تھا اور صبح کسی نے مجھے جگایا اور بتایا کہ وہ اسپتال میں ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے گھر والوں نے کسی کو یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ اس نے زہر کھا لیا ہے، جس کی وجہ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔’ وہ مزید کہتے ہیں، ‘اس وقت ہسپتال میں ایک نرس تھی، جو میری والدہ کی فیملی فرینڈ تھی اور میں نے اسے بتایا۔ انہوں نے اسے فوری طور پر ایمرجنسی روم میں منتقل کیا لیکن وہ دم توڑ گئی۔’ اس نے بتایا کہ اس کے والد اکثر اس کی ماں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ وہ اس صورت حال سے بے بس محسوس کر رہا تھا۔

منور نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کبھی ماتم کا موقع نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں، ‘انہوں نے مجھے کبھی اپنی ماں کی موت کا احساس نہیں ہونے دیا۔ اس کی موت کے اگلے ہی دن صبح انہوں نے مجھے بلایا اور مجھے بہت کام سونپا اور کہا – مت رو۔ انہوں نے مجھے ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہرایا اور مجھے بتایا کہ مجھے مضبوط رہنا ہے اور سب کا خیال رکھنا ہے۔’ منور نے مزید کہا، ‘یہ ان کی غلطی نہیں تھی، لیکن ایسا ہی ہوا۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی برا محسوس ہوا ہو اور مجھے یاد ہے کہ جنازے کے وقت بھی میں نے ایسا ڈرامہ کیا تھا جیسے سب کچھ نارمل تھا۔ میں اندر ہی اندر رو رہا تھا مگر باہر کچھ نہ نکلا۔ مجھے سب پر غصہ آتا تھا۔ مجھے وہ تمام لوگ یاد آرہے تھے جنہوں نے میری ماں کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ لیکن ایک وقت آیا جب میں نے ان سب کو معاف کر دیا۔’

اپنے والد کے بارے میں منور کا کہنا تھا کہ شروع میں وہ ان سے بہت ناراض تھے لیکن جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ان کا غصہ بھی ختم ہوگیا۔ والدہ کی موت کے دو سال بعد ان کے والد کو فالج کا حملہ ہوا اور ان کا 80 فیصد جسم مفلوج ہو گیا۔ وہ 11 سال تک ایسے ہی رہے۔ میں اسے ولن ہی سمجھتا رہا لیکن وہ پھر بھی میرے والد تھے۔ اس نے غلط کیا اور اس کی سزا ملی۔ وہ بھی تکلیف میں ہے۔ میں اس آدمی سے نفرت کیوں کروں!

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

ماں کے خواب کو زندگی بخشی، سپریا سے عائشہ ایس ایمن بن گئیں۔

Published

on

Ayesha-S.-Aiman

ہندوستانی سنیما اور ماڈلنگ کی دنیا میں اپنی شناخت بنانے والی عائشہ ایس ایمن آج نئی نسل کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔ عائشہ کا مس انڈیا انٹرنیشنل کا تاج جیتنے کا سفر جدوجہد، اعتماد اور جذبے کی مثال رہا ہے۔ لیکن اس کی سب سے بڑی شناخت اس کے کیریئر سے زیادہ جذباتی فیصلے سے جڑی ہوئی ہے – اپنی ماں کی ادھوری خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنا نام ‘سپریہ’ سے بدل کر ‘عائشہ’ کرنے کا فیصلہ۔ عائشہ کا کہنا ہے کہ وہ ‘سپریہ’ نام کے ساتھ پیدا ہوئیں اور اس نام سے ہی انہوں نے پڑھائی میں بلندیاں حاصل کیں۔ چاہے وہ ایروناٹیکل انجینئرنگ کے داخلہ امتحان میں آل انڈیا میں ٹاپ کرنا ہو یا بین الاقوامی اسٹیج پر مس انڈیا کی نمائندگی کرنا ہو – ‘سپریہ’ اس کے لیے محنت اور جذبے کی علامت تھی۔ لیکن ان کامیابیوں کے پیچھے ان کی والدہ کی ایک ادھوری خواہش تھی – اپنی بیٹی کا نام ‘عائشہ’ رکھنا۔ اس کی ماں نے کئی بار اس خواہش کا اظہار کیا اور جب اس نے چوتھی بار جھکی آنکھوں اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دہرایا تو سپریہ نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس خواب کو ضرور پورا کرے گی۔

اس کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کسی کیریئر کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھا۔ عائشہ کہتی ہیں ’’یہ صرف ایک بیٹی کی خواہش تھی کہ وہ اپنی ماں کی خاموش خواہش کو پورا کرے۔ اس نے باضابطہ طور پر اپنا نام بدل کر ‘عائشہ ایس ایمن’ رکھا – ‘عائشہ’ اپنی ماں کے خوابوں کی علامت، ‘ایس’ سپریا کی جدوجہد کی علامت اور ‘ایمن’ خاندانی جڑوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ جب اس کی والدہ کو نام کی تبدیلی کا پتہ چلا تو اس کی آنکھیں نم تھیں اور چہرے پر اطمینان تھا۔ عائشہ کہتی ہیں، ’’اس وقت ایسا محسوس ہوا کہ مجھے تاج نہیں بلکہ ماں کا آشیرواد ملا ہے۔ اس کے لیے یہ تبدیلی شناخت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس کی ماں کی محبت اور اس کے خواب کی تکمیل کی علامت تھی۔

آج جب کوئی اسے ‘عائشہ’ کہہ کر پکارتا ہے تو اسے صرف نام ہی نہیں لگتا۔ عائشہ جذباتی انداز میں کہتی ہیں، “یہ نام ماں کی پکار کی طرح محسوس ہوتا ہے – ‘آشا سا’۔ میں نے یہ نام اپنی ماں کو وقف کیا ہے، جو زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا۔ سپریا سے عائشہ بننا میرے لیے شہرت کا سفر نہیں تھا، بلکہ میری ماں کے خواب کو پورا کرنے کا سفر تھا۔”

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

کون بنے گا کروڑ پتی میں آپریشن سندور کی ہیروئنوں کی شرکت پر تنازعہ، فوجی افسران کے وردی میں پرائیویٹ شو میں جانے پر اپوزیشن کا اعتراض

Published

on

kon-banega-crorepati

نئی دہلی : اپوزیشن نے شو کون بنے گا کروڑ پتی (کے بی سی) میں آپریشن سندور کی ہیروئنوں کے آنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ بدھ کو اپوزیشن نے احتجاج کیا کہ آپریشن سندور میں شامل تین افسران نجی شو میں کیوں گئے۔ کیرالہ کانگریس نے کہا کہ صوفیہ قریشی، ویومیکا سنگھ اور پریرنا دیوستھلی کو ٹی وی کوئز شو میں مدعو کرنا کسی بھی سنجیدہ قوم میں تصور سے باہر ہے۔ جس قوم میں فوج پروفیشنل ہو وہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کیرالہ کانگریس نے کہا کہ مسلح افواج کے تین افسران ایک نجی تفریحی شو ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ میں پوری وردی میں نظر آئیں گے۔ تینوں ملٹری آپریشن کے پلان کے بارے میں بالی ووڈ کے ایک اداکار کو بتائیں گے۔ پارٹی نے مزید کہا کہ یہ نریندر مودی کی قیادت میں نئے ہندوستان کا تماشا ہے۔ اس دوران شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے شو کی ٹی وی نیٹ ورک کمپنی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کمپنی پر الزام لگایا کہ وہ ایشیا کپ میں آئندہ ہندوستان بمقابلہ پاکستان کرکٹ میچ سے آمدنی حاصل کر رہی ہے۔

پرینکا چترویدی نے مزید کہا کہ ہماری بہادر وردی پوش خواتین، جو آپریشن سندور کا چہرہ بنیں، کو ایک نجی انٹرٹینمنٹ چینل نے اپنے شو میں مدعو کیا تھا۔ اس نجی انٹرٹینمنٹ چینل کی پیرنٹ کمپنی نے 2031 تک ایشیا کپ کے نشریاتی حقوق بھی حاصل کر لیے ہیں۔ وہی چینل جو بھارت بمقابلہ پاکستان کرکٹ میچز کے ذریعے کمانا چاہتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہمیں نقطوں کو جوڑنا چاہیے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ 15 اگست کو نشر ہونے والی اس ایپی سوڈ کا ایک چھوٹا ٹیزر حال ہی میں شیئر کیا گیا ہے۔ اس ٹیزر میں کے بی سی کے میزبان امیتابھ بچن افسران کا شاندار استقبال کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پرومو ویڈیو میں کرنل قریشی یہ بتاتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں کہ پہلگام حملے کے بعد ہندوستان کا آپریشن سندور کیوں ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا ایسی (دہشت گرد) کارروائیاں کر رہا ہے۔ جواب ضروری تھا، اس لیے آپریشن سندور کا منصوبہ بنایا گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com