Connect with us
Wednesday,22-April-2026

سیاست

جموں و کشمیر میں قیام امن کے لئے پاکستان سے بات چیت ناگزیر : فاروق عبداللہ

Published

on

Farooq Abdullah

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ہمارا ملک پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بحال نہیں کرے گا، تب تک جموں و کشمیر میں امن قائم ہونا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آج تک جتنی جنگیں ہوئیں، ان میں صرف غریب مارے گئے، کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی طاقت جموں و کشمیر کے ٹکڑے نہیں کر سکتی ہے۔

انہوں بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے الیکشن جیتنے کے لئے جموں و کشمیر کو جہنم بنا دیا ہے۔ موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں پارٹی دفتر شیر کشمیر بھون میں اپنی جماعت کے کارکنوں سے اپنے خطاب کے دوران کیا ہے۔

انہوں نے کہا: ‘میں آج بھی کہتا ہوں کہ جب تک پاکستان سے بات چیت نہیں کی جائے گی، جب تک ان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ نہیں ملایا جائے گا۔ تب تک ہم آرام سے نہیں رہ سکتے ہیں، میں یہ لکھ کر دیتا ہوں۔’

ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم نے آج تک چار جنگیں لڑیں ان میں صرف غریب لوگ مر گئے اب اگر پھر جنگ ہوئی توہم سب مٹ جائیں گے کیونکہ دونوں ملکوں کے پاس ایٹم بم ہیں۔’
بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ‘نفرت کی آگ بھڑکا کر یہ لوگ الیکشن جیتتے ہیں۔’

انہوں نے کہا: ‘ہمیں اس نفرت کی دیوار کو توڑنا ہے، بی جے پی نے بالا کوٹ کے نام پر پچھلا الیکشن جیتا، لیکن کیا بالاکوٹ سے لائن آف کنٹرول بدل گئی، کیا ہم نے پاکستان سے کوئی علاقہ واپس لیا۔’

انہوں نے کہا: ‘اگر جموں میں آج بھی نفرت بڑھتی رہے گی تو ہندوستان کے نہ جانے کتنے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔’ موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج تک ہماری پارٹی کے تین ہزار لوگوں جن میں لیڈر بھی شامل تھے،ان کو مارا گیا، لیکن ہم نے پھر بھی بھارت کے جھنڈے کو تھامے رکھا۔

انہوں نے کہا: ‘ہم ادھر ہی رہنے والے ہیں ہم کبھی پاکستان کے ساتھ نہیں جا سکتے ہیں، ہم اس وقت نہیں گئے جب ہماری ریاست پاکستان کے ساتھ جا سکتی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی دو قومی نظریے کو رد کیا۔’

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج لوگوں کو خریدا جا رہا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کو لوگوں کو خریدنے سے حکومت نہیں کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن جیتنے کے لئے جموں و کشمیر کو جہنم بنایا جا رہا ہے۔
موصوف رکن پارلیمان نے کہا کہ ملک میں میڈیا کو دبایا جا رہا ہے، اور جو صحافی سچ لکھتا ہے، تو اس کو جیل میں بند رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا : ‘ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب میڈیا سچ لکھتا تھا، ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ مجھے ناز ہے انڈین ایکسپریس کے مالک پر جس نے اس دور میں صفحے خالی رکھے۔ لیکن جھوٹ نہیں لکھا۔’ ان کا کہنا تھا کہ امریکی میڈیا کے سچ لکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ الیکشن ہار گیا۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت کو مضبوط کرنا ہے تو سچ کا دامن تھامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارا بھائی چارہ قائم ہے، تب تک کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارا ملک غریبی میں بھی کافی پیچھے چلا گیا ہے، جبکہ ایک وقت ایسا تھا، جب ہم خود بھی کھاتے تھے، اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ حکومتیں آتی رہتی ہیں، موجودہ حکومت کا بھی زوال آئے گا۔ کیونکہ نفرت کا ڈھول زیادہ دیر تک نہیں بجایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے بھی جموں وکشمیر کو بچایا ہے، اور آج بھی بچائے گی۔

جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے روشنی ایکٹ کے حوالے سے بیان کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘ستیہ پال ملک نے روشنی اسکیم کے بارے میں جو کہا کہ ڈاکٹر فاروق اور عمر عبداللہ نے اس سے فائدہ اٹھایا یہ جھوٹ ہے، وہ جھوٹ بولتا ہے۔ انہوں نے پہلے بھی دفعہ 370 کے حوالے سے جھوٹ بولا تھا۔’

انہوں نے کہا کہ آج وہ گورنر ہیں، وہ بھی ہمیشہ گورنر نہیں رہیں گے، تب میں ان کو بتاؤں گا کہ روشنی اسکیم کیا تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : پاورلوم بجلی کی رعایت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی شرط منسوخ کی جائے, رئیس شیخ کا دیویندر فڑنویس سے مطالبہ

Published

on

ممبئی: مغربی ایشیا میں جنگ، نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ایل پی جی بحران کی وجہ سے جزوی لاک ڈاؤن اور مزدوروں کو ہونے والی بے روزگاری کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی صنعت مشکل میں ہے۔ اس میں مارکیٹنگ اور ٹیکسٹائل ڈیپارٹمنٹ نے پاور لوم بجلی کی رعایت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا ہے۔ نتیجہ کے طور پر، اس بات کا خدشہ ہے کہ ریاست کی یہ بڑی صنعت ٹھپ ہو جائے گی اور آن لائن رجسٹریشن کی شرط کو واپس لے لیا جائے، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے مطالبہ کیا ہے۔
ایم ایل اے رئیس شیخ نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور ٹیکسٹائل کے وزیر سنجے ساوکرے کو خط لکھا ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ٹرمپ ٹیرف میں مسلسل تبدیلیاں، آبنائے ہرمز کی بندش، خام مال اور یارن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے خلاف ریاستی حکومت کی پالیسی، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ان تمام وجوہات کی وجہ سے ریاست میں ٹیکسٹائل انڈسٹری بحران کا شکار ہے۔
ریاست میں 9 لاکھ 48 ہزار پاور لومز ہیں۔ زراعت کے بعد سب سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنے والا ‘مائیکرو سکیل پاور لوم’ سیکٹر شدید بحران کا شکار ہے۔ پیداوار میں بھاری نقصان اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا اندیشہ ہے۔ اکثر، پاور لوم کی جگہ ایک شخص کی ہوتی ہے اور پاور لوم کا مالک دوسرا ہوتا ہے۔ کچھ جگہوں پر پاور لومز کرائے پر ہیں جبکہ پرانے پاور لومز اکثر استعمال میں رہتے ہیں۔ لہذا، آن لائن رجسٹریشن کی عملی حدود ہیں پاور لومز کی آن لائن رجسٹریشن کے لیے درکار تمام معلومات براہ راست تصدیق کے ساتھ ‘مہاوتارن اور ٹورنٹو کمپنی’ کے پاس ہیں۔ صنعت کے شعبے کو درحقیقت متاثر کرنا ایک تضاد ہے جبکہ حکومت کی پالیسی ’’کاروبار کرنے میں آسانی‘‘ ہے۔ 26 اپریل آن لائن رجسٹریشن کی آخری تاریخ ہے۔ اس کے نتیجے میں بھیونڈی، مالیگاؤں اور اچل کرنجی میں پاور لوم کے تاجروں میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے ایم ایل اے رئیس شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاور لوم بجلی سبسڈی کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی تجویز کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور میٹر کے مطابق بجلی سبسڈی کا موجودہ نظام برقرار رکھا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ خواتین بل نامنظور وزیر نتیش رانے کی شر انگیزی, پاکستان کی خوشنودی کے لئے بل کی مخالفت, رانے کا سنگین الزام

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر خواتین ریزروریشن بل کی پارلیمنٹ سے نامنظوری کے بعد اب کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کو ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ہدف تنقید بناتے ہوئے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں پاکستان نواز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بنگلہ دیش، پاکستان، اسلام آباد میں شریعہ قانون کا نفاذ ہے اسی طرز پر خواتین کو یہاں بھی یہ اپوزیشن پارٹیاں حقوق سے محروم کر رہی ہے لیکن این ڈی اے اور وزیر اعظم نریندر مودی دوبارہ خواتین کو انصاف دلانے کیلئے خواتین بل پیش کریں گے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اپوزیشن پر جو تنقید ہے اس میں انہوں نے یہ جملہ کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نامنظور ہونے کے بعد اپوزیشن کا برقعہ چاک ہوگیا اور اپوزیشن پوری طرح سے بے نقاب ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے پارلیمنٹ کے الیکشن کے دوران مسجدوں سے فتوی جاری کئے گئے تھے اسی نہج پر اس یہ اراکین پارلیمان شریعہ قانون کے حامی ہوچکے ہیں پاکستان کے ابا کو خوش کرنے کیلئے یہ خواتین بل کی مخالفت کر تے ہیں انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی سمیت دیگر کانگریسی لیڈران پاکستانی اسکرپٹ پر ہی بات کر تے ہیں۔ رانے نے سپریا تائی سلے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سپریا تائی لو جہاد کی حامی ہے اور یہی موقف کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کا بھی ہے کیونکہ ان کی فتحیابی مسجدوں کے راستہ سے ہوئی ہے ان کیلئے مسجدوں سے فتوی جاری کئے گئے تھے۔ پریس کانفریس سے خطاب کے دوران نتیش رانے نے مسلمانوں کے خلاف جم کر زہر افشانی کرتے ہوئے کمپنی اور کارپوریٹ جہاد کی آڑ میں اسلامی لباس حجاب اور نماز پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ کمپنی یا ملازمت کے مقام پر حجاب یا نماز کیوں؟ کیا ہندوؤں کو اس کی اجازت ہے لینسکارٹ کے مسئلہ پر نتیش رانے نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اب لینسکارٹ کو بھی اس کی آنکھ کے علاج کی ضرورت ہے اگر وہ نہیں کرتا ہے تو اس کا علاج ہم کریں گے۔
ادھو ٹھاکر ے کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے رانے نے سنگین الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی یہ نوبت آگئی ہے کہ وہ سرپنچ کے الیکشن میں بھی کھڑے ہوسکتے ہیں ابھی قانون ساز کونسل کی رکنیت کیلئے وہ سبھی چھپ چھپا کر فون کریں گے ادھو ٹھاکرے سیاسی تبدیلی مذہب کر چکے ہیں اس لئے اب وہ ادھو ٹھاکرے نہیں بلکہ ادھو خان ہے انہوں نے کہا کہ وہ پنچوقتہ نماز بھی ہوچکے ہیں مالیگاؤں بم دھماکوں میں ہندوتووادی ملزمین کی باعزت رہائی پر نتیش رانے نے کہا کہ بھگوادھاری کبھی بھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بل کی مخالفت پاکستان کا موقف ہے اور جو بات پاکستان میں ہوتی ہے وہی راہل گاندھی اور کانگریس ہندوستان میں کرتے ہیں۔

Continue Reading

مہاراشٹر

2006 مالیگاؤں بلاسٹ کیس : بامبے ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا، چار ملزمان کو کیا بری

Published

on

ممبئی: ہائی کورٹ نے 2006 کے مالیگاؤں دھماکوں کے معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز مالیگاؤں دھماکوں کے چار ملزمین کو بری کر دیا، جس میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چیف جسٹس چندر شیکھر اور جسٹس شیام چانڈک کی ڈویژن بنچ نے خصوصی عدالت کے ستمبر 2025 کے حکم کے خلاف ملزمان کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ اپیلوں میں ٹرائل کورٹ کے الزامات طے کرنے کے طریقے اور کیس میں کئی شریک ملزمان کو بری کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ فی الحال، چار ملزمین جن کے خلاف ہائی کورٹ نے فیصلہ کرنے کے احکامات کو ایک طرف رکھا ہے، راجندر چودھری، دھن سنگھ، منوہر رام سنگھ ناروریا، اور لوکیش شرما ہیں۔ آج کا فیصلہ ان ملزمان کے خلاف مقدمہ بند کر کے ٹرائل کو ختم کرتا ہے۔ بنچ نے پہلے اپیل دائر کرنے میں 49 دن کی تاخیر سے معذرت کی تھی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ چیلنج نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ (این آئی اے ایکٹ) کی دفعہ 21 کے تحت ایک قانونی اپیل ہے۔ مالیگاؤں کیس 8 ستمبر 2006 کا ہے، جب شہر میں سلسلہ وار دھماکوں کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر تحقیقات مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی تھی، جس نے 12 ملزمان کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ پھر فروری 2007 میں تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو سونپ دی گئی تھی، اور بعد میں این آئی اے نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ مزید تفتیش کے بعد این آئی اے نے ان چاروں کو دیگر ملزمان کے ساتھ ملزم نامزد کیا اور نئی چارج شیٹ داخل کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان