Connect with us
Wednesday,05-August-2026

بین الاقوامی خبریں

افغانستان کے 65 فیصد علاقوں پر طالبان کا کنٹرول : یوروپی یونین

Published

on

European Union

یورپی یونین نے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے افغان کی سر زمین پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے ملک کے 65 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو بتایا کہ طالبان اب 65 فیصد افغان سرزمین پر قابض ہیں، 11 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں، اور کابل کو شمال میں موجو قومی افواج کی روایتی حمایت سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں تقریباً 4 لاکھ افغانی بے گھر ہوئے، اور گزشتہ 10 دنوں کے دوران ایران فرار ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جہاں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی سے پریشان حال صدر اشرف غنی نے علاقائی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی حکومت کا ساتھ دیں وہیں اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ 20 سالوں میں انسانی حقوق کے سلسلے میں جو پیش رفت ہوئی تھی وہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطرے میں پڑ گئی ہے۔

دارالحکومت کابل میں اشرف غنی کے ساتھیوں نے کہا کہ وہ علاقائی ملیشیاؤں سے مدد مانگ رہے ہیں، جن کی مدد سے وہ کئی برسوں سے اپنی حکومت قائم رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ افغانستان کے جمہوری تشخص کا دفاع کریں۔

مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ شمالی قصبے مزار شریف اور کابل کے درمیان مرکزی سڑک پر صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک کے قصبے میں طالبان اپنا کنٹرول مضبوط تر کر رہے ہیں اور سرکاری عمارتوں میں منتقل ہورہے ہیں، اور اس دوران زیادہ تر حکومتی سیکیورٹی فورسز پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق ایبک میں رہائش کے لیے حالات کے بارے میں پوچھے جانے پر صوبائی ٹیکس آفیسر شیر محمد عباس نے کہا واحد راستہ خود ساختہ نظر بندی یا کابل کی راہ لینا ہے۔ نو افراد کے خاندان کے واحد کفیل شیر محمد عباس نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اب کابل میں بھی کوئی محفوظ آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان ان کے دفتر پہنچے اور کارکنوں کو گھر جانے کو کہا لیکن منگل کو کسی قسم کی لڑائی دیکھی نہ سنی۔ برسوں سے شمالی علاقہ جات ملک کا سب سے پرامن حصہ تصور کیے جاتے تھے لیکن طالبان کی حکمت عملی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ وہ شمال کے ساتھ ساتھ شمال، مغرب اور جنوب میں اہم سرحدی گزرگاہوں پر بھی قبضہ کر کے کابل پر دباؤ بنانا چاہتے ہیں۔

حکومت نے ان دیہی آبادیوں سے اپنی فوج واپس بلالی ہے جن کا دفاع ممکن نہیں اور اس کے بجائے زیادہ آبادی والے علاقوں کے دفاع پر توجہ دی جا رہی ہے۔ امریکہ سرکاری فوج کی حمایت میں فضائی حملے کرتا رہا ہے لیکن پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے پیر کو کہا ہے کہ اپنے ملک کی حفاظت کرنا افغان فوج کا کام ہے، یہ ان کی جدوجہد ہے۔

طالبان اور سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ طلابان نے حالیہ دنوں میں شمال، مغرب اور جنوب میں چھ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایک سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ صوبہ بغلان کے دارالحکومت پل خمری میں ایبک کے جنوب مشرق میں طالبان نے کابل جانے والی سڑک کے سنگم پر شہر کو بند کر کے سیکیورٹی فورسز کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

نیشنل ڈیزاسٹر اتھارٹی کے سربراہ غلام بہاؤالدین جیلانی نے میڈیا کو بتایا کہ 34 میں سے 25 صوبوں میں لڑائی جاری ہے اور 60 ہزار خاندان پچھلے دو ماہ کے دوران بے گھر ہو چکے ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر کابل میں پناہ کے متلاشی ہیں۔

ایران کی سرحد کے قریب مغربی افغانستان کے صوبے فراہ کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر فراہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ طالبان نے گورنر کی رہائش گاہ پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔شہریوں نے بتایا کہ طالبان نے شہر کی تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس میں ہتھیار ڈالن یوالے سرکاری فوجیوں کو پھانسی دینے کی انتہائی پریشان کن اطلاعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کا ہی خوف بے جا نہیں کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انسانی حقوق سلسلے میں ہونے والی تمام تر پیش رفت رائیگاں چلی جائے گی۔

بین الاقوامی خبریں

روسی ڈرون نے یوکرین میں سبزی فروش کو نشانہ بنایا، زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ایسی کارروائیاں روزانہ جاری رہتی ہیں۔

Published

on

Ukrain

نئی دہلی : روسی ڈرون نے منگل کو یوکرین کے شہر کھیرسن میں سبزی فروش پر حملہ کیا۔ یوکرائنی وزارت خارجہ اور صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے جارحانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی اور یوکرین کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ ویڈیو میں ایک سبزی فروش اپنی گاڑی کے قریب کھڑا ہے جب ایک ڈرون نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ سبزی فروش اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں گاڑی کے ارد گرد بھاگ رہا ہے، ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے، لیکن ڈرون اس پر طاقتور حملہ کرتا ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ای ایکس’ پر پوسٹ کیا کہ “روس کس کو نشانہ بنا رہا ہے؟” فوجی اڈہ نہیں بلکہ سویلین کام کر رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے یوکرین کے شہر کھیرسن میں جان بوجھ کر ایک عام دکاندار کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 52 سالہ شخص زخمی ہوا اور اس کے سر پر چوٹ آئی۔ وزارت نے پوسٹ میں کہا، “یہ معصوم شہریوں کے خلاف خوف اور دہشت پھیلانے کی ایک جان بوجھ کر مہم ہے۔ دنیا کو اسے معمول کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مزید، روس پر مزید مضبوط دباؤ کی ضرورت ہے۔ ان جرائم کا جواب نہیں دیا جانا چاہیے۔”

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا۔ زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “EX” پر پوسٹ کیا، “ایک اور نام نہاد ‘سفاری’ ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگ چونک گئے، جس میں روسی ڈرون کھیرسن میں لوگوں کا شکار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے جان بوجھ کر کھیرسن میں سبزی بیچنے والے ایک شخص کا پیچھا کیا اور اس کے قریب دھماکہ کیا۔ روسیوں نے خود اس جرم کا اعتراف کر لیا۔” وہ اپنے اعمال پر کوئی پچھتاوا نہیں دکھاتے، بلکہ اس کے بجائے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو کس طرح ہراساں اور خوفزدہ کرتے ہیں۔ دھماکے میں وہ شخص زخمی ہوگیا۔ “خیرسن میں شہریوں کے خلاف روسیوں کی طرف سے اس قسم کی ‘سفاری’ تقریباً روزانہ کی جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے۔ اسے ہر وہ شواہد دیکھنا چاہیے جس سے ظاہر ہو کہ روس کس حد تک تشدد اور جارحیت میں اترا ہے اور یہ کہ روسی فوجی لوگوں کو مارنے اور ہراساں کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ روس پر دباؤ ڈالے بغیر، اس کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کیے بغیر، اور روس کے خلاف ٹھوس حفاظتی ضمانتوں کے بغیر، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ دنیا اس برائی کے ساتھ امن سے رہ سکتی ہے۔ ہمیں جان بچانے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے۔ ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں اور زندگی کی حمایت کرنی چاہیے کہ روس کو حقیقی معنوں میں امن کے بارے میں سوچنا چاہیے، نہ کہ اپنے ڈرون کی ہلاکت خیزی کو بڑھانے کے بارے میں۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ صرف یوکرائن کا مسئلہ نہیں ہے۔ روس کی طرف سے شہریوں کے خلاف یہ ‘سفاری’ یوکرین میں بند ہونی چاہیے اور دوسرے ممالک میں نہیں پھیلنی چاہیے۔ فن لینڈ اور قازقستان، بالٹک ممالک اور پولینڈ، جنوبی قفقاز کا علاقہ، اور جنوبی قفقاز کا علاقہ۔ ملک کے ساتھ ساتھ رومانیہ اور مالڈووا کو حقیقی سلامتی کی ضمانتوں کو یقینی بنانے اور روس کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ امن کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے دنیا بھر کے ان تمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں امن کی قدر کرتے ہیں۔ یوکرین کی مدد کرنے والے ہر ایک کا شکریہ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی حملوں نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی، جس سے کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا۔

Published

on

israel lebanon war

نئی دہلی : اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان بشمول طائر، مرجعون اور بنت جبیل کے شہروں پر حملہ کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (ایران) کے مطابق، پیر کے روز لبنان سے موصولہ رپورٹوں میں اشارہ کیا گیا ہے کہ تازہ ترین اسرائیلی حملوں میں طائر، مرجعون اور بنت جبیل شہروں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی ڈرون نے نبیطیہ کے علی الطاہر پہاڑی علاقے پر بھی بمباری کی، دھماکہ خیز مواد اور آگ لگانے والے ہتھیار گرائے۔

ایران کے مطابق اسرائیلی فوج نے طائر کے قریب واقع گاؤں چاما پر توپ خانے سے گولے داغے۔ فوجیوں نے طیبہ اور یارون کے دیہات میں زیتون کے باغات کو بھی آگ لگا دی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 2 مارچ کو دوبارہ لڑائی شروع ہوئی۔ درحقیقت حزب اللہ نے اتوار کو اسرائیل پر حملہ کیا۔ حزب اللہ نے کہا کہ یہ حملے لبنان پر تقریباً روزانہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں تھے۔

ایران نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اسرائیل نے زمینی فوجی آپریشن شروع کیا اور جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل اور لبنان نے 16 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن اس معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔

26 جون کو، دونوں فریقوں نے واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی ثالثی امریکہ نے کی تھی۔ اس معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء اور ان کی جگہ لبنانی مسلح افواج کے یونٹوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ادھر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے معاہدے کو اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کیا۔ اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان 16 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد اسرائیلی انتظامیہ اور مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو ختم کرنا تھا۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان