(جنرل (عام
پربھنی داعش معاملے میں ضمانت پر رہا ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار، دیگر ملزمین کی بھی ضمانت پر رہائی کی راہ ہموار ہوگی : گلزار اعظمی
پانچ سالوں کی طویل قید و بند کے بعد ضمانت پر رہا ایک مسلم نوجوان کی ضمانت منسوخ کیئے جانے کی این آئی اے کی درخواست کو آج سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ یہ اطلاع جمعیۃ علمائے ہند نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں دی ہے۔
ریلیز کے مطابق ملزم کی ضمانت پر رہائی کو این آئی اے نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء کی بروقت مداخلت سے سپریم کورٹ نے ین آئی اے کی درخواست کو مسترد کردیا اور ملزم کی ضمانت پر رہائی کو بحال رکھا۔
مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے تعلق رکھنے والے اقبال احمد کبیر احمد کو بمبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے مشروط ضمانت پر رہا کیا تھا، ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو این آئی اے نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اور عدالت سے گذارش کی تھی کہ وہ ملزم کی ضمانت منسوخ کرے کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ قانوناً درست نہیں ہے۔ این آئی اے کی جانب سے داخل پٹیشن کی سماعت آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کے سامنے عمل میں آئی جس کے دوان عدالت نے بامبے ہائی کورٹ کو فیصلہ کو درست قرارد یا، عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملزم پانچ سال کا طویل عرصہ جیل میں گذر چکا ہے اور ابھی تک مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی، اور مقدمہ کی سماعت کب شروع ہوگی اور کب اس کا اختتام ہوگا کسی کو نہیں معلوم، لہذا ملزم کی ضمانت پر رہائی کا بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ صحیح ہے۔
جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس این ایم جمعدار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ضمانت پر رہائی کا فیصلہ عین قانون کے مطابق تحریر کیا گیا ہے، جس پر نظر ثانی کی گنجائش نہیں ہے، لہذا این آئی اے کی عرضداشت خارج کی جاتی ہے، جسٹس این ایم جمعدار نے ہی اقبال احمد کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ تحریری کیا تھا۔
ملزم اقبال احمد کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ ضمانت کے رہائی کے بعد سے ملزم بلا ناغہ این آئی اے عدالت اور این آئی اے آفس میں حاضری لگا رہا ہے، اور ملزم ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی پاسداری کر رہا ہے، لہذا این آئی اے کی جانب سے ملزم کی ضمانت منسوخ کیئے جانے والے درخواست میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
دریں اثنا این آئی اے کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنر آف انڈیا تشار مہتا نے دو رکنی بینچ سے کہا کہ ملزم کی ضمانت فوراً منسوخ کر دینا چاہئے، کیونکہ یہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ دواران سماعت ملزم اس کے خلاف موجود ثبوت و شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے، اور اس کے ملک سے فرار ہونے کے بھی امکانات ہیں نیز بامبے ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی غلط تشریح کرتے ہو ئے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا ہے، جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم اقبال احمد کے حق میں فیصلہ دیا، اور این آئی اے کی ضمانت منسوخ کرنے کی عرضداشت کو مسترد کر دیا۔
ملزم اقبال احمد کی ضمانت منسوخ کیئے جانے والی این آئی اے کی عرضداشت مسترد کیئے جانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ سے دیگر ملزمین کو بھی راحت حاصل ہوگی جو گذشتہ پانچ سالوں سے زائد عرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں، اور ان کی ضمانت پر رہائی کی رہا ہموار ہوگی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ہم نے پہلی سماعت پر ہی سینئر وکیل کی خدمت حاصل کر کے این آئی اے کی عرضداشت کی پر زور مخالفت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت نے این آئی اے کی ضمانت منسوخ کرنے والی عرضداشت کو سماعت کے لئے قبول کرنے سے قبل ہی مسترد کر دیا، جس سے ملزم اور اس کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471,، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں، اور ہندوستان میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے، اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ایک حلف نامہ (بیعت) بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔
اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
