Connect with us
Saturday,21-March-2026

سیاست

ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پاس ابھی بھی 2.87 کروڑ ٹیکے دستیاب

Published

on

vaccine

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے ہفتے کے روز بتایا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا وائرس کے دو کروڑ 87 لاکھ 71 ہزار 85 ٹیکے فی الحال دستیاب ہے۔

وزارت نے بتایا کہ اگلے تین دنوں میں کم از کم 5226460 اور ٹیکے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مہیا کروا دیے جائیں گے۔ وزارت نے بتایا کہ ابھی تک مرکز نے 28.50 کروڑ سے زیادہ کورونا وائرس کے ٹیکے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو دستیاب کروائے جا چکے ہیں، جن میں سے آج صبح کے اعداد و شمار کورونا وائرس کے ٹیکے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مہیا کروائے جا چکے ہیں، جن میں سے آج صبح کے اعداد و شمار کے مطابق خراب سمیت 256328045 ٹیکے استعمال کیے جا چکے ہیں۔

وزارت نے کہا، ’مرکزی حکومت قومی سطحی ٹیکہ کاری مہم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مفت میں کووڈ ٹیکے مہیا کرواکر ان کی مدد کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے ٹیکوں کی براہ راست خرید کی سہولت بھی انھیں دی جا رہی ہے۔ ٹیسٹ، ٹریک اور ٹریٹمنٹ کے ساتھ ساتھ ٹیکہ کاری وباء کی روک تھام اور انتظام کے لیے مرکزی حکومت کی وسیع پالیسی کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔

اس دوران ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 60753 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس وباء سے مزید 1647 مریضوں کی جان جا چکی ہے۔ ملک میں کورونا متاثرین کی کل تعداد 28678390 اور اس وبا سے مرنے والوں کے کل اعداد و شمار 385137 ہو گئے ہیں۔

وزارت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3300085 ٹیکے لگائے گئے، اسی کے ساتھ ملک میں امسال 16 جنوری سے ابھی تک کورونا وائرس کے 2722388783 ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سائبر دھوکہ دہی میں سم کارڈ کا استعمال، ناگپاڑہ سمیت اندھیری کے سم کارڈ ایجنٹوں پر کیس درج

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی سائبر سیل نے اب ایسے سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے فروخت کردہ سم کارڈ دھوکہ دہی میں استعمال کیا گیا کرائم برانچ نے پانچ سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو دھوکہ دہی کے کیس میں تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سائبر دھوکہ دہی کے لیے ایجنٹ اور دکاندار کے معرفت ملزمین سم کارڈ کی حصولیابی کیا کرتے تھے اور یہی نمبر دھوکہ دہی کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ سم کارڈ فروخت کرنے والے اپنی دکان سے گاہک کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے اگر گاہک ایک سم کارڈ طلب کرتا تو اس کے دستاویز پر ایک دو یا تین سم کارڈ جاری کرواتے تھے اور پھر یہ سم کارڈ یہ لوگ خود کے فائدہ کےلیے استعمال کرتے تھے اور سائبر جرائم میں مفرور ملزمین کو فراہم کرتے تھے سائبر سیل نے ناگپاڑہ سے سم کارڈ فروخت کرنے والے ملزمین محمد سلطان محمد حنیف ، ذیشان کمال کے خلاف آئی ڈی ایکٹ سمیت دیگر دفعات میں کیس درج کیا ہے۔ اسی طرح دیا شنکر بھگوان شکلا، پردیپ کمار برنل والا ، نیرج شیورام کے خلاف کیس درج کیا ہے ان پر بھی غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ فروخت کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایماء پر ڈی سی پی سائبر سیل پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔ سائبر سیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبر سے متعلق سنچار ساتھی ایپ پر جانچ کرے اگر انہیں اپنے نام پر دیگر نمبر ملتا ہے تو اس پر وہ رپورٹ کرے اور اس معاملہ میں عوام سنچار ساتھی ایپ میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ میں بڑی بے ضابطگیاں، ریاست بھر میں جانچ کے احکامات

Published

on

ممبئی: ( قمر انصاری )
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے زمین کی ملکیت کے حقوق اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے افراد۔

یہ معاملہ مہاراشٹر لینڈ ریونیو کوڈ کی ایک شق کے مبینہ غلط استعمال سے جڑا ہوا ہے، جس کا مقصد صرف معمولی غلطیوں جیسے ٹائپنگ یا دفتری خامیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی ملکیت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں بغیر مناسب جانچ پڑتال اور قانونی طریقہ کار کے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں، جس سے غیر قانونی طور پر زمین کی منتقلی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے اصل مالکان میں اپنی جائیداد کھونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اس شق کے تحت کیے گئے تمام اندراجات کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ ضلعی سطح پر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔

ابتدائی جانچ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ اس جانچ کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور زمین کے ریکارڈ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

Continue Reading

بزنس

سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ کا اضافہ، ان وجوہات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کے تجارتی سیشن میں مضبوطی دیکھی جارہی ہے۔ دوپہر 12 بجے، سینسیکس 728 پوائنٹس، یا 1 فیصد، 74،935 پر تھا، اور نفٹی 236 پوائنٹس، یا 1.03 فیصد، 23،238 پر تھا. وسیع مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 693 پوائنٹس یا 1.27 فیصد بڑھ کر 55,185 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 111 پوائنٹس یا 0.65 فیصد بڑھ کر 15,816 پر تھا۔ ہندوستانی بازار میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کی وجہ سے ہے۔ جمعہ کو برینٹ کروڈ 1.21 فیصد گر کر 107.3 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ میں دونوں فریقوں کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد جمعرات کو برینٹ کروڈ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ مارکیٹ میں تیزی کی ایک وجہ مغربی ایشیا میں تناؤ میں کمی کے آثار ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کے جذبات میں بہتری آئی ہے اور مارکیٹ میں خریداری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیول اور شنگھائی کے بازار سبز رنگ میں کھل گئے۔ دریں اثناء امریکی مارکیٹس بھی جمعرات کی نچلی سطح سے بحال ہوئیں لیکن نیچے بند ہوئیں۔ انڈیا VIX، ایک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا انڈیکس، بھی سیشن کے دوران کمزور ہوا۔ عام طور پر، جب انڈیا VIX میں کمی آتی ہے، تو مارکیٹ بڑھ جاتی ہے۔ مزید برآں، سستی قیمتوں پر خریداری کو بھی مارکیٹ میں تیزی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، سابق سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) کے رکن کملیش چندر ورشنی نے کہا کہ حالیہ گراوٹ کے بعد، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ثابت ہوسکتی ہے۔ ورشنی نے کہا، “مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہندوستانی مارکیٹ میں کمی نے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) کے لیے ایک پرکشش موقع پیش کیا ہے۔” نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ روس-انڈیا فورم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، ورشنی نے کہا کہ موجودہ سطح پر ہندوستانی اسٹاک میں سرمایہ کاری کرنے کا “انتہائی اچھا موقع” ہے۔ بینچ مارک انڈیکس اس ماہ 8 فیصد سے زیادہ گر گئے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو پست کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اندراج کی قیمتوں میں بھی بہتری لائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان