Connect with us
Friday,20-March-2026

کھیل

دھونی کے سامنے راجستھان کو کھل سکتی ہے اسمتھ کی کمی

Published

on

آئی پی ایل میں فاتحانہ آغاز کرنے والے مہندر سنگھ دھونی کی زیر قیادت چنئی سپر کنگز کے سامنے پہلے میچ میں راجستھان رائلز کو منگل کے روز اپنے باقاعدہ کپتان اسٹیون اسمتھ کی خدمات کی کمی محسوس ہوسکتی ہے جو کنکشن کے سبب میچ سے باہر رہ سکتے ہیں آئی پی ایل میں متحدہ عرب امارات آنے سے قبل انگلینڈ میں ون ڈے سیریز سے قبل مانچسٹر میں نیٹ پریکٹس کے دوران اسمتھ کے سر میں چوٹ آئی تھی اور ون ڈے سیریز سے محروم ہوگئے تھے۔ کنکشن کی وجہ سے اسمتھ کی آئی پی ایل میں راجستھان کے افتتاحی میچ میں شرکت مشکوک ہے۔ متحدہ عرب امارات پہنچنے کے بعد اسمتھ کی حالت پر اب بھی نگرانی کی جارہی ہے۔
دوسری طرف دھونی کی ٹیم نے اپنے پہلے میچ میں دفاعی چمپئن ممبئی انڈین کو پانچ وکٹوں سے شکست دی ہے اور تین بار کی چمپیئن چنئی اس جیت سے پہلے ہی حوصلے بلند کر چکی ہے۔ تاہم فتح کے باوجود کپتان دھونی نے کہا کہ کچھ شعبے ایسے ہیں جن میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
راجستھان کے لئے پہلے میچ سے قبل کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ٹیم کے انگلینڈ کے کھلاڑی جوز بٹلر نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں لازمی قرنطین میں ہونے کی وجہ سے چنئی کے خلاف ٹیم کا پہلا میچ نہیں کھیل پائیں گے۔ راجستھان بھی اس ٹورنامنٹ کے ابتدائی راؤنڈ میں اسٹار آل راؤنڈر بین اسٹوکس کی خدمات حاصل نہیں کر سکے گا جو اپنے والد کے دماغی کینسر کی تشخیص کے سبب کرائسٹ چرچ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ انہوں نے نیوزی لینڈ پہنچنے کے بعد تنہائی کے 14 دن مکمل کر لئے ہیں اور اپنی تربیت بھی شروع کردی ہے ، تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ ٹیم میں شامل ہونے کے قابل کب ہوں گے۔
راجستھان کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ انگلینڈ کے فاسٹ بولر جوفرا آرچر اس میچ میں دستیاب ہوں گے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے آئی پی ایل سے معاہدہ کرنے والے کھلاڑی ون ڈے سیریز کے اختتام کے دوسرے دن 16 ستمبر کو متحدہ عرب امارات پہنچے۔ اپنے کچھ اسٹار غیر ملکی کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں راجستھان کے لئے متوازن الیون کی تلاش کرنا ایک دشوار عمل ہوگا۔
اگر اسمتھ اس میچ میں نہیں کھیلتے ہیں تو راجستھان کو اس میچ کے لئے نیا کپتان ڈھونڈنا ہوگا اور تجربہ کار رابن اتھپا اس کی ذمہ داری نبھاسکتے ہیں۔ اجنکیا رہانے گذشتہ سیزن میں ٹیم کے کپتان تھے لیکن پہلے چھ میچوں میں سے پانچ میں شکست کے بعد اسمتھ کو نیا کپتان مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد راجستھان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رہانے اس سیزن میں دہلی کیپیٹلز کی ٹیم کے لئے کھیل رہے ہیں۔ اتھپا ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ٹیم کے مڈل آرڈر کو سنبھالنے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔
اس میچ میں راجستھان کی ٹیم اپنے ہندوستانی کھلاڑیوں پر زیادہ انحصار کرے گی۔ یشسوی جیسوال ، سنجو سیمسن ، ریان پیراگ ، شریاس گوپال اور جے دیو انادکت کو ٹیم کے افتتاحی میچ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سیمسن نے گذشتہ سیزن میں سنچری بنائی تھی اور وہ بہت تیز بیٹنگ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اس آئی پی ایل میں عمدہ کارکردگی کی وجہ سے وہ ہندوستانی محدود اوورز کی ٹیم میں وکٹ کیپر بلے باز کا دعویدار بن جائیں گے ۔
جیسوال نے گزشتہ گھریلو سیزن میں جھارکھنڈ کے خلاف وجئے ہزارے ٹرافی میں 154 گیندوں میں 203 رن بنائے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جنوبی افریقہ میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں چھ میچوں میں سب سے زیادہ 400 رنز بنائے۔ جیسوال کے لئے یہ آئی پی ایل ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک بڑے اسٹیج پر ثابت کریں۔
تین مرتبہ آئی پی ایل کے فاتح دھونی ، ٹورنامنٹ میں فاتحانہ آغاز کے باوجود اب بھی کئی شعبوں میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔ دھونی نے ممبئی پر فتح کے بعد کہا کہ میچ میں بہت ساری مثبت تبدیلیاں آئیں لیکن اب بھی کچھ شعبے باقی ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر وقت کے بارے میں۔
چنئی نے ممبئی انڈینز کو امباتی رائیڈو (71) اور فاف ڈو پلیسیس (ناٹ آؤٹ 58) کی عمدہ ہاف سنچریوں سے شکست دی تھی جبکہ ٹیم کا آغاز خراب تھا اور پہلے دو اوورز میں دو وکٹیں گنوا بیٹھے تھے۔ ممبئی نے 20 اوورز میں نو وکٹوں پر 162 رنز بنائے تھے اور چنئی نے 19.2 اوورز میں پانچ وکٹوں پر 166 رنز بنائے تھے۔
دھونی راجستھان کے خلاف اچھی شروعات کرنا چاہیں گے چاہے وہ ٹیم پہلے بیٹنگ کر رہی ہو یا ہدف کا پیچھا کر رہی ہو۔ ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے اسٹار آل راؤنڈر ڈوین براوو کی لگاتار دوسرے میچ کے لئے خدمات حاصل نہیں ہوں گی جو گھٹنے کی انجری کی وجہ سے اس میچ کے لئے دستیاب نہیں ہوں گے۔ تاہم میچ میں براوو کی جگہ لینے والے سیم کیرن نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور 28 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی اور چھ گیندوں پر 18 رنز بنائے اور چنئی کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دھونی جانتے ہیں کہ آئی پی ایل ایک ٹورنامنٹ ہے جہاں کچھ کھلاڑی اسٹار کھلاڑیوں کے باوجود حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسی صورتحال میں وہ راجستھان کے خلاف مکمل توازن رکھنا چاہیں گے۔

کھیل

بی سی سی آئی ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے والوں کو 131 کروڑ روپے کا نقد انعام دے گا۔

Published

on

ممبئی: اتوار کو احمد آباد میں ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہندوستان کی 96 رن سے جیت کے بعد، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے ٹیم انڈیا کے لیے 131 کروڑ روپے (131 کروڑ روپے) کے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے، ہندوستانی مردوں کی ٹیم نے 2024 میں ٹی20 ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس وقت، جیتنے والی ٹیم کو ₹125 کروڑ (₹125 کروڑ) کا انعام ملا تھا۔ پچھلے ایڈیشن کے مقابلے، بی سی سی آئی نے نقد انعام میں 6 کروڑ روپے (6 کروڑ روپے) کا اضافہ کیا ہے۔ بی سی سی آئی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں لکھا گیا، “بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے آئی سی سی مردوں کی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں شاندار کارکردگی کے بعد ٹیم انڈیا کے لیے ₹131 کروڑ (₹131 کروڑ) کے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔ بورڈ ایک بار پھر کھلاڑیوں، معاون عملے اور سلیکٹرز کو مبارکباد دیتا ہے اور مستقبل میں اس تاریخی کامیابی کے لیے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔” ہندوستان نے روہت شرما کی کپتانی میں 2024 کا ٹی20 ورلڈ کپ جیتا تھا، جب کہ اس بار سوریہ کمار یادو نے ٹیم کی قیادت کی۔ ہندوستان آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ ٹائٹل برقرار رکھنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ تین بار جیتنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں اتوار کو کھیلے گئے فائنل میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز بنائے۔ جواب میں کیوی ٹیم 19 اوورز میں صرف 159 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ فائنل میچ 96 رنز سے جیت کر، بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی طرف سے دی گئی 2.34 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 21.5 کروڑ روپے) کی انعامی رقم جیت لی، جبکہ رنر اپ نیوزی لینڈ کو 1.17 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 10.75 کروڑ روپے) ملے۔

Continue Reading

کھیل

ہندوستانی کھلاڑی جنہوں نے دو بار ٹی20 ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا۔

Published

on

نئی دہلی: ٹیم انڈیا نے فائنل میں نیوزی لینڈ کو 96 رنز سے شکست دے کر ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 جیت لیا۔ سوریہ کمار یادو کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم نے ریکارڈ تیسری بار ٹی 20 ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنے نام کی۔ آئیے آپ کو ان ہندوستانی کھلاڑیوں کے نام بتاتے ہیں جنہوں نے دو بار ٹی20 ورلڈ کپ جیتا ہے۔ سوریہ کمار یادو: ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ٹیم انڈیا کو فتح دلانے والے سوریہ کمار یادو ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 میں بھی ٹیم کا حصہ تھے۔روہت شرما کی قیادت میں سوریا نے بلے سے ٹورنامنٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ جسپریت بمراہ: ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کے بعد جسپریت بمراہ نے بھی ٹیم انڈیا کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بمراہ نے فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 15 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ شیوم دوبے: شیوم دوبے ان ہندوستانی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو مسلسل دوسری بار چیمپئن ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ شیوم نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 میں بھی بلے اور گیند دونوں سے اہم شراکت کی۔ ہاردک پانڈیا: ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کے فائنل میں اپنی بولنگ سے ہندوستانی ٹیم کو چیمپئن بنانے والے ہاردک پانڈیا اب دو بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح بن گئے ہیں۔ اکسر پٹیل: ٹیم انڈیا کے آل راؤنڈر اکسر پٹیل بھی ان ہندوستانی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دو بار ٹی 20 ورلڈ کپ جیتا ہے۔ اکسر ہندوستانی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 2024 اور 2026 میں ٹی 20 ورلڈ کپ جیتا تھا۔ ارشدیپ سنگھ: ارشدیپ سنگھ نے بھی ٹیم انڈیا کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 اور 2026 جیتنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اپنی گیند بازی سے یہ ٹرافی دو بار جیت چکے ہیں۔ محمد سراج: محمد سراج ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹرافی دو بار جیتی ہے۔ سراج ٹی20 ورلڈ کپ 2024 اور ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں چیمپئن ٹیم کا حصہ تھے۔ سنجو سیمسن: سنجو سیمسن نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں ہندوستانی ٹیم کو چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے قبل وہ 2024 میں چیمپئن بننے والی ہندوستانی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ کلدیپ یادو بھی ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے یہ جیت درج کی ہے۔ دو بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹائٹل۔ تاہم کلدیپ کو ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پلیئنگ الیون میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔

Continue Reading

کھیل

کمل ہاسن نے کرکٹ ٹیم کو دی مبارکباد, اور کرکٹ کے ساتھ دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دینے کا مشورہ دیا۔

Published

on

ممبئی: چاہے گھریلو مسائل پر اپنی رائے کا اظہار ہو یا عالمی مسائل پر ملک کے موقف کے بارے میں وضاحت کا اظہار، جنوبی ہند کے اداکار کمل ہاسن کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کھلا خط لکھنے کے بعد اداکار نے ہندوستانی ٹیم کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا لیکن ہندوستانی نوجوانوں کے ناقابل تسخیر جذبے پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔ کمل ہاسن کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت پر بہت فخر ہے۔ انہوں نے نہ صرف آئی سی سی مینز کرکٹ ٹیم کو اس کی جیت پر مبارکباد دی بلکہ خواتین کی کرکٹ ٹیم کی جیت کو بھی یاد کیا۔ اداکار کا کہنا ہے کہ اگر کرکٹ کی طرح دیگر تمام کھیلوں پر بھی توجہ دی جائے تو ہمارے ملک کے نوجوان بہت سے تمغے جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، “ہماری ہندوستانی ٹیم نے لگاتار دو بار آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ جیتا ہے۔ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ اور آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کی فاتح۔ رنجی ٹرافی سے لے کر آئی پی ایل تک، یہ ہندوستان کے مضبوط ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم کا ثبوت ہے۔” انہوں نے بی سی سی آئی کو مزید ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، “تصور کریں کہ اگر ہر کھیل میں ایسا گھریلو نظام ہو تو ہندوستان کیا حاصل کر سکتا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیت لامحدود ہے۔ سڑکوں سے لے کر عظیم الشان اسٹیڈیم تک، بچپن کے خوابوں سے لے کر عالمی چیمپئن بننے تک، ہندوستان عروج پر ہے۔” صارفین بھی اداکار کی پوسٹ کی حمایت کر رہے ہیں اور ہر کھیل کو اہمیت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کے شائقین کی بڑی تعداد ہے اور یہی وجہ ہے کہ دیگر کھیلوں کا تب ہی پتہ چلتا ہے جب وہ اولمپکس میں تمغے جیتتے ہیں۔ ہندوستان تیسری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا چمپئن بن گیا ہے اور اتوار کی رات ہندوستان بمقابلہ نیوزی لینڈ کے میچ میں ٹیم کی کارکردگی نے ملک میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ٹیم نے نیوزی لینڈ کو 96 رنز سے شکست دے کر ورلڈ کپ جیت لیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان