(جنرل (عام
شیخ آصف : سکول ڈراپ آؤٹ سے آئی ٹی آئیکون بن جانے تک
وادی کشمیری سے تعلق رکھنے والے ایک کم تعلیم یافتہ نوجوان نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کر دی کہ کچھ غیر معمولی کرنے کا جوش و جذبہ ہو تو کسی بھی کٹھن ترین رکاوٹ کو بھی سر کر کے نہ صرف کامیابی کا جھنڈا گاڑا جا سکتا ہے، بلکہ زندگی کے کسی بھی مشکل ترین شعبے میں بھی ایک فقید المثال کارنامہ انجام دیا جا سکتا ہے۔
سری نگر کے بٹہ مالو علاقے سے تعلق رکھنے والا شیخ آصف، جنہیں اقتصادی طور نا خوشگوار گھریلو حالات سے مجبور ہو کر آٹھویں جماعت میں ہی تعلیم کو خیر باد کہنا پڑا ہے، آج ایک معروف برطانیہ نیشن انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنی کے مالک ہیں، اور طلباء کو ویب ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے آن لائن کلاسز دے رہے۔انہوں نے اپنے اس پسندیدہ شعبے کے مختلف موضوعات پر تین کتابیں بھی تصنیف کیں ہیں۔
جموں وکشمیر کے زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا آئی ٹی کے شعبے سے جڑ کر اپنا اور اپنے وطن کا نام روشن کرنا ان کا خواب ہے، جس کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے وہ برسر جدو جہد میں ہیں۔
شیخ آصف کو اسکول ڈراپ آؤٹ سے بین الاقوامی سطح کا ایک آئی ٹی آئیکون بن جانے تک کے اس سفر کے دوران گوناگوں دشوار گذار مرحلوں کو طے کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے اس کٹھن مگر کامیاب سفر کے بارے میں اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گھریلو حالات نے آٹھویں جماعت میں ہی تعلیم کو خیر باد کہہ دینے پر مجبور کر دیا، اور پھر کئی مشکل ترین راستوں کو طے کرنے کے بعد میں یہاں تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا : ’میرے گھر والے آٹھویں جماعت میں ہی تعلیم چھوڑنے کے میرے فیصلے کے مخالف تھے، لیکن والد کی ناز ساز طبیعت کے باعث میں سال 2008 میں تعلیم سے دستکش ہو گیا۔‘
ان کا کہنا تھا : ’سال 2009 میں میرے والد نے میرے لئے کچھ کرکے ایک کمپیوٹر خرید لیا اور میں نے اس کے بارے میں بنیادی چیزیں سیکھنا شروع کیں کیونکہ اس میں مجھے کافی دلچسپی تھی، اور میں اسی میں اپنے کیرئر کو بنانے کا آرزو مند بھی تھا۔‘
شیخ آصف نے کہا کہ ان دنوں یہاں ’ٹیلی‘ کا کافی رجحان تھا، جس کو سیکھنے کے لئے میں ایک انسٹی ٹیوٹ میں گیا، لیکن وہاں مجھے یہ کہہ کر مایوس کر دیا گیا کہ ’یہ کام آپ کی سمجھ سے باہر ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں نے ایک ٹور اینڈ ٹراولز ایجنسی میں ایک گرفک ڈیزائنر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا، جہاں 15 سو روپیے میری ماہانہ تنخواہ تھی، جس سے کسی حد تک گذارہ چل رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’اس دوران میں کمپیوٹر کے باقی شعبوں جیسے ’ایکسل‘ وغیرہ سیکھتا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد مجھے ’ٹاٹا سکائی‘ میں کام مل گیا، جہاں مجھے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور بروئے کار لانے کا کافی موقع نصیب ہوا، اور میں نے آئی ٹی کے کئی شعبوں میں مہارت حاصل کر لی۔
شیخ آصف نے کہا کہ سال 2014 میں کوئی اپنا کام ہی شروع کرنے کا خواب ابھی دیکھا ہی رہا تھا کہ اس سال کے قیامت خیز سیلاب نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا، اور مجھے ایک بار پھر کسی دوسرے کے دفتر میں ہی کام کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا : ’لیکن اس بار جس دفتر میں مجھے کام مل گیا، وہ میرے لئے کشمیر سے باہر جانے کا باعث بن گیا، اور میں اس دفتر کے کام کے سلسلے میں سال 2016 میں پہلے دلی اور پھر برطانیہ کی دارلحکومت لندن پہنچ گیا۔‘
موصوف نوجوان نے کہا کہ لندن میں بھی پہلے پہل مجھے کافی کشمکش کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا : ’لندن میں کام کم ہونے کی وجہ سے میں کچھ مایوس ہی تھا کہ اچانک ایک دن میری ملاقات ایک کشمیری سے ہوئی، جنہوں نے مجھے اپنے ساتھ لیا، اور بات چیت کے دوران میں نے اپنی داستان بیان کی۔‘
ان کا کہنا تھا : ’جس کشمیری سے میری ملاقات ہوئی وہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کا رہنا والا تھا، اور لندن میں ہی کافی عرصے سے رہائش پذیر تھا، جہاں ان کا ایک ریستوران بھی تھا۔‘
آصف نے کہا : ’انہوں نے مجھے اپنے پاس رکھا، اور اپنا کام شروع کرنے میں کافی مدد کی۔‘
انہوں نے کہا : ’لندن میں میرا اپنا ’تھامس انفو ٹیک‘ کا سفر شروع ہوا۔ میرے کام کو دیکھ کر کئی لوگ میرے پاس گریفک ڈیزائننگ کا کام کرانے کے لئے آئے اور ان میں سے ایک کو ویب سائٹ تیار کرنی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا : ’جب میں نے اس شخص کی ویب سائیٹ تیار کی تو وہ بہت خوش ہوا، اور مجھے لاکھوں روپیے معاوضہ دیا، اور پھر میں نے ویب سائیٹ ڈیزائننگ میں مزید مہارت حاصل کر لی۔‘
شیخ آصف نے کہا کہ اس کے بعد میںنے حمزہ سلیم نامی ایک سابق گوگل ملازم کے ساتھ اپنا ویب سائیٹ ڈیزائننگ کا کام شروع کیا۔
انہوں نے کہا : ’اس سیٹ اپ کا نام ہم نے لندن کے ایک مشہور دریا ’تھامس انفو ٹیک‘ پر رکھا، اور اس کے بعد حمزہ سلیم سال 2018 میں منچسٹر منتقل ہوا، اور میں اپنے آبائی وطن کشمیر لوٹ آیا۔‘
ان کا کہنا ہے : ’میں قریب 9 سو طلباء کو آئن لائن ویب ڈیزائننگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں آن لائن کلاسز دیتا ہوں، لیکن ان میں سے صرف 40 طلباء کا تعلق جموں وکشمیر سے ہے، جن میں سے 35 لڑکیاں ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ میں نے اس شعبے کے مختلف موضوعات پر تین کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ شیخ آصف کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کا آئی ٹی سیکٹر کے ساتھ جڑ جانا میرا خواب ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے نوجوان مسابقتی امتحانوں میں حصہ لے کر آئی اے ایس افسر، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بن جاتے ہیں، اسی طرح انہیں آئی ٹی سیکٹر میں بھی اپنی قسمت آزمائی کرنی چاہئے۔
ان کا ماننا ہے کہ اس شعبے میں کافی وسعت ہے، اور کشمیری نوجوان اس کے ساتھ جڑ کر بین لاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں اور ذہانت و ذکاوت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر سیل کی بڑی کارروائی! منظم گروہ کے ۶ اراکین گرفتار, ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں : ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے

ممبئی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو سائبر دھوکہ بازی کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری یعنی ڈیجیٹل اریسٹ سے خوفزدہ کر کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر متاثرین سے رقومات وصول کیا کرتے تھے۔ جعلی سم کارڈ 238 کروڑ کے منی لانڈرنگ معاملے میں مقدمہ درج ہونے کا خوف بتا کر سپریم کورٹ کا جعلی نوٹس بھیج کر شکایت کنندہ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ میں رکھ کر 1.12 کروڑ کی مالی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس معاملے میں انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ سمیت آئی ٹی شعبہ کے ویب ڈویلپر سمیت کل 6 ملزمان کو پکڑنے کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔ نارتھ سائبر پولیس بی این ایس دفعہ 204, 308(7), 61(2), 318(4), 319(2), 336(2), 336(3), 338, 340(2), 238 آئی ٹی ایکٹ دفعہ 66, 66 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں متاثرہ دہیسر کے رہائشی 68 سالہ بزرگ شہری شکایت کنندہ کو تاریخ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ سے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶ کے درمیان واٹس ایپ ویڈیو کال کرکے خود کی شناخت بھارتیہ دور سنچار ویبھاگ سے بتائی اور شکایت کنندہ کے سم کارڈ کا استعمال کرکے اس پر کل 238 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا گھوٹالہ کرنے کے بارے میں شکایت کنندہ کے خلاف دہلی میں منی لانڈرنگ کا کیس درج ہوا ہے اس بارے میں شکایت کنندہ کو سپریم کورٹ نوٹس بھیج کر اس جرم میں شکایت کنندہ کو گرفتاری کی دھمکی دے کر اسے ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر شکایت کنندہ کی کل 1,12,26,000/- روپے کی مالی دھوکہ دہی کی انتہائی حساس جرم میں ملزمان نے خود کی شناخت پوری طرح سے چھپا کر منظم طریقے سے پولیس افسر ہونے کا بہانہ بنا کر، پولیس وردی پہن کر سرکاری اتھارٹی، قومی جانچ ایجنسیوں کے نام، مہر، لیٹر ہیڈ استعمال کرکے شکایت کنندہ کو بار بار گرفتاری کا ڈر دکھا کر ویڈیو کال کرکے بینک کھاتے میں رقم طلب کر کے دھوکہ دہی کی ہے۔ دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے سائبر ملزمان نے الگ الگ افراد/کمپنی کے نام پر موجود الگ الگ بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس کی دستیابی کرکے ان کا استعمال کیا ہے اور نارتھ سائبر پولیس تھانہ، ممبئی کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ سائبرجرم کی مہارت سے کوشش میں تسلسل رکھ کر مثبت تفتیش کرکے ملزمان کے جرم کا طریقہ کار سمجھ کر جرم میں استعمال کیے گئے پہلی سطح کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر مزید معلومات لے کر ڈیجیٹل اریسٹ میں دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے کرنٹ بینک اکاؤنٹ خرید و فروخت کرنے والے اور دھوکہ دہی کی رقم کو لیئر کرنے والے ملزمان کی تلاش کرکے انہیں گرفتار کیا ہے اور گرفتار شدگان کے قبضے سے 02 لیپ ٹاپ، 20 موبائل فون، 25 مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈس، پاس بک، آدھار کارڈس، ایسا برآمد کیا ہے گرفتار شدگان ملزمین میں 1) راجیش کمار موہن لال جین، عمر 54 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 301/ دادا صاحب پھالکے روڈ، دادر مشرق، ممبئی بینک اکاؤنٹ ہولڈر 2) محمد طارق انور مومن، عمر 49 سال، تعلیم 12ویں پاس، رہنے والا 01/ ساجن بلڈنگ، نایاگاؤں کراس روڈ، شترو نجے ٹاور کے پاس، دادر مشرق، ممبئی مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک اکاؤنٹ آگے سپلائی کرنے والا 3) شیکھر مکیش تیاگی، عمر 28 سال، تعلیم ب کوم, بی ایم اے، رہنے والا پرتیکشا نگر، سائن، ممبئی انڈس انڈ بینک آپریشنل منیجر 4) گورو مہیش گوئل، عمر 40 سال، بی ای, آئی آئی ٹی دہلی، رہائشی رہیجہ ہائٹس، گوریگاؤں مشرق، ممبئی ویب ڈیولپر باندرہ پولیس تھانہ پربھادیوی دفعہ 420, 409, 120(بی), 34 کے تحت مقدمہ درج ہے 5) اجے کمار کالی پرساد شرما عمر 35 سال تعلیم بی اے، رہائشی بھیونڈی روڈ کالہیر ضلع تھانے موبائل کے ذریعہ آگے ایکسیس دینے والا 6) چنتن کمار سوریش بھائی دیسائی عمر 46 سال تعلیم- بی اے، رہنے والا ایس بی آئی بینک کے عقب مورا بگل رانادیل روڈ سورت گجرات موبائل یہاں ساتھیوں کے ذریعہ شکایت کنندہ کی رقم کی لیئرنگ کرنے والا)
جرم کی انجام دہی کا ملزمان کا طریقہ کار ابھے دیو گولڈ پرالی اس کمپنی کا گرفتار ملزم نمبر 01 ڈائریکٹر ہے۔ مذکورہ کمپنی کا انڈس انڈ بینک اکاؤنٹ رجسٹرڈ ہے۔ مذکورہ کھاتے سے گرفتار ملزم نمبر 01 کا موبائل لنک ہے تو دوسرے ڈائریکٹر کا موبائل لنک ہے۔ گرفتار ملزم نمبر 02 نے دادر مشرق یہاں کی موبائل شاپ سے دو نئے موبائل خریدے, ان میں سے ایک موبائل میں ابھے دیو گولڈ پرالی کمپنی کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, تو دوسرے موبائل میں گرفتار ملزم نمبر 01 مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا, دونوں موبائل گرفتار ملزم نمبر 02 نے انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ گرفتار ملزم نمبر 03 کے قبضے میں دیئے۔ گرفتار ملزم نمبر 03 نے مذکورہ دو موبائل فون میں سے مذکورہ کھاتے کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے بینک سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون خود کے پاس رکھ کر وہ گرفتار ملزم نمبر 05 کے قبضے میں دیدیا۔ تو گرفتار ملزم نمبر 01 کے مذکورہ بینک کھاتے سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون میں ڈال کر مذکورہ موبائل فون گرفتار ملزم نمبر 04 (ویب ڈیولپر) کے قبضے میں دیا اس نے وہ گرفتار ملزم نمبر 06 کے قبضے میں دیا۔ گرفتار ملزم نمبر 06 نے ممبئی سے ہوائی جہاز سے دہلی جا کر وہاں سے بجنور اترپردیش یہاں اس کے ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ کھاتے پر شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ کی رقم ٹرانسفر کرکے لے کر شکایت کنندہ کو ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر فراڈ معاملے میں کل 1,12,26,000/- روپے کی سائبر دھوکہ دہی کی ہے۔
شہریوں سے اپیل ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر دھوکہ دہی سے محفوظ رہنے ہدایات پر عمل کریں۔ پولیس/سی بی آئی/ای ڈی/آر بی آئی یا کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتا، قانون میں ڈیجیٹل گرفتاری ایسی کوئی بھی دفعہ نہیں ہے۔ انجان افراد کی ویڈیو کال قبول نہ کریں یا کبھی بھی پیسے نہ بھیجیں خاندان کے کسی بھی فرد کے برتاؤ یا موڈ میں تبدیلی نظر آئے تو اس پر دھیان دیں۔ اگر آپ ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار ہوئے ہیں، تو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو یا پولیس کو فوری معلومات دیں۔ اگر آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کے بارے میں کوئی بھی کال آئے، تو فوری قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں یا مدد کے لیے 100/1930 اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں یا http://www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : بائیکلہ ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن و چڑیا گھر میں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا معائنہ کے لئے میونسپل کمشنر کا دورہ

ممبئی ؛میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے آج (17 ستمبر 2026) بائیکلہ (مشرقی) میں واقع ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کا دورہ کیا تاکہ وہاں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ دورے کے دوران،اشونی بھڈے نے باغ میں ہبسکس (گڑہل) کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے حصے کے طور پر اور وزیر اعظم شری نریندر مودی کی سالگرہ کی یاد میں احاطے کے اندر ’سینچری پام‘ کا پودا بھی لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے گارڈن اور چڑیا گھر کے احاطے میں تعمیر کیے جا رہے ’ٹنل ایکویریم‘ (سرنگ نما ایکویریم) کی تعمیراتی پیش رفت کا معائنہ کیا اور جنوری 2027 تک تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ڈپٹی کمشنر (باغات) اجیت کمار امبی، ڈائریکٹر (چڑیا گھر) ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی، گارڈن سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی کے ساتھ دیگر متعلقہ عہدیداران اور عملہ موجود تھا۔ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں ہبسکس کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں مختلف رنگوں کے ہبسکس پھولوں کی تقریباً 50 اقسام پیش کی گئی ہیں۔ یہ نمائش عوام کے لیے کھلی ہے۔ اس موقع پر، محترمہ اشونی بھیڈے نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش کا دورہ کریں اور مختلف رنگوں میں ہبسکس پھولوں کی اقسام کا مشاہدہ کریں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : سنجے گاندھی نیشنل پارک میں شیرنی بجلی (ٹی2) کی موت

ممبئی سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے اموت کا اعلان کرتی ہے، جس کی عمر تقریباً 18 سال 4 ماہ تھی اور جو 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے بڑھاپے سے متعلق صحت کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ وہ 2016 سے سنجے گاندھی کنبہ کی ایک محبوب رکن رہی ہے۔ ان سالوں میں، اس نے لاکھوں زائرین کے دلوں کو گرویدہ کیا۔پچھلے مہینے سے، اس کی خوراک میں بتدریج کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی صحت کی قریب سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مغربی مہاراشٹر کی ٹیکنیکل ویٹرنری ایڈوائزری ٹیم کی رہنمائی اور تکنیکی مشورے کے تحت ویٹرنری آفیسر کے ذریعہ مناسب ویٹرنری اور معاون انتظام فراہم کیا جا رہا تھا۔ ان کی انتھک طبی کوششوں اور مسلسل نگرانی کے باوجود، بجلی نے 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے پرامن طور پر آخری سانس لی۔بجلی کو 11 جولائی 2016 کو پینچ ٹائیگر ریزرو سے سنجے گاندھی نیشنل پارک لایا گیا تھا اور وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ایس جی این پی کی دیکھ بھال اور حفاظت میں رہی۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے ساتھ اس کا طویل تعلق پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ، کنزرویشن ایجوکیشن اور قید جانوروں کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھااگرچہ بجلی (ٹی2) کا انتقال بڑھاپے کی وجہ سے ہوا، موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے معیاری پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ایس جی این پی انتظامیہ تمام وائلڈ لائف سے اور عشاق جانور سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بجلی (ٹی2) کی یادیں اور تصاویر شیئر کریں تاکہ ہم اس کی میراث اور وائلڈ لائف کنزرویشن میں اس کے تعاون کا احترام کر سکیں ایک بار پھر پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ یہاں اطلاع سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ، بوریولی، ممبئی نے دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
