Connect with us
Monday,25-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

شاہد انصاری: صحافت کی دنیا میں موبائل جرنلزم کا اولین سفیر

Published

on

صحافت کے بدلتے ہوئے مزاج کو جس نے وقت سے پہلے بھانپ لیا ہو آج وہی لوگ کامیاب صحافت کے علمبردار ہیں اور اس صنف پر بہترین شہسواری بھی کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے صحافت کے جس نئے دور کا آغاز کیا اس میں موبائل جرنلزم اپناڈنکا پیٹتا نظر آرہا ہے۔ ایک وہ وقت تھاجب کیمرہ اور لائٹ کے بغیر کسی الیکٹرانک کوریج کا تصور نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب ایک صحافی محض بہتر کوالیٹی موبائل فون سے نہ صرف الیکٹرانک رپورٹ تیار کررہا ہے بلکہ اسی موبائل سے الیکٹرانک انٹرویو کا کام بھی لیا جارہا ہے۔مہاراشٹر کالج سے اردو اور ہندی میں بطور ایک سبجیکٹ جرنلزم لیکر 2007 میں گریجویشن کرنے والے شاہد انصاری نے جب اپنے کریئر کا آغاز کیا تو انہوں نے جرنلزم میں ڈپلومہ حاصل کیا اور الیکٹرانک جرنلزم میں اپنی قسمت آزمائی شروع کردی ۔ آئی ٹی این نیوزپی سیون نیوز،لیمن نیوز،دی آر کے بی شومیں اپنے جھنڈے گاڑنے کے بعد انہوں نے نیوز ایکسپریس میں پانچ برس تک پرنسپل نامہ نگار کے بطور خدمات انجام دیں اور اب ای ٹی وی بھارت میں سینئیر کنٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں شاہد انصاری نے اپنے فیلڈ کے علاوہ بھی ہر وہ کچھ سیکھا اور سمجھا جو انکے اس پیشے کا حصہ ہے اسی لیے اُنہوں نے ڈیسک ،فیلڈ رپورٹنگ،پی سی آر ،فلیش فائر ایڈیٹنگ سمیت ہر اس فیلڈ میں مہارت حاصل کی جو اس پیشے کی ضرورت ہے۔

عروس البلاد ممبئی میں یوں تو صحافیوں کی بڑی تعداد آباد ہے لیکن جن صحافیوں نے اوائل عمری میں ہی دور اس اثرات ڈالے ہیں ان میں شاہد انصاری کا نام بھی نمایاں ہے۔بجا طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ جب موبائل جرنلزم کا آغاز ہوا تو ممبئی میں جس صحافی نے سب سے پہلے اس ہنر پر دسترس حاصل کی وہ شاہد انصاری ہی ہیں۔ ایک مقامی نیوز چینل آئی ٹی این سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے شاہد انصاری کی داستان بھی دلچسپ ہے ۔ممبئی کے ناگپاڑہ میں رہائش کے دوران جب انہوں نے قدم قدم پرناانصافیوں کا انبار دیکھا تو اس کے خلاف آواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا ۔ابھی انہوں نے گریجویشن کی تکمیل بھی نہیں کی تھی کہ چھوٹی چھوٹی اسٹوریز پر کام کرنا شروع کردیا اور کمزور و ناتواں لوگوں کی آواز بننے لگے۔کہتے ہیں کہ ایک پولس کانسٹیبل کسی غریب گھرانے کو پریشان کررہا تھا اور وہ گھرانہ دردر کی ٹھوکریں کھاکر تھک چکا تھا ۔پچاس سالہ بوڑھی خاتون جس کی پھول سی بچی پر کچھ ناپاک نگاہیں مرکوز ہورہی تھیں کہ اچانک شاہد انصاری کو اس کی خبر ہوئی اور انہوں نے اپنی رپوررٹنگ کے ذریعہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ نتیجتاً اعلیٰ افسران نے اس گھرانے کو ظلم سے آزاد کرایا اور خاطی پولس کانسٹیبل پر کارروائی ہوئی ۔اس کامیابی نے شاہد کے حوصلے کو بڑھایا اور انہوں نے پوری مستعدی کے ساتھ صحافت کے ذریعہ خدمت کا بیڑا اٹھالیا۔ممبئی سے ای ٹی وی بھارت پر جو رپورٹنگ دیکھنے کو ملتی ہے وہ شاہد انصاری کی ہوتی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک موبائل سے شوٹ کی ہوئی اسٹوری پر بیک گرائونڈ میں جب شاہد انصاری کا وائس اوور ہوتا ہے تو کوئی یہ کہہ نہیں سکتا کہ یہ محض موبائل سے کسی نے مکمل اسٹوری کی ہے۔

موبائل جرنلزم جسے ’’موجو‘‘بھی کہا جاتا ہے اب الیکٹرانک میڈیا میں عام ہوچکا ہے۔کیمرہ مین،لائٹ اینڈ سائونڈ،اوبی وین کی جگہ اب جرنلسٹ محض ایک موبائل فون اور ہینڈی اسٹک سے پوری اسٹوری کور کرتا ہے اور اسے خود ہی ایڈٹ کرکے اپنے ٹیلی کاسٹ اسٹیشن کو بھیج دیتا ہے۔حالانکہ جب کوئی پلان انٹرویو رہتا ہی تو ہی یا خاص موقعوں پر ہی کیمرہ مین ساتھ میں ہوتے ہیں۔ شروع شروع میں جب یہ تکنیک عام ہوئی اور موجو جرنلزم کا آغاز ہوا تو بیشتر صحافیوں نے اس جرنلزم کی تکنیک سیکھنے کے بجائے کنارہ کشی اختیار کرلی لیکن شاہد انصاری نے ابتداء میں ہی اس جرنلزم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا اور اس قدر مہارت حاصل کی کہ اب ای ٹی وی بھارت جیسی کمپنی میں وہ ممبئی سے اکیلے نمائندگی کرتے ہیں۔شاہد کا لگن اسٹوری کرنے کی مہارت و صلاحیت ہی ہے کہ ممبئی کرائم رپورٹر ایسو سی ایشن،ٹیلی ویژن جرنلسٹ ایسو سی ایشن نے انہیں اپنا ممبر بنا رکھا ہے جبکہ مہاراشٹر حکومت کا ایکریڈیشن کے ساتھ ممبئی پریس کلب کی رکنیت بھی حاصل ہے۔ کہتے ہیں کہ میڈیا میں کام کرنے کے لئے مختلف زبانوں کا جاننا انتہائی ضروری ہے لہذا شاہد انصاری نے اس میں بھی خاص مہارت حاصل کررکھی ہے اور جہاں قومی زبان ہندی اور اردو پر عبور حاصل ہے وہیں مراٹھی ،عربی اور انگریزی بھی بولتے اور سمجھتے ہیں۔کمپیوٹر کی تعلیم ایسی کہ جس ویڈیو کو ایڈٹ کردیں تو اچھے خاصے ایڈیٹر بھی حیران ہوجائیں کہ یہ کس سافٹ ویئر یا ایپ سے ایڈٹ ہوا ہے۔

مرحوم نصیر احمد کے برخوردار شاہد انصاری نے یوں تو سیکڑوں اسٹوریز پر کام کیا ہے لیکن جن اسٹوریز نے مہاراشٹر پر دور رس اثرات مرتب کئے ان میں بائیکلہ جیل کی اسٹوری اہم ہےجس میں قیدی کے قتل کے الزام میں چھ پولس اہلکاروں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی اور کئی ایک اہلکار معطل کردئے گئے،کہتے ہیں کہ اس اسٹوری کو نہ کرنے اور اسے خبر کو دبا دینے کے لئے شاہد انصاری پر بہت زور پڑا تھا لیکن انہوں نے اپنی جان کو جوکھم میں ڈالتے ہوئے تمام ثبوتوں کی روشنی میں اسٹوری کی اور جمہوریت کی حفاظت کا فریضہ ادا کیا۔ایک دوسری اسٹوری جس نے مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال لا دیا تھا وہ این سی پی کے لیڈر چھگن بھجبل کے پاس پڑے کالے دھن کی اسٹوری تھی جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن بیورو نے ممبئی،ناگپور اور کوکاتہ میں چھاپے ماری کی اور پچاس سے زائد جعلی اکائونٹ کے خلاف معاملہ درج کر چھگن بھجبل کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا۔اسی طرح اینٹی کرپشن بیورو کے ڈپٹی پولس سپرٹنڈنٹ کے خلاف کی گئی اسٹوری بھی کافی اہم تھی جو حکومتی ملازمین کو کرپشن کے معاملے میں گرفتار کرتا تھا اور اُن سے پھر خود ہی وصولی کیا کرتا تھا۔شاہد انصاری کی اس طرح کی اسٹوریز نےجہاں ان کی ساکھ بنائی ہے وہیں لٹتی صحافت کے عصمت کو داغدار ہونے سے بھی بچایا ہے اور کرائم رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ پالیٹکل اور کمیونیٹی رپورٹنگ کے ذریعہ معاشرے میں ایک بدلاؤ کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ممبئی میں کرائم رپورٹنگ ایک مشکل اور جاں گسل کام ہے ایسے میں شاہد انصاری نے نہ صرف انڈرورلڈ کی ان خبروں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس سے سول سوسائٹی نا آشنا تھی۔ پولس ڈپارٹمنٹ کے آپسی اختلافات کو بھی جس کا فائدہ اٹھا کر سماج دشمن عناصر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اس مسئلے سے بھی پردہ اٹھا کر انہوں نے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وکی پیڈیا پر شاہد انصاری کو ہندوستان کے اُن چنندہ موجو جرنلسٹوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں میں موجو جرنلزم میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان