Connect with us
Thursday,03-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں سکھوں کا دستہ آیا

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آرسی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خواتین کے مظاہرہ کوہٹانے کے عدالت کے فیصلے کے دوران پنجاب سے آنے والے سکھوں کے دستے نے آکر شاہین باغ خواتین کی نہ صرف زبرددست حمایت کی بلکہ ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا۔
رات کے تقریباََ ڈیڑھ بجے کے قریب یہ سکھوں کا دستہ تم سنگھرش کروں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے شاہین باغ اسکوائر پر آئے اور انہوں نے آتے ہی ماحول بدل دیا۔ ایک طرف مسلم خواتین بیٹھی تھیں تو دوسری طرح سکھوں کا جتھ جس میں سکھ خواتین بھی شامل تھیں بیٹھی تھیں۔ شاہین باغ مذہبی یگانگت، قومی اتحاد اور آئین کے خلاف جنگ کا الگ ہی نظارہ پیش کر رہا تھا۔
پنجاب کے ضلع بٹھنڈہ سے دستہ کے ساتھ آنے والی کلدیپ کور نے بتایا کہ ہم لوگ شاہین باغ مسلم خواتین کی جو قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کر رہی ہیں، ہم لوگ ان کی حمایت کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس طرح کا قانون لیکر آئی ہے اور اس طرح فرقوں کے درمیان لڑانے کا کام کر رہی ہے۔ پنجاب میں بھی اس کے خلاف مظاہرہ ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کو اس طرح قانون سازی سے باز آنا چاہئے۔
کچھ سکھ مرد و خواتین رات کے چار بجے شاہین باغ پہنچی اور انہوں نے کہاکہ ہم ایک ساتھ ہیں اور ایک ساتھ رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کرسکتی۔ لڑانے کا حکومت کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے یگانت کا اظہار کرتے ہو ئے کہاکہ انہیں شاہین باغ آکر بہت اچھا لگ رہا ہے اور اس سے بھی اچھا یہ لگ رہا ہے کہ ہم لوگ آئین کے تحفط اور سماجی مساوات اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور مشترکہ تہذیب کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔
وہاں کا انتظام دیکھنے والی محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ پانچ سو سے زائد سکھ لوگ یہاں آچکے ہیں اور پنجاب سے مزید سکھوں کے آنے کی امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سماجی، تعلیمی، سیاسی اور دیگر شعبہائے حیات سے وابستہ لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی آواز ملک کے کونے کونے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں گونچ رہی ہے اور امید ہے پورے ملک کی خواتین اس کالا قانون کے خلاف میدان میں اتریں گی۔
دریں اثناء مشرقی دہلی کے خوریجی علاقے میں رات دن کا خواتین کے دھرنا جاری ہے۔ گزشتہ رات کچھ پولیس والے اور کچھ نقاب پوش نے اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی لیکن خواتین کی بڑی تعداد میں پہنچنے پر وہ لوگ اپنے منصوبے میں ناکام رہے۔ وہاں بھی خواتین قومی شہریت ترمیمی قانو ن، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ 16 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہرے میں شاہین باغ خاتون مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ پر پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا جو اس وقت پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ مہاراشٹر کے مالیگاؤں، بہار میں گیا گزشتہ 29دسمبر سے خواتین میدان میں ہیں،، پٹنہ کے سبزی باغ میں پانچ چھ دن سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں، ارریہ، مدھوبنی اور دیگر علاقوں میں سمیت الہ آباد میں منصور علی پارک (روشن باغ) میں گزشتہ چار دن سے، اور دہلی کے سلیم پور، ذاکر نگر ڈھلان پر خواتین مستقل مظاہرہ کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ راجستھان کے کوٹہ شہر میں بڑی تعداد میں خواتین نے جلوس نکال کر اس قانون کی مخالفت کی ہے۔خواتین باغ خواتین کا مظاہرہ کا تذکرہ نہ صرف ہندوستان کے کونے کونے میں ہورہا ہے بلکہ پوری دنیا میں اور دنیا کی ہر یونیورسٹی میں اس کا ذکر ہورہا ہے اوران کی حمایت میں مظاہرہ کئے جانے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک غبن ملزمین کی جائیدادیں قرق

Published

on

New-India-Bank

ممبئی : ممبئی اقتصادی ونگ ای او ڈبلیو نے نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک کروڑوں روپے کے غبن کے معاملہ میں پراپرٹی ضبطی کی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ ای او ڈبلیو نے بتایا کہ غبن کے آمدنی سے حاصل شدہ جائیدادوں کی نشاندہی کے بعد اسے منسلک اور ضبط کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں 5 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے، ان ملزمان کی 21 غیر منقولہ جائیدادیں پائی گئی ہے، جنہیں قرق کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ممبئی شہر میں 107 بی این ایس ایس کے تحت یہ پہلی کارروائی کی ہے جس میں ملزمان کی جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ ممبئی اے او ڈبلیو نے بتایا کہ قرق جائیدادوں سے حاصل شدہ رقومات کا تخمیہ بھی لگایا جائے گا۔ ممبئی میں بینک کے گھوٹالہ کے بعد ای او ڈبلیو نے بڑی کارروائی کی ہے اور ملزمان سے متعلق دیگر جائیدادوں کی بھی تفصیلات معلوم کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کا لارنس بشنوئی گینگ کو جھٹکا، پانچ اراکین گرفتار

Published

on

ممبئی کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گینگسٹر لارنس بشنوئی گینگ کے پانچ شوٹروں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے, ان شوٹروں کے قبضے سے 5 ریوالور اور 21 کارآمد کارتوس بھی برآمد کئے ہیں۔ ممبئی پولیس ان شوٹروں سے باز پرس بھی کر رہی ہے شوٹروں کو واردات انجام دینے سے قبل ہی پولیس نے گرفتار کر کے واردات پر ہی قدغن لگایا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے اندھیری علاقہ سے ان پانچوں کو گرفتار کیا ہے, یہ یہاں بڑی تخریبی کارروائی کو انجام دینے کی غرض سے آئے تھے, لیکن اس سے قبل ہی پولیس نے واردات کو ناکام بنا دیا۔ گرفتار ملزمین وکاس ٹھاکر، سمیت دلاور، دیویندرروپیش سکسینہ، شریہ سریش یادو، وویک گپتا شامل ہے۔ وکاس ٹھاکر کو ورسوا اندھیری، سمیت مکیش کمار دلاور ہریانہ سونی پت، دیویندر روپیش سکسینہ مدھیہ پردیش، شریا سریش یادو جگدیشپور بہار اور وویک کمار گپتا رام پور راجستھان کا ساکن ہے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کئے گئے ہیں۔ اور کرائم برانچ نے ان پر دفعہ 3 اور 25 بی این ایس کی دفعہ 55 اور 61(2) اور مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ کرائم برانچ یہ معلوم کر رہی ہے کہ ملزمین نے ہتھیار کہاں سے لایا تھا۔

سلمان خان پر فائرنگ کے بعد لارنس بشنوئی گینگ ممبئی میں سرگرم عمل ہونے کی کوشش کررہا ہے لیکن ممبئی کرائم برانچ کی سخت کارروائی کے سبب اس گینگ کی کمر ٹوٹ گئی ہے, اور اب کرائم برانچ نے لارنس بشنوئی گینگ کو زبردست جھٹکا دیا ہے, اور اس کے پانچ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کرائم برانچ اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف ترمیمی بل غریبوں کے لیے نقصان دہ ہے… ایس پی ایم ایل اے رئیس شیخ کا آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی امور کو سنبھالنے کا حق چھیننا غیر آئینی ہے

Published

on

MLA-Raees-Sheikh

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر قانون ساز رکن رئیس شیخ نے لوک سبھا میں وقف بل پیش کئے جانے کی مخالفت کی ہے، رئیس شیخ نے بی جے پی پر جھوٹا بیانیہ تیار کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ اس بل کو ایک سوچا سمجھا اور غیر آئینی بل قرار دیا ہے، جس سے معاشرے کے غریبوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ شیخ نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 26 مذہبی اداروں کو چلانے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت اپنے اداروں کو چلانے کا حق چھیننا غیر آئینی ہے۔ ایم ایل اے شیخ نے کہا کہ یہ اقدام مذہبی معاملات کو سنبھالنے کی آئینی ضمانت کے خلاف ہے۔

شیخ نے کہا کہ بی جے پی حکومت یو پی اے حکومت کو دکھا رہی ہے کہ وہ ایک خاص برادری کی خوشنودی کی سیاست کر رہی ہے، جب کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا جھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وقف کے تحت کمیونٹی کو کسی بھی زمین پر قبضہ کرنے یا اسے وقف کے طور پر دعوی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وقف بورڈ مسلم کمیونٹی کی کوئی نجی تنظیم نہیں ہے، بلکہ وقف ایکٹ کے تحت قائم ایک قانونی ادارہ ہے۔ کسی جائیداد کو وقف قرار دینے کے عمل میں، ایک سرکاری سرویئر ایک سروے کرتا ہے اور سرکاری طور پر اس جائیداد کا اعلان کرتا ہے۔ شیخ نے تبصرہ کیا کہ یہ خیال پیش کرنا سراسر غلط ہے کہ مسلمان من مانی طور پر کسی بھی جائیداد کو وقف قرار دے سکتے ہیں۔

شیخ نے مزید کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے بنائی جا رہی غلط تصویر کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور حکومت نے مسلمانوں یا اپوزیشن کی طرف سے دی گئی تجاویز پر غور نہیں کیا۔ تمام وقف گورننگ بورڈز اور ٹرسٹوں کو وقف فریم ورک سے باہر نکلنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے نظام کمزور ہو گیا ہے۔ شیخ نے مزید کہا، “یہ ایک غیر تصوراتی اور غیر تصور شدہ بل ہے جو معاشرے کے صرف غریبوں کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دفعات مثلاً یہ شرط کہ وقف کرنے والا شخص پانچ سال سے مسلمان ہو، عجیب ہے۔ اس سے پہلے، وقف املاک پر قبضہ ایک ناقابل ضمانت جرم تھا، لیکن اب اسے مجرمانہ بنا دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com