Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

جرم

گلابی شہر جئے پور کے باران میں اجتماعی عصمت دری کی شرمناک واردات سے سنسنی

Published

on

rape

خیال اثر مالیگانوی

جب سے مرکز اور دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں اقتدار پر قابض ہوئی ہیں عام افراد کی آمد و رفت مشکل ترین مسئلہ بن گئی ہیں. بحالت مجبوری عام شاہراؤں پر سفر کرنے والے شادی شدہ جوڑوں کاغواء کرتے ہوئے ماں باپ اور شوہر کے سامنے ہی خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے شرمناک واقعات بڑھتے جارہے ہیں. راجستھان جیسے تاریخی شہر میں دو سال قبل غازی پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا مقدمہ درج ہوا تھا. اس شرمناک واقعہ کی گونج پورے ملک میں سنائی دی تھی اور راہول گاندھی سمیت دیگر بے شمار لیڈران متاثرہ خاتون سے ملاقات کرتے ہوئے تمام احوال جاننے کی کوشش کی تھی. مذکورہ واقعہ دو سال پرانا ہے لیکن اسی راجستھان کے گلابی شہر جئے پور کے باران نامی گاؤں میں سنیچر کی رات 10 بجےنیشنل ہائی وے نمبر90 پر اجتماعی عصمت ریزی کا ایک شرمناک واقعہ پھر منظر عام پر آیا ہے. بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ جوڑا موٹر سائیکل کے ذریعے اپنے گاؤں کی جانب سفر کررہا تھا تب ایک بوڑھے شخص سمیت پانچ دیگر درندہ صفت افراد نے متاثرہ جوڑے کو روکتے ہوئے پہلے تو یرغمال بنایا اور پھر اس کے بعد ان دونوں کو قریبی کھیت میں لے جایا گیا. 6 افراد پر مشتمل درندوں نے پہلے تو خاتون کو بدن سے لپٹی ہوئی ساڑی سے آزاد کرکے مادر ذادبرہنہ کردیا اور پھر اسی ساڑی سے اس کے شوہر کے ہاتھ پیر باندھنے کے بعد یکے بعد دیگرے بھوکے کتوں کی طرح متاثرہ کے عریاں بدن پر توٹتے ہوئے اپنی جنسی ہوس کی تکمیل کی. اس سے پہلے جب ان جنسی درندوں نے عام شاہراہ پر متاثرہ جوٰڑے کو گھیرا تھا تو ان کے ساتھ متاثرہ خاتون کی کمسن بہن بھی ساتھ تھی. چھوٹی بچی کو ان درندوں نے بیچ شاہراہ پر چھوڑتے ہوئے نوجوان جوڑے کو قریبی کھیت میں اٹھا لے گئے تھے جہاں خاتون کے ساتھ جبرأ اجتماعی عصمت دری کی گئی. متاثرہ خاتون کی چھوٹی بہن رات کے اندھیرے میں سنسنان سڑک پر کھڑی آتی جاتی ہوئی مال گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کررہی تھی. یہ 8 سالہ کمسن بچی چیخ چیخ کر مال گاڑیوں کو اپنے نھنے منے ہاتھوں سے رکنے کا اشارہ کرتی رہی. یہ دیکھ کر ایک رحم دل مال ٹرک ڈرائیور نے اپنی گاڑی روک کر اس کمسن بچی سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے روتے ہوئے سارا ماجرا بیان کردیا. ماجرا سننے کے بعد اس رحمدل ٹرک ڈرائیور نے دیگر مال ٹرکوں کو روک لیا اور جب ڈھیر سارے لوگ جمع ہو گئے تو تمام ٹرک ڈرائیور متاثرہ جوڑے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے. ان تمام افراد نے دور دور تک کھیتوں میں جا کر آوازیں لگائیں کہیں سے کوئی جواب نہ ملنے پر آس پاس کے تمام کھیتوں میں باریک بینی سے تلاش شروع کی تب رونگٹے کھڑے کردینے والی خستہ حالت میں متاثرہ خاتون نظر آئی. اس تلاش میں متاثرہ خاتون کا شوہر بھی متاثرہ خاتون کی ساڑی سے ہاتھ پیر بندھا ہوا دستیاب ہوا. کسی ٹرک ڈرائیور نے اس شرمناک واقعہ کی اطلاع پولیس کو کردی تھی تب جائے وقوع پر پولیس ذمہ دارن مع ایمبولنس موقع واردات پر پہنچ گئے. متاثرہ خاتون کو اسپتال میں داخل کیا گیا. باران, جئے پور ایس پی ونیت کمار بنسل اور اے ایس پی وجئے سورن کار موقع پر پہنچ گئے. انھوں نے ہی اجتماعی عصمت دری کا شکار متاثرہ خاتون کو اسپتال روانہ کیا اور اس کے شوہر کے اسی کی ساڑی سے باندھے گئے ہاتھ پیر کو کھلوایا. ایس پی نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی اطلاع پر پولیس نے اغواء, اجتماعی زیادتی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ کا اندارج کر لیا ہے ساتھ ہی متاثرہ خاتون کے شوہر کی نشاندہی پر چند ایک مشتبہ افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے.
حالیہ واقعہ کے تناظر میں بغور دیکھا جائے تو دل کانپ کانپ جاتا ہے کہ جس عورت کو ایک شخص بڑے ارمانوں سے بیاہ کر لاتا ہے اور وہ اس عورت کا مالک کل ہوتا ہے .وہ سارے کام جو خلوت میں وہ اپنی بیاہی بیوی کے ساتھ تنہائی میں انجام دیتا ہے جس کے بدن کے پوشیدہ حصوں پر صرف اور صرف اسی کا حق ہوتا ہے بدن کے اسی پوشیدہ حصوں پر کوئی غیر اور وہ بھی ایک دو نہیں بلکہ پانچ سے چھ درندہ صفت افراد اس کی آنکھوں کے سامنے ہی جبرأ قبضہ جمانے کی کوشش کریں اور وہ بےبس و مجبور تماشائی بنا اس کی متاع کل پر جبر ہوتا دیکھتا رہے اور کچھ بھی نہ کر پائے. یہ ظلم اور جبر ہندوستان کو کس موڑ پر لے جارہا ہے. کیا عام شاہراؤں پر اسی طرح مجبور و بے بس خواتین جنسی درندگی کا شکار ہوتی رہیں گی. ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان جنسی شیطانوں کی گرفتاری بھی عمل میں آ جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چند دنوں تک قانون کی حراست میں رہتے ہوئے قانون و عدلیہ کی مو شگافیوں کے طفیل یہ پھر سے اپنی درندگی سمیت آزاد ہو جائیں تاکہ پھر سے ایک بار کسی عام شاہراہ پر سفر میں مصروف جوڑے کا اغواء کرتے ہوئے شوہر کے سامنے ہی اس کی بیوی کی عزت کو تار تار کردیں. کہاں ہیں……کہاں ہیں جنھیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں ؟

بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج کا غزہ میں بڑا فوجی آپریشن، آئی ڈی ایف کے حملے میں 50 فلسطینی ہلاک، نیتن یاہو نے بتایا موراگ راہداری منصوبے کے بارے میں

Published

on

Netanyahu-orders-army

تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل غزہ میں ایک طویل اور وسیع مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج دو متوازی کارروائیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ ایک شمالی غزہ میں اور دوسرا وسطی غزہ میں۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد پورے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں حماس کا اثر کم ہے۔ دوسرا علاقہ وہ ہے جہاں حماس کے دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیلی فوج غزہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے جا رہی ہے۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سکیورٹی کوریڈور قائم کر رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے اسے موراگ کوریڈور کا نام دیا۔ راہداری کا نام رفح اور خان یونس کے درمیان واقع یہودی بستی کے نام پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور دونوں جنوبی شہروں کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اپنے فوجی آپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسرائیل غزہ کی پٹی میں ‘بڑے علاقوں’ پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً ایک درجن بچوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی آپریشن کو “عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور “فلسطینی سرزمین کے بڑے حصوں کو ضم کرنے اور انہیں اسرائیل کے سیکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔”

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار غزہ میں ایک “بفر زون” کو طویل عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بفر زون اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے چھوٹے خطے کو مزید سکڑنا پڑے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے ‘حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے’ کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا، ‘جنگ ختم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔’ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پونے : لڑکی میوری ڈانگڈے نے اپنے دولہے ساگر جے سنگھ کدم پر حملہ کیا، شادی سے پہلے دولہے کو مارنے کا دیا ٹھیکہ

Published

on

Ahlianagar-Issue

پونے : اہلیہ نگر کی ایک لڑکی کی شادی 12 مارچ کو طے ہے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ لڑکے کے گھر والوں نے اسے روک دیا۔ پھر دونوں کی منگنی ہوگئی اور پری ویڈنگ شوٹ بھی خوبصورت جگہوں پر ہوا۔ اب شادی کی تیاریاں زوروں پر ہونے لگیں۔ اس دوران دولہا پر جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا اور جو انکشاف ہوا سب کو چونکا دیا۔ ہونے والے دولہے پر اس کی ہونے والی دلہن نے حملہ کیا۔ اس نے نوجوان کو مارنے کے لیے حملے کا حکم دیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گیا۔ اس سازش میں لڑکی کا 40 سالہ بوائے فرینڈ بھی شامل تھا۔

پولیس نے بتایا کہ دلہن کا نام میوری ڈانگڈے (20) ہے۔ اس کی شادی ساگر جے سنگھ کدم کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ وہ بنیر میں ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں باورچی کے طور پر کام کرتا ہے۔ 27 فروری کو ساگر نے لڑکی کو کھمگاؤں گاؤں کے قریب اس کے رشتہ دار کے گھر چھوڑ دیا۔ ساگر پر اسی راستے سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے ساگر کو بری طرح مارا۔ اسے شدید چوٹیں آئیں اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ساگر کدم نے یکم مارچ کو یاوت پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں اس نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے دوسرے لوگوں سے اس کی ٹانگیں توڑنے کو کہا تاکہ وہ شادی میں شرکت نہ کرسکے۔ ساگر نے یہ بھی کہا کہ انہیں 21 اور 22 فروری کو ایک نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئیں۔

پولیس نے ابتدائی طور پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 118 (جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانا)، 351 (مجرمانہ دھمکی) اور 352 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔ یاوتمال پولیس کی ایک ٹیم نے 28 مارچ کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے حملہ آوروں میں سے ایک کا سراغ لگایا۔ یاوت پولیس کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر مہیش مانے نے بتایا کہ گرفتار نوجوان (19 سال) لڑکی کا کزن ہے۔ اس نے ساری سازش بتائی اور چار اور لوگوں کے نام بتائے۔ جس میں لڑکی کا عاشق (40 سال) بھی شامل ہے، جو اہلیہ نگر کے شری گونڈہ میں ایک گیراج کا مالک ہے۔ اسے دو دن کے اندر حراست میں لے لیا گیا۔ خاتون (23 سال) ابھی تک مفرور ہے۔

مانے نے کہا کہ لڑکی اور قدم نے 21 فروری کو ساسواڑ کے قریب شادی سے پہلے کا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ لڑکی نے قدم سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بتائے کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن کدم نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اور اس کے عاشق نے قدم کو ختم کرنے کی سازش رچی۔ اہلکار نے بتایا کہ قدم کی منگیتر نے 27 فروری کو ان سے رابطہ کیا اور پونے میں فلم دیکھنے کے لیے اس کے ساتھ جانے کو کہا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل پر یاوت کے قریب کھامگاؤں میں اپنے رشتہ دار کے گھر اٹھایا اور پونے میں فلم دیکھی۔ اس نے اسے شام 7.30 بجے کے قریب کھامگاؤں میں واپس چھوڑ دیا۔

جب قدم پونے واپس آ رہے تھے تو ایک کار میں سوار چار آدمیوں نے اسے زبردستی روکا۔ انہوں نے اسے لاٹھیوں سے مارا اور پھر دھمکی دی کہ اگر اس نے عورت سے شادی کی تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ خاتون اور اس کے عاشق نے ضلع اہلیانگر کے تین مردوں کو نوکری پر رکھا تھا۔ خاتون کا کزن بھی ساتھ تھا۔ خاتون اور اس کے عاشق نے اسے 1.25 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔

Continue Reading

جرم

بابا صدیق قتل کیس : این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا

Published

on

baba siddiqi

 ممبئی : مرحوم این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا ہے، اور التجا کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس کا خاندان ملزم کے فعل کا حتمی شکار ہے۔ چونکہ عدالت نے ابھی مقدمے کی سماعت شروع کرنا ہے، بابا کی اہلیہ شہزین نے جمعہ کو اپنے وکیل تروین کمار کرنانی کے ذریعے ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں اسے مقدمے کی سماعت کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس نے استدعا کی کہ ملزمان نے مقتول کا پہلے سے منصوبہ بند اور سوچے سمجھے طریقے سے سرد خون، بہیمانہ قتل کیا ہے۔ شہزین نے اپنی درخواست میں کہا، “اسے ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور یہ کہ مداخلت کرنے والے کے لیے سچے اور درست حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ اس عدالت کو معاملے میں آزادانہ اور منصفانہ نتیجے پر پہنچنے میں مدد ملے،” شہزین نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ کئی اہم پہلو ہیں جن کے لیے مناسب وزن کی ضرورت ہے۔

درخواست میں متاثرہ کے سننے کے حق پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے متعدد درخواستوں میں رکھا ہے۔ “یہ خیال کیا گیا ہے کہ متاثرہ فرد جرم کا حقیقی طور پر شکار ہوا ہے۔ جرم کی روک تھام اور سزا دینے کے لئے فوجداری انصاف کی فراہمی کے اخلاق کو شکار کی طرف سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ متاثرین کے سننے اور مجرمانہ کارروائی میں حصہ لینے کے حقوق کے حوالے سے فقہ مثبت طور پر تیار ہونا شروع ہوئی ہے”۔66 سالہ صدیق کو 12 اکتوبر 2014 کو باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیق کے دفتر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔ بشنوئی کے گینگ کے مبینہ طور پر تین حملہ آوروں نے اس کار پر فائرنگ کی جہاں بابا دفتر سے نکلنے کے لیے بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ کار میں آیا، ملزم نے اس پر گولی چلا دی، جس سے اس کے گارڈز کو رد عمل کا اظہار کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملی۔ تاہم حملہ آور فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

پولیس اب تک قتل کے الزام میں 26 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ممبئی پولیس نے دسمبر میں این سی پی لیڈر کے قتل میں ملوث 26 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ قتل کا حکم بشنوئی نے دیا تھا، جو اس گروہ کا سربراہ ہے۔اپنی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ گینگ کے ارکان بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے خلاف نفرت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ، صدیق اداکار کے بہت قریب تھا، اور اس کے علاوہ، گینگ دہشت گردی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا. صدیق کے قتل کی سازش کے پیچھے یہی بنیادی محرکات تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com