Connect with us
Friday,10-April-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بی ایم سی الیکشن میں سماجوادی پارٹی تنہا الیکشن لڑے گی : ابوعاصم اعظمی

Published

on

samajwadi party

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن الیکشن میں پورے دم خم کے ساتھ سماجوادی پارٹی تنہا الیکشن لڑے گی یہ دعوی آج یہاں اسلام جمخانہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ور کن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کیا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ گوونڈی میں حالات انتہائی خراب ہے یہاں فنڈ کی قلت ہے اور فنڈ کی فراہمی میں دشواریاں پیدا ہوگئی ہے. اگر کوئی فنڈ طلب کیا جاتا ہے تو یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ فنڈ لاڈلی بہن یوجنا میں صرف ہوچکا ہے اور فنڈ میسر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی مہاراشٹر میں ضلع پریشد اور گرام پنچایت الیکشن میں بھی حصہ لے رہی ہیں, اس کے ساتھ ہی بی ایم سی الیکشن میں تقریبا 150 نشستوں پر تنہا الیکشن لڑنے کا اعلان بھی ابوعاصم اعظمی نے کیا ہے۔

ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ 20 نومبر سے سماجوادی پارٹی اپنے امیدواروں کو اے بی فارم تقسیم کریگی اور یہ سلسلہ 5 دسمبر تک جاری رہے گا. سماجوادی پارٹی انہیں حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کریگی جہاں اس کے امیدواروں طاقت کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے کے قابل ہوں گے. انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سماجوادی پارٹی نے گزشتہ مرتبہ کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی سے سمجھوتہ کیا تھا لیکن اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے, انہوں نے کہا کہ اسمبلی الیکشن میں فارم بھرنے کی تاریخ ختم ہونے تک سماجوادی پارٹی کو نشست نہیں فراہم کی گئی اور پھر دو نشست دیدی گئی اور ہم سے اس متعلق کوئی گفتگو تک نہیں کی گئی تھی۔ مہاراشٹر میں الیکشن کیلئے سماجوادی پارٹی فیصلہ لینے کیلئے آزاد ہے اس کی پوری ذمہ داری قومی صدر اکھلیش یادو نے دیدی ہے, انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے سیکولر پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کیلئے مہاراشٹر میں وہ آزاد ہے, لیکن اس کے باوجود کانگریس جیسی بڑی پارٹی کا رویہ اپنے حلیف پارٹیوں کے ساتھ رویہ مناسب نہیں ہے اور عین الیکشن میں سمجھوتہ ختم کر دیا جاتا ہے اس لئے اب سماجوادی پارٹی نے تنہا بی ایم سی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں گرام پنچایت ضلع پریشد الیکشن میں بھی سماجوادی پارٹی کے امیدوار میدان عمل میں ہے اس کے ساتھ ترقیاتی کاموں پر سماجوادی پارٹی الیکشن لڑے گی. انہوں نے کہا کہ گوونڈی میں ایک مرتبہ نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے دورہ کیا تھا تو انہوں نے یہاں کی گلیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا تھا اس کے بعد ہم نے اجیت پوار سے فنڈ کا تقاضہ کیا تو انہوں نے زیادہ فنڈ کی فراہمی کا وعدہ کیا لیکن جب ہم نے ان سے بات کی تو کہا کہ فنڈ لاڈلی بہن یوجنا میں صرف ہوچکا ہے. انہوں نے کہا کہ چار برسوں سے الیکشن منعقد نہیں کیا گیا ہے اس لئے کارپوریشن سمیت دیگر اضلاع کی حالت انتہائی خراب ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ہمارے پارٹی کے سابق اراکین کو فنڈ کی فراہمی نہیں کی جارہی ہے, لیکن اگر کوئی اجیت پوار گروپ یا شندے سینا میں شمولیت اختیار کرتا ہے وہ کارپوریٹر تھا یا نہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اسے فوری طور پر فنڈ کی فراہمی کی جاتی ہے ایسے میں یہ تفریق ختم ہونی چاہئے اور تمام سابق کارپوریٹروں کو فنڈ کی فراہمی ہونی چاہئے کیونکہ یہ اپنے علاقوں کے مسائل سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گوونڈی شیواجی نگر میں ایس ایم ایس کمپنی کے سبب عوام کی زندگیاں اجیرن ہوکر رہ گئی ہے, ہائیکورٹ نے کمپنی کو مزید مہلت دیدی ہے جس کے سبب عوام میں مایوسی ہے اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ ابوعاصم اعظمی نے ایک مرتبہ پھر سرکار سے ایس ایم ایس کمپنی بند کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ہے اور اس کیلئے ہر ضروری اقدامات کرنے کا بھی یقین دلایا ہے اور عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ سماجوادی پارٹی کو مستحکم کرے۔ اس پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی لیڈر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی، رکن اسمبلی رئیس شیخ، اور دیگر لیڈران شریک تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اشوک کھرت کیس نے ریاست بھر میں ہلچل مچا دی، پرتیبھا چاکنکر بھی دائرہ تفتیش میں، نت نئے انکشافات

Published

on

ممبئی : ڈھونگی بابااشوک کھرت کیس ریاست بھر میں بہت مشہور ہےمتاثرہ خاتون نے ناسک کے ایک دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف تشدد کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ اس دوران ایک ایک کر کے اس کے کارنامے سامنے آنے لگے ہیں۔ اس سے بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اب تک اس کے خلاف خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ اس معاملے میں ایک ایس آئی ٹی کا تقرر کیا گیا ہے، اور ایس آئی ٹی اس سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاملے میں روپالی چاکنکر کی بہن پرتیبھا چاکنکر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کو نوٹس بھیجا ہے۔ شرڈی پولس نے دھوکہ باز اشوک کھرات کے معاملے میں پرتیبھا چاکنکر کو آج نوٹس جاری کیا ہے۔ دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف شرڈی میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ جب اس معاملے کی تفتیش جاری تھی، پولیس کو چونکا دینے والی معلومات ملی۔ سمتا پتسنتھا میں کئی اکاؤنٹس ہیں، جو مختلف لوگوں کے نام پر ہیں، لیکن نامزد خود اشوک کھرات ہیں۔ ان کھاتوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی لین دین کی گئی ہے۔ پرتیبھا چاکنکر اور ان کے بیٹے کے بھی سمتا پتسنتھا میں چار کھاتے ہیں۔ ان تمام کھاتہ داروں کے بیانات لینے کا کام جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک 33 کھاتہ داروں نے اپنے بیانات درج کرائے ہیں پرتیبھا چاکنکر کو اب اپنا بیان دینے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کے دو پتوں پر ڈاک کے ذریعے نوٹس بھیجے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے حاضر ہوں۔ اس لیے اب پرتیبھا چاکنکر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اس دوران اشوک کھرات کے ساتھ فوٹو سامنے آنے سے ریاست میں کچھ لیڈروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مالیگاؤں دھماکہ کیس کے سلسلے میں ان کی گرفتاری کے بعد 2008 سے پروہت کے کیریئر کی ترقی مؤثر طریقے سے منجمد رہی تھی

Published

on

ممبئی: ایک اہم پیشرفت میں، ہندوستانی فوج نے کرنل شری کانت پرساد پروہت کو بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دینے کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے، جو اس کے سب سے پیچیدہ اور طویل قانونی معاملے میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ مسلح افواج کے ٹربیونل کی جانب سے 31 مارچ 2026 کو ان کی طے شدہ ریٹائرمنٹ کو روکنے کے لیے مداخلت کے چند ہفتوں بعد آیا ہے، جس سے ان کے زیر التواء پروموشن کیس کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی یہ اقدام 17 سال کے سفر پر محیط ہے جس میں افسر کو ایک ہائی پروفائل دھماکے کے کیس میں ملزم بننے سے باعزت بری ہونے اور سسٹم میں دوبارہ بحال ہونےکے پس منظر میں کیا گیا ۔
2008 کی گرفتاری کے بعد سے کیریئر رک گیا ہے۔
مالیگاؤں دھماکہ کیس کے سلسلے میں ان کی گرفتاری کے بعد 2008 سے پروہت کے کیریئر کی ترقی مؤثر طریقے سے منجمد رہی تھی ۔اگرچہ انہیں سپریم کورٹ نے 2017 میں ضمانت دے دی تھی اور بعد میں دوبارہ فعال سروس پر بحالی ہوئی تھی تھے، لیکن ان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات سالوں تک قانونی غیر یقینی صورتحال میں پھنسے رہے۔31 جولائی 2025 کو اہم موڑ آیا، جب مہاراشٹر کی ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے پروہت کو تمام الزامات سے بری کر دیا، ثبوت کی کمی اور استغاثہ کے مقدمے میں تضادات کا حوالہ دیتے ہوئےانہیں ستمبر 2025 میں مکمل کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، اس نے اپنے کیریئر کی ترقی کا ایک حصہ بحال کیا۔
ٹربیونل مداخلت ریٹائرمنٹ موقوف عرضی
16 مارچ، 2026 کو، جسٹس راجندر مینن کی سربراہی میں ایک بنچ نے فیصلہ دیا کہ پروہت کے پاس اس کے جونیئرز کے برابر مراعات اور ترقی پر غور کرنے کے لیے پہلی نظر میں مقدمہ ہے۔
ٹربیونل نے حکم دیا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کو اس وقت تک موقوف رکھا جائے جب تک کہ پروموشن سے متعلق ان کی قانونی شکایت حل نہیں ہو جاتی، اور ان کی سروس کو مؤثر طریقے سے فعال رکھا جاتا ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی کے لیے فوج کی منظوری ان کی قید اور مقدمے کی سماعت کے دوران ضائع ہونے والے ایام کو تسلیم کرتی ہےاگر اس کے کیریئر میں خلل نہ پڑا ہوتا تو اس کے بیچ کے افسران پہلے ہی سینئر لیڈر شپ میں کرنل ہوتے ۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ معمول کے مطابق میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ سکتے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان