کھیل
سچن کو ملا لارینس اسپورٹس موومنٹ ایوارڈ
عظیم بلے باز ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کو کھیل دنیا کے ممتاز لارینس اسپورٹس موومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ہندستان نے 2011 آئی سی سی ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جس کے بعد ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں نے سچن کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر پورے اسٹیڈیم کا چکر لگایا تھا۔ اس لمحے کرکٹ شائقین کے دلوں و دماغ پر ہمیشہ کے لئے یہ منظر درج ہو گیا۔ اس لمحے کو گزشتہ 20 سالوں کے دوران سب سے بہترین کھیل لمحہ مانا گیا جس کے لئے سچن کو پیر کو جرمنی کے برلن شہر میں منعقد ایک تقریب میں لارینس اسپورٹس موومنٹ ایوارڈ (2000-2020) سے نوازا گیا۔ یہ لمحہ کرکٹ شائقین کے لئے ناقابل فراموش ہو گیا۔
سچن کو یہ اعزاز کرکٹ شائقین کے ووٹوں کی بنیاد پر ملا ہے۔ کھیل سے محبت کرنے والوں کو 2000 سے 2020 کے درمیان کھیل کی دنیا کے ایسے ‘بہترین لمحے’ کو منتخب کیا تھا جب کھیل کے سبب لوگ ‘انتہائی غیر معمولی طور پر’ متحد ہوئے ہوں۔کرکٹ شائقین نے سچن کو فاتح بنانے کے لئے ان کے حق میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے۔وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں ہندستان نے ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کو چھ وکٹ سے شکست دی تھی۔ دھونی نے سری لنکا کے تیز گیند باز نوان كل شیکھر کی گیند پر چھکا لگا کر ہندستان کو فاتح بنایا تھا۔ 2011 کا ورلڈ کپ ماسٹر بلاسٹر کا چھٹا اور آخری ورلڈ کپ تھا۔آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اسٹیو وا نے لارینس اسپورٹس موومنٹ ایوارڈ (2000-2020) کے فاتح کے نام کا اعلان کیا اور عظیم ٹینس کھلاڑی بورس بیکر نے سچن کو ایوارڈ کے ٹرافی سونپی۔
سچن نے اس باوقار ایوارڈ ملنے کے بعد کہاکہ یہ ناقابل اعتماد ہے۔ ورلڈ کپ جیتنے کے احساس کو الفاظ میں اظہار نہیں کیا جا سکتا۔ کتنی بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی ٹورنامنٹ میں مختلف طرح کے خیالات نکل کر سامنے آتے ہیں۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ پورا ملک ایک ساتھ مل کر جشن منائے۔بورس بیکر نے سچن سے اس وقت محسوس کئے گئے جذبات کو شئیر کرنے کے لئے کہا جس پر عظیم بلے باز نے کہاکہ میرا سفر سال 1983 میں شروع ہوا تھا، تب میں 10 سال کا تھا۔ اس وقت ہندستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ مجھے اس کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی اور صرف اس لئے کہ ہر شخص منا رہا تھا، میں بھی اس میں شامل ہو گیا۔ لیکن کہیں مجھے پتہ تھا کہ ملک کے لئے کچھ خاص ہے اور میں ایک دن اس کا تجربہ کرنا چاہتا تھا اور اسی طرح سے میرا سفر شروع ہوا۔
سچن نے ورلڈ کپ جیتنے کے لمحات کو شئیر کرتے ہوئے کہاکہ یہ میری زندگی کا سب فخریہ لمحہ تھا، اس ٹرافی کو اٹھائے ہوئے جس کا میں نے 22 سال تک پیچھا کیا، لیکن میں نے کبھی امید نہیں کھوئی تھی۔ میں صرف اپنے ہم وطنوں کی جانب سے اس ٹرافی کو اٹھا رہا تھا۔بھارت رتن سچن نے ایوارڈ ملنے پر کرکٹ شائقین کا شکریہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیاکہ محبت اور حمایت دینے کے لئے سب کا شکریہ، اس ایوارڈ کو میں ہندستان ، اپنے ساتھی کھلاڑیوں، شائقین اور ہندستان اور دنیا بھر میں ہندستانی کرکٹ کی حمایت کرنے والے لوگوں کے لئے وقف کرتا ہوں۔
کھیل
آئی پی ایل 2026 : پنجاب سرفہرست… ممبئی ٹاپ فور سے باہر، سی ایس کے – پی بی کے ایس کو پوائنٹس ملے۔

نئی دہلی، انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل 2026) کے 19ویں ایڈیشن کا ساتواں میچ جمعہ کو چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) اور پنجاب کنگز (پی بی کے ایس) کے درمیان کھیلا گیا۔ پنجاب کنگز نے سی ایس کے کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔ سیزن کے دوسرے میچ میں پنجاب کی یہ دوسری جیت تھی۔ اس جیت کے ساتھ ہی پنجاب پوائنٹس ٹیبل میں ٹاپ پر چلا گیا۔ دیکھتے ہیں کہ باقی نو ٹیمیں پوائنٹس ٹیبل میں کہاں کھڑی ہیں۔ پنجاب کنگز دو میچوں میں دو جیت کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ راجستھان رائلز ایک میچ میں ایک جیت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ رائل چیلنجرز بنگلور ایک میچ میں ایک جیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ دہلی کیپٹلس ایک میچ میں ایک جیت کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ممبئی انڈینس ایک میچ میں ایک جیت کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے اور سن رائزرس حیدرآباد دو میچوں میں ایک جیت کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہے۔ گجرات ٹائٹنز اور ایل اینڈ ٹی بالترتیب ساتویں اور آٹھویں مقام پر ہیں۔ دونوں ٹیموں نے ایک ایک میچ کھیلا ہے جس میں ایک میچ ہارا ہے۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور چنئی سپر کنگز نے دو دو میچ کھیلے ہیں اور دونوں ہارنے کے بعد بالترتیب نویں اور دسویں نمبر پر ہیں۔ پوائنٹس ٹیبل میں ٹیموں کی رینکنگ جیت ہار کے تناسب اور نیٹ رن ریٹ پر مبنی ہے۔ سی ایس کے اور پنجاب کنگز کے درمیان میچ میں پنجاب نے ٹاس جیت کر گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے، سی ایس کے نے آیوش مہاترے کی 73، شیوم دوبے کے 45، اور سرفراز خان کی 32 رنز کی اننگز کی بدولت 5 وکٹوں پر 209 رنز بنائے۔ پنجاب نے پریانش آریہ کے 39، پربھسمرن کے 43 اور کپتان شریاس ایر کے 50 رنز کی اننگز کی بدولت 18.4 اوور میں 5 وکٹ پر 210 رنز تک پہنچ کر میچ پانچ وکٹ سے جیت لیا۔
کھیل
آئی پی ایل 2026: تمام 10 ٹیموں نے اپنا پہلا میچ کھیلا، یہ ہیں ٹاپ 4 میں شامل ٹیمیں

نئی دہلی، انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل 2026) کے 19ویں ایڈیشن میں تمام 10 ٹیموں نے اپنے پہلے میچ کھیلے ہیں۔ کچھ ٹیمیں مضبوط دکھائی دیتی ہیں، جبکہ دیگر کے پاس بہتری کی اہم گنجائش ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ بدھ کو لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) اور دہلی کیپٹلس (ڈی سی) کے درمیان ہونے والے میچ کے بعد پوائنٹس ٹیبل میں ٹاپ فور میں کن ٹیموں نے جگہ حاصل کی ہے۔ راجستھان رائلز (آر آر) پوائنٹس ٹیبل میں پہلے مقام پر ہے، اس نے اپنے ابتدائی میچ میں سی ایس کے کو 8 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) دوسرے نمبر پر ہے، جس نے اپنے ابتدائی میچ میں سن رائزرز حیدرآباد (ایس آر ایچ) کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ بدھ کو ایل ایس جی کو شکست دینے والا ڈی سی تیسرے نمبر پر ہے۔ ڈی سی 6 وکٹوں سے جیت گیا۔ ممبئی انڈینز چوتھے نمبر پر ہے جس نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو 6 وکٹوں سے شکست دی ہے۔ پنجاب کنگز پانچویں نمبر پر ہیں۔ پنجاب نے اپنے پہلے میچ میں گجرات ٹائٹنز کو 3 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ ان ٹیموں نے اب تک پانچ میچ جیتے ہیں اور ہر ایک کے 2 پوائنٹس ہیں۔ پوائنٹس ٹیبل رن ریٹ پر مبنی ہے۔ گجرات ٹائٹنز (جی ٹی) چھٹے، کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) ساتویں، لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) آٹھویں، سن رائزرز حیدرآباد (ایس آر ایچ) نویں، اور چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) دسویں نمبر پر ہے۔ پانچوں ٹیمیں اپنے پہلے میچ ہار گئیں۔ پوائنٹس ٹیبل میں ان کی پوزیشنیں بھی رن ریٹ کی بنیاد پر ہیں۔ ٹورنامنٹ بہت طویل ہے۔ ابھی پہلا مرحلہ ختم بھی نہیں ہوا ہے اس لیے تمام ٹیموں کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو بہتر کر کے ٹاپ پوزیشن پر پہنچ جائیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹاپ فور میں شامل ٹیمیں اپنی پوزیشن برقرار رکھتی ہیں یا دیگر ٹیمیں ٹاپ فور میں جگہ بنا پائیں گی۔
کھیل
آئی پی ایل 2026: پہلے میچ میں چنئی سپر کنگز کی کمزوریوں کا پردہ فاش، آگے کا راستہ آسان نہیں ہوگا

نئی دہلی: چنئی سپر کنگز نے آئی پی ایل 2026 کا آغاز شکست کے ساتھ کیا۔ انہیں پیر کو برسپارا کرکٹ اسٹیڈیم میں راجستھان رائلز کے خلاف 8 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے میچ نے چنئی کی ٹیم کی کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، جو اس سیزن میں ٹیم کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔ مڈل آرڈر میں تجربے کی کمی: پہلے میچ میں چنئی سپر کنگز کے تجربے کی کمی واضح طور پر ظاہر ہوئی۔ سنجو سیمسن اور رتوراج کے سستے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کی شکست خوردہ اننگز کو مستحکم کرنے والا کوئی بلے باز نہیں تھا۔ چنئی آیوش مہاترے اور میتھیو شارٹ جیسے بلے بازوں سے مضبوط اننگز کی توقع نہیں کر سکتا۔ سرفراز نے جہاں ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت زیادہ رنز بنائے ہیں وہیں آئی پی ایل میں ان کا ریکارڈ خراب رہا ہے۔ کارتک شرما اور پرشانت ویر ابھی کافی چھوٹے ہیں۔ تجربے کے لحاظ سے چنئی کے مڈل آرڈر میں واحد بلے باز شیوم دوبے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ دوبے ہر میچ میں اکیلے ہی ٹیم کو فتح تک نہیں پہنچا سکتے۔ ایک فنشر کی کمی: چنئی سپر کنگز میں اس سیزن میں نہ صرف مڈل آرڈر کی بلکہ ایک مضبوط فنشر کی کمی ہو سکتی ہے۔ ڈیوالڈ بریوس اس ذمہ داری کو نبھا سکتے تھے، لیکن وہ زخمی ہیں، اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ انہیں مکمل صحت یاب ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔ ایم ایس دھونی بھی دو ہفتوں سے دستیاب نہیں ہیں۔ ٹیم یہ کردار پرشانت ویر اور ارول پٹیل کو دے سکتی ہے، لیکن دونوں کے پاس تجربے کی کمی ہے۔ کمزور بولنگ اٹیک: چنئی کا بولنگ اٹیک اس سیزن میں ٹیم کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں میٹ ہنری کا ریکارڈ کوئی خاص اچھا نہیں رہا اور یہ بات پہلے ہی میچ میں ظاہر ہوئی۔ ہنری نے راجستھان کے خلاف تین اوور کے اسپیل میں 40 رنز دیے۔ ٹیم خلیل احمد اور انشول کمبوج سے مضبوط پرفارمنس کی توقع کر سکتی ہے۔ جبکہ خلیل کے پاس وکٹیں لینے کی صلاحیت ہے لیکن وہ کافی مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ اسپن ڈپارٹمنٹ میں، ٹیم کے پاس صرف نور احمد اور عقیل حسین ہی اپنے سرکردہ گیند باز دکھائی دیتے ہیں۔ چنئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان دونوں غیر ملکی گیند بازوں کو ایک ساتھ پلیئنگ الیون میں نہیں اتار سکتے۔ نور راجستھان کے خلاف رن اسکور کرنے میں بھی ناکام رہے۔ چنئی سپر کنگز کو کئی اہم سوالات کا سامنا ہے، جن کا جواب ٹیم انتظامیہ کو جلد از جلد تلاش کرنا چاہیے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
