Connect with us
Sunday,30-November-2025
تازہ خبریں

سیاست

رادھا کرشن ماتھرنے لداخ کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ کا حلف لیا

Published

on

radha kishan mathur

تری پورہ کیڈر کے 1977 بیچ کے آئی اے ایس افسر (ر) رادھا کرشن ماتھر نے جمعرات کو نو تشکیل شدہ مرکز کے انتظام علاقہ لداخ کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ کا حلف لیا۔
قابل غور ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ جمعرات کو ختم ہو گیا۔ اب جموں و کشمیر دو مرکزی علاقوں- لداخ اور جموں و کشمیر میں منقسم ہوگیا ہے۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس گیتا متل نے مسٹر ماتھر كو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ جي مرمو بھی آج ہی جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدہ کا حلف لیں گے۔
اس سے قبل لداخ کے مرکز کے زیر انتظام ریاست کے طور پر وجود میں آنے سے ایک دن پہلے بدھ کو ہی مرکز نے سینئر آئی اے ایس افسر امنگ نرولا کو اس ہمالیائی علاقے کے نو مقرر لیفٹیننٹ گورنر کا مشیر مقرر کیا تھا۔ سال 1989 بیچ کے آئی اے ایس افسر نرولا کو فوری طورسے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ مسٹر نرولا اس سے پہلے جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کے پرنسپل سکریٹری تھے۔ سال 1995 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایس ایس كھنڈارے کو لداخ کا ’پولیس سربراہ‘ مقرر کیا گیا ہے۔مسٹر ماتھر ملک کے چیف انفارمیشن کمشنر، سکریٹری دفاع، ڈیفنس پروڈکشن سکریٹری، انتہائی چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانے درجے کےانٹرپرائز سکریٹری اور ہندوستان کے چیف سکریٹری اور تری پورہ کے چیف سکریٹری کا بھی کی کردار ادا کر چکے ہیں۔انڈین ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ٹی) کانپور کے سابق طالب علم ماتھر کو دفاعی معاملات کی گہری سمجھ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ان کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ہی انہیں اسٹریٹجک طور پر حساس نئے مرکزی علاقہ لداخ کی کمان سونپی گئی ہے۔

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com