Connect with us
Wednesday,13-May-2026
تازہ خبریں

سیاست

وزیراعظم نریندر مودی پنجاب میں 42 ہزار کروڑ کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے

Published

on

modi

انتخابی ریاست اتر پردیش میں کئی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اب بدھ کے روز پنجاب کے فیروز پور کا دورہ کریں گے۔ جہاں وہ 42750 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان میں دہلی۔ امرتسر۔ کٹرا ایکسپریس وے، امرتسر ۔اونا سیکشن کو چار لین کا بنانا، مکرین۔ تلواڑہ نئی براڈ گیج ریلو لائن؛ فیروز پور میں پی جی آئی سیٹلائٹ سینٹر اور کپورتھلا اور ہوشیار پور میں دو نئے میڈیکل کالج شامل ہیں۔

دہلی۔ امرتسر۔ کٹرا کے 669 طویل ایکسپریس وے پر تقریبا 39500 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا امکان ہے۔ اس سے دہلی سے امرتسر اور دہلی سے کٹرا کے سفر میں لگنے والا وقت آدھا ہو جائے گا۔ گرین فیلڈ ایکسپریس وے سلطان پور لودھی، گووندوال صاحب، کھدور صاحب، ترن تارن میں سکھوں کے اہم مذہبی مقامات اور کٹرا میں ہندوؤں کے مقدس مقام ویشنو دیوی کو جوڑے گا۔ اس کے علاوہ یہ ایکسپریس وے ہریانہ، چنڈی گڑھ، پنجاب اور جموں و کشمیر میں اہم اقتصادی مراکز مثلاً انبالہ، چنڈی گڑھ، موہالی، سنگرور، پٹیالہ، لدھیانہ، جالندھر، کپورتھلا، کٹھوعہ اور سانبا کو بھی جوڑے گا۔

امرتسر۔اونا سیکشن کی چار لین کا بنانے کا کام تقریباً 1700 کروڑ کی لاگت سے کیا جائے گا۔ یہ 77 کلو میٹر لمبا سیکشن امرتسر تا بھوٹا کے بڑے کوریڈور کا ایک حصہ ہے، جو کہ شمالی پنجاب اور ہماچل پردیش تک گیا ہے، جو کہ چار اہم قومی شاہراہوں یعنی امرتسر۔ بھٹنڈا۔ جام نگر اقتصادی کوریڈور، دہلی۔ امرتسر۔کٹرا ایکسپریس وے، نارتھ ساؤتھ کوریڈور اور کانگڑا۔ ہمیر پور۔ بلاسپور۔ شملہ کوریڈور کو کنکٹ کرے گا۔ اس سے گھومن، شری ہرگوبند پور اور پل پکتا ٹاؤن (یہاں پر مشہور گرودوارہ پل پکتا صاحب واقع ہے) میں مذہبی مقامات کی کنکٹی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم مکیریاں اور تلواڑہ کے درمیان تقریباً 27 کلو میٹر لمبی ایک نئی براڈ گیج ریلوے لائن کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جو 410 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کی جائے گی۔ یہ ریلوے لائن نانگل ڈیم ۔ دولت پور چوک ریلوے سیکشن کی ایک توسیع ہوگی۔ یہ ریلوے لائن علاقے میں ٹرانسپورٹیشن کا ایک آل ویدر ذریعہ فراہم کرائے گی۔

اس پروجیکٹ کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے لیے ایک متبادل روٹ کے طور پر کام کرے گا، جوکہ مکیریاں میں موجودہ جالندھر۔ جموں ریلوے لائن کو جوڑے گا۔ یہ پروجیکٹ خصوصی طور پر پنجاب میں ہوشیار پور اور ہماچل پردیش میں اونا کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس سے علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور یہ پہاڑی مقامات کے ساتھ ساتھ مذہبی اہمیت کے مقامات کے لئے بھی آسان کنکٹی وٹی فراہم کرائے گا۔

ملک کے تمام حصوں میں عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی کی وزیر اعظم کی کوشش کے مطابق پنجاب کے تین قصبوں میں نئے میڈیکل انفراسٹرکچر کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ فیروز پور میں 100 بستروں والا پی جی آئی سیٹلائٹ سنٹر، 490 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ یہ انٹرنل میڈیسن، جنرل سرجری، آرتھوپیڈکس، پلاسٹک سرجری، نیورو سرجری، آبسٹیٹرک اور گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس، آپتھیلمولوجی، ای این ٹی اور سائیکیاٹری۔ ڈرگ ڈی ایڈکشن سمیت 10 اسپیشالیٹیز میں خدمات فراہم کرائے گا۔ یہ سیٹلائٹ سینٹر فیروز پور اور قریبی علاقوں میں عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرائے گا۔

کپورتھلا اور ہوشیار پور میں دو میڈیکل کالج تیار کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک پر تقریباً 325 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، اور ان صلاحیت تقریباً 100 سیٹوں کی ہوگی۔ یہ کالج مرکز کی اسپانسرڈ اسکیم ’ڈسٹرکٹ /ریفرل ہاسپٹل کے ساتھ منسلک نئے میڈیکل کالجوں کا قیام‘ کے مرحلہ III میں منظوری کئے گئے ہیں۔ اس سکیم کے تحت پنجاب کے لئے مجموعی طور پر تین میڈیکل کالج منظوری کئے گئے ہیں۔

جرم

ممبئی : جے جے اسپتال میں ڈاکٹر کی خودکشی کے سبب سنسنی

Published

on

suicide

ممبئی : جے جے اسپتال کے ڈاکٹر نے ذہنی تناؤ کے مرض کے سبب خودکشی کرلی۔ آج دوپہر ڈاکٹر ابھیاسنگھ نرسنگھ مورے نامی شخص نے جو ڈاکٹر نواس میں ریڈیولاجی کے سال اول میں زیر تعلیم تھا, اس نے اپنے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ وہ ریڈیولاجی کے سال اول میں زیر تعلیم تھا اور سائیکو ٹراپک ادویات لے رہا تھا۔ اس نے ڈپریشن کی وجہ سے اپنے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

حج کمیٹی کی غفلت کے سبب حجاج کرام کو دشواریاں، اضافی دس ہزار روپیہ کی وصولی، ضروری کارروائی کی سی او حج کمیٹی کی اعظمی کو یقین دہانی

Published

on

Azmi-&-Yusuf

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کو حجاج کرام کو درپیش مسائل اور دشواریوں کے ازالہ کے لیے حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سے ملاقات کر کے حجاج کرام کو درپیش دشواریوں کے ازالہ اور مشکلات کا تصفیہ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سی ای او کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ حجاج کرام سے جنگی صورتحال کے سبب ۱۰ ہزار روپیہ اضافی وصول کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جو اسمارٹ واچ عازمین حج کو دی گئی وہ ناکارہ ہے۔ اسمارٹ واچ کے لیے حجاج کرام سے اضافی ۵ ہزار روپیہ وصول کیا گیا تھا, اس کے باوجود یہ دستی گھڑی ناکارہ ہے, جبکہ یہی اسمارٹ واچ مارکیٹ بازار میں ۷ سو سے ۶ سو رپیہ میں دستیاب ہے۔ یہ الزامات بھی عازمین حج نے حج کمیٹی آف انڈیا پر عائد کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس گھڑی کی چارجنگ سمیت دیگر خرابیوں سے متعلق بھی شکایات موصول ہوئی ہے۔ اسی مسئلہ پر اعظمی نے سنٹرل حج کمیٹی کے سی ای شاہنواز سی سے حج ہاؤس میں ملاقات کی جس میں عازمین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر بات کی گئی۔ حجاج کرام نے شکایت کی کہ تقریباً 10,000 روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، فراہم کردہ گھڑیوں کے لیے 5,000 وصول کیے گئے، جبکہ ان کی مارکیٹ قیمت تقریباً 700-800 ہے۔ بہت سے حجاج نے بتایا کہ گھڑیاں ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھیں اور ناقابل استعمال تھیں۔ سی ای او نے بغور باتیں سننے کے بعد یقین دلایا کہ گھڑیوں کا معائنہ کیا جائے گا اور درست معلومات فراہم کی جائیں گی۔

گزشتہ 20 سالوں سے حج کے دوران حج ہاؤس میں میں خدمت انجام دینے والے ملازمین کی برطرفی کا معاملہ بھی اعظمی نے سی ای او کے روبرو پیش کیا۔ عدالتی حکم کے باوجود انہیں دوبارہ برخاست کردیا گیا۔ ان ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سی ای او شاہنواز نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر کارروائی کا یقین دلایا۔ اس دوران وفد میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابرہانی اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

“ہندوؤں پر حملہ ہوا تو میں استعفیٰ دے دوں گا” بنگلہ دیش کے وزیر نے کیا بڑا اعلان, بھارت سے مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

Published

on

Bengladesh

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کے مذہبی امور کے وزیر قاضی شاہ مفضل حسین کیکو آباد نے کہا ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جبر کے خلاف سخت موقف اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے وزارتی عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیں گے لیکن ملک میں اقلیتوں یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف ظلم، ناانصافی یا ظلم و ستم کو قطعی طور پر برداشت نہیں کریں گے۔ بنگلہ دیشی وزیر نے یہ باتیں سیکرٹریٹ میں خبروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تنظیم بنگلہ دیش سیکرٹریٹ رپورٹرز فورم (بی ایس آر ایف) کے زیر اہتمام ایک مباحثے کے دوران کہیں۔ یہ تقریب پیر کو سیکرٹریٹ کے میڈیا سنٹر میں منعقد ہوئی۔ قاضی شاہ مفضل حسین کیکو آباد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد ملک میں ہندوؤں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں مغربی بنگال کے انتخابی نتائج پر ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جس میں انتباہ جاری کیا جا رہا ہے کہ “اگر بنگال میں مسلمانوں کے خلاف تشدد ہوا تو بنگلہ دیش میں بھی ہندو محفوظ نہیں رہیں گے۔” ایک سوال کے جواب میں قاضی شاہ مفضل حسین نے کہا کہ ‘بھارت ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہ اس کا احترام کرتا ہے کیونکہ یہ جمہوریت کو برقرار رکھتا ہے۔’

تاہم، اپنی تقریر کے دوران، انہوں نے یہ بھی کہا کہ “اگر ہندوستان اقلیتوں کو قبول کرتا ہے، ان کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے، اور انہیں مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے، انہیں اپنی آبادی کا اٹوٹ حصہ تسلیم کرتا ہے، تو وہ ہندوستان کا اور بھی زیادہ احترام کرے گا۔” مذہبی امور کے وزیر نے مزید کہا کہ “لیکن میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی مسئلہ نہیں ہے، صرف ہندوستان میں کچھ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش میں ایسا ہونے دیا جائے گا، اگر ضرورت پڑی تو میں وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا، لیکن میں یہاں کسی بھی مذہب یا اقلیت کے پیروکاروں کے خلاف کسی قسم کا ظلم، ناانصافی یا مظالم برداشت نہیں کروں گا۔” اس سب کے درمیان بنگلہ دیشی بنیاد پرست مولانا عنایت اللہ عباسی نے مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کے بعد ہندوؤں کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر مغربی بنگال میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں تو ہندوؤں کو بنگلہ دیش میں بھی محفوظ رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔ عنایت اللہ عباسی اس سے قبل بھارت اور ہندوؤں کے خلاف زہر اگلنے کے لیے بدنام رہے ہیں۔ انہوں نے 2023 میں کہا تھا کہ ‘بنگلہ دیش کے مسلمان نئی دہلی پر اسلامی پرچم لہرائیں گے۔’

واضح رہے کہ اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2024 سے فروری 2026 کے درمیان ہندو برادری کے خلاف تشدد کے 3,100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ان کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دسمبر 2024 میں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق صرف 4 اگست سے 8 دسمبر 2024 کے درمیان 2,200 واقعات رپورٹ ہوئے۔ بنگلہ دیش ہندو-بدھ-مسیحی اتحاد کونسل (بی ایچ بی سی یو سی) کی ایک رپورٹ کے مطابق، 4 اگست 2024 سے 30 جون 2025 کے درمیان 2,442 فرقہ وارانہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان واقعات میں اجتماعی عصمت دری، گھروں اور کاروبار پر قبضے اور جبری استعفیٰ شامل تھے۔ دریں اثنا، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، فروری 2026 کے انتخابات سے عین قبل تشدد میں پھر اضافہ ہوا، صرف دسمبر 2025 میں فرقہ وارانہ تشدد کے 51 نئے واقعات اور ہندوؤں کے 10 قتل ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم اس وقت کی محمد یونس انتظامیہ نے ان واقعات کو کم کرنے کی کوشش کی۔ یونس حکومت کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں اقلیتوں کے خلاف 645 واقعات پیش آئے، لیکن اس نے دعویٰ کیا کہ صرف 71 فرقہ وارانہ تھے، جب کہ باقی فوجداری کیسز زمینی تنازعات یا ذاتی دشمنی کی وجہ سے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان