Connect with us
Friday,07-August-2026

بین الاقوامی خبریں

افغانستان میں پولیو ٹیم پر حملہ، پانچ کارکن ہلاک

Published

on

afganistan

افغانستان میں ایک افسوسناک واقعہ میں پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے والی ٹیم پر مسلح افراد نے حملہ کر کے کم از کم پانچ ارکان کو ہلاک کر دیا۔ جلال آباد میں منگل کو کیے گئے اس حملے کی ذمہ داری فوری طور سے کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

افغانستان کے مشرقی حصے میں انسداد پولیو کے لیے جاری ویکسینیشن مہم کے معاون کار ڈاکٹر جان محمد کے مطابق اس حملے میں پولیو ٹیم کے پانچ اراکین ہلاک اور کم از کم تین دیگر زخمی ہو گئے۔
گزشتہ برس افریقی ملک نائجیریا کو بھی جسے پولیو سے پاک قرار دے دیا گیا تھا، جس کے بعد جنوبی ایشیا کی دو پڑوسی ریاستیں افغانستان اور پاکستان دنیا کے صرف دو ایسے ممالک ہیں، جہاں اب بھی پولیو کا مرض پایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے سوا دنیا کے دیگر تمام ممالک میں پولیو کے خاتمے کا اعلان ہو چکا ہے، جبکہ ان دو ممالک میں پولیو کی ویکسین کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان اور مذہبی رہنما عوام کو اکثر بتاتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ پولیو ویکسین مغرب کی کوئی سازش ہے، جس کا مقصد مسلمان بچوں کے تولیدی نظام کو متاثر کرنا ہے، اور وہ یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ مذکورہ ویکسینیشن مہمات کا مقصد جنگجوؤں کی جاسوسی ہے۔

افغان حکام کے مطابق طالبان، اپنے زیر اثر علاقوں میں گھر گھر پولیو ویکسینیشن کی مہم کی اجازت نہیں دیتے۔ صوبہ ننگر ہار کے پولیس ترجمان فرید خان کا کہنا تھا کہ ایک گھنٹے کے دوران 3 مختلف مقامات پر حملے کیے گئے۔ انہوں نے واقعے کی ذمہ داری طالبان جنگجوؤں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ‘صحت رضا کاروں کو نشانہ بنانا ان کا کام ہے، جو چاہتے ہیں کہ لوگ پولیو ویکسینیشن سے محروم رہیں۔’

وزارت صحت کے ترجمان عثمان طاہری نے واقعے کی تصدیق کی، جبکہ طالبان نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا۔

آج کے واقعے سے متعلق مقامی حکومت کے عہدیداروں نے بتایا کہ ننگر ہار میں مختلف حملوں میں 5 پولیو رضا کار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں مزید 3 رضا کار زخمی ہوئے۔

صحت کے حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیو مہم کو روک دیا گیا، عہدیدار نے نام نہ بتانے کی درخواست پر کہا کہ ‘یہ تمام پولیو رضاکاروں پر ٹارگٹڈ حملے تھے، جس کے بعد ہم نے صوبہ ننگر ہار میں پولیو مہم معطل کر دی۔’ بعد ازاں اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار رمیز الکباروف نے واقعے کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے افغانستان کے لیے نائب نمائندہ خصوصی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک جاری بیان میں کہا کہ ‘بچوں کو صحت کی سہولیات سے روکنا غیر انسانی سلوک ہے، بے حس تشدد کو اب ختم ہونا چاہیے، ذمہ داروں کی تفتیش ہونی چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔’

یاد رہے کہ افغانستان بھر میں سیاستدانوں، رضاکاروں اور صحافیوں پر حملے ہو رہے ہیں، جن کا الزام افغان حکومت طالبان پر عائد کرتے ہیں، جبکہ طالبان ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے افغانستان کے شمالی حصے میں کان کی صفائی کرنے والے ادارے حالو ٹرسٹ (HALO) کے 10 افراد کو فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

حکومت نے الزام لگایا تھا کہ طالبان مذکورہ حملے کے پیچھے ہیں، جبکہ مذکورہ ادارے نے بتایا تھا کہ مقامی جنگجوؤں نے ان کی مدد کی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے ملک سے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے ملک بھر میں حملوں میں اضافہ کر دیا ہے، غیر ملکی افواج ستمبر سے قبل مکمل طور پر ملک سے انخلا کر جائیں گی، جبکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔

رواں سال مارچ میں داعش نے کہا تھا کہ اس نے افغان صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں پولیو ٹیم کی رکن تین خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ طالبان اور حکومتی دستوں کے مابین حالیہ جھڑپوں اور طالبان کے خلاف حکومت کی حالیہ کارروائیوں کے بعد سے ایسے عسکریت پسند گروپوں کی تعداد افغانسان میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ آئی ایس کے عسکریت پسندوں نے حالیہ دنوں میں مخالفین پر حملوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں

ہرمز نہ کھولا گیا تو ایران کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا : صدر ٹرمپ

Published

on

D.-Trump

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد نہ کھولا گیا تو ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم تہران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “وہ جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے، چاہے کیسے بھی ہو۔ یہ کوئی زیادہ پیچیدہ معاملہ نہیں ہے۔ ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں۔”

لیکن ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عراق کے دورے پر ہیں۔ باقی تمام مذاکرات کار ایران میں ہیں۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جوابی حملہ کیا۔ انھوں نے لکھا، “ایرانی قیادت انتہائی دوغلی ہے، پہلے وہ ملاقات کی بھیک مانگتے ہیں اور پھر کھل کر کہتے ہیں کہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔”

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے پار واقع عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، یہ ایک عارضی انتظام ہے جس کا مقصد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسقط تہران مذاکرات میں کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران حملے کی اطلاعات سے گھبرا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا اور شدید ترین حملہ ہوگا۔ “ہم آبنائے ہرمز کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

حوثی گروپ بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے تیز کرے گا، آئل ٹینکر پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

Published

on

Red-Sea

صنعاء : شمالی بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ نے کہا کہ وہ سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف اپنی مہم تیز کرے گا۔ حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساریہ نے کہا کہ “وفا” نامی آئل ٹینکر کو سعودی بحیرہ احمر کے ایک بڑے بندرگاہی شہر ینبو کے ساحل پر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ساریا نے کہا کہ حملہ درست تھا، لیکن اس نے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب سے منسلک جہازوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جسے انہوں نے “ایک ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی” قرار دیا۔ ساریہ کے مطابق، حوثی فورسز نے مہم کے آغاز سے اب تک آٹھ سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جب کہ 29 دیگر کو اپنے راستوں کا رخ موڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جولائی میں، حوثی گروپ نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں پر بحری پابندی کا اعلان کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی سعودی ناکہ بندی کے جواب میں ہے۔ ان نئی کشیدگیوں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

دریں اثنا، یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور نے بدھ کو بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حملے کی شدید مذمت کی۔ وزارت نے اسے “دہشت گردانہ حملہ” اور “بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا۔ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت نے ہندوستان کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اس نے جہاز کے عملے کو تمام ضروری مدد اور مدد فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے کہا، “جمہوریہ یمن کی وزارت خارجہ اور تارکین وطن کے امور بحیرہ احمر میں ہندوستانی تجارتی مال بردار بحری جہاز ایم ایس وی فیض نور اولیا پر حوثی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ دھماکہ خیز مواد سے بھری کشتی کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا جب کہ یہ کشتی بحیرہ احمر میں حملہ کر رہی تھی۔ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی سمندری قانون کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں سمندری ٹریفک، محفوظ نیویگیشن اور تجارت کی آزادی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔” یہ بیان منگل کی شام ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) کی طرف سے جاری کردہ ایک ردعمل کے بعد آیا ہے۔ ہندوستان نے ‘ایم ایس وی فیض نور اولیا’ پر حملے کی مذمت کی تھی اور تصدیق کی تھی کہ جہاز میں سوار تمام 13 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان